آج پہلی ترجیح میرا نام تھا
دروازے پر کھڑی سفید گاڑی کا پچھلا دروازہ ابھی کھلا ہی تھا کہ حنا باجی نے ہاتھ اٹھا کر بیرا روکا، “نہیں، پہلے عادلہ اور حمزہ کو لیجاؤ۔ یہ بعد میں آئیں گی۔” سائمہ کے قدم وہیں تھم گئے۔ اس کے ہاتھ میں چھوٹا سا کلچ تھا، انگلیوں کے نیچے بس کارڈ کا گھسا ہوا کنارا چبھ رہا تھا؛ صبح وہ ناظم آباد سے بس بدل کر آئی تھی، پھر آخری راستہ رکشے سے طے کیا تھا، صرف اس لیے کہ خالہ نسیم نے کہا تھا، آج دیر نہ کرنا، آج تمہیں “گھر کی طرف” سے کھڑا ہونا ہے۔ مگر دروازے پر لال قالین کے کنارے اسے یوں ہٹا دیا گیا جیسے وہ کسی دلہن کی سہیلی بھی پوری نہ ہو۔
ہال کے باہر کراچی کی نم ہوا میں عرق اور عطر مل رہے تھے۔ ایک طرف موٹر بائیکیں ٹیڑھی قطار میں، دوسری طرف قیمتی گاڑیاں آہستہ آہستہ ڈراپ آف لائن میں سرک رہی تھیں۔ حنا باجی نے خود عادلہ کا دوپٹہ سیدھا کیا، حمزہ کے کندھے سے گرد جھاڑی، اور استقبالیہ کے لڑکے سے کہا، “ہیڈ ٹیبل کی پہلی دو کرسیاں انہی کے نام رکھنا۔ خاندان کے بڑوں کو یہی جوڑی دکھنی چاہیے۔” “اور میں کہاں؟” سائمہ نے اتنی آہستہ کہا کہ سوال کم، کانٹے جیسا اعتراض زیادہ لگا۔ حنا نے پلٹ کر مصنوعی مسکراہٹ دی، “تم سمجھدار لڑکی ہو۔ خالہ کی طرف بیٹھی رہنا۔ سب کو پتہ ہے کیا مناسب ہے۔”
یہ “سب کو پتہ ہے” سب سے بڑا جھوٹ تھا۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والا تعلق اگرچہ چھپا ہوا نہ تھا، مگر فیصلے کی جگہ کبھی نہیں ملی تھی۔ فیضان کی ماں نے دو ماہ پہلے خود سائمہ کے گھر جا کر چائے پی تھی، پھر خاموشی سے پلٹ گئی تھیں کیونکہ فیضان کی نئی ترقی، سروس سیکٹر والی نوکری، اور شادی میں ہونے والے لین دین نے اچانک رشتے کو “خاندان کے معیار” کے ترازو پر رکھ دیا تھا۔ آج اسی ترازو کو دروازے پر سب کے سامنے جھکایا جا رہا تھا۔
سائمہ نے پیچھے ہٹنے کے بجائے سیدھا استقبالیہ کی دیوار کی طرف قدم بڑھایا جہاں مہمانوں کی ترتیب والا بڑا بورڈ لگایا جا رہا تھا۔ اوپر سنہری حروف میں خاندان کا نام، نیچے نمبروں کے ساتھ میزیں اور نمایاں کرسیوں کی فہرست۔ ایک لڑکا مقناطیسی پٹی سے نام چپکا رہا تھا۔ سائمہ نے بورڈ پر نظر دوڑائی؛ “حمزہ + عادلہ” ہیڈ ٹیبل کے دائیں اوپر، “خالہ نسیم فیملی” نیچے۔ اس نے بس ایک سیکنڈ کو ہاتھ بڑھا کر اپنی انگلی اس خالی جگہ پر رکھ دی جہاں کوئی نام نہیں تھا۔ لڑکا چونکا۔ حنا باجی فوراً تیز قدموں سے آ گئیں۔ “ہاتھ نہ لگاؤ اس کو۔ یہ ترتیب اوپر سے آئی ہے۔” سائمہ نے انگلی ہٹالی، مگر کنارے پر لگی ایک ڈھیلی پٹی جھک گئی۔ “ڈھیلا لگا رہے ہو۔ گر جائے گا۔” یہ چھوٹی سی بات تھی، مگر قریب کھڑے خالو نے سن لیا۔ انہوں نے لڑکے کو ڈانٹا، “کام سیدھا کرو۔ باہر ہی تماشا بنا رکھا ہے۔” پہلا بال برابر سا شگاف وہیں پڑا؛ حنا کے حکم پر ایک اور حکم آ چکا تھا۔
