Fast Fiction

بند کمرہ میرے لیے کھل گیا

حنا نے گرتی ہوئی چائے کی دیگچی دونوں ہاتھوں سے تھام لی، گرم دھار اس کی کلائی پر لپکی، اور اس نے ایک جھٹکے سے رجسٹریشن ڈیسک کے نیچے رکھا سفید دوپٹہ کھینچ کر میز پر پھیلادیا تاکہ مہندی کی فائلیں اور مہمانوں کی فہرست بچ جائے۔ سامنے سعدیہ باجی نے صرف اتنا کہا، “واہ، آخر کار کسی کام تو آئی ہو۔ دھیان کہاں تھا تمہارا؟” حالانکہ دیگچی ان کے اپنے کہنے پر پہلی سال کی لڑکی نے کنارے پر رکھی تھی۔ ہال میں منگنی کی تقریب کی خوشبو، پلاسٹک کے پھول، اور سست پنکھے کی بھنبھناہٹ ملی ہوئی تھی۔ حنا کی مڑی ہوئی بیج کی لَینیارڈ پسینے سے گردن سے چپکی تھی، اور اس کی جیب میں آدھی مڑی رسید بار بار انگلی سے ٹکرارہی تھی؛ کوچنگ ڈیوٹی کے بعد واپسی کا بس کرایہ اسی میں لپٹا تھا۔

“فہرست خشک کر دو، جلدی،” سعدیہ باجی نے اپنی چوڑیوں کو بچاتے ہوئے ہاتھ پیچھے کھینچا، “اور دیکھو، حمزہ کو مت بلانا، وہ مہمانوں کے ساتھ ہے۔”

حنا نے جواب نہیں دیا۔ اس نے فائلوں کے کنارے الگ کیے، بھیگتے کاغذوں کے بیچ ٹشو پھنسائے، اور جن ناموں پر سیاہی بہہ رہی تھی ان پر اپنا فون ہتھیلی میں چھپا کر روشنی ڈالی۔ اس کی خاموشی کو ہمیشہ حماقت سمجھا جاتا تھا؛ اسی خاموشی میں وہ دوسروں کی غلطیاں سمیٹتی رہتی تھی۔ جب سب کچھ گرنے لگتا، لوگ اسے آواز دیتے؛ جب چیز سنبھل جاتی، لوگ اسے بھول جاتے۔ اسی وقت ہال کے پچھلے دروازے سے حمزہ آیا، ایک نظر بھیگے رجسٹر پر پڑی، پھر حنا کے سرکے ہوئے دوپٹے اور جلی کلائی پر۔ اس نے کچھ نہیں پوچھا، صرف ڈیسک کے نیچے سے اضافی رومال نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا۔ “یہ رکھ لو۔ اور پچھلی راہداری سے نکلا کرو، سامنے رش ہے۔”

یہ چھوٹی سی بات تھی، مگر پہلی بار کسی نے اس کے لیے راستہ بتایا تھا، کام نہیں۔

رات ساڑھے نو بجے تقریب لپٹی تو کراچی کی مرطوب ہوا میں یونیورسٹی کے باہر کا سڑک کنکریٹ کی طرح گرم لگ رہا تھا۔ کوچنگ آفس کا شٹر آدھا گر چکا تھا، گارڈ کرسی سے اٹھے بغیر بولا، “آج وین چلی گئی۔ سعدیہ میڈم نے کہا تھا مزید لڑکیاں نہیں رکیں گی۔” حنا نے فون ہتھیلی کے اندر روشن کیا؛ امی کے تین پیغام، ایک کے بعد ایک: کہاں ہو، محلے کا گیٹ بند ہونے والا ہے، ماموں آئے بیٹھے ہیں۔ آخری پیغام میں صرف ایک لفظ تھا: عزت۔

اس نے سعدیہ باجی کو دیکھا، وہ اپنی گاڑی کے پاس کھڑی تھیں، دو لڑکیوں کو ساتھ بٹھا رہی تھیں۔ حنا قریب گئی تو باجی نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا، جیسے وہ تقریب کا بچا ہوا سامان ہو۔ “تم نے پہلے بتانا تھا۔ اب میری خالہ بیٹھی ہیں اندر۔ اور ویسے بھی، رات گئے اکیلی پھرنے کی عادتیں اچھی نہیں لگتیں۔ گھر والے پوچھیں تو میرا نام نہ لینا۔”

