اصل ناکامی بے میں کھلی
شٹر آدھا نیچے آ کر اٹک گیا، ٹرک کی ریورس بتی بے پر لال دھبہ ڈال رہی تھی، اور حارث نے ہاتھ بڑھا کر صائمہ کی کلائی سے پہلے ہی ریلیز رجسٹر اپنی طرف کھینچ لیا۔ "آپ وہاں بیٹھیں،" اس نے پلاسٹک کی کرسی کے کونے کی طرف ٹھوڑی سے اشارہ کیا، "آج بے میں میں دیکھ رہا ہوں۔" لوہے کے پہیوں والی دو ٹرالیاں ایک دوسرے میں پھنس کر چیخ رہی تھیں۔ دروازے کے پاس چابیوں کا گچھا ہل رہا تھا مگر ماسٹر کیز حارث کی جیب میں تھیں۔ صائمہ نے کچھ نہیں کہا۔ بس اپنی گھسی ہوئی لینیارڈ والی شناختی پٹی سیدھی کی، کرسی سے اٹھی، اور شٹر کے نیچے پھنسی ربڑ کی پٹی کو ایک نظر دیکھا۔ اس ایک نظر میں فہد نے سمجھ لیا کہ مسئلہ کہاں ہے، مگر حارث نے فوراً بول اٹھا، "کسی نے ہاتھ نہیں لگانا۔"
یہ کراچی کے سروس سیکٹر کا وہ ہول سیل گودام تھا جہاں مال سے زیادہ نام اترتا چڑھتا تھا۔ اکرم صاحب کی بھانجی صائمہ تین سال سے ریلیز فلو چلا رہی تھی، مگر پچھلے ہفتے سے حارث کو آگے بٹھایا گیا تھا، اس لیے نہیں کہ وہ جانتا تھا، اس لیے کہ شام کی محفلوں میں اس کے بارے میں گھر والوں اور دوستوں کو پتہ چلنے لگا تھا کہ "لڑکا دفتر بھی سنبھالتا ہے۔" عزت، رشتہ، روزگار—سب ایک ہی بے میں بند تھے۔ اور آج جمعے کی دوپہر، اگر دکانوں کی کھیپ وقت پر نہ نکلی تو فون پہلے خریداروں کے آئیں گے، پھر بزرگوں کے۔
صائمہ نے کرسی کے کونے پر بیٹھنے کے بجائے کنارے کھڑے ہو کر کہا، "شٹر کی ریل میں پٹی مڑی ہوئی ہے۔ اوپر سے زور دو گے تو موٹر جل جائے گی۔" حارث نے بغیر دیکھے ہاتھ لہرا دیا۔ "مجھے سکھانے کی ضرورت نہیں۔" پھر اس نے مزدور کو حکم دیا، "پہلے بلیو سٹیکر والی پیلٹ نکالو۔" فہد نے چونک کر صائمہ کی طرف دیکھا۔ بلیو سٹیکر والی پیلٹ پیچھے تھی؛ اس کے آگے فارمیسی کا جلدی والا مال لگا تھا۔ اگر وہ غلط پیلٹ کھنچتی تو پوری قطار دوبارہ بننی تھی۔ صائمہ نے خشک آواز میں کہا، "بلیو بعد میں ہے۔ پہلے سفید مارک—" "میں نے کہا نا، آپ بیٹھیں۔"
غلط پیلٹ کھنچی، سامنے کی تین کارٹنیں پھسل کر زمین پر آئیں، ایک کا کونہ پھٹ گیا اور اندر کے ڈبے بکھر گئے۔ ڈرائیور نے بے صبری میں ہارن مارا۔ حارث نے غصے سے فہد پر چیخا، "دیکھ کر نہیں چلاتے؟" پھر خود جیب ٹٹولنے لگا۔ چھوٹی چابیاں مل گئیں، مگر سائیڈ گیٹ کی چابی نہیں۔ وہی گیٹ کھلتا تو دوسری ٹرالی اندر سے نکل کر دائیں لین صاف کرتی۔ صائمہ نے دیکھا، پھر نگاہ ہٹا لی۔ وہ چابی اسے صبح دیر سے لوٹائی گئی تھی؛ کل رات حارث نے اسے اپنے پاس رکھ کر "اختیار" دکھایا تھا، اور اب وہی غائب تھی۔
