آخر کام میرے ہاتھ مانگا
لوڈر نے تیسری بار ہارن دبایا اور بند دروازے کے سامنے رکا ہوا ٹرالی کا پہیہ ایک طرف کٹ کر لکڑی کے پیلیٹ سے ٹکرا گیا۔ بلال نے ریڈیو منہ کے قریب لا کر چیخا، “پہلے گیٹ تین خالی کرو، پھر آٹھ نمبر چھوڑو!” حالانکہ آٹھ نمبر پر جانے والی دوائیں والی کھیپ پیچھے دھوپ میں کھڑی وین میں پڑی تھیں اور گیٹ تین کے سامنے ابھی تک پچھلی واپسی کا مال اٹکا ہوا تھا۔ سائرہ نے رجسٹر کی طرف ہاتھ بڑھایا تو بلال نے کہنی سے اسے ہٹا کر پلاسٹک کی کرسی خود کے نیچے کھینچ لی۔ “تم receiving دیکھو، release اب میں دوں گا۔”
کراچی کی نمک ملی ہوا میں ڈیزل، گیلے گتے اور پسینے کی بو ایک ساتھ چڑھ رہی تھی۔ سائرہ رات کی لمبی شفٹ کے بعد آستینیں کہنی تک چڑھائے کھڑی تھی؛ کاندھوں میں شفٹ کی آخر والی سختی جمی ہوئی تھی، جیب میں بس کارڈ کا گھسا ہوا کنارا انگلی سے لگ رہا تھا۔ اس کے پاس چائے کا کاغذی کپ ابھی تک پڑا تھا، اوپر جھلی جم چکی تھی اور نیچے فرش پر بھورا سا حلقہ بن گیا تھا۔ اس نے صرف اتنا کہا، “آٹھ نمبر پہلے نکلے گا، اس کے بعد واپسی والا مال۔” بلال نے رجسٹر بند کر کے اپنی ہتھیلی اس پر رکھ دی، جیسے لکڑی کا میز بھی اسی کے باپ کا ہو۔ “تمہیں سمجھ نہیں آتی؟ آج سے bay میں میں بیٹھوں گا۔ اوپر سے حکم ہے۔”
پہلا نقصان پانچ منٹ میں سامنے آ گیا۔ بلال نے جس وین کو گیٹ تین پر لگوایا، اس کی سیل پرانا نمبر نکلا؛ دروازہ کھلا ہی نہیں۔ ڈرائیور نے رسید ہوا میں ہلاتے ہوئے گالی دی اور پیچھے والی گاڑی نے ہارن پر ہاتھ جما دیا۔ تب تک آٹھ نمبر کی دوائیں والی وین کا کولڈ باکس الارم بیپ کرنے لگا۔ فیصل، جو عموماً سائرہ کے اشارے پر fork-lift موڑتا تھا، ایک لمحہ اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر رکا مگر بلال کے ریڈیو کے شور کے سامنے اس نے بھی وہی کیا جو زور سے کہا جا رہا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ واپسی والے کارٹن پہلے اتارے گئے، گلی تنگ ہو گئی، اور دو نکلنے والی گاڑیاں اندر ہی قید ہو گئیں۔
“سلپ کہاں ہے؟” سائرہ نے سیدھا سوال کیا۔
بلال نے میز پر پڑی فائلیں الٹ کر ایک سفید پرچی نکالی، غلط گاڑی کا نمبر پڑھا، اور ہاتھ سے اشارہ کر دیا۔ دروازہ کھلا، مگر سامنے سے جس ٹرک کو نکلنا تھا اس کی منزل شاہراہ فیصل تھی، اور پرچی لانڈھی والے راستے کی تھی۔ گیٹ پر کھڑا محافظ جھجکا، پھر بلال کی طرف دیکھ کر رکا رہا۔ سائرہ نے ایک قدم آگے بڑھایا تو بلال نے سب کے سامنے کہا، “جب جس کو سیٹ دی جائے، وہی بولتا ہے۔ ہر بات میں ٹانگ مت اڑاؤ۔”
