ur-PK shelf
Fast Fiction
01آج پاس اس کے ہاتھ میں تھا“ارے نہیں، یہ گاڑی اِدھر نہیں آئے گی—سائیڈ والی لین میں لگاؤ، اور ان کے لیے سامنے والی کرسی بھی ہٹا دو۔” سلمان زیدی نے ہاتھ کے ایک اشارے سے ہال کے دروازے پر کھڑے دو لڑکوں کو دوڑایا...02آج پہلی ترجیح میرا نام تھادروازے پر کھڑی سفید گاڑی کا پچھلا دروازہ ابھی کھلا ہی تھا کہ حنا باجی نے ہاتھ اٹھا کر بیرا روکا، “نہیں، پہلے عادلہ اور حمزہ کو لیجاؤ۔ یہ بعد میں آئیں گی۔”
سائمہ کے قدم وہیں تھم گئ...03آخر کام میرے ہاتھ مانگالوڈر نے تیسری بار ہارن دبایا اور بند دروازے کے سامنے رکا ہوا ٹرالی کا پہیہ ایک طرف کٹ کر لکڑی کے پیلیٹ سے ٹکرا گیا۔ بلال نے ریڈیو منہ کے قریب لا کر چیخا، “پہلے گیٹ تین خالی کرو، پھ...04آخر کام میرے ہاتھوں میں آیاکامران نے مہرین کے ہاتھ سے رجسٹر کھینچ کر اپنی کہنی کے نیچے دبا لیا اور گھومنے والی کرسی خود کھینچ کر بیٹھ گیا۔ شٹر ابھی پورا اوپر نہیں گیا تھا مگر کراچی کے اس تشخیصی مرکز کے فرنٹ...05آخر میں اندر جانے کی منت بھی انہیں ہی کرنی پڑی“نام کس کا ڈالوں؟” کاؤنٹر والے لڑکے نے رجسٹر پر انگلی رکھی ہی تھی کہ حارث نے ماہرہ کے ہاتھ سے فائل کھینچ کر شیشے کے نیچے سرکا دی۔ “میرا۔ اور ایک اٹینڈنٹ پاس میری امی کے لیے۔” پھر ا...06اب وہ مجھے چن نہیں سکتاچابی اس کی ہتھیلی پر رکھ کر دانش نے کہا، “وہ نیچے کھڑا ہے، مہر۔ پھر سے اوپر آنے کی ہمت نہیں ہوئی، اس لیے مجھے بھیج دیا۔”07اپنا دانہ خود نگل گیانعمان بھٹی نے چیک لسٹ ماہر کے سینے پر ایسے ماری جیسے جرمانے کی پرچی ہو۔ “یہ اسپیشل ہے۔ آج ایک بھی خانہ خالی ہوا تو سیدھا تمہارا نام جائے گا۔” لوڈنگ بے کے کنارے کھڑے دو لڑکوں نے فور...08اپنا ہی چارہ اسے لے ڈوباوقاص بھٹی نے لوڈنگ بے کے آدھے کھلے دروازے میں بازو پھیلا کر راستہ روکا اور بلند آواز میں کہا، “صائمہ، آج سے رِلیز پوائنٹ تمہارے ہاتھ میں نہیں۔ فہرست ادھر دو۔”
دھوئیں، مصالحے اور ڈ...09اپنا ہی دانہ نگل گیاسرفراز بھٹی نے لوڈنگ بے کے کنارے دھاری دار کلپ بورڈ مریم کے سینے سے ٹکرا کر روکا اور اونچی آواز میں کہا، “چیک لسٹ یہی پر پڑھے گی، ابھی۔ گاڑی دروازے پر کھڑی ہے، اور اگر ایک خانہ بھی...10اس انجام نے دو لوگوں کو تھام لیاحنا نے کپڑا بھگو کر صائمہ آنٹی کے ماتھے پر رکھا ہی تھا کہ دروازے پر کھڑی فرح خالہ نے تیز آواز میں کہا، “بس، بس، تم پیچھے ہٹو۔ نرس آ رہی ہے۔”
صائمہ آنٹی کے لبوں کے کنارے سے الٹی کی...11اس انجام نے دو لوگوں کو روکے رکھاحریم نے رجسٹریشن میز پر رکھے فیس واؤچرز کا گچھا ایک جھٹکے سے سنبھالا اور ساتھ ہی اس لڑکے کی ماں کو گرنے سے بچانے کے لیے پلاسٹک کرسی کا کونہ پاؤں سے آگے کھسکا دیا۔ ابھی عورت نے بیٹھ...12اس فائل نے ماضی بدل دیاگیٹ پر کھڑے کیٹرنگ والے لڑکے نے مہرین کے آگے ہاتھ پھیلا کر راستہ روک لیا۔ “باجی، اندر صرف گھر کے لوگ۔ سائیڈ سے جائیں۔” اس کے الفاظ میں معذرت کم، ہدایت زیادہ تھی۔ مہرین نے ایک لمحہ...13اس کی معافی مجھ تک نہ پہنچیدروازے کے پاس کھڑی مہرین نے ابھی دوپٹہ سنبھالا ہی تھا کہ شفقَت خالہ نے اس کے ہاتھ سے مٹھائی کا ڈبہ لے کر نوکرانی کی ٹرے پر رکھ دیا اور کہا، "تم ادھر ہی رہو، اندر مہمان بیٹھے ہیں۔"