راہداری کی سفید بتی بھنبھنا رہی تھی۔ شبانہ، جو دفتر کے سامنے بلٹی لکھتی تھی، دروازے کے پاس آ کر رک گئی۔ اس کے پیچھے اکرم صاحب کے بہنوئی بھی کھڑے ہو گئے، وہی جن کے سامنے حارث دو دن سے خود کو "فرنٹ لائن آدمی" کہہ رہا تھا۔ حارث نے جلدی سے اپنی کرسی، میز، رجسٹر اور مہر کے گرد ایسا دائرہ بنایا جیسے ان چیزوں سے ہی کام نکلتا ہو۔ "بلٹی روکو نہیں،" اس نے شبانہ سے کہا، "میں ریلیز دے رہا ہوں۔" شبانہ نے کاغذ اٹھایا، پھر سوال کیا، "کس گاڑی کو پہلے؟ فارمیسی والا یا جنرل؟" حارث نے بغیر دیکھے جنرل کا نمبر بول دیا۔ صائمہ نے آہستہ سے کہا، "فارمیسی والا بارہ منٹ لیٹ ہو چکا ہے۔" حارث نے اتنی اونچی آواز میں ہنسا کہ راہداری تک گئی۔ "ہر چیز کا ڈراما مت بنایا کریں۔"
پہلا صاف انعام وہیں ٹوٹا۔ فارمیسی والے ڈرائیور نے موبائل کان سے ہٹا کر سیدھا شبانہ سے کہا، "میرا مال ابھی نہیں نکلا تو میں اوپر فون کروں گا، نام لے کر۔" شبانہ نے ایک لمحہ حارث کو دیکھا، پھر بلٹی صائمہ کی طرف بڑھا دی۔ "ٹائم آپا کے پاس ہے۔" حارث نے فوراً کاغذ واپس چھیننا چاہا، مگر شبانہ نے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ "وقت ان کے پاس ہوتا ہے، جھگڑا آپ کے پاس۔" یہ پورا تختہ الٹنا نہیں تھا، مگر بے میں پہلی دراڑ پڑ گئی تھی۔ فہد نے اسی لمحے پھنسی ربڑ کی پٹی نکال دی۔ شٹر جھٹکے سے اوپر گیا اور حارث کا "میں دیکھ رہا ہوں" ہوا میں لٹک گیا۔
مگر بہاؤ ابھی صائمہ کے ہاتھ میں نہیں آیا تھا۔ حارث نے جلدی سے رجسٹر میز پر پٹخا، اپنی شناختی پٹی سینے پر سیدھی کی اور بلند آواز میں بولا، "سب میرے حکم سے ہوگا۔" پھر اس نے دوبارہ غلطی کی۔ جنرل والے مال کی ٹرالی دائیں لین میں موڑ دی، جبکہ فارمیسی والے کارٹن بائیں طرف پھنسے رہے۔ دو مزدور ایک دوسرے پر چڑھتے ہوئے رکے۔ باہر دوسرا ٹرک بھی آ لگا۔ اندر گودام کا گرم ہوا بھرا سانس، ڈیزل کی بو، پسینے کی کھار—سب ایک جگہ جم گیا۔
صائمہ کرسی کے کونے سے ہٹ کر سیدھی بے کے دہانے پر آ گئی۔ "فہد، پیلی ٹرالی چھوڑو۔ سفید مارک پہلے۔ بلال، سائیڈ گیٹ کھولنا ہے تو اوپر والی کنڈی ہاتھ سے اٹھاؤ، نیچے کا لاک پھنس رہا ہے۔" حارث پلٹا۔ "میں نے کہا تھا نا، بولیں مت!" اسی وقت جنرل والی ٹرالی کا پہیہ نالی میں اٹکا اور پوری قطار رک گئی۔ ڈرائیور نے شیشہ نیچے کر کے گالی دی۔ شبانہ نے بلٹیاں میز پر رکھ دیں۔ بہنوئی صاحب نے پیشانی سکیڑی۔ حارث نے جیب سے چابیاں نکالیں، ایک، دو، تین—صحیح چابی پھر بھی نہ ملی۔ اس کے چہرے کی اکڑ پہلی بار ڈھیلی پڑی۔