یہ پہلی بار نہیں تھا کہ کسی مرد کو اس کرسی کا نشہ چڑھا ہو، مگر آج کی ذلت الگ تھی۔ اوپر والے منیجر نے صبح صرف اتنا کہا تھا کہ “بلال کچھ دن handover دیکھے گا”، اور بلال نے اس ایک جملے کو تخت بنا لیا تھا۔ سائرہ نے اس گودام کی یہ bay دو سال سنبھالی تھی؛ کون سا ڈرائیور وعدہ کر کے بھاگتا ہے، کس supplier کا سیل نمبر ہمیشہ آخری ہندسے میں غلط پڑتا ہے، کون سی دوا سورج میں پانچ منٹ بھی نہیں رہ سکتی—یہ سب اس کی انگلیوں کی یاد میں تھا۔ مگر آج وہ پلاسٹک کی کرسی کے کونے سے بھی محروم کھڑی تھی۔
دوسرا نقصان زیادہ مہنگا تھا۔ بلال نے واپسی والا بھاری مال receiving lane کے کنارے رکھوا دیا، جہاں سے آٹھ نمبر کی وین کو مڑنا تھا۔ جب ڈرائیور نے گاڑی نکالنے کی کوشش کی تو پچھلا بمپر پیلیٹ سے رگڑ کھا گیا، ایک کارٹن پھٹا، اندر کے چھوٹے باکس فرش پر بکھر گئے۔ شور ایک دم بدل گیا؛ اب ہر آواز میں الزام تھا۔ بلال نے فوراً انگلی سائرہ کی طرف اٹھائی۔ “میں نے کہا تھا جگہ صاف رکھو!”
سائرہ نے جواب میں بحث نہیں کی۔ وہ سیدھی دروازے کے اندر گئی، لوہے کے ریک سے زرد رنگ کی ماسٹر سلپ فائل کھینچی، پھر واپس آ کر بلال کے سامنے میز پر رکھ دی۔ “چابی دو۔” “کس چیز کی؟” “داخلی زنجیر کی۔ جب تک آٹھ نمبر نہیں نکلتا، کوئی دوسرا دروازہ نہیں کھلے گا۔”
بلال نے ہنسی اڑانے کے لیے ہونٹ موڑے، مگر اسی وقت دھوپ میں کھڑی دوائیں والی وین کے اندر سے پھر الارم بیپ کیا، اس بار تیز۔ ڈرائیور نے اونچی آواز میں کہا، “باجی، میرا مال خراب ہوا تو میں رسید پر دستخط نہیں کروں گا، سیدھا شکایت جائے گی!” بلال کے پاس ریڈیو تھا، کرسی تھی، رجسٹر پر ہاتھ تھا؛ مگر ترتیب نہیں تھی۔ سائرہ نے انتظار نہیں کیا۔ اس نے محافظ کی بیلٹ سے لٹکی چھوٹی چابی ایک جھٹکے سے نہیں چھینی، صرف ہتھیلی آگے کر کے کہا، “مجھے دو۔ ابھی۔” محافظ نے ایک نظر بلال پر ڈالی، دوسری ٹھنڈی بیپ کرتی وین پر، پھر چابی سائرہ کی ہتھیلی میں رکھ دی۔
یہ پہلا جھٹکا تھا۔ سائرہ نے زنجیر کھولی، receiving lane میں پھنسا واپسی والا پیلیٹ خود ہاتھ لگا کر دو فٹ پیچھے سرکوایا، فیصل کو صرف دو لفظ کہے، “کانٹا ادھر۔” فیصل نے فوراً fork-lift موڑی۔ “شفقت چچا، آٹھ نمبر کی سلپ پڑھیں۔ صرف نمبر پڑھیں۔” بوڑھے کلرک نے عینک اوپر چڑھا کر نمبر دہرایا۔ “وین KQ-7812، دوا، فوری روانگی۔” سائرہ نے ریڈیو بلال کے ہاتھ سے نہیں مانگا؛ اس نے بغیر ریڈیو کے اتنی اونچی مگر صاف آواز میں حکم دیا کہ گیٹ تک سنائی دے، “گیٹ دو کھولو۔ صرف آٹھ نمبر۔ باقی سب روک دو۔”