حنا کے منہ تک آیا کہ سارا دن انہی کے کہنے پر رکی تھی، مگر سامنے سڑک پر موٹر سائیکلوں کے شور، پیچھے گارڈ کی نیم دیکھی مسکراہٹ، اور فون کی ہتھیلی میں دبی روشنی نے اس کی زبان بند رکھی۔ وہ فٹ پاتھ کے کنارے ہٹ گئی۔ حمزہ نے اپنی بائیک اسٹارٹ کی، پھر بند کی۔ “تمہارا راستہ؟”

“ملیر کی طرف۔”

“اتنا دور بائیک پر نہیں چھوڑ سکتا۔ خالہ کے گھر چل لو، ناظم آباد۔ امی جاگی ہوں گی۔ صبح نکل جانا۔”

حنا نے فوراً انکار نہیں کیا۔ انکار میں بھی کبھی کبھی سہارا ضائع ہوجاتا ہے۔ مگر اس نے صرف اتنا کہا، “گھر والوں اور دوستوں کو پتہ نہیں ہے میں کسی کے گھر رات رکوں۔”

حمزہ نے ایک لمحہ اس کا چہرہ دیکھا، پھر سعدیہ باجی کی طرف، جو اب بھی سن رہی تھیں۔ “تو ان کو فون پر بتا دو کہ امی کے پاس ہو۔ جھوٹ کم، رسک کم۔” اس کے لہجے میں بے جا نرمی نہیں تھی، صرف سیدھی گنتی تھی۔

ناظم آباد کے پرانے گھر کی سیڑھیوں میں پیلی بتی مسلسل بھنبھنا رہی تھی۔ خالدہ خالہ نے دروازہ کھولتے ہی حنا کو اندر نہیں کھینچا؛ پہلے اس کی کلائی دیکھی، پھر مڑی لَینیارڈ، پھر حمزہ کے ہاتھ میں تقریب کی بچی فہرست۔ “پہلے اوپر آؤ، پھر بات۔” یہ بھی ایک طرح کی پناہ تھی، سوال بعد میں۔ مگر بیٹھک کے آدھے کھلے دروازے سے سعدیہ باجی کی آواز پہلے آ گئی؛ وہ خالہ کی بھانجی نکلیں، اور خبر ان سے تیز کسی چیز نے نہیں پکڑی۔

“خالہ، آپ ہر کسی کو گھر لے آئیں گی؟ کل محلے میں کیا بات جائے گی؟ یونیورسٹی کی لڑکیاں ہیں، آج یہ، کل کوئی اور۔” سعدیہ باجی نے دوپٹہ درست کرتے ہوئے حنا کو دالان میں ہی روک دیا۔ “اور حمزہ، تم بھی حد کرو۔ تمہیں سمجھ نہیں؟”

حنا نے قدم وہیں روک لیے۔ اندر سے سالن کی خوشبو، اسٹیل کے برتنوں کی ٹکر، اور خالہ کے ڈائننگ ٹیبل پر رکھی روٹیوں کی گرم بھاپ آ رہی تھی۔ دروازہ چند انچ دور تھا، جیسے کسی نے گھر کو پیمائش بنا کر اس کے لیے کم کردیا ہو۔ حمزہ نے سیدھا جواب نہیں دیا۔ وہ نیچے جھکا، حنا کے ہاتھ سے گیلی فہرست لی، جو ابھی تک وہ پکڑے تھی، اور اسے اپنے بازو کے نیچے دبا لیا۔ “غلطی میری ہے،” اس نے خالہ کی طرف دیکھ کر کہا، “میں لے کر آیا ہوں۔ اوپر بھی میں ہی بٹھاؤں گا۔”

سعدیہ باجی ہنسیں، چھوٹی اور زہریلی ہنسی۔ “واہ۔ کل یہی لڑکی آفس میں پھر کہے گی میں نے بہت قربانی دی۔ کام کرو تو چپ کر کے کرو۔”

پہلی بار حنا نے سر اٹھایا۔ “میں نے کبھی نہیں کہا۔”

“کہنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی، چہروں سے پتا چلتا ہے۔”

حمزہ نے اسی وقت سیڑھی کے موڑ پر پڑی چپل ایک طرف کی، راستہ صاف کیا، اور بولا، “امّی، اوپر والے کمرے کی چابی کہاں ہے؟” سوال سعدیہ باجی سے نہیں، خالہ سے تھا۔ خالدہ خالہ نے لمحہ بھر اپنی بھانجی کی طرف دیکھا، پھر الماری کے اوپر رکھی پیالی کے نیچے سے چھوٹی چابی نکال کر حمزہ کو دے دی۔ “پچھلا کمرہ کھول دو۔ پنکھا بھی چلا دینا۔”