...14اس نے سب کے سامنے اپنا نام رکھ دیامہرین نے کاؤنٹر پر رکھا مہمانوں کا رجسٹر اپنی طرف کھینچنا چاہا تو حارث نے اس کے ہاتھ کے آگے فہرست اٹھا لی اور خشک آواز میں کہا، “آپ سائیڈ پہ ہو جائیں، یہاں اسٹاف کی انٹری پیچھے سے...15اسپاٹ لائٹ اچانک اس پر مڑ گئیفراز نے مہوش کے ہاتھ سے ریکٹ لے کر اپنے شٹل بیگ کے اوپر رکھ دیا اور اعلان کرنے والے لڑکے سے کہا، “جوڑی بدل دو۔ یہ وارم اَپ کروا دے گی، شوکیس میں میں جاؤں گا۔”16اسپاٹ لائٹ اچانک پلٹ گئیفراز نے مہمّل کے ہاتھ سے اسٹاپ واچ چھین کر ڈیمو ٹیبل پر رکھ دی اور مائیک کے بغیر بھی اتنی اونچی آواز میں بولا کہ سامنے کی قطار تک سن لے، “فائنل رن میں میں جاؤں گا۔ تم سائیڈ پہ رہو،...17اسپاٹ لائٹ پلٹ کر اس پر پڑیفراز نے اپنی فائل مہرو کی گود میں دے ماری اور بینچ کے سرے پر بیٹھے وارڈ بوائے سے کہا، “اسسٹنٹوں کو پیچھے کھڑا رکھو، امیدوار سامنے رہیں گے۔”
کوریڈور کے نیلے پلاسٹک بینچ پر جگہ پہلے...18اسی ڈیمو نے اس کی عزت ڈبو دیمہرین نے پروب کے سرے پر جیل لگایا، زاویہ ٹھیک کیا اور مشین کی چمکتی اسکرین پر گین نیچے کھینچا ہی تھا کہ ڈاکٹر فراز نے اس کے ہاتھ سے مارکر لے کر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اعلان کیا، “...19اسی کے اسٹیج نے اسے ڈبو دیاریحان نے سحر کے ہاتھ سے پروب اٹھا کر ڈیمو میز پر رکھ دیا اور بغیر اس کی طرف دیکھے کہا، “آپ بس جیل لگا دیں، لائیو کال میں میں جاؤں گا۔”20اصل چلانے والا وہ تھا ہی نہیںفہد نے صائمہ کے ہاتھ سے ہیڈسیٹ کھینچ کر حارث کے سر پر چڑھا دیا اور ساتھ ہی پیلی چابیوں کا گچھا اس کی ہتھیلی میں دبا دیا۔ ریک لائن کے دونوں سروں پر ٹرالیاں پہلے ہی اٹکی کھڑی تھیں، ب...21اصل ڈرائیور وہ تھا ہی نہیںگاڑیوں کے پہیوں نے لوڈنگ بے کے سامنے چیخ ماری اور پھولوں سے ڈھکی دو ٹرالیاں ایک دوسرے میں اٹک گئیں۔ “روکو، روکو، پہلے گولڈ اسٹیج جائے گا!” فیصل نے رجسٹر اپنی کہنی کے نیچے دبا کر چی...22اصل شفٹ پھر میرے نام ہوئیمہرین نے شٹر اٹھا کر کلینک کا شیشے والا دروازہ کھولا، رات کی تاخیر سے لوٹائی گئی چابی ابھی اس کی ہتھیلی میں ٹھنڈی تھی، اور کاؤنٹر کے نیچے رکھا اس کا کھانے کا ڈبہ صبح تک سرد ہو چکا...23اصل ناکامی بے میں کھلیشٹر آدھا نیچے آ کر اٹک گیا، ٹرک کی ریورس بتی بے پر لال دھبہ ڈال رہی تھی، اور حارث نے ہاتھ بڑھا کر صائمہ کی کلائی سے پہلے ہی ریلیز رجسٹر اپنی طرف کھینچ لیا۔ "آپ وہاں بیٹھیں،" اس نے...24اصل ہنر سامنے آیا تو وہ ختمحارث نے مہرین کے ہاتھ سے ہیڈفون جھٹک کر کنسول پر رکھ دیے اور کہا، “تم بس سائیڈ پہ رہو، یہ بڑا فنکشن ہے، کھیل نہیں۔” اس کے ساتھ ہی اس نے سیاہ ربڑ والی رسائی کارڈ کی ڈوری اپنی جیب می...25ان کا جھوٹ ریکارڈ پر مر گیا“یہاں نہیں، وہاں بیٹھو۔” دروازے پر کھڑے یوسف نے مہرین کی کہنی کے آگے ہاتھ پھیلا کر اسے مین ہال سے کاٹ دیا اور پلاسٹک کی کرسیوں والے کونے کی طرف اشارہ کیا جہاں کیٹرنگ والے لڑکے جوس...26ان کی دی ہوئی لائن الٹی پڑ گئیفراز بھائی نے صائمہ کے ہاتھ سے فائل کھینچ کر خالدہ خالہ کی گود میں رکھ دی اور بینچ کے کونے پر رکھا اس کا دوپٹہ انگلی سے ہٹا کر کہا، “یہ نشست مہمانوں کے لیے ہے، تم ذرا ایک طرف کھڑی...27ایک پرچی ہاتھ بدلی، اور پوری باری بدل گئی“یہ نشست خالہ صدف کے لیے ہے، تم کھڑی رہو۔”28ایک ٹیسٹ نے سب کھول دیا“یہ میری جگہ ہے، مومنہ، ہاتھ ہٹاؤ۔”29ایک گیٹ پاس نے ساری جگہ بدل دیفراز بھٹی نے ہاتھ اٹھا کر کالے شیشوں والی سفید ویگو کو سیدھا اندر اشارہ دیا اور مہرین کے سامنے رکی چھوٹی سوزوکی کو دو انگلیوں سے پرے ہٹنے کا حکم دے دیا۔ “یہ نہیں، یہ باہر رہے گی۔ و...30ایک لمحے میں سارا حلقہ بدل گیاندا باجی نے حنا کے ہاتھ سے مہمانوں کی فہرست چھین کر کہا، “تم سامنے والے دروازے پر نہیں کھڑی ہو گی۔ برتن والوں کے پاس جاؤ۔ اندر آنے والوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے اپنی ہی لڑکیاں کاف...31بس ایک قدم پہلےحدیہ بھابھی نے دروازے میں ہاتھ پھیلا کر راستہ روکا اور کہا، “ٹرے اندر دے دو، مریم، تم بس کچن تک ٹھیک لگتی ہو۔” مریم نے چائے کی ٹرے ذرا اوپر سنبھالی؛ کپوں کے ساتھ رکھی آدھی مڑی رسید...32بس ایک قدم پہلے #2خالہ شمیم نے مہر کے ہاتھ سے مہمانوں کی فہرست چھین کر ریما کی طرف بڑھا دی۔ “یہ والی میزیں تم دیکھو، اور مہر، تم کچن کے دروازے پہ رہو۔ پلیٹیں کم نہ ہوں۔” ہال میں جھاڑ فانوس گرم روشنی...33بنچ سے سیدھا نام کے آگے"سائرہ، آپ ادھر نہیں— بنچ پر بیٹھیں،" حنا باجی نے رجسٹریشن کھڑکی کے سامنے سے اس کا فارم کھینچ کر اپنے پرس کے نیچے دبا لیا، جیسے وہ کوئی آدمی نہیں، محض اضافی کاغذ ہو۔ پلاسٹک کی سبز...34بند دروازہ اسی پر کھلامومنہ نے کاغذ کے کپ کو گرنے سے پہلے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا، چائے اس کی آستین پر چھلکی اور حرا نے بغیر پلٹے بس اتنا کہا، “پلیز یہ صاف کر دو، سعد کی امی آ رہی ہیں۔”35بند دروازہ میرے لیے کھل گیامہرین نے گیلی چادر دونوں ہاتھوں سے کھینچ کر خالا نسیم کے کندھوں پر ڈالی، پھر فرش پر پھیلا الٹی کا پانی اپنے دوپٹے کے کونے سے روکا کہ وہ بجلی کے تار تک نہ پہنچے۔ کچن کے دروازے میں ک...36بند کمرہ میرے لیے کھل گیاحنا نے گرتی ہوئی چائے کی دیگچی دونوں ہاتھوں سے تھام لی، گرم دھار اس کی کلائی پر لپکی، اور اس نے ایک جھٹکے سے رجسٹریشن ڈیسک کے نیچے رکھا سفید دوپٹہ کھینچ کر میز پر پھیلادیا تاکہ مہن...37پاس نہیں، چابی ہاتھ بدل گئیدانش نے مریم کے ہاتھ سے رہائی کی دو پیتل کی ٹکیاں چھین کر اپنی میز کے دائیں خانے میں پھینکیں اور چیخ کر کہا، “لین نمبر دو آج تم نہیں کھولو گی۔ حمزہ، گاڑی ادھر لگاؤ۔” ڈسپیچ یارڈ کی...38پرانا اندراج بول اٹھالفٹ کے دھندلے شیشے کے سامنے شازیہ بھابھی نے مہرین کے ہاتھ سے سفید کارڈ کھینچ لیا اور دروازے پر چپکے مہمانوں کی فہرست میں اس کے نام پر کالا نشان لگا دیا۔ “کچن سائیڈ سے آؤ۔ سامنے وال...39پہلا حق اچانک میرا ہوا"میڈم، آپ یہاں نہیں—ادھر کونے میں بیٹھیں۔"40پہلا حق میرے نام کٹ گیا"باجی، آپ ایک طرف ہو جائیں، یہ گاڑی دولہے والوں کی خاص آمد کے لیے رکھی ہے۔"41پہلے وہ ہنسے تھے“شمیمہ بی بی، اندر آ جائیں—اور نبیل، آپ بھی ساتھ۔”42پورا منظر اس پر پلٹ گیاسلمان بھٹی نے گیٹ کے پاس لٹکے رجسٹر پر ہتھیلی ماری اور اونچی آواز میں کہا، “یہی ہے وہ آدمی۔ پچھلے سال والا شارٹ لوڈ بھی اسی کے نام پر کھلا تھا، اور آج پھر یہی لائن پکڑے کھڑا ہے۔”...43پورا منظر اسی پر پلٹ پڑاصائمہ نے ابھی پہلے ٹرالی کے پہیے کو جوتے کی نوک سے سیدھا کیا ہی تھا کہ حماد صاحب نے اس کے ہاتھ میں موڑا ہوا ریلیز پرچہ ٹھونس دیا۔ پرچے پر سرخ مہر تھی، اوپر اس کا نام، نیچے وقت، اور...44پورا منظر اسی کے خلاف پلٹ گیاسحر نے نکلتے ہوئے ٹرالی کے آگے ہاتھ رکھ دیا تو لوہے کا پہیہ چیخ کر رک گیا، اور کامران صاحب نے رجسٹر کی کھلی جلد پر انگلی مار کر کہا، “یہ کمی تمھارے شفٹ کوڈ میں نکلی ہے، سحر۔ دروازہ...45جس دروازے نے روکا تھا، وہ میرے لیے ٹوٹا"سائرہ، ایک منٹ۔ آپ ادھر نہیں، پیچھے۔" دروازے پر کھڑے لڑکے نے اس کے ہاتھ کے چھوٹے لفافے کو دیکھ کر رسی ذرا سا کھینچ دی اور اسی لمحے حرا نے اپنی مہندی لگی انگلی سے اشارہ کیا، "پہلے...46جس قطار نے مجھے روکا تھا، وہی میرے لیے کھل گئی"رکھیے، آپ اِدھر نہیں، سائڈ سے۔" دروازے پر کھنچی سنہری قطار کی رسی ماہم کے سامنے آ کر تھم گئی، اور اسی لمحے حرا کو اسی لڑکے نے مسکرا کر اندر کے روشن راستے پر چھوڑ دیا۔ "اُن کا نام...47جس کی جگہ پیچھے تھی، وہ آگے بیٹھیگاڑی کا دروازہ ابھی پورا کھلا بھی نہیں تھا کہ خالہ روبینہ نے مہر کی کلائی پکڑ کر اسے ایک طرف کھینچ دیا۔ “پیچھے ہٹو، پہلے دلہن والی گاڑی لگے گی۔” اگلے ہی لمحے سفید کار سے ثنا اتری،...48جسے اوپر سمجھا گیا تھا وہ نیچے رہ گئی“یہ نشست خالی نہیں، تم کھڑی رہو۔”49جسے روکا گیا تھا، وہی منتخب ٹھہریسفید کار نے بریک لگائی تو عائزہ نے دروازہ کھولا ہی تھا کہ فراز صاحب نے ہاتھ اٹھا کر ڈرائیور کو دوسری طرف موڑ دیا۔ “یہ لائن بڑے مہمانوں کے لیے ہے، تم سائیڈ سے جاؤ۔” آواز اتنی اونچی...50جعلی چلانے والا وہیں کھل گیاکاؤنٹر کے شیشے پر ایک ساتھ تین ہاتھ پڑے، پرچیوں کا گچھا پھسلا، اور دانش نے گھبرا کر غلط بس کا نام پکار دیا۔ کراچی کے صدر والے نجی بس ٹرمینل میں عصر کے بعد کی بھیڑ پہلے ہی سوجی ہوئی...51جنہوں نے مجھے روکا تھا، آج خود کٹ گئے“مہرین، یہ پرچی ادھر دو۔ تم آج لائن نہیں چلا رہیں،” دانش نے اس کے ہاتھ سے نیلی رُوٹ سلِپ جھٹکے سے کھینچی اور اگلے ہی لمحے دو موٹر سائیکل سواروں کو ہاتھ کے اشارے سے آگے گزار دیا۔ ڈس...52جھوٹا آپریٹر وہیں کھل گیا“قطار روکیے مت، ٹوکن سیدھا دیجیے!” کامران نے کاؤنٹر پر ہتھیلی ماری اور اسی ہاتھ سے مہرین کی طرف اشارہ کیا، “تم پیچھے رہو۔ آج فرنٹ میں دانش بیٹھے گا۔”53جو پھندا اس نے بچھایا تھا“رک جاؤ، تم اندر نہیں جاؤ گی۔”54جو جال میرے لئے تھا، وہ اسی کو لے ڈوبا“بیج رکھیے، میڈم۔ بیک گیٹ سے اندر جانے کا آپ کو اختیار نہیں۔” ثاقب صاحب نے اس کے گلے میں پڑی پرانی، مڑی ہوئی فیتے والی شناختی پٹی دو انگلیوں سے اٹھا کر ایسے چھوڑ دی جیسے وہ کوئی بے...55جو جال میرے لیے تھا، اسی پر وہ اٹکیمراد بھابھی نے صائمہ کے بازو کے آگے اپنا کلپ بورڈ اڑا کر رکھا اور سیڑھی کے لینڈنگ پر کھنچی سیاہ ٹیپ کی لکیر کی طرف ٹھوڑی سے اشارہ کیا۔ "اوپر نہیں۔ تم ادھر سے جاؤ۔ پانی کے جگ ریفِل...56جو جال میرے لیے تھا، وہی پلٹ گیافیصل صاحب نے چیک لسٹ مریم کے سینے سے ٹکرا دی۔ کاغذ کی کڑک دار آواز لوہے کے شٹر، پلاسٹک لپٹے پیلیٹوں اور ریورس ہوتی وین کے بیپ بیپ میں الگ سے سنائی دی۔ “یہ تین کارٹن کم ہیں، اور تم...57جو جگہ مجھ سے چھینی گئی تھی، وہ میری رہیصبا نے رسیپشن کے پیچھے جھک کر گرے ہوئے رجسٹر کو ایک ہاتھ سے سنبھالا اور دوسرے ہاتھ سے پانی کا گلاس پکڑ کر بوڑھی خالہ کی طرف بڑھایا ہی تھا کہ حارث نے دروازے سے اندر آتے ہوئے کہا، “ی...58جو گڑھا میرے لیے کھودا تھا، خود گر گئےپہلی گاڑی کے دروازے پر ہاتھ رکھتے ہی صائمہ خالہ نے مہرین کی کلائی جھٹک کر نیچے کر دی۔ “یہ پھول اوپر والی لائن کے لیے ہیں، تم سوٹ کیس پکڑو۔” ان کے دوسرے ہاتھ میں کلپ بورڈ تھا، سفید...59خالی جگہ میری تھیحنا نے دونوں ہاتھوں سے گرم دیگچی سنبھالی ہی تھی کہ کامران بھابھی نے دروازے سے اندر آتے ہوئے اونچی آواز میں کہا، “ارے، وہ برتن سیدھا کچن میں رکھو، میز پر جگہ مت گھیرنا۔” حنا نے ایک...60ڈسپیچ کی کرسی واپس میریٹرک نے ریورس کی تیز چیخ ماری، پیچھے والا شٹر آدھا کھلا رہ گیا، اور صائمہ کے سامنے ڈسپیچ کنسول کی کرسی پر عادل صاحب نے اپنا فولڈر پٹخ کر کہا، “تاخیر تم لوگوں کی وجہ سے ہو رہی ہے، مگ...61ڈسپیچ کی کرسی واپس ہوئیتیسری وین کے ڈرائیور نے ہارن پر ہاتھ جما رکھا تھا اور لوڈنگ بے میں پھولوں کے کریٹ، گرم دیگوں کے ڈبے اور کولڈ باکس ایک دوسرے کے پیچھے اٹک کر سانس لے رہے تھے کہ کامران نے مہرین کے سا...62رسی کے پار، نام میرا لیا گیارسی کھنچ کر ماہرہ کے سینے کے برابر آ لگی اور خالہ شگفتہ نے سب کے سامنے ہاتھ کے اشارے سے اسے ایک طرف کر دیا۔ “اوپر والوں کی قطار اِدھر سے جائے گی۔ تم نیچے ہی رہو، لڑکیوں کو سنبھالو،...63رقم نہیں، پوری لائن الٹ گئیکامران نے مہرین کے ہاتھ سے سنہری کنارے والا داخلی کارڈ کھینچ کر نعیم کو دے دیا۔ “یہ وی آئی پی لائن کے لیے نہیں ہے، اسے سائیڈ دروازے سے بھیج دو۔ اور جو سامنے والی گاڑی تھی نا—اس کی...64سامان کی لائن اچانک پلٹ گئیفراز نے مہرین کے ہاتھ سے گیٹ پاس کھینچ کر رجسٹر میز پر الٹا رکھ دیا اور دربان سے کہا، “اسے سائیڈ پر رکھو، یہ وصولی لائن میں نہیں کھڑی ہوگی۔” شادی ہال کے باہر کراچی کی نم شام چپکی ہ...65سامان کی لائن الٹی پڑ گئیچائے کا کاغذی کپ کاؤنٹر پر رکھ کر لڑکے نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اور رولنگ شٹر کے نیچے سے نکلا ہوا پھولوں کا کریٹ دوبارہ اندر کھینچ لیا۔ “میڈم، ریلیز نہیں ہوگی، آرڈر ہولڈ پر ہے۔” پار...66سامنے سب کے حق میرا نکلاسعد فرید نے مہرین کے ہاتھ سے سفید سخت کارڈ کھینچ کر اپنے کوٹ کی جیب میں ڈال لیا اور ڈرائیور کو اونچی آواز میں کہا، “پک اَپ لین میں اب سے میری ہدایت چلے گی، تم لوگ بس گاڑی روکے رکھن...67سامنے کی نشست میری نکلی“ارے، تم ادھر نہیں، پیچھے سے جاؤ۔” دروازے کے پاس کھڑے منیجر نے مائرہ کے بازو کے آگے ہاتھ پھیلا کر اسے سیڑھیوں کے سامنے والی قطار سے ہٹا دیا۔ سرخ مخملی رسی ابھی ابھی کھینچی گئی تھی،...68سامنے میں نے نام لے دیا“مریم، تم ادھر بینچ پر بیٹھو۔ کھڑکی پر ہر کسی کا چڑھ جانا اچھا نہیں لگتا۔”69سب اسے ہارا سمجھتے رہے“اسے ادھر نہیں، پچھلی طرف بٹھاؤ—رجسٹر کے پاس۔” صائمہ خالہ نے دہلیز پر کھڑی مہرین کے ہاتھ سے آدھا مُڑا ہوا لفافہ چھینتے ہوئے کہا، اور اگلے ہی لمحے دو اور لڑکیوں کو ہنستے ہوئے اندر ک...70سب کے سامنے اس کا نام اوپر گیا“رکیں، یہ وی آئی پی لائن ہے۔”71سب کے سامنے اسی کا نام لیافریحہ آپا نے سیڑھی کے لینڈنگ پر ہاتھ پھیلا کر صائمہ کا راستہ روکا اور اس کے ہاتھ سے مہمانوں کی فہرست کھینچ کر اپنی کزن مہرین کو دے دی۔ “تم پیچھے جاؤ، لڑکیوں کے کمروں میں دیکھو۔ سام...72سب کے سامنے میرا نام اوپر چلا گیا“حیا، اِدھر نہیں۔” صائمہ خالہ نے سیڑھی کے نیچے لگے سنہری رسی والے راستے پر ہاتھ پھیرا اور میری کلائی کے آگے ہوا میں رکاوٹ کھینچ دی، “اوپر والے ڈائننگ فلور پر صرف اپنے لوگ پہلے جائی...73سب نے اسے ہارا ہوا سمجھا تھانادیہ بھابھی نے حرا کے ہاتھ سے گفٹ بیگ جھٹک کر ایک طرف رکھا اور ٹرے اس کی طرف بڑھا دی۔ “یہ کپ اُٹھاؤ، اور ذرا سائیڈ سے رہو۔ بڑے لوگ آ رہے ہیں۔” شادی ہال کے باہر کراچی کی نمی بھری ر...74سب نے غلط اندازہ لگایا تھا“یہاں نہیں، نیچے والی قطار میں بیٹھو۔” فراز بھابھی نے ماہرہ کی کلائی کے قریب لٹکے کارڈ کو دو انگلیوں سے پرے دھکیلا اور سیڑھی کی لینڈنگ پر اپنا بازو پھیلا کر راستہ بند کر دیا۔ اوپر...75سب نے غلط شرط لگائی تھیفہد بھائی نے دروازے پر پہنچتے ہی سائرہ کے ہاتھ سے مہمان فہرست چھین لی۔ سفید کاغذ کے کونے پر اس کے پرانے نیلے قلم کا دھبہ تھا، وہی جس سے اس نے رات دو بجے تک نام درست کیے تھے، مگر فہ...76سب نے غلط لڑکی کو روکانائلہ بھابھی نے دروازے کے پاس حرا کے ہاتھ سے چاندی رنگ کی ٹرے جھٹکے سے موڑی اور کہا، “ادھر نہیں۔ یہ سامنے والی قطار گھر والوں کے لیے ہے، تم جوس اندر والے راستے سے دو۔” ٹرے میں رکھے...77سب نے مجھے باہر رکھا، پھر؟ویٹر نے گرم چائے کی ٹرے صائمہ کے ہاتھ میں تھمائی اور مومنہ بھابھی نے اسی لمحے بلند آواز میں کہا، “یہ ادھر نہیں، سروس لین کی طرف لے جاؤ، سامنے والی قطار میں جگہ مت گھیرنا۔” ڈراپ آف...78سسٹم تبھی چلا جب میں نے سنبھالادروازہ کھلتے ہی پہلی ٹرالی لوہے کی ریل سے ٹکرا کر اٹک گئی، برف کے ڈبّوں سے پانی بہہ کر فرش پر پھیل گیا، اور فراز نے وائرلیس پر چیخ کر کہا، “بے تین روکو، بے تین روکو، کوئی گاڑی آگے...79سسٹم میرے بغیر چلا ہی نہیںجیسے ہی تیسری گرم دیگچی والی ٹرالی لوڈنگ بے کے دروازے پر اٹکی، ماہرہ نے ہاتھ اٹھا کر کہا، “پہلے بے نمبر دو کھولو، یہ والی باہر نہیں مڑے گی،” مگر کامران نے اس کی طرف دیکھے بغیر ریڈی...80فائل نے ماضی بدل دیافائلوں کا پلندہ کاؤنٹر پر دھم سے گرا تو صائمہ نے دونوں ہاتھوں سے اسے سنبھالا، اور اسی لمحے ماہا نے دروازے سے اندر آتی اپنی خالہ شمائل سے ہنستے ہوئے کہا، “آپ ادھر آئیں، یہ لڑکی بس ک...81فاصلہ ہی منظر بن گیا“یہ لسٹ حمزہ کے نام سے بھیج دو، مریم کو بس کچن دیکھنا ہے۔”82فاصلہ ہی منظر بن گیا #2ٹرے اس کے ہاتھ سے لے کر خالہ شمائلہ نے سیدھا دانش کی طرف بڑھا دیا۔ "بیٹا، یہ اوپر ارحم کے کمرے میں دے آؤ۔ مہرین، تم نیچے مہمانوں کے کپ گن لو، اور ہاں، پھولوں والی میز کو ہاتھ نہ لگ...83فرنٹ رو اس کے نام ہو گئیفراز صاحب نے اپنی بازو سے راستہ روکا اور کہا، “آپ نہیں، آپ پیچھے۔ یہ وی آئی پی لفٹ ہے۔ سروس لفٹ سے جائیں۔”
لفٹ لابی میں کانچ کی دیواروں پر دوپہر کی روشنی چمک رہی تھی، قالین پر جوت...84فرنٹ رو نے اسی کا نام لیا“مہرین، وہ فون نیچے رکھو اور ٹرے اٹھاؤ۔” حارث نے اس کے ہاتھ سے اسٹیبلائزر والا موبائل جھپٹ کر دانش کو دے دیا، جیسے وہ کسی نوکرانی سے چمچ واپس لے رہا ہو۔ فرنٹ رو کے سامنے اسپانسر سی...85فہرست میں اس کا نام نیچے تھا، بلایا سب سے پہلے گیا"صائمہ کا نام مہمانوں کی فہرست میں نہیں، اسے پیچھے والے راستے سے بھیج دو۔" ماہم باجی نے دروازے کے پاس رکھی رجسٹر میز پر انگلی ٹکائی اور سفید کارڈوں کی قطار میں سے ایک سنہری پرچی اٹ...86قطار میرے آگے رک گئی“مہرین، ادھر نہیں۔” دروازے کے پاس کھڑے منتظم نے اس کے ہاتھ سے سنہری لفافہ تقریباً چھین کر بائیں طرف رکھی پلاسٹک کی کرسیوں کی قطار کی طرف اشارہ کیا، “باہر والی سائیڈ پر بیٹھیں۔ اندر...87قطار میرے لیے ٹوٹ گئیاُشر نے مہرین کے بازو کے سامنے ریشمی رسی کھینچ دی۔ “آپ اِدھر نہیں، باجی، پچھلی سیڑھی سے جائیں۔ اوپر والی قطار صرف دلہن کے قریبی گھر والوں کے لیے ہے۔” اس کے کندھے پر لٹکا بیج بار با...88کاؤنٹر کا پورا منظر اسی پر پلٹ گیا“اسے ابھی روکو،” ندا بھابھی نے رجسٹر پر اپنی نیل پالش والی انگلی ٹکا کر کہا، اور مہرین کا پرانا، تہہ پڑا لینیارڈ کاؤنٹر پر بے حرک پڑا رہا جبکہ اس کے پیچھے کھڑا لڑکا اپنی گاڑی کا ٹو...89کام مجھ پر ڈالا، پھر مجھے پکاراسائرہ نے رجسٹر کی پٹی اپنی کہنی سے سیدھی کی ہی تھی کہ حارث نے اس کے ہاتھ سے مریضوں کی فائلوں کا گچھا لے کر زور سے کاؤنٹر پر رکھا اور اونچی آواز میں بولا، “ندا، تم فرنٹ ڈیسک سنبھالو...90گڑھا میرے لیے تھا، گرے وہدوسری گاڑی کے دروازے ابھی کھلے ہی تھے کہ نعمان نے انگلی سیدھی صائمہ کی طرف اٹھائی۔ “تم ادھر نہیں، پیچھے والی لین میں کھڑی ہو۔ پھولوں کے ٹوکرے بھی تم ہی پکڑو۔” سفید کرولا سے اترتی ع...91لائیو ڈیمو میں بڑا ڈاکٹر ٹوٹ گیاڈاکٹر زارون نے ماہرہ کے ہاتھ سے پروب جھٹکے سے کھینچ کر ٹرے پر پٹخا اور رجسٹر میز کے کنارے سے لٹکتی اس کی عارضی رسائی کارڈ کو دو انگلیوں سے اٹھا کر نرس صبا کی طرف اچھال دیا۔ “اسے فا...92لائیو ڈیمو میں جھوٹا ماہر ٹوٹ گیا“حمزہ اسٹیج لے گا، مہرین تم سائیڈ سے سپورٹ کرو۔”93لکیر جلی مگر ٹوٹی نہیں“دروازہ بند رکھو، اور حارث، تم یہیں ٹھہرو۔”94مجھ پر ڈال کر پھر مجھے ہی پکارازویہ نے کاؤنٹر پر کھلی رپورٹ فائل سے غلط رسید کھینچ کر واپس درست خانے میں رکھی ہی تھی کہ حارث نے اس کی کلائی کے پاس ہاتھ لا کر فائل بند کر دی۔ “تم ہر چیز میں ہاتھ ڈال دیتی ہو۔” اس...95مجھے اوپر کی جگہ مل گئی"بچی، ذرا ایک طرف ہو جاؤ، پہلے اصل مہمان اندر جائیں گے۔"96مجھے ہٹا کر پھر مجھے ہی پکاراحنا نے اپنی انگلیوں میں دبی ہوئی شفٹ شیٹ سیدھی کی ہی تھی کہ مومنہ بھابھی نے سب کے سامنے وہ کاغذ اس کے ہاتھ سے کھینچ لیا اور بولیں، “تم بس کچن دیکھو۔ دروازے پر عائشہ رہے گی۔”
پچھلے...97محفل ایک پل میں ان کے خلاف ہو گئیفراز نے صائمہ کے ہاتھ سے گردن والا کارڈ کھینچ کر عدیل کے سینے پر ٹانک دیا اور رجسٹر لڑکے سے بلند آواز میں کہا، “آج دروازہ یہی سنبھالے گا، اسے بس اندر کے پیکٹ پکڑا دو۔” صحن نما داخل...98میرا نام اب بھی وہیں تھادوپہر کے وقفے میں مائرہ باجی نے رجسٹر کھینچ کر حنا کے ہاتھ سے لے لیا اور سب کے سامنے اس کے نام پر ایک موٹی سی لکیر پھیر دی۔ “تم بس باکس رکھ دو، میز کے پیچھے سدرہ بیٹھے گی۔” حنا نے...99میرا نام اب بھی وہیں تھا #2اس نے ابھی چائے کی ٹرے سنبھال کر دروازے کے پاس رکھی ہی تھی کہ حارث نے اس کے ہاتھ سے کپ اٹھا کر دوسرے لڑکے کو تھما دیا۔ “مہرین، تم بس اندر مت آیا کرو جب مہمان بیٹھے ہوں۔ سمجھا کرو۔”...100میرا نام سب سے اوپر چلا گیارک جائیے، ادھر نہیں۔ دربان نے مخملی رسی مہر کے سامنے کھینچ دی، جیسے وہ شادی میں نہیں، راشن کی لائن میں گھسنے آئی ہو۔ اس کے کندھے پر دفتر کی لمبی ڈیوٹی کی سختی ابھی تک جمی تھی، آستی...101میرا نام سب سے اوپر رکھ دیا گیاگاڑی کا دروازہ ابھی صائمہ نے خود کھولا ہی تھا کہ سفید دستانوں والا لڑکا ہاتھ اٹھا کر بولا، “یہ لائن نہیں، آپ سائیڈ پر رکھیے، دلہن والوں کی بڑی فیملی پہلے اترے گی۔” اسی لمحے پیچھے و...102میرا نام واپس چڑھ گیا“دروازہ بند نہ کرو، دلہن والوں کی گاڑی نیچے آ گئی ہے!” فریحہ بھابھی کی آواز سیڑھیوں میں گونجی اور اسی لمحے استقبالیہ میز پر رکھی مہمانوں کی فہرست الٹ گئی۔ دو نام دو بار چڑھے ہوئے ت...103میری جگہ ان کا شارٹ کٹ مر گیا“مہرین، دو نمبر والی پٹی جلدی دو، اور امی کے لیے شوگر والی دوا الگ باندھو۔”104میری نشست سب کے سامنے بدل گئی“نادیہ کو اندر لے جاؤ، اس کا نام اوپر ہے۔ تم ابھی بنچ پر بیٹھو، مہرین۔”105میرے لیے گڑھا کھودا، خود اتر گئی“ماہم! اوپر نہیں، یہیں رکو۔” سعدیہ بھابھی نے دوسری منزل کی لینڈنگ پر کھڑے ہو کر ہاتھ ایسا اٹھایا جیسے پوری سیڑھی انہی کی جاگیر ہو۔ نیچے سے کیٹرنگ والے دو بڑے دیگچے اٹھائے چڑھ رہے ت...106مین گیٹ پر پہلی ترجیح میرے نام ہوئی“رکیے، آپ ادھر نہیں، ایک طرف۔”107نظام میرے بغیر چلا ہی نہیںکامران نے سائرہ کے ہاتھ سے اسکینر جھٹک کر اپنی جیب میں ڈالا اور لین ڈیسک کی چابیوں کا گچھا کرسی کے بازو پر ٹکا دیا۔ سامنے دھاتی ٹرالیاں لیبلوں سے اٹی کھڑی تھیں، پیچھے ریک کے بیچ مو...108نظام میرے بغیر چلا ہی نہیں #2گیٹ نمبر تین پر سفید ہائی ایس کی بریک چیخی، پیچھے منی ٹرک نے ہارن پر ہاتھ جما دیا، اور فرحان نے ڈسپیچ ڈیسک سے سر اٹھائے بغیر چیخ کر کہا، “پہلے کورنگی والا نکالو، پھر نارتھ بائی پاس...109ہم نے ایک ہی بوجھ اٹھایا“جلدی، یہ کپڑا دو—اور میز کے نیچے ہاتھ مت ڈالو، سائرہ، وہاں مہمانوں کے جوتے رکھے ہیں!”110ہم نے ایک ہی بوجھ اٹھایا #2ماہر نے ڈرپ کی بوتل کو ہاتھ سے اوپر تھاما اور دوسری ہتھیلی سے حنا کی ماں کے بازو میں لگی سوئی کے پاس بہتا خون دبا دیا۔ نرس ابھی پردہ ہٹا کر اندر پہنچی بھی نہ تھی کہ دروازے پر کھڑی...111واپسی کا محفوظ راستہ پھر کھل گیاسلمان نے ٹرے سیدھی پکڑ کر حرا کے اوپر جھکایا ہوا چائے کا کپ گرنے سے پہلے تھام لیا، اور اگلے ہی لمحے کینٹین کے شیشے والے کاؤنٹر پر پھیلتی بھوری لکیر کو اپنے آستین سے روک دیا۔ “ہاتھ...112وہ دروازہ بند ہونے کے بعد آیافائزہ خالہ نے پلیٹ میز پر رکھ کر کہا، “مہرین، چائے پھر سے گرم کر دو—” اور دروازے پر دستک کے ساتھ ہی بات ادھوری رہ گئی۔ صفیہ ہانپتی ہوئی اندر آئی، دوپٹے کے نیچے سے ایک بھورا لفافہ ا...113وہ دروازہ بند ہونے کے بعد آیا #2صبا نے دروازے کے پاس رکھی پلاسٹک کی کرسی کو پاؤں سے ایک طرف سرکایا اور مہرین سے کہا، “تم ذرا باہر ہی رہو، اندر والوں کو پہلے چائے پکڑا دوں۔” مہرین کے ہاتھ میں سموسوں کا ڈبہ تھا، او...114وہ کمرہ میرا انتظار کرتا رہا"حِنا، ٹرے سیدھی پکڑو— گر گئی تو تمہاری ذمہ داری ہوگی،" نادیہ باجی نے اونچی آواز میں کہا، اور اسی لمحے ان کے ہاتھ سے سوپ کا کاغذی کپ پھسل کر کلینک کی سفید ٹائلوں پر پھیل گیا۔ مریضو...115وہ لمس جو ہم نے نہیں لیازینب نے کاؤنٹر پر رکھی رجسٹر بک اپنی طرف کھینچی ہی تھی کہ خالہ شمائلہ نے اس کے ہاتھ کے اوپر سے فائل اٹھا کر ارسلان کے سامنے رکھ دی۔ “یہ تم دیکھ لو بیٹا، تمہیں حساب بہتر آتا ہے۔” چا...116وہ مجھے بہت دیر سے چناکاغذی لفافے کی خشک چرچراہٹ کے ساتھ دروازہ آدھا کھلا اور خالہ شمائلہ نے مائرہ کے سامنے رکھی چائے کی ٹرے ذرا ایک طرف سرکا دی۔ “ارے، یہ تو حارث ہے۔ اندر آؤ بیٹا، وقت پر آ گئے۔” مائرہ...117وہی سب کے سامنے استثنا بنیثمنہ خالہ نے مہر کے ہاتھ سے فائل چھین کر دروازے کے پاس رکھے پھولوں کے کارٹن پر دے ماری اور اونچی آواز میں بولیں، “یہ اندر نہیں جائے گی، یہ باہر کھڑی رہ کر گاڑیوں کی پرچی پکڑائے گی۔...118وہی منظر ان پر پلٹ آیاندیم نے دستخط شدہ حکم نامہ رجسٹر پر پٹخا اور مہرین کے بازو کے سامنے اپنی ہتھیلی دیوار کی طرح کھڑی کر دی۔ “تم ادھر سے نہیں جاؤ گی۔ سروس لین دو نمبر۔” بیک گیٹ کی چھت کے نیچے بھاپ، پس...119یہ نقصان ہمیں جدا نہ کر سکاسائرہ نے گرم دیگچی کے نیچے سے گیلا کپڑا کھینچ کر چولہے کی لپکتی آنچ پر دے مارا تو تیل کی چھینٹ ایک دم سسکاری لے کر بجھ گئی، اور اُس کے ہاتھ میں پھنسا آدھا تہہ کیا ہوا رسید کا پرزہ...