حنا نے فوراً جال تنگ کیا۔ “سائمہ، تم یہ پھولوں والی ٹوکری پکڑ لو۔ دلہن کی پھوپھی آئیں تو ان پر پتیاں ڈالنی ہیں۔ سامنے نہیں، بائیں طرف کھڑی ہونا۔” یہ سیدھا نیچا مقام تھا: استقبال میں موجود، مگر جوڑی سے باہر؛ نظر آنے کے لیے نہیں، دوسروں کو نمایاں کرنے کے لیے۔ دو خالائیں قریب سے گزرتے ہوئے رکیں۔ ایک نے دوسری کے کان میں کہا، “اچھا، تو فیصلہ ادھر ہوگیا؟” دوسری نے سائمہ کو اوپر سے نیچے دیکھا، پھر حنا کی طرف جھک کر بولی، “بہتر ہے لڑکی خود سمجھ لے۔” سائمہ نے ٹوکری تھامی، مگر اس کا ہاتھ سخت ہو گیا۔ “میں پھول نہیں ڈالوں گی۔” حنا باجی نے دانت بھینچے بغیر مسکرا کر کہا، “شادی میں ہر کسی کا ایک مقام ہوتا ہے۔ اپنا مقام مشکل نہ بناؤ۔”
اس وقت ایک سیاہ گاڑی ڈراپ آف لائن میں آ کر رکی۔ سائمہ نے پہلے نمبر پلیٹ نہیں، ڈرائیور سیٹ کے سامنے لٹکتی وہی چابی دیکھی جو دو ہفتے پہلے فیضان نے اس کے ہاتھ میں رکھ کر پھر واپس لے لی تھی—آدھی رات، سیڑھیوں کے موڑ پر، جب اس نے کہا تھا، “ابھی نہیں، سائمہ۔ امی کے سامنے بات جلدی کھل گئی تو وہ تمہیں ہی نقصان دیں گی۔” دیر سے لوٹائی ہوئی چابی کی طرح وہ وعدہ بھی ہمیشہ تھوڑا شرمندہ سا رہا تھا۔ گاڑی کا اگلا دروازہ کھلا، مگر ڈرائیور نہیں اترا۔ پچھلا دروازہ اندر سے کھلا۔ فیضان باہر نکلا—کریم رنگ شیروانی، چہرے پر وہی دبی ہوئی سختی، اور اس کے فوراً بعد اس کی ماں۔ حنا باجی لپک کر آگے بڑھیں، “ادھر، ادھر! پہلے آپ لوگ عادلہ اور حمزہ کے ساتھ—” فیضان نے ان کی بات کاٹ دی۔ “امی، ذرا رکیے۔”
آنے والوں کے راستے ایک لمحے کو الجھ گئے۔ ایک اور گاڑی پیچھے ہارن دے کر رک گئی۔ بیرا جسے حنا نے عادلہ کے لیے بلایا تھا، فیضان کی ماں کے دروازے پر ٹھٹھک گیا۔ حنا نے ہاتھ سے اشارہ کیا، “پہلے ادھر!” لیکن فیضان خود مڑا، سیدھا سائمہ کے سامنے آ کر رکا، اور اس کے ہاتھ سے پھولوں کی ٹوکری لے کر قریب پڑی سائیڈ میز پر رکھ دی۔ “یہ نہیں کرے گی۔” حنا باجی کی گردن ایک جھٹکے سے تن گئی۔ “فیضان، سب دیکھ رہے ہیں۔ ترتیب خراب مت کرو۔” “ترتیب غلط ہے، خراب میں نہیں کر رہا۔” اس نے اتنا کہہ کر بیرا کو دیکھا۔ “دروازہ کھولو۔ سائمہ پہلے جائے گی۔”