یہ محض رات گزارنے کی اجازت نہیں تھی؛ یہ گھر کے اندر ایک مخصوص جگہ کا نام لینا تھا۔ سعدیہ باجی کا چہرہ سخت ہوا۔ “خالہ، آپ کو سمجھ نہیں آ رہی۔ کل کو لوگوں کو پتا چلے گا—”

“لوگوں کو یہ پتا چلے گا کہ زخمی بچی کو دروازے سے واپس نہیں کیا گیا،” خالدہ خالہ نے روٹی پر کپڑا ڈالتے ہوئے کہا، آواز اونچی نہیں کی، مگر رکھی بھی نہیں۔ “اور اگر کسی کو بہت شوق ہے بات بنانے کا، تو پہلے مجھ سے کرے۔”

سیڑھیوں کے اوپر چھوٹا سا کمرہ ٹھنڈا نہیں تھا، مگر نیچے کے دالان سے محفوظ تھا۔ حمزہ نے دروازہ کھولا، اندر لائٹ جلائی، اور بستر کے کنارے ایک صاف چادر رکھ دی۔ “یہاں ٹھیک ہے۔” پھر دروازے کے پاس ہی رکا رہا، جیسے حد خود یاد رکھتا ہو۔ حنا نے پہلی بار اپنی جلی کلائی کو پوری طرح دیکھا؛ سرخ لکیر اب ابھر آئی تھی۔ حمزہ نے پانی کی بوتل رکھی اور نیچے اترنے لگا تو اس نے آہستہ سے پوچھا، “فہرست؟”

“میں خشک کر دوں گا۔ کل صبح دے دوں گا۔”

اس ایک جملے میں پہلی بار کسی نے اس کے ہاتھ سے بوجھ لیا تھا، شک نہیں۔

لیکن صبح یہ مہلت قائم نہ رہی۔ فجر کے بعد، جب محلے کی مساجد سے آخری آوازیں دھیمی ہوئیں، حنا نے امی کے دو مس کال دیکھے۔ نیچے اترنے لگی تو دالان میں سعدیہ باجی پہلے سے موجود تھیں، فون کان سے لگا کر آہستہ بول رہی تھیں، مگر اتنا آہستہ بھی نہیں کہ سنائی نہ دے۔ “جی، رات یہی تھی... نہیں نہیں، ہم نے تو روکا نہیں تھا... آپ سمجھا دیں لڑکی کو، یونیورسٹی ہے، ہاسٹل نہیں۔”

حنا سیڑھی کے آخری زینے پر رک گئی۔ فون کی چمک اس کی ہتھیلی میں پھر دب گئی۔ ایک لمحے کو اسے صاف نظر آیا کہ گھر واپسی کا راستہ، جو رات کو عارضی طور پر بچ گیا تھا، صبح دوبارہ بند کیا جارہا ہے؛ اس بار دروازے سے نہیں، زبان سے۔ خالدہ خالہ کچن سے نکلیں تو سعدیہ باجی نے فوراً رخ بدلا۔ “میں تو صرف ان کے گھر والوں کی تسلی کروا رہی تھی۔ آخر گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہونا چاہیے نا کہ لڑکی کہاں ہے۔”

“میرے گھر والوں سے میرا فون ہے،” حنا نے پہلی بار پورا جملہ بولا۔ آواز بہت اونچی نہیں تھی، مگر سیدھی تھی۔ “میری بات میرے بغیر مت کیجیے۔”

سعدیہ باجی نے آنکھیں سکیڑیں۔ “لہجہ دیکھو۔ ایک رات کیا چھت ملی، حد بھول گئی؟”

یہی لمحہ تھا جب حنا کے اندر کا سارا بندوبست ڈھیلا پڑنے لگا۔ ساری رات جو سیدھی کمر، نپا ہوا لہجہ، اور قدموں کی احتیاط اس نے اوڑھ رکھی تھی، وہ امی کے نام کے ساتھ کسی اور کی آواز سن کر اترنے لگی۔ اس نے لَینیارڈ گردن سے کھولی، انگلیوں میں لپیٹی، جیسے خود اپنے گلے کا پھندا ڈھیلا کر رہی ہو، پھر سیدھی خالدہ خالہ کی طرف دیکھ کر کہا، “میں ابھی چلی جاتی ہوں۔ کسی کو مشکل نہیں دینی۔”

