بند دروازہ میرے لیے کھل گیا
مہرین نے گیلی چادر دونوں ہاتھوں سے کھینچ کر خالا نسیم کے کندھوں پر ڈالی، پھر فرش پر پھیلا الٹی کا پانی اپنے دوپٹے کے کونے سے روکا کہ وہ بجلی کے تار تک نہ پہنچے۔ کچن کے دروازے میں کھڑی سائرہ بھابی نے ناک پر دو انگلیاں رکھ کر بس اتنا کہا، “جلدی کرو، عمار کو بو سے متلی ہو جاتی ہے۔” جیسے یہ گھر، یہ رات، یہ سانس اکھڑتی بوڑھی عورت، سب مہرین کی ڈیوٹی ہوں، اور اس کا نام صرف تب لیا جائے جب کچھ گندا اٹھانا ہو۔
خالا نسیم کی آنکھیں آدھی بند تھیں۔ شوگر لو ہو گئی تھی، پسینے سے ان کا قمیص بھیگ چکا تھا۔ مہرین نے میز پر پڑی آدھی تہہ شدہ پرچی سیدھی کی—شام کی دوا، انسولین، بس کرائے کے بعد بچے ہوئے روپے، سب ایک ہی کاغذ پر دبے ہوئے۔ اس نے فون کی مدھم روشنی ہتھیلی میں چھپا کر حارث کو میسج کیا: اوپر آ جاؤ، شاید ہسپتال لے جانا پڑے۔ پھر خالا کے ہونٹوں سے چمچ لگا کر چینی ملا پانی پلایا۔ عمار باہر ڈرائنگ روم میں کسی کو کہہ رہا تھا، “ہاں، مہرین آ گئی ہے، وہ دیکھ لے گی۔”
آ گئی ہے۔ جیسے وہ خود چل کر نہیں، بلائی جانے والی چیز ہو۔
پندرہ منٹ بعد حارث موٹر بائیک چھوڑ کر اوپر آیا تو خالا نسیم کا رنگ کچھ سنبھل چکا تھا۔ عمار دروازے کے پاس کھڑا موبائل کان سے لگائے محلے کے ڈاکٹر سے فیس پر بحث کر رہا تھا۔ مہرین نے خالا کی کمر سہاری، کپڑے بدلوائے، چادر بدل کر نیچے پلاسٹک شیٹ لگائی۔ جب وہ گیلے کپڑے بالٹی میں ڈالنے لگی تو سائرہ بھابی نے چین سے سانس لیا اور کہا، “اللہ بھلا کرے، تم ہو تو ایسے وقت میں سہارا رہتا ہے۔ اچھا اب دیر ہو رہی ہے، تم نیچے ہی رکنا مت۔ گلی میں چوکیدار بیٹھا ہے، دیکھ لے گا۔”
یہ پہلا انعام تھا: ٹھہرنے کی اجازت نہیں، مگر واپسی کے لیے خالی راہ کی ایک جھوٹی رعایت۔ جیسے کسی نے کنڈی پوری بند کرنے کے بجائے انگلی بھر کھڑکی کھول دی ہو۔
مہرین نے بالٹی اٹھائی، ہاتھ دھوئے، اور اپنے گلے میں پڑا سروس سیکٹر کے کال سینٹر کا گھسا ہوا شناختی پٹہ مٹھی میں دبا لیا۔ اس کی نائٹ شفٹ ختم ہوئے ابھی دو گھنٹے بھی نہیں ہوئے تھے۔ آنکھوں کے نیچے سیاہی، جوتوں میں سارا دن کی نمی، اور کانوں میں اب بھی ہیڈسیٹ کی بھنبھناہٹ تھی۔ لیکن سائرہ بھابی کی نظر صرف اتنی دور جاتی تھی جہاں تک گھر کا کام ختم ہوتا تھا۔ “اور سنو، کل منگنی والوں کے سامنے زیادہ دیر مت بیٹھنا۔ لوگ سوال کرتے ہیں۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہو تو بھی ہر بات سامنے اچھی نہیں لگتی۔”
مہرین نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ منگنی عمار کی چھوٹی بہن کی تھی، اور پچھلے چھے مہینے میں ہال کی ایڈوانس سے لے کر مہندی والے کی بکنگ تک جو دوڑ اس نے لگائی تھی، اس کا کہیں حساب نہیں تھا۔ پھر بھی رسمی بیٹھک میں اس کے لیے جگہ ہمیشہ دروازے کے پاس بچتی، یا بالکل نہیں بچتی۔ “میں کام سے آؤں گی، جتنا ہو سکا کر دوں گی،” اس نے صرف اتنا کہا۔
اگلی شام کراچی کی نمی دیواروں سے پسینہ بن کر بہہ رہی تھی۔ فلیٹ کی راہداری میں پیلی بتی مسلسل بھنبھنا رہی تھی۔ اندر ڈائننگ ٹیبل پر میٹھے کے ڈبے، سلامی کے لفافے، چوڑیاں، فون، سب کچھ پھیلا ہوا تھا۔ مہرین نے آتے ہی کیٹرر کی رسید نکالی، گلدستے والے کو کال کی، پھر خالا نسیم کے بلڈ پریشر کی دوا الگ رکھی کہ شور میں وقت نہ نکل جائے۔ سائرہ بھابی نے مہمانوں کے سامنے اسے ایک بار بھی نام سے نہیں بلایا۔ “وہ لڑکی، ذرا ٹرے لے آؤ… وہی، جو آفس سے سیدھی آئی ہے۔”
“اسے اندر بٹھاؤ نہ، سارا دن کھڑی رہے گی؟” خالا نسیم نے کمزور آواز میں کہا۔
سائرہ بھابی نے ہنس کر بات ہلکی کی۔ “خالا جان، ابھی لڑکیوں کی جگہ بھری ہوئی ہے۔ مہرین کو برا نہیں لگتا، اسے عادت ہے۔”
دروازے کے پاس کھڑی مہرین کے ہاتھ میں چائے کی ٹرے بھاری ہو گئی۔ اس لمحے عمار کی نظر اس سے ملی، مگر وہ فوراً مہمانوں کی طرف مڑ گیا۔ جیسے کچھ دیکھا ہی نہ ہو۔ یہی سب سے زیادہ چبھتا تھا: سیدھی بےادبی کم، ہموار مٹانا زیادہ۔
پھر خالا نسیم کی سانس اٹک گئی۔
پہلے تو کسی کو سمجھ نہیں آیا کہ مسئلہ کیا ہے۔ مہندی والی لڑکی نے سمجھا شاید انہیں گرمی لگی ہے۔ سائرہ بھابی گھبرا کر پانی ڈھونڈنے لگیں مگر گلاس خالی تھے۔ عمار خالا کے پاس جھکا، “امی، امی، آرام سے سانس لیں، سب دیکھ رہے ہیں—” اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر وہ مسلسل کمرہ دیکھ رہا تھا، ماں کا چہرہ نہیں۔ خالا نسیم نے سینے پر ہاتھ مارا، گردن پیچھے گئی، اور کرسی ایک طرف ڈگمگا گئی۔
مہرین نے ٹرے فرش پر رکھ دی۔ کپ ٹوٹے، چائے بکھری، کسی نے چیخ ماری۔ وہ ایک جھٹکے سے خالا کے پیچھے پہنچی، ان کی ٹھوڑی سیدھی کی، دوپٹہ ڈھیلا کیا، کرسی سے آدھا اٹھا کر فرش پر لٹایا۔ “کھڑکی کھولو۔ پنکھا سیدھا اِدھر۔ عمار، گاڑی نکالو نہیں—پہلے انہیلر کہاں ہے؟” اس کی آواز نہ اونچی تھی نہ لرزتی ہوئی، لیکن کمرہ اسی طرف مڑ گیا۔
عمار نے الجھ کر دراز کھولی، پھر دوسری، پھر سائرہ بھابی کی طرف دیکھا۔ “انہیلر… شاید پچھلے ہفتے—”
“نیلی تھیلی میں، دوا کے ساتھ،” مہرین نے کہا، اور خود دو قدم میں کمرے کے کونے تک پہنچ گئی جہاں خالا کا کپڑوں والا بیگ رکھا تھا۔ اس نے انہیلر نکالا، خالا نسیم کے منہ کے پاس رکھا، سانس گنوائے، پھر حارث کو فون کیا۔ “کلینک نہیں، سیدھا ایمرجنسی۔ نیچے آؤ۔”
سائرہ بھابی فرش پر گری چائے کو دیکھتی رہ گئیں۔ عمار پہلی بار خاموش ہوا۔ مہمانوں میں سے ایک آنٹی جو ابھی تک مشورے دے رہی تھیں، دیوار کے ساتھ ہٹ گئیں کہ راستہ کھل جائے۔ جب مہرین نے خالا نسیم کو سہارا دے کر اٹھایا تو عمار نے بازو بڑھایا، مگر خالا کا وزن خودبخود مہرین کی طرف ڈھل گیا۔ وہی لمحہ تھا جب کمرے نے غلط آدمی کو چھوڑ کر صحیح ہاتھ پہچانا۔
ہسپتال کی ایمرجنسی میں آدھی رات کے بعد بھی روشنی کڑی تھی۔ فارمیسی کی پرچی بار بار کھلنے بند ہونے سے نرم پڑ چکی تھی۔ حارث ادویات لینے دوڑ رہا تھا، عمار رجسٹریشن کاؤنٹر پر شناختی کارڈ ڈھونڈتے ہوئے چڑچڑا رہا تھا، اور مہرین خالا نسیم کے بیڈ کے پاس کھڑی ان کی ایڑیاں مل رہی تھی کہ دورانِ ہائپو انہیں ٹھنڈ نہ لگے۔ اس کے فون کی روشنی پھر ہتھیلی میں چھپی، کمپنی کے سپروائزر کے تین مس کال، ایک پیغام: اگر آج پھر غیرحاضری ہوئی تو اگلا روسٹر نہیں ملے گا۔
اس نے جواب نہیں دیا۔ اس نے اپنی لینیارڈ اتار کر بیگ میں ٹھونس دی، جیسے یہ رات کسی اور کی ملازمت سے زیادہ ضروری ہو۔
عمار پانی کی بوتل لے کر آیا۔ “تم بیٹھ جاؤ، میں ہوں نا۔”
مہرین نے پہلی بار اس کی طرف سیدھا دیکھا۔ “آپ ہیں، تو اچھا ہے۔ ابھی یہ دوا وقت پر لگنی ہے۔ نرس آئے تو مجھے بتا دینا۔” آواز میں طنز نہیں تھا، صرف وہ حد تھی جو بہت دیر بعد بنائی جاتی ہے۔ عمار نے بوتل بیڈ کے پاس رکھی، مگر وہیں کھڑا رہا، جیسے سمجھ نہ پا رہا ہو کہ اسے کہاں ہونا چاہیے۔
راہداری کی بتی کی بھنبھناہٹ، آکسیجن مشین کی ہلکی سی سسکار، اور خالا نسیم کی تھمی ہوئی سانسوں کے درمیان