ہوا جیسے ایک دم نمکین سے دھاتی ہو گئی۔ سائمہ کے کانوں میں پیچھے کھڑی گاڑیوں کے انجن، برقعے کے نیچے کسی خالہ کی دبی سانس، اور استقبالیہ کے اوپر گھومتے پنکھے کی بھنبھناہٹ سب اکٹھے سنائی دیے۔ بیرا نے پہلے حنا کی طرف دیکھا، پھر فیضان کی ماں کی طرف۔ بوڑھی خاتون کے چہرے پر سخت خاموشی تھی، لیکن انہوں نے “نہیں” نہیں کہا۔ اتنی دیر کافی تھی۔ بیرا آگے بڑھا، سائمہ کے سامنے سے رسی ہٹائی، اور قالین کی خالی لکیر اس کے لیے کھل گئی۔ حنا ایک قدم آگے آئیں، “سائمہ، پیچھے رہو۔ یہ خاندان کی آمد ہے۔” سائمہ نے ان کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا، “اسی لیے تو۔” اور چل پڑی۔
اب ہر چیز حرکت سے پڑھی جا رہی تھی: کون دروازے کی لکیر پہلے کاٹ رہا ہے، کس کے لیے ہاتھ بڑھ رہے ہیں، کس کو راستہ چھوڑنا پڑ رہا ہے۔ سائمہ پہلے قدم پر تھی، اس کے پیچھے فیضان کی ماں، پھر فیضان۔ حنا اور وہ پسندیدہ جوڑی، جو ابھی کچھ لمحے پہلے تک سامنے رکھی گئی تھی، قالین کے کنارے سمٹ کر ایک طرف ہوگئی۔ حمزہ نے ناپسندیدہ مسکراہٹ سے کہا، “یہ کیا بچوں جیسی ضد ہے؟” فیضان نے مڑے بغیر جواب دیا، “بچوں کو آگے کھڑا کرتے ہیں تاکہ بڑے نظر آئیں۔ یہاں بڑا کون ہے، اب سب دیکھ لیں گے۔”
اندر جانے سے پہلے استقبالیہ کے شیشے والے حصے میں ایک لمبا آئینہ تھا، جس پر پرانے پونچھے کے داغ اور انگلیوں کے دھندلے نشان پڑے تھے۔ سائمہ کی اپنی جھلک ایک لمحے کو اس میں ٹوٹی ہوئی سی نظر آئی—گہرے سبز کپڑے، سیدھی گردن، ہاتھ خالی، مگر پیچھے فیضان کا قدم اس کے ساتھ برابر۔ اسی لمحے حنا نے آخری وار کیا۔ “خالہ!” انہوں نے اونچی آواز میں نسیم خالہ کو پکارا، جو اندر سے جلدی جلدی آ رہی تھیں۔ “ابھی روک لیں۔ لڑکیوں کی عزت یہی ہے کہ نام نہ اچھالے جائیں۔ جو طے نہیں ہوا، اسے سامنے لانا مناسب نہیں۔” یہ رحم کا لباس پہنایا ہوا دھکا تھا۔ اگر سائمہ خاموش رہتی تو ابھی کی ساری ترتیب مذاق بن جاتی؛ اگر بولتی تو اپنی ہی عزت کا بوجھ خود اٹھاتی۔
نسیم خالہ کے ماتھے پر پسینہ چمکا۔ وہ سائمہ اور فیضان کے درمیان دیکھتی رہ گئیں۔ “بیٹا، بعد میں کمرے میں بات کر لیتے ہیں—” “بعد میں نہیں۔” سائمہ کی آواز بلند نہ تھی، مگر سیدھی گئی۔ اس نے پہلی بار خود اپنی جگہ زبان سے لی۔ “میں کسی غلط جوڑی کی جگہ چھوڑنے نہیں آئی۔ اگر مجھے بائیں طرف کھڑا کرنا تھا تو پہلے میرے گھر آ کر وہ چائے نہ پیتے، پہلے مجھے اپنی ماں کے ساتھ کھانا نہ کھلاتے، پہلے مجھے یہ نہ کہتے کہ تم گھر کی طرف سے ہو۔” اس نے رخ حنا کی طرف کیا۔ “اور اگر آج سب کے سامنے مناسب یہی ہے، تو پھر سب کے سامنے سن لیں۔ میں فیضان کے نام سے پیچھے نہیں کھڑی ہوں گی۔”
