Fast Fiction

نظام میرے بغیر چلا ہی نہیں

کامران نے سائرہ کے ہاتھ سے اسکینر جھٹک کر اپنی جیب میں ڈالا اور لین ڈیسک کی چابیوں کا گچھا کرسی کے بازو پر ٹکا دیا۔ سامنے دھاتی ٹرالیاں لیبلوں سے اٹی کھڑی تھیں، پیچھے ریک کے بیچ موٹر بائیک ہیلمٹ اٹھائے دو ڈرائیور راستہ مانگ رہے تھے، اور اوپر سفید بلب کی مسلسل بھنبھناہٹ میں نعیم سپروائزر کی آواز آئی، “رفتار کیوں گر گئی ہے؟” جواب کامران نے دیا، الزام سائرہ پر رکھ کر۔ “اسے رات والی چھانٹی سے نکالو تو یہی ہوتا ہے۔”

سائرہ نے اپنی گھسی ہوئی لینیارڈ سیدھی کی۔ اس پر اس کا بیج کناروں سے مڑ چکا تھا، مگر نام صاف پڑھا جاتا تھا۔ کراچی کے اس بڑے ای کامرس گودام میں پچھلے آٹھ مہینے سے یہی لین وہ چلاتی آئی تھی؛ فجر کے بعد بس بدل کر آتی، رات گئے لوٹتی، اور گھر میں امی کی دوائی، چھوٹے بھائی کی فیس، سب اسی شفٹ کے اضافی گھنٹوں سے جڑتا تھا۔ آج کرسی پر کامران بیٹھا تھا، جیسے داخلہ بھی اسی کی ملکیت ہو۔ اس نے رجسٹر اپنے سامنے کھینچا اور کہا، “تم بس کارٹن سیدھے کرو۔ حکم میں دوں گا۔”

“لیبل الٹے پڑے ہیں، پہلے شمالی روٹ نکالو،” سائرہ نے بغیر جھکاؤ کے کہا۔

کامران نے رجسٹر بند کرکے کرسی کا پچھلا پاؤں پیچھے ٹھکا۔ “مجھے سکھاؤ مت۔ تمہیں کہا نا، وہاں جاؤ۔” اس نے ایک خالی پلاسٹک کرسی کے کونے کی طرف اشارہ کیا، جہاں عام طور پر عارضی مزدور بٹھائے جاتے تھے۔ پھر نعیم کی طرف دیکھ کر بولا، “سر، میں دیکھ رہا ہوں۔” نعیم نے جلدی میں صرف اتنا دیکھا کہ کرسی پر کون بیٹھا ہے، اور آگے نکل گیا۔ سائرہ ایک لمحے کو اس کرسی کے کونے تک گئی، مگر بیٹھی نہیں۔ اس نے خاموشی سے پہلی ٹرالی کے اوپر رکھے الٹے بنڈل سیدھے کیے اور سب سے اوپر والا روٹ ٹیگ گھما کر سامنے کر دیا۔ پہلی چھوٹی واپسی اتنی ہی تھی: جس چیز سے اسے ہٹایا گیا تھا، اس کی خرابی سب کے سامنے اس نے ہاتھ لگائے بغیر دکھا دی۔

پانچ منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ کامران نے غلط ریلیز دے دی۔ اس نے لانڈھی اور کورنگی والے پارسل ایک ساتھ چھڑا دیے، حالانکہ پیچھے ملیر روٹ کی ٹرالی پہلے سے گلے میں اٹکی ہوئی تھی۔ ایک ڈرائیور نے چیخ کر کہا، “یہ میرا لوڈ نہیں!” دوسرے نے اپنی ٹرالی گھسیٹ کر نکالنی چاہی تو پہیوں نے ریک کے کنارے سے ٹکر مار دی۔ اوپر رکھا ایک لمبا کارٹن کج ہوا، پھر دو چھوٹے ڈبے پھسل کر زمین پر گرے۔ بار کوڈ والی پٹیاں پاؤں تلے آ گئیں، اور تنگ گزرگاہ ایک دم بند ہو گئی۔

