آج پاس اس کے ہاتھ میں تھا
“ارے نہیں، یہ گاڑی اِدھر نہیں آئے گی—سائیڈ والی لین میں لگاؤ، اور ان کے لیے سامنے والی کرسی بھی ہٹا دو۔” سلمان زیدی نے ہاتھ کے ایک اشارے سے ہال کے دروازے پر کھڑے دو لڑکوں کو دوڑایا، جیسے مہرین اسلم کوئی سپلائر نہیں، راستہ روکنے والی چیز ہو۔ سفید گلوں سے سجی مرکزی ڈراپ آف لین کے کنارے اس کی وین روکی گئی، پھر اس کے باپ حاجی اسلم کی نظر کے سامنے وہ فولڈنگ کرسی اٹھا لی گئی جو اسی کے نام پر رکھی گئی تھی۔ مہرین کے گلے میں لٹکا پرانا، موڑ کھایا ہوا پاس چمکا اور پھر بےکار ہو گیا۔
کراچی کی رات نم تھی، گاڑیوں کے دھویں، عطر، اور قورمے کی بھاپ ایک ساتھ تیر رہی تھی۔ اندر دولہے والوں کے لیے استقبالی قالین بچھا تھا، باہر مہرین کے پاؤں کے نیچے کچی نمی اور ٹائروں کے نشان۔ حاجی اسلم نے لب بھینچے۔ ان کی چھوٹی سی کٹنگ اور میز سجاوٹ کی ورکشاپ اسی اکاؤنٹ سے چلتی تھی؛ اگلے مہینے کی دکان کا کرایہ، شاگردوں کی مزدوری، گھر کی چھت کی ادھوری مرمت، سب اسی رات کی ادائیگی سے جڑے تھے۔ دور، خالہ شفقت آپا اپنی بہو کے ساتھ کھڑی تھیں۔ اُن کی آنکھوں میں وہی سوال تھا جو رشتے کی میزوں پر ہوتا ہے: جس لڑکی کے گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی بات چل رہی ہو، اگر اُسی کو سب کے سامنے یوں ہٹایا جائے تو آگے کون اس کے حق میں بولے گا؟
مہرین نے گاڑی سے اترتے ہوئے صرف اتنا کہا، “ابو، سامان یہی رہے گا۔ کوئی چیز سائیڈ گیٹ سے اندر نہیں جائے گی جب تک رسید پر مہر نہ لگے۔” آواز ہموار تھی، مگر اُس ہمواری میں وہ سختی تھی جو سلمان نے شاید سنی نہیں۔ اُس نے ایک بار پھر بلند آواز سے کہا، “تم لوگ بس بیک اپ ہو۔ اصل استقبال ہماری اپنی ٹیم کرے گی۔ تمہارا سیٹ اندر راہداری میں رکھ دیا ہے، اگر بچا تو۔” قریب کھڑا لڑکا کرسی موڑ کر لے گیا۔ یہی پہلا زخم تھا، اور اتنا کھلا کہ جس نے دیکھا، نظر ہٹا کر بھی دیکھ لیا۔
حاجی اسلم نے آہستہ سے بازو چھوا۔ “بیٹی، چپ رہو۔ رات نکل جائے بس۔” ان کی انگلیوں میں لرزش تھی، جیسے چائے کا کپ دیر تک رکھا رہے تو اوپر جھلی جم جائے اور ہاتھ پھر بھی کپ نہ چھوڑے۔ مہرین نے ان کے ہاتھ سے رسیدی فائل لے لی۔ “رات نکل گئی تو اکاؤنٹ بھی نکل جائے گا، ابو۔” اُس نے سیدھا سلمان کی طرف نہیں دیکھا؛ وہ اُس رجسٹر میز کی طرف بڑھی جو شیشے کے دروازے کے اندر، روشنی کی ہلکی بھنبھناہٹ والے تنگ برآمدے میں رکھی تھی۔
وہی میز تھی جہاں سے لین الاٹ ہوتی تھی، گاڑیوں کے نمبر لکھے جاتے تھے، اور کس سپلائر کو کس دروازے سے داخلہ ملے گا، فیصلہ ہوتا تھا۔ سلمان وہاں پہلے سے موجود منیجر اوّل خان کے ساتھ جھکا ہوا تھا۔ اُس کے سامنے موبائل کھلا تھا اور وہ اس انداز میں بول رہا تھا جیسے ہر چیز اُس کے انگوٹھے سے بندھی ہو۔ “پھولوں کی انٹری میرے کوڈ سے چلے گی۔” مہرین میز تک پہنچی تو اس نے کندھے سے راستہ روکا۔ “تم ابھی باہر رہو۔ جب بلاؤں تب آنا۔”
مہرین نے اپنی فائل میز پر رکھی، ایک شفاف پلاسٹک جیب سے پرنٹ نکالا، اور اوّل خان کے سامنے سیدھا کر دیا۔ “بکنگ کس نام سے کنفرم ہوئی تھی، آپ بلند آواز میں پڑھ دیں۔” اوّل خان نے عادتاً سلمان کی طرف دیکھا۔ سلمان نے ہنسی میں اڑا دینا چاہا۔ “اوّل صاحب، یہ کاغذ ہر چھاپہ خانے سے نکل آتے ہیں۔” مہرین نے اُس وقت اپنے موبائل کی اسکرین گھمائی؛ بینک حوالہ، پیشگی رقم، اور وینیو کے مالک ندیم حبیب کا مختصر پیغام ایک ہی قطار میں تھا: مرکزی پھول آرچ، استقبالی لین، دولہے کے خاندان کی پہلی وصولی—تمام ذمہ داری مہرین اسلم ایونٹس۔ نیچے سات ہندسوں والا محفوظ ریزرویشن کوڈ تھا، وہی جو رجسٹر میں کھلتا تھا۔ “کوڈ پڑھیے، اوّل صاحب۔”
اوّل خان کے چہرے سے چاپلوسی کا روغن اتر گیا۔ اُس نے رجسٹر کھولا، صفحہ پلٹا، پھر میز کے نیچے لگا چھوٹا سکینر آن کیا۔ مہرین نے اپنا موڑ کھایا پاس سیدھا کیا، اس کے پیچھے چپکی باریک پٹی سکینر کے نیچے لائی۔ ایک بیپ ہوئی۔ رجسٹر میں بند رکھی استقبالی لین کی سطر سبز ہو گئی، اور ساتھ نوٹ ابھر آیا: فعال اختیار صرف بنیادی سپلائر کے پاس۔ ثانوی ہدایات منسوخ۔ اوّل خان نے بےاختیار سیدھا ہو کر کہا، “نام مہرین اسلم ہے۔”
سلمان کا ہاتھ میز پر پڑا، اتنا زور سے کہ قلم لڑھک کر گر گیا۔ “یہ ممکن نہیں۔ میرا میسج دیکھو، میں نے—” “آپ نے ہدایت دی تھی، اختیار نہیں بدلا تھا،” اوّل خان نے پہلی بار اُس کی بات کاٹ دی۔ اُس نے رجسٹر مہرین کی طرف موڑ دیا۔ صفحے پر سب کے پڑھنے لائق سیاہی میں لین، استقبالی حق، اور وصولی ترتیب درج تھی۔ مہرین نے انگلی رکھ کر ایک سطر پر دستخط کیے اور کہا، “سائیڈ گیٹ بند رہے گا۔ مرکزی لین صرف درج شدہ گاڑیوں کے لیے کھلے گی۔ اور میری ٹیم کا سامان وہیں سے اُترے گا جہاں پہلے سے بک ہے۔”
یہ پہلا انعام تھا، خالی احساس نہیں، سامنے کی چیز۔ وہ لڑکا جو اس کی کرسی اٹھا کر لے گیا تھا، واپس آیا اور بغیر کچھ کہے وہی کرسی دوبارہ لا کر مرکزی ستون کے پاس رکھ گیا۔ شفقت آپا نے دور سے دوپٹہ درست کرتے ہوئے ایک نظر سلمان پر ڈالی، دوسری مہرین پر۔ حاجی اسلم نے سیدھا کھڑا ہونا یاد کیا۔ سلمان نے مسکرا کر بات کو نرم کرنے کی کوشش کی، مگر اُس کے گال کا عضلہ کھنچ گیا تھا۔
باہر سے ہارنوں کی قطار چڑھی۔ پہلے ایک سیاہ SUV، پھر دو سفید گاڑیاں، پھر منی بس جس کے دروازہ کھلتے ہی سجے ہوئے شلوار قمیصوں، بھاری چوڑیوں اور پالش شدہ جوتوں کی چمک لین میں بہہ آئی۔ “دولہے کے تایا آئے ہیں!” کسی نے آواز دی۔ ساتھ ہی ایک دوسری وین پھولوں کی تھی، تیسری میں کھانے والوں کے گرم ڈبے۔ ڈراپ آف لین اب صرف راستہ نہیں رہی تھی؛ یہ اعلان تھا کہ پہلے کون وصول ہوگا، کون انتظار کرے گا، اور کس کی بےعزتی سب سے پہلے دیکھی جائے گی۔
سلمان فوراً حرکت میں آیا۔ “لین کھولو، یہ ہمارے مہمان ہیں۔” اُس نے گیٹ والے لڑکے سے چابی مانگی، پھر مہرین کی طرف جھک کر دھیمی مگر جلدی میں کہا، “ڈرامہ بند کرو۔ پہلے میرے ماموں کی گاڑی آنے دو۔ بعد میں جو کاغذی کام ہے کر لینا۔” مہرین نے اُس کے ہاتھ اور چابی کے بیچ اپنی ہتھیلی نہیں رکھی؛ اُس نے صرف اوّل خان سے کہا، “مالک کو کال لگائیں۔ ابھی۔ اسپیکر پر۔” اوّل خان نے ایک لمحہ بھی نہیں لیا۔
ندیم حبیب کی بھاری آواز شور کے اوپر آئی۔ “کس کے پاس فعال کوڈ ہے؟” اوّل خان نے رجسٹر دیکھ کر جواب دیا، “مہرین اسلم کے پاس، صاحب۔” “تو لین، وصولی، اور سپلائر ترتیب وہی طے کریں گی۔ بارہ منٹ میں VIP قافلہ پہنچ رہا ہے۔ غلط گاڑی اندر گئی تو میں کسی کو نہیں بچاؤں گا۔”
سلمان کے چہرے کی سفیدی ایک دم نمایاں ہو گئی، جیسے کسی نے اس کی پالش اتار دی ہو۔ اُس نے پہلی بار مخاطب بدل کر کہا، “مہرین، دیکھو، بات بڑھانے کی ضرورت نہیں۔ سب اپنے ہی ہیں۔” “اپنے تب ہوتے جب آپ کرسی نہ اٹھواتے،” مہرین نے جواب نہیں، حکم دیا، “اوّل صاحب، لسٹ پڑھیے۔”
اوّل خان نے رجسٹر سے نام پڑھنا شروع کیے۔ “پہلی وصولی: حاجی اسلم اور ان کی ٹیم بطور مرکزی آرچ سپلائر۔ دوسری: دولہے کے تایا کی گاڑی۔ تیسری: کھانے والوں کی گاڑی۔” سلمان نے تیز لہجے میں کہا، “یہ ترتیب بدل دو۔” اوّل خان نے نظر نیچی رکھ کر جواب دیا، “اختیار میرے پاس نہیں۔”
مہرین مرکزی لین کے سرے پر جا کھڑی ہوئی۔ ایک ہاتھ میں پاس، دوسرے میں چھوٹا کلپ بورڈ۔ اُس کے گلے کا لینیارڈ، پرانا اور گھسا ہوا، اب عین روشنی میں تھا۔ گیٹ پر کھڑا لڑکا اس کی طرف دیکھ رہا تھا، سلمان کی طرف نہیں۔ “پہلے ابو کی گاڑی آگے لاؤ،” مہرین نے کہا۔ حاجی اسلم چونکے بھی، شرمائے بھی، مگر وین آہستہ آہستہ قالین کے کنارے آ لگی۔ وہی جگہ جہاں کچھ دیر پہلے انہیں ہٹایا گیا تھا۔ سامان اُترنا شروع ہوا۔ دو مزدوروں نے پھولوں کے بڑے فریم کندھوں پر اٹھائے اور سیدھے مرکزی دروازے کی طرف بڑھے۔
سلمان آگے بڑھا، “میں کہہ رہا ہوں رکو—” گیٹ والے لڑکے نے اُس کی بات کے اوپر پوچھا، “باجی، یہ گاڑی اندر پوری لینی ہے یا آدھی؟” “پوری۔ اور اگلی سفید SUV کو دو منٹ روک کر رکھو۔ پھول پہلے کھڑے ہوں گے تو تصویر سیدھی آئے گی۔” یہ معمولی جملہ تھا، مگر اسی نے ساری ترتیب الٹ دی۔ سلمان کی آواز جو ابھی حکم تھی، اب شور میں گم ایک اضافی آواز بن گئی۔ دولہے کے تایا کی گاڑی کھلی کھڑی رہی۔ اندر بیٹھے ہوئے بزرگ نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کر کے ناگواری سے پوچھا، “رک کیوں گئے ہیں؟” اوّل خان نے دوڑ کر جواب دیا، “مرکزی آرچ لگ رہا ہے، سر۔ ابھی آپ کی گاڑی وصول ہوگی۔”
مہرین نے اگلا نام لیا، “کھانے والوں کی وین کو پچھلی راہداری نہیں، یہی معاون لین دی جائے۔ گرم ڈبے ٹھنڈے نہیں ہوں گے۔” سلمان ہکا بکا اس کی طرف مڑا۔ “یہ تو میری—” “آپ کی؟” مہرین نے پہلی بار پوری نظر اس پر ڈالی۔ “رسید پر، کوڈ پر، اور ادائیگی پر کون ہے، یاد ہے نا؟” اُس نے پاس گیٹ والے لڑکے کی آنکھوں کے سامنے اٹھا کر دکھایا۔ لڑکے نے فوراً رسی کھولی، معاون لین کا بیریئر کھسکا دیا۔ کھانے والوں کی وین اندر مڑ گئی۔ سلمان کے اپنے بلائے ہوئے ایک ہینڈلر نے اُس سے آ کر سرگوشی کی، “بھائی، ہمیں بھی انٹری دلوادیں، اندر جگہ بند ہو رہی ہے۔” یہی دوسرا زخم تھا—جو لوگ ابھی اُس کے اشارے پر بھاگ رہے تھے، وہی اب اُس کے لیے راستہ مانگ رہے تھے۔
شور بڑھتا گیا۔ گاڑیوں کے دروازے کھلنے کی آواز، عورتوں کے زیوروں کی چھنک، بچوں کو جلدی کرانے والی مائیں، اور بیچ میں سلمان کی ٹوٹی ہوئی جلد بازی۔ اُس نے آخری کوشش کی۔ “مہرین، کم از کم میرے ماموں کی گاڑی کو پہلے لے لو، بات گھر تک جائے گی۔” “گھر تک تو پہلے ہی گئی ہے،” مہرین نے کہا، اور نام پکارا، “شفقت آپا، آپ اندر آئیے۔ خواتین کے لیے پہلا راستہ صاف ہے۔” شفقت آپا، جو اب تک تماشائی تھیں، اپنے دوپٹے کا پلو سنبھالتی ہوئی سیدھی مرکزی راہ سے اندر بڑھ گئیں۔ اُن کے پیچھے حاجی اسلم۔ خاندان کی نظر بدلنے میں کبھی تقریر نہیں لگتی، صرف ایک واضح راستہ لگتا ہے جس پر کون پہلے چلتا ہے۔
VIP قافلے کی اگلی گاڑی موڑ پر دکھائی دی۔ پولیس نما لائٹ کی جھلک دیوار پر رینگ کر آئی۔ اوّل خان تقریباً دوڑتا ہوا مہرین کے پاس پہنچا۔ “اب آخری فیصلہ آپ دیں، باجی۔ دونوں لین ایک ساتھ نہیں کھل سکتیں۔” سلمان نے ہاتھ بڑھا کر رجسٹر پکڑنا چاہا۔ “مجھے دو، میں—” اوّل خان ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔ یہ اتنا چھوٹا سا قدم تھا کہ شاید کسی اور رات کوئی دیکھتا بھی نہیں، مگر آج سب نے دیکھا۔ سلمان کا ہاتھ ہوا میں رہ گیا۔
مہرین نے رجسٹر کھولا، محفوظ کوڈ والی سطر پر انگوٹھا رکھا، پھر صاف آواز میں کہا، “مرکزی لین VIP قافلے اور دولہے کے بڑے بزرگ کے لیے۔ معاون لین کھانے والوں اور میرے پھول والوں کے لیے کھلی رہے گی۔ سلمان زیدی کی ذاتی ہدایات بحال نہیں ہوں گی۔ اگر ان کی طرف سے کوئی گاڑی آئے تو انتظار کرے، جب تک درج شدہ ترتیب پوری نہ ہو۔” اوّل خان نے اسی وقت مہر لگا دی۔ گیٹ والا لڑکا ایک بیریئر اوپر، دوسرا آدھا نیچے کیے کھڑا ہو گیا۔ سلمان نے کچھ کہنا چاہا، مگر اس کی آواز اس لمحے کسی کام کی نہیں رہی تھی۔ قافلہ اندر مڑا، بزرگ کی گاڑی اس کے پیچھے، اور وہ گاڑی جس کے لیے سلمان اب تک زور لگا رہا تھا، قطار کے باہر روک دی گئی۔
اندر کے چھوٹے معاہدہ کمرے میں، جہاں پالش شدہ میز پر اوپر کی روشنی دائرہ بنا رہی تھی اور دیوار کے ساتھ رکھی چائے ٹھنڈی ہو کر کپ کے نیچے ہلکا سا حلقہ چھوڑ چکی تھی، ندیم حبیب کا نمائندہ پہلے سے بیٹھا تھا۔ رجسٹر سے نکلی ترمیم شدہ الاٹمنٹ سامنے رکھی گئی۔ مہرین نے محفوظ کوڈ اپنی طرف رکھتے ہوئے نیا کنٹریکٹ فولیو کھولا، آخری صفحے پر انگلی سے جگہ سیدھی کی، اور فولیو میز کی چکنی سطح پر نمائندے کی طرف سرکا دیا۔