"صائمہ!" اکرم صاحب کی آواز پیچھے سے آئی۔ وہ شاید پندرہ منٹ سے اوپر دفتر میں فون سنبھال رہے تھے، مگر اب خود بے تک آ گئے تھے۔ ان کے ساتھ مسجد سے لوٹتے دو پرانے خریدار بھی تھے۔ منظر چھپانے لائق نہیں رہا تھا۔ حارث نے فوراً ان کی طرف مڑ کر کہا، "بس چھوٹا سا رکاوٹ ہے، میں—" ایک کارٹن اسی وقت ٹرالی سے پھسل کر ان کے جوتے کے قریب آ گرا۔ اکرم صاحب نے حارث کی بات نہیں سنی۔ انہوں نے رجسٹر صائمہ کی طرف بڑھایا۔ "لے۔ ابھی۔"
یہ ہاتھوں سے ہوا، سب کے سامنے ہوا۔ حارث نے رجسٹر پکڑ کر رکھنا چاہا، مگر اکرم صاحب نے اس کی انگلیاں الگ کر دیں۔ مہر، ریلیز سلپ، کاؤنٹر کی کرسی—سب ایک حرکت میں صائمہ کے حصے آ گیا۔ حارث کے ہاتھ میں صرف چابیاں رہ گئیں۔ صائمہ نے رجسٹر بغل میں دبایا، کرسی کھینچ کر میز کے سامنے رکھی نہیں، ایک طرف کر دی، اور کھڑے کھڑے بولی، "فارمیسی والا ٹرک بے ایک۔ جنرل والا پیچھے لے جاؤ۔ فہد، نالی میں اینٹ اڑاؤ۔ بلال، سائیڈ گیٹ کی کنڈی اوپر۔ شبانہ، پہلے تین بلٹیاں صرف سفید مارک کی۔"
اس کی آواز میں زور نہیں تھا، ترتیب تھی۔ اور بے نے پہلی بار فوراً جواب دیا۔ فہد گھٹنے کے بل بیٹھ کر پہیہ آزاد کرنے لگا۔ بلال نے کنڈی اٹھائی تو پھنسा لاک کھل گیا۔ شبانہ نے جنرل والے کاغذ الگ رکھ دیے۔ فارمیسی والی پیلٹ سیدھی کھنچی۔ ایک کارٹن جو پھٹ گیا تھا، صائمہ نے دو انگلیوں سے اس کا نشان دیکھ کر فوراً واپس لکھ دیا، "نقصان اندر رہے گا، یہ گاڑی نہیں اٹھائے گی۔" ڈرائیور نے بحث کے لیے منہ کھولا، پھر سامنے بڑھتی ٹرالی دیکھ کر خاموش ہو گیا۔
حارث نے آخری کوشش کی۔ "یہ طریقہ غلط ہے، پہلے انورڈ نمبر—" کسی نے اس کی طرف دیکھا ہی نہیں۔ فہد نے سیدھا صائمہ سے پوچھا، "بے دو خالی کرا دوں؟" "پہلے راستہ کھولو، پھر خالی۔" بلال نے پلٹ کر کہا، "آپا، دوسری چابی؟" "دروازے کے اوپر میگنیٹ باکس میں ہے۔" حارث نے چونک کر اوپر دیکھا۔ اسے اس باکس کا بھی نہیں پتا تھا۔ پرانے خریداروں میں سے ایک نے اپنی داڑھی سہلاتے ہوئے بس اتنا کہا، "ہاں، کام تو اسی کو معلوم ہے۔"
بے چل پڑی تو چلنے کی آواز بدل گئی۔ پہلے لوہے کی گھبراہٹ تھی، اب ترتیب کا شور تھا: پہیوں کی سیدھی گھس، کارٹنوں کا نپا تلا رکھنا، مہر کی ٹھپ، بلٹی کے صفحے پلٹنا۔ صائمہ ایک جگہ کھڑی نہیں رہی؛ اس نے خود سائیڈ لین پر جا کر ٹرالی کا رخ ٹھیک کیا، پھر میز پر آ کر نمبر لکھا، پھر دروازے پر کھڑے ڈرائیور کو دو لفظ میں روکا۔ حارث اب کبھی میز کے پاس آتا، کبھی جیب پر ہاتھ رکھتا، کبھی کسی مزدور کو نام لے کر پکارتا، مگر اس کی آواز ہر بار خالی رہ جاتی۔ اختیار کا لہجہ جب کوئی نہ مانے تو سب سے پہلے خود بولنے والے کے کان میں بجتا ہے۔