اب الزام لگانا آسان نہیں رہا تھا؛ خرابی آواز کر رہی تھی۔ ایک پیکر نے جھک کر گرے ڈبے اٹھائے، مگر کامران پھر بھی اونچی گردن سے بولا، “ڈرائیور خود سن نہیں رہے۔” اس نے سائرہ کی طرف دیکھے بغیر کہا، “تم کھڑی کیا دیکھ رہی ہو؟ راستہ کھلواؤ۔” سائرہ نے ٹرالی کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا، ایک نظر لیبلوں پر ڈالی، پھر صرف اتنا کہا، “تم نے دو ریلیز ایک ساتھ چھوڑ دی ہیں۔” یہ بات ڈانٹ کی طرح نہیں، حساب کی طرح نکلی۔ آس پاس کھڑے لوگوں کی نظریں پہلی بار کرسی سے ہٹ کر اس کے ہاتھوں پر آ ٹکیں۔

کامران نے جیب سے اسکینر نکال کر ہوا میں ہلایا، جیسے یہی اختیار کافی ہو۔ “میں نکال لوں گا۔” اس نے ایک اور بار کوڈ پڑھا، مگر غلط ٹرالی کھل گئی۔ پیچھے کے تین ڈرائیور ایک دوسرے کے ساتھ پھنس گئے۔ کسی نے زیرلب بددعا دی۔ گزرگاہ کے سرے پر نعیم پلٹ آیا، اس کے ساتھ حسابات والے دفتر کا آدمی بھی تھا، اور دونوں نے جام ہوا راستہ دیکھا۔ نعیم کی بھنویں چڑھیں، “یہ کس نے کیا؟”

کامران جواب بناتا، اس سے پہلے سائرہ آگے بڑھی۔ اس نے اس کے ہاتھ سے اسکینر مانگا نہیں۔ دو قدم میں قریب پہنچی، کامران کی ڈھیلی گرفت سے آلہ سیدھا کھینچا، دوسرے ہاتھ سے رجسٹر اس کی کہنی کے نیچے سے نکال کر لین ڈیسک پر پھیلا دیا، اور اسی حرکت میں چابیوں کا گچھا بھی کرسی کے بازو سے اٹھا کر اپنی مٹھی میں لے لیا۔ کسی نے “اوئے” جیسا ہلکا سا سانس لیا، مگر سائرہ نے سر اٹھائے بغیر پہلا بار کوڈ پڑھا، ٹیگ پر انگلی ماری، “یہ ملیر آخر میں۔ پہلے کورنگی بایاں، لانڈھی روکو۔” اس کی آواز اونچی نہیں تھی، مگر سیدھی تھی۔ پہلے ہی حکم پر ایک ڈرائیور نے غلط مڑی ٹرالی چھوڑ کر صحیح طرف دھکیل دی۔

فرق اتنا تیز تھا کہ کمرے کو ماننا پڑا۔ سائرہ نے دوسرے بنڈل کے لیبل دو انگلیوں سے الگ کیے، ایک کارٹن پاؤں سے اندر ٹھکایا، پھر رجسٹر میں تین تیز نشان لگائے۔ “حنا، نیلا اسٹیکر سامنے۔ رفیق، اس ریک کا منہ صاف کرو۔ ایک ایک گاڑی۔” وہ اجازت نہیں مانگ رہی تھی؛ کام لیتے ہی کام نکل رہا تھا۔ کامران نے ہاتھ بڑھا کر اسکینر واپس لینا چاہا تو اس نے چابیوں والی مٹھی ذرا اٹھا دی۔ “دیر ہو گئی ہے۔ اب ہاتھ مت لگاؤ۔” اس کے لفظ برف کی طرح ٹھنڈے تھے، اور اتنے صاف کہ نعیم بھی فوراً کچھ نہ بول سکا۔

گزرگاہ کے سرے پر خالہ شمیم کھڑی تھیں، ہیئرنیٹ کے اوپر دوپٹہ مضبوطی سے بندھا ہوا۔ وہ پیکنگ سیکشن میں پرانی ملازمہ تھیں، اور محلے میں سائرہ کی مرحوم خالہ کی سہیلی بھی۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی وہی آدھی عوامی دنیا ان کے چہرے پر ساتھ آئی تھی۔ آج دوپہر ہی انہوں نے سائرہ سے کہا تھا کہ شام کو ایک گھر والے “لڑکی دیکھنے” کے بہانے حال پوچھنے آ سکتے ہیں، بس نوکری ٹھیک لگنی چاہیے۔ اب وہیں کھڑی، سب کے سامنے دیکھ رہی تھیں کہ سائرہ کو عارضی مزدور کی کرسی کی طرف دھکیلا گیا، اور اب وہی لین اس کے ہاتھ میں واپس آ رہی تھی۔ خالہ شمیم نے کسی سے کچھ نہیں کہا، صرف گرنے والا ڈبہ اٹھا کر صحیح ٹرالی میں رکھا اور نگاہ سیدھی کامران پر رکھ دی۔ وہ ایک خاموش گواہی تھی جو دیوار سے بھی زیادہ سخت ہوتی ہے۔