خالہ نے جواب دینے سے پہلے حمزہ کو دیکھا، جو بیرونی دروازے سے ابھی ابھی دودھ کا تھیلا لے کر اندر آیا تھا۔ اس نے صورت حال ایک نظر میں پڑھی۔ سعدیہ باجی نے فوراً قدم بڑھایا، جیسے فیصلہ پھر انہی کے ہاتھ میں آنا چاہیے۔ “ہاں، یہی بہتر ہے۔ فجر کے بعد سڑکیں صاف ہوتی ہیں۔ میں رکشہ بلا دیتی ہوں۔”

حمزہ نے دودھ کا تھیلا میز پر رکھا، جیب سے وہی چھوٹی چابی نکالی، اور سیدھا حنا کی طرف بڑھا دی۔ “رکشہ نہیں۔ پچھلی سیڑھی سے اترو۔ چھت کے راستے نیچے والا سائیڈ گیٹ کھلا ہے۔ سامنے والے دروازے پر محلے والی آنکھیں پہلے جاگتی ہیں۔” پھر اس نے خالہ کی طرف دیکھ کر کہا، “اوپر والا کمرہ بند نہیں ہوگا۔ جب تک یہ خود چابی واپس نہ دے۔”

سعدیہ باجی ایک قدم آگے آئیں۔ “تم ہو کون یہ طے کرنے والے؟”

اس نے پہلی بار ان کی طرف دیکھا، اور بس دیکھا۔ پھر ہاتھ بڑھا کر مرکزی دروازے کی کنڈی ان کے پیچھے سے بند کردی، تاکہ بات دالان میں ہی رہے، گلی میں نہ جائے۔ “جو رات بھر اس کو باہر نہیں چھوڑ سکتا تھا، وہی۔” اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ نہ اعلان، نہ نام۔

حنا نے چابی لینے میں ایک سانس دیر کی۔ دھات اس کی ہتھیلی میں رکھی تو چھوٹی سی تھی، مگر وزن عجیب تھا۔ سعدیہ باجی نے آخری وار کیا۔ “چابی دے کر عزت نہیں مل جاتی۔ کل کو ہر بات پر یہیں آ بیٹھے گی؟”

حنا کی آنکھیں جل رہی تھیں، نیند سے نہیں۔ “ہر بات پر نہیں۔ صرف جب مجھے دروازے سے ہٹایا جائے گا۔” اس نے لَینیارڈ مٹھی میں بند کی، پھر پچھلی راہداری کی طرف مڑ گئی۔ وہاں ہلکی سی نمی تھی، دیواروں پر پرانے پینٹ کی بو، اور اوپر والی بتی کی مسلسل بھنبھناہٹ۔ حمزہ آگے نہیں چلا؛ بس موڑ پر کھڑا رہا، اتنے فاصلے پر کہ راستہ اس کا بھی نہ لگے اور تنہا بھی نہ چھوڑے۔ حنا نے سائیڈ گیٹ تک پہنچ کر ایک بار پلٹ کر دیکھا نہیں۔ اس نے کنڈی اٹھائی، گیٹ کھولا، اور پھر خود ہی واپس آ کر اوپر والے کمرے کی چابی اپنے دوپٹے کے کونے میں باندھ لی۔

جب وہ دوبارہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گئی تو نیچے کی آوازیں مدھم ہوچکی تھیں۔ کمرہ کھلا تھا، بستر سیدھا، کھڑکی ذرا سی کھلی، اور دروازے کے ساتھ اس کی جلی کلائی کے لیے مرہم رکھی تھی۔ اس نے اندر قدم رکھا، دروازہ پورا بند نہیں کیا، صرف اتنا کہ راہداری کی روشنی ایک لکیر بن کر فرش پر رہ جائے۔ پھر وہ واش روم کی طرف بڑھ گئی۔

اندر بتی جل رہی تھی۔ واش بیسن کے پاس رکھا لوٹا غائب تھا، نلکے کے کنارے پانی کے دو نرم قطرے اب بھی سرک رہے تھے، اور چاندی جیسے ٹھنڈے سنگِ مرمر پر گرمی کی ہلکی بھاپ باقی تھی—پانی ابھی تک گرم تھا۔