حرکت واپس آئی، پہلے آہستہ، پھر سیدھی لکیر میں۔ fork-lift نے راستہ خالی کیا، محافظ نے دوسرا گیٹ کھولا، شفقت چچا نے ماسٹر سلپ سے درست نمبر ملایا، اور دوائیں والی وین کچلے ہوئے گتے کے ٹکڑوں سے بچتی ہوئی باہر سرک گئی۔ سائرہ نے نکلتے وقت ڈرائیور کی رسید پر مہر لگائی اور فائل اپنے بازو کے نیچے دبا لی۔ ایک لمحے کو bay کا شور وہی رہا، مگر مرکز بدل گیا تھا۔ فیصل اب بلال کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔
بلال نے اسی خالی لمحے میں ریڈیو اٹھا کر دوبارہ شور بنانے کی کوشش کی۔ “ٹھیک ہے، ایک گاڑی نکل گئی تو اس کا مطلب یہ نہیں—” “مطلب یہ ہے کہ تم نے غلط گیٹ کھلوایا، غلط سلپ دی، غلط جگہ مال رکھوایا،” سائرہ نے اس کی بات کاٹ دی۔ آواز بلند نہیں تھی، مگر ہر لفظ کسی دھاتی چیز کی طرح سیدھا گرا۔ “اور ابھی واپسی والے کارٹن تمہارے حکم سے پھٹے پڑے ہیں۔ اب اگلا نمبر میرے حساب سے چلے گا۔”
اسی وقت receiving lane کے دہانے پر ایک سفید مہران آ کر رکی۔ سائرہ نے پہچاننے سے پہلے ثمن کی آواز سنی، “ابو، یہی جگہ ہے۔” سائرہ کے پیٹ میں ٹھنڈا سا اینٹھا پڑا۔ ثمن—جس سے اس کی منگنی کی بات گھر والوں اور دوستوں کو پتہ سطح تک پہنچ چکی تھی—اپنے والد کے ساتھ کھڑی تھی۔ آج شام وہ لوگ سائرہ کے گھر کھانے پر آنے والے تھے۔ وہ پہلے ہی دیر سے تھی۔ مگر اصل ضرب دیر نہیں تھی؛ اصل ضرب یہ تھی کہ ثمن کے والد اس ہنگامے، اس دھوئیں، اس شور میں وہی دیکھ رہے تھے جو سب دیکھ رہے تھے: کس کو کرسی ملی ہے، کس کی بات چل رہی ہے، اور کس عورت کو سب کے سامنے ہٹایا جا رہا ہے۔
بلال نے موقع سونگھ لیا۔ اس نے ثمن کے والد کو دیکھ کر آواز نرم کی، جیسے ابھی تک سارا بندوبست اسی کے قابو میں ہو۔ “بس چھوٹا سا مسئلہ ہے، ہم دیکھ رہے ہیں۔” پھر سائرہ کی طرف رخ کر کے اتنا اونچا بولا کہ باہر تک جائے، “تم گھر نہیں جانا؟ ادھر کا کام آدمی سنبھال لے گا۔”
ثمن کے والد نے کچھ نہیں کہا، مگر ان کی نظر سائرہ کے چہرے سے پھٹے کارٹن، پھر پلاسٹک کی اس کرسی پر گئی جس پر بلال بیٹھا تھا۔ وہی نظر کافی تھی؛ اس میں سوال بھی تھا، حساب بھی۔ سائرہ نے ایک سانس اندر کھینچا اور سیدھی اپنی خالہ زاد کی آنکھوں میں نہیں دیکھا۔ اس نے صرف اتنا کہا، “اگر میں جاؤں تو آج رات تین گاڑیاں یہاں سوئیں گی۔”
یہ جملہ بلال کے لیے نہیں تھا، مگر بلال پر ہی گرا۔ کیونکہ اگلا بحران اسی لمحے آیا۔ باہر کھڑا بڑا ٹرک، جس میں رات والی بین الصوبائی کھیپ تھی، گیٹ پر آ کر رکا رہا۔ ڈرائیور نے ہاتھ باہر نکال کر کاغذ لہرایا۔ “میری روانگی بارہ منٹ میں بند ہو جائے گی۔ سیل دوبارہ چیک ہوا تو میں نہیں رکوں گا!” اس ٹرک کے پیچھے دو اور گاڑیاں تھیں۔ راستہ اتنا تنگ تھا کہ ایک غلط release اور پوری لائن الٹ سکتی تھی۔ بلال نے ریڈیو پر کچھ بکھرا ہوا سا کہا، دو الگ آدمیوں کو دو الٹے حکم دیے، اور ایک ساتھ دونوں گیٹ کھلوانے کا اشارہ کر دیا۔
نتیجہ فوراً سامنے آیا۔ اندر سے آنے والی خالی ٹرالی اور باہر نکلنے کو تیار ٹرک آمنے سامنے اٹک گئے۔ ایک طرف پیلیٹ ٹیڑھا ہو کر گرا، اس کے اوپر رکھی پٹی کھل گئی اور ڈبے کنارے سے لٹکنے لگے۔ محافظ نے جھٹ سے دروازہ آدھا بند کیا، مگر تب تک lane بند ہو چکی تھی۔ بلال کی آواز ریڈیو میں کڑکڑائی، پھر ٹوٹ گئی۔ اس نے ایک ہی وقت میں فیصل کو پیچھے، ڈرائیور کو آگے، اور محافظ کو رکنے کا حکم دیا۔ کسی نے ٹھیک سے نہیں سنا۔ کسی نے مانا بھی نہیں۔
سائرہ نے تب پہلی بار بلال کے قریب جا کر اس کی کرسی کے بازو پر رکھی انگلیاں ہٹائیں۔ “اٹھو۔” بلال نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، پھر ثمن کے والد کی موجودگی یاد آتے ہی اپنی گردن اکڑائی۔ “تم حد کراس کر رہی ہو۔” “حد تم نے توڑی ہے۔ لائن بند کر دی ہے۔ اٹھو۔”
وہ نہیں اٹھا۔ اس نے ریڈیو اور مضبوطی سے پکڑ لیا، جیسے چیز پکڑ لینے سے اختیار بھی پکڑا رہ جائے گا۔ پھر بین الصوبائی ٹرک کے ڈرائیور نے کاغذ مروڑ کر زمین پر دے مارا اور دھاڑا، “کس کے حکم سے نکلوں؟ ایک نام دو!” یہی وہ لمحہ تھا جس میں سارا شور ایک نقطے پر سمٹ گیا۔ نہ بلال کے پاس ایک نام تھا، نہ ایک ترتیب۔
سائرہ نے مزید ایک لفظ ضائع نہیں کیا۔ اس نے بلال کی کلائی موڑنے جیسا کوئی تماشا نہیں کیا؛ بس ریڈیو کے پچھلے کلپ کو اس کی انگلیوں کے بیچ سے نکالا، ماسٹر رجسٹر اس کے سامنے سے کھینچ کر اپنی طرف سرکایا، اور پلاسٹک کی کرسی کو اپنے گھٹنے سے آدھا گھما کر خود بیٹھ گئی۔ حرکت اتنی سادہ تھی کہ مزاحمت بےوقعت لگنے لگی، مگر اتنی کھلی ہوئی کہ سب نے دیکھی۔ بلال کھڑا رہ گیا، ہاتھ خالی۔
“شفقت چچا، بارہ منٹ والی کھیپ کا سیل نمبر۔” “BK-4409.” “فیصل، خالی ٹرالی پیچھے۔ تین قدم، بس۔” “جی باجی।” “گیٹ ایک بند۔ گیٹ دو صرف میرے اشارے پر۔” محافظ سیدھا کھڑا ہو گیا۔ “باہر والا ٹرک—BK-4409—سیدھا، آہستہ، بائیں کٹ نہیں۔” سائرہ نے ریڈیو منہ کے قریب کیا، آواز نہ چیخ تھی نہ منت۔ “روانگی کی اجازت۔ ابھی۔”
ٹرک نے جھٹکا کھایا، پھر سیدھا چل پڑا۔ اندر والی خالی ٹرالی پیچھے ہٹی۔ ٹیڑھا پیلیٹ فیصل نے کانٹے سے سنبھالا۔ راستہ ایک گاڑی جتنا کھلا، پھر دو جتنا۔ سائرہ نے رجسٹر میں انگوٹھا رکھ کر اگلی سلپ پلٹی۔ “واپسی والا مال بعد میں۔ پہلے برف والی کھیپ، پھر شمالی روٹ۔ لائن میرے حساب سے چلے گی۔” اس نے یہ کسی بحث کے لیے نہیں کہا؛ حکم جاری کر دیا۔ محافظ نے بلال کی طرف دیکھنا چھوڑ دیا۔ شفقت چچا نے مہر سائرہ کی کہنی کے پاس رکھ دی۔ ڈرائیوروں نے اپنے کاغذ اسی طرف بڑھانے شروع کر دیے جہاں کرسی تھی، اور کرسی اب سائرہ کے نیچے تھی۔
بلال نے آخری بار بچنے کی کوشش کی۔ “میں تو اوپر کے کہنے پر—” “اوپر جا کر وہی کہنا جو نیچے کیا ہے،” سائرہ نے رجسٹر سے نظر اٹھائے بغیر کہا۔ “غلط نمبر، غلط گیٹ، بند لائن۔ اب پیچھے ہٹو۔” وہیں، ثمن کے والد کی موجودگی میں، اس کی آواز کا سارا اوپری روغن اتر گیا۔ وہ کرسی کے پہلو میں کھڑا تھا مگر کرسی اس کی نہیں رہی تھی؛ ریڈیو اس کے ہاتھ میں نہیں رہا تھا؛ اور سب سے بری بات یہ کہ اب اسے بولنے کی ضرورت بھی کسی کو نہیں تھی۔ اس نے کچھ کہنا چاہا، پھر مڑا اور پھٹے کارٹن کے پاس جا کر جھکنے کا ناٹک کرنے لگا، جیسے ابتدا سے اسی کام پر لگا ہو۔
سائرہ نے ایک ایک گاڑی نکالی۔ برف والی کھیپ، شمالی روٹ، پھر دوا کی واپسی رسید۔ ہر حکم کے ساتھ ایک رکاوٹ کم ہوئی، ہر صحیح نمبر کے ساتھ ایک چہرہ اس کی طرف مڑا۔ ثمن کے والد اب دروازے کے پاس کھڑے تھے، ہاتھ پیچھے باندھے، خاموش۔ ثمن نے ایک بار سائرہ کو دیکھا، پھر اپنی نظر جھکا لی، مگر اس جھکاؤ میں شرمندگی سائرہ کی نہیں تھی۔ سائرہ نے نہ ان کو بلایا، نہ وضاحت دی۔ اس کے پاس اس وقت صرف لائن تھی، اور لائن آخرکار چل رہی تھی۔
آخری بڑی وین نکلتے ہی ہارنوں کا اژدہام ٹوٹ گیا۔ اندر کی ہوا میں ابھی بھی گتے کی دھول تھی، مگر بھاگ دوڑ کا وہ اندھا شور نہیں رہا تھا۔ سائرہ رجسٹر بغل میں دبائے loading bay کے پیچھے والی تنگ کراس لین میں آئی، جہاں اینٹ کی دیوار کے ساتھ پرانی سایہ دار پٹی پڑتی تھی اور فرش پر کسی کے رکھے کپ کا ہلکا سا گولا سوکھا ہوا تھا۔ اس نے ریڈیو کو ہتھیلی میں سیدھا کیا، ایک بار کلک کیا۔ “گیٹ دو بند۔ اگلی روانگی میرے کہنے پر۔” پھر بٹن چھوڑ دیا۔ کڑکڑاہٹ ایک لمحہ رکی، پھر آہستہ آہستہ پتلی ہو کر صاف ہوا میں گھل گئی۔