یہ جملہ نکلتے ہی ہوا بدل گئی۔ اب بات اشارے میں نہیں رہی تھی۔ فیضان کی ماں نے پہلی بار صاف دیکھا، سیدھا سائمہ کو، جیسے پرانی کڑواہٹ اور نئی ضرورت ایک ہی لکیر پر آ کھڑی ہوئی ہو۔ حنا فوراً بولیں، “یہ لڑکی خود کہہ رہی ہے، کل کو انکار ہو گیا تو؟ خاندان کی سبکی—” “انکار میرا ہونا تھا، تو میں آج یہاں نہ آتا۔” فیضان نے ماں کی طرف مڑ کر کہا، “امی، آپ نے مجھے خاموش رہنے کو کہا تھا تاکہ بات عزت سے ہو۔ یہ عزت نہیں ہے۔ یہ اس کی بے عزتی ہے۔” ان کی ماں کے ہونٹ سخت ہوئے۔ “پھر قیمت بھی تم ہی دو گے۔” “دوں گا۔ لیکن جگہ اس کی وہی ہوگی جو میری ہے۔”
یہ سن کر حنا باجی کا اختیار پہلی بار ہاتھ سے پھسلا۔ انہوں نے فوراً استقبالیہ منیجر کو آواز دی، “بورڈ ویسا ہی رہے گا۔ ہیڈ ٹیبل نہ چھیڑنا۔ بزرگوں کی ترتیب بدل گئی تو میں جواب نہیں دوں گی۔” منیجر، جو اب تک دونوں طرف کے اشارے سن سن کر الجھا ہوا تھا، رک گیا۔ اس کے ہاتھ میں ناموں والی پٹیاں تھیں، آنکھوں میں صرف ایک فکر: غلط نام غلط میز پر گیا تو بعد میں سارا حساب اسی پر گرے گا۔ فیضان نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ “بورڈ ادھر لاؤ۔” حنا نے بیچ میں قدم رکھا۔ “تم مالک نہیں ہو اس تقریب کے۔” “مالک نہیں، مگر جس نام پر آپ تماشا بنا رہی ہیں، وہ نام میرا ہے۔ اور جسے آپ ہٹا رہی ہیں، وہ میری جگہ پر کھڑی ہے۔”
اندر ہیڈ ٹیبل کے سامنے سنہری کرسیوں کی قطار لگی تھی۔ اوپر سے پھولوں کی محراب، نیچے چمکتی سفید چادریں، اور ہر کرسی کے آگے شیشے میں بند نامی کارڈ۔ دائیں جانب “حمزہ”، اس کے ساتھ “عادلہ”۔ بائیں طرف خاندان کے بزرگ۔ درمیان میں ایک خالی وقفہ ایسا رکھا گیا تھا جیسے کسی کو بعد میں بھی شامل کیا جا سکتا ہو، مگر عزت کے ساتھ نہیں—سہولت کے ساتھ۔ سائمہ نے ایک نظر میں سب سمجھ لیا۔ غلطی بورڈ پر نہیں تھی، پوری ترتیب میں تھی۔ حنا باجی تیز تیز بول رہی تھیں، “بس یہ دو منٹ کی بات ہے، تصویر بن جائے پھر جسے جہاں بٹھانا ہو—” “نہیں۔” اس بار سائمہ نے ان کے پاس سے گزر کر سیدھا ہیڈ ٹیبل تک پہنچتے ہوئے کہا۔ “تصویر ہی تو پڑھی جاتی ہے۔ بعد میں کچھ نہیں ٹھیک ہوتا۔”
منیجر نے کانپتے ہوئے نامی کارڈ اس کے سامنے رکھ دیے۔ فیضان کی ماں ابھی دروازے پر کھڑی تھیں؛ وہ روک سکتی تھیں، اگر چاہتیں۔ حنا نے ان کی طرف امید سے دیکھا، پھر سائمہ کی طرف جھپٹ کر بولیں، “ہاتھ نہ لگانا۔ یہ بزرگوں کے سامنے حد سے نکلنا ہے۔” سائمہ نے کارڈ اٹھایا، پہلے “عادلہ” کا، پھر “حمزہ” کا۔ دونوں کو دائیں اوپر سے ہٹا کر ایک طرف کی ذیلی جگہ پر رکھ دیا جہاں دوسری شادی شدہ جوڑیاں بیٹھی تھیں۔ شیشے کے نیچے کاغذ کے سرکنے کی خشک آواز اتنی صاف آئی کہ قریب کھڑی دو خالاؤں کے چہرے کھنچ گئے۔ حنا نے آگے بڑھ کر کارڈ واپس لینے چاہے۔ فیضان نے صرف اپنا ہاتھ درمیان میں رکھا۔ زور نہیں لگایا، مگر راستہ بند ہو گیا۔ یہ پہلا نقصان تھا: حنا کا ہاتھ ہوا میں رہ گیا، سب کے سامنے، بغیر اختیار کے۔