پھر وہ ہوا جس نے سب ختم کر دیا۔ دوسری گاڑی کی ریلیز سلپ پر حارث نے ہاتھ ڈال کر مہر اٹھانی چاہی، جیسے ابھی بھی آخری فیصلہ اس کا ہو۔ صائمہ نے مہر اپنے ہاتھ میں روکی نہیں؛ اس نے بس نظر اٹھا کر اکرم صاحب کو دیکھا۔ ایک لمحہ۔ اتنا ہی۔ حارث نے جلدی سے کہا، "ابا جان، میں نے ہی تو—" اکرم صاحب آگے بڑھے۔ ان کی ہتھیلی میں وہ ماسٹر کیز تھیں جو صبح سے حارث اپنی جیب میں رکھے پھر رہا تھا، اور جن کی جھنجھناہٹ سے وہ خود کو بڑا سن رہا تھا۔ انہوں نے حارث کے سامنے ہاتھ پھیلایا۔ "دو۔" حارث نے دیر کی۔ اکرم صاحب کی آواز اور چھوٹی ہو گئی۔ "ابھی۔"
جیب سے نکلتے وقت چابیاں بجیں، مگر اس بار وہ اعلان نہیں تھیں، پکڑے جانے کی آواز تھیں۔ حارث نے گچھا ان کے ہاتھ پر رکھا۔ اکرم صاحب نے ایک پل بھی اسے واپس نہیں دیکھا۔ سیدھے صائمہ کی طرف مڑے، رجسٹر کے ساتھ ماسٹر کیز بھی اس کے سامنے رکھ دیں، پھر شبانہ سے کہا، "آج سے ریلیز اسی کے کہنے سے نکلے گی۔ اگر کوئی اور مہر پر ہاتھ ڈالے تو بلٹی رکے گی۔" یہ تعریف نہیں تھی۔ یہ دروازہ بند ہونا تھا۔ حارث کے لیے، سب کے سامنے۔
حارث نے ہنسنے کی ناکام کوشش کی۔ "اتنی سی بات پر—" اسی وقت باہر کھڑا جنرل والا ٹرک ریورس لے کر پیچھے ہٹا، کیونکہ صائمہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے روکا تھا اور وہ رک گیا تھا۔ حارث نے بھی ساتھ ہاتھ ہلایا، مگر ڈرائیور نے اس کی طرف دیکھے بغیر گیئر بدلا۔ بہنوئی صاحب، جو ابھی تک حارث کے قریب کھڑے تھے، ایک قدم پیچھے ہو گئے۔ شبانہ نے مہر صائمہ کے دائیں ہاتھ کے پاس رکھی، حارث کی طرف نہیں۔ فہد نے پوچھا بھی نہیں؛ اس نے سیدھا سفید مارک والی آخری پیلٹ بے ایک میں چڑھا دی۔
صائمہ نے ریلیز سلپ پر مہر لگائی، ایک، دو، تین۔ پھر اس نے حارث کی طرف دیکھے بغیر کہا، "میز کے پاس کھڑے نہ ہوں۔ راستہ بند ہوتا ہے۔" وہ جملہ چھوٹا تھا، مگر بے کے بیچ رکھا گیا تھا۔ حارث ایک لمحے کے لیے جم گیا، جیسے اسے یقین نہ آیا ہو کہ اب اسے ہٹنے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔ پھر واقعی ہٹنا پڑا، کیونکہ بلال پوری ٹرالی لیے اسی طرف آ رہا تھا اور اس نے راستہ صائمہ کے کہنے پر لیا تھا، حارث کے لیے نہیں۔ یہ صرف بات ماننا نہیں تھا؛ یہ اس کی جگہ کا سکڑ جانا تھا۔
آخری کھیپ نکلنے تک دھوپ دروازے کے کنارے سے سرک کر اندر آ گئی۔ راہداری کی بھنبھناتی روشنی اب بھی وہی تھی، مگر اس میں کھڑا آدمی بدل گیا تھا۔ صائمہ نے رجسٹر بند کیا، مہر صاف کپڑے سے پونچھ کر رکھ دی، اور بے کے پاس لٹکے لوہے کے چھوٹے کیبنٹ کا دروازہ کھولا۔ ماسٹر کیز اندر ہک پر چڑھائیں، دروازہ بند کیا۔ ایک لمحہ ان کی دھات آپس میں ہل کر بجی، پھر ساکت ہو گئی۔