کامران کا رنگ بدلا۔ “یہ حد سے بڑھ رہی ہے۔ سر، یہ میری کرسی—”

“کرسی بعد میں، لوڈ پہلے،” نعیم نے کاٹا، مگر اس کی آواز میں وہ پختگی نہیں تھی جو اختیار والے کی ہوتی ہے؛ وہ صرف ڈوبتی شفٹ سے بچنا چاہتا تھا۔ مسئلہ یہی تھا: کوئی بھی کھل کر سائرہ کے ساتھ نہیں کھڑا ہو رہا تھا، مگر اب کوئی کامران کے غلط ہاتھ کو بھی بچا نہیں سکتا تھا۔ خالہ شمیم نے آہستہ سے کہا، “بیٹا، نام ایک بار خراب ہو جائے تو محلے میں جواب دینا مشکل ہوتا ہے۔ کام سیدھا رکھو۔” بات سائرہ سے کہی گئی، مگر چوٹ کامران کے منہ پر پڑی۔ اس نے گردن اکڑائی، جیسے سنائی نہ دیا ہو، مگر اس کے اگلے لفظ لڑکھڑا گئے۔

پھر دباؤ نے چھلانگ ماری۔ پچھلے دروازے سے مزید دو ٹرالیاں اندر آ گئیں، ایک پر “فوری” کا سرخ نشان تھا۔ نعیم کے فون پر مسلسل کالیں آنے لگیں۔ اگر ایک اور غلط ریلیز ہوتی تو شام کی آخری گاڑیاں نکلنے سے رہ جاتیں، اور پھر اوپر دفتر تک بات جاتی۔ کامران نے گھبرا کر رجسٹر کا دوسرا سرا پکڑنا چاہا۔ “مجھے دو، میں فاسٹ کر دوں—”

سائرہ نے چھوڑا نہیں۔ اس نے رجسٹر اپنی کہنی کے نیچے دبا لیا، چابیوں کا گچھا لین ڈیسک پر رکھا مگر اپنی طرف، اور آواز ذرا اونچی کی تاکہ ریک کے دونوں سروں تک پہنچے۔ “سن لو سب۔ پہلے سرخ نشان والی لائن، پھر کورنگی، پھر لانڈھی۔ ملیر رکے گا جب تک بیچ صاف نہیں ہوتا۔ کوئی اپنی مرضی سے ٹرالی نہیں کھینچے گا۔” اس نے پہلے ڈرائیور کی آنکھ میں دیکھ کر کہا، “تم ابھی نہیں۔ دوسرا نمبر۔ بایاں لو۔” وہ آدمی، جو دس منٹ پہلے کامران کے ساتھ الجھ رہا تھا، فوراً ایک قدم پیچھے ہوا۔

اس کے بعد لین مشین کی طرح چلنے لگی، مگر مشین کی نبض سائرہ کے ہاتھ میں تھی۔ وہ اسکینر سے بار کوڈ پڑھتی، رجسٹر میں نشان لگاتی، ایک ہاتھ سے ٹرالی کا رخ درست کرتی، دوسرے سے اگلی چابی الگ کرتی۔ “نیلا ٹیگ اندر۔ یہ والا باہر۔ ہینڈل چھوڑو۔ ابھی۔” جہاں کامران کھڑا ہوتا، وہیں رکاوٹ بنتی؛ سائرہ نے بغیر اس کی طرف دیکھے کہا، “دائیں ہٹو اور صرف لیبل پکڑو۔” یہ حکم تھا، درخواست نہیں۔ کامران نے انکار کی کوشش کی، مگر پیچھے سے ڈرائیور نے بیزاری میں کہا، “بھائی، جو چلا رہا ہے اسے چلانے دو۔” چوٹ سیدھی پڑی۔ عنوان اس کے پاس تھا، اطاعت سائرہ کو مل رہی تھی۔

ایک ٹرالی کے پہیے پھر اٹکے، مگر اس بار سائرہ نے پہلے سے جگہ خالی کر رکھی تھی۔ اس نے پاؤں سے ڈبے کو ریک کے اندر دھکیلا، “اب۔ نکالو۔” ٹرالی صاف نکل گئی۔ سرخ نشان والی گاڑی روانہ ہوئی تو نعیم نے فون کان سے ہٹا کر گہرا سانس لیا۔ اسی لمحے کامران نے آخری کوشش کی۔ اس نے چابیوں کے گچھے کی طرف ہاتھ بڑھایا، “اب دے دو۔ سب ٹھیک ہو گیا۔” سائرہ نے اس کا ہاتھ ہوا میں روک دیا، صرف کلائی پکڑ کر نیچے کر دی، پھر اگلا بار کوڈ پڑھتے ہوئے کہا، “ابھی نہیں۔ جب تک آخری غلطی کا بوجھ نکل نہیں جاتا، چابی میری طرف رہے گی۔” اس میں نہ شور تھا نہ غصہ، صرف فیصلہ تھا۔ یہی سب سے زیادہ ذلت آمیز تھا۔

کامران اب کرسی والے آدمی کی طرح نہیں لگ رہا تھا؛ وہ کھڑا تھا، ہاتھ میں صرف ڈھیلے لیبل، جیسے اسے وہی کام دے دیا گیا ہو جس میں دخل کی گنجائش نہ ہو۔ حنا نے اس کی طرف بنڈل بڑھایا، “یہ سامنے لگا دو۔” پہلے یہی حکم سائرہ کو دیا گیا تھا۔ اب پلٹ کر اسی پر آ گرا۔ اس نے ایک لمحہ خالہ شمیم کی طرف دیکھا؛ انہوں نے نظر نہیں چرائی۔ گھر، محلہ، نام، سب وہیں گزرگاہ میں آ کھڑے تھے۔ کامران نے لیبل پکڑ لیا۔

آخری رکاوٹ وہی تھی جس سے پوری شفٹ پھنس سکتی تھی: ملیر کی بھاری ٹرالی، جسے شروع میں غلط جگہ اڑا دیا گیا تھا۔ اگر اسے اب چھوڑا جاتا تو نئی روانگیوں کا منہ بند ہو جاتا۔ نعیم نے گھبرا کر کہا، “اب اسے بھی نکالو نا، دیر ہو رہی ہے۔” سائرہ نے ایک نظر پوری لین پر دوڑائی، پھر فیصلہ کیا۔ “نہیں۔ پہلے خالی راستہ پورا۔ پھر یہ اکیلی جائے گی۔” اس نے دو تیز ریلیز لگائیں، بایاں حصہ صاف کرایا، ایک ڈرائیور کو واپس ہاتھ کے اشارے سے روکا، پھر خود ملیر ٹرالی کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔ اسکینر سے اس کا بار کوڈ پڑھا، رجسٹر میں آخری نشان لگایا، اور بلند، کاٹتی ہوئی آواز میں بولا، “اب ملیر۔ سیدھا۔ کسی اور کو ہاتھ نہیں لگانا۔”

ٹرالی نکلی، بغیر رگڑ کے، جیسے گزرگاہ آخرکار اصل نقشہ پہچان گئی ہو۔ پیچھے کھڑے لوگوں نے راستہ خود بنایا۔ کامران نے کچھ کہنا چاہا، مگر اس وقت اس کی آواز کی کوئی قیمت نہیں تھی؛ سسٹم نے اسے رد کر دیا تھا۔ آخری ڈرائیور نکلتے ہی سائرہ نے اسکینر بند کیا، رجسٹر بند کرکے اپنی بغل میں دبایا، اور لین ڈیسک کے پاس آ کھڑی ہوئی جہاں سے اسے صبح ہٹایا گیا تھا۔

وہ مین کرسی کے سامنے رکی۔ کرسی اب بھی قدرے ٹیڑھی تھی، بازو پر پرانی کھنک کا نشان، نیچے پلاسٹک کے پہیے گرد سے اٹے ہوئے۔ سائرہ نے چابیوں کا گچھا آہستہ سے ڈیسک پر نہیں رکھا؛ اس نے اپنی نام والی نشست کی پرچی، جو صبح کسی نے ہٹا کر رجسٹر کے نیچے دبا دی تھی، نکال کر کرسی کے اوپر صاف دکھنے والی جگہ پر رکھ دی۔ پھر چابیاں اسی کے اوپر رکھیں، ایک بار سیدھی کیں، اور کرسی کو اپنی طرف کھینچ کر چھوڑ دیا۔ کرسی ہلکی سی پیچھے لڑھکی، اور چابیوں کی کھڑکھڑاہٹ وہیں آ کر رک گئی۔