سائمہ نے پھر وہ خالی درمیانی وقفہ دیکھا۔ “فیضان” کا کارڈ منیجر کے ہاتھ سے لیا، مرکز کے دائیں رکھا۔ پھر دوسرے سفید کارڈ کے اوپر، جہاں ابھی کچھ لکھا نہیں گیا تھا، منیجر کے مارکر سے صاف، سیدھا، سب کے سامنے لکھا: “سائمہ”۔ حنا کی آواز پھٹ گئی، “تم خود اپنا نام لکھو گی؟” “ہاں۔ کیونکہ آپ نے میری جگہ خالی رکھی تھی، غائب نہیں۔” اس نے کارڈ “فیضان” کے بائیں رکھ دیا۔ دونوں اب ہیڈ ٹیبل کے وسط میں تھے، اوپر، سامنے، اس جوڑی سے بھی بلند جسے ابھی تک پسندیدہ مانا جا رہا تھا۔ یہ دوسرا وار تھا: جگہ بدل چکی تھی، اور اب ہر تصویر میں، ہر داخلی نظر میں، مرکز ان دونوں کے نام تھے۔
حنا نے آخری کوشش کی۔ وہ بورڈ کی طرف دوڑیں جو دروازے کے پاس دیوار پر لگ رہا تھا۔ “کم از کم باہر والا بورڈ نہ بدلو! اندر جو بیٹھنا ہے بیٹھ جائیں، اعلان مت کرو!” یہی وہ پرانا حکم تھا جو سب کچھ واپس لے سکتا تھا: اندر کی سچائی، باہر کی جھوٹی ترتیب کے نیچے دب جاتی۔ سائمہ تیز قدموں سے ان کے پیچھے گئی۔ اس کی ہتھیلی میں فون کی مدھم روشنی جل رہی تھی، مگر اس نے اسکرین کسی کو نہیں دکھائی؛ آج ثبوت نہیں، جگہ کام آنے والی تھی۔ اس نے منیجر کے ہاتھ سے اوپر والی پٹی لی جہاں “حمزہ + عادلہ” لکھا تھا۔ ایک لمحے کو پورا استقبالیہ رک گیا—بیرا، خالو، نسیم خالہ، فیضان کی ماں، سب ایک ہی سمت دیکھ رہے تھے۔ “سائمہ، بس کرو،” نسیم خالہ کی آواز کانپی۔ سائمہ نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ “ابھی نہیں۔”
اس نے پٹی کھینچ کر الگ کی۔ مقناطیس کے کھنکنے کی آواز آئی، اوپر سنہری بورڈ پر نام ٹیڑھا سا چھوٹا نشان چھوڑ گیا۔ نیچے والی قطار سے ایک خالی پٹی اٹھائی، مارکر منیجر سے لیا، اور بھرے ہوئے ہاتھ سے لکھا: “فیضان + سائمہ”۔ پھر اسے سب سے اوپر پہلی سطر میں جما دیا۔ پرانی پٹی، “حمزہ + عادلہ”، نیچے دوسری نمایاں سطر پر سرکا دی۔ حنا باجی نے پکڑنے کو ہاتھ بڑھایا، مگر فیضان کی ماں نے اس بار صرف ایک جملہ کہا، ٹھنڈا اور کاٹتا ہوا: “اب ہاتھ مت لگانا۔ جو سامنے لکھا جا چکا، اسے مٹانا زیادہ بڑی سبکی ہوگی۔” یہ تیسرا اور آخری وار تھا۔ حنا کا چہرہ یوں بیٹھا جیسے کسی نے محفل کے بیچ ان کی کرسی کھینچ لی ہو۔
سائمہ نے بورڈ کے کنارے کو سیدھا کیا، اوپر لگا نمبر “۱” اپنی جگہ جما، نیچے “۲” کے سامنے پرانا نام آ کر ٹھہر گیا۔ اس نے مارکر بند کرکے منیجر کی ہتھیلی میں واپس رکھا، پھر بورڈ کے شیشے پر انگلی سے ایک ہلکا دھبہ صاف کیا جہاں ابھی اس کا نام اوپر چمک رہا تھا۔ دیوار کے ساتھ لگے رینک بورڈ پر پہلی سطر میں “فیضان + سائمہ” کے برابر عدد ۱ جم گیا، اس کے نیچے “حمزہ + عادلہ” کے ساتھ ۲ ساکت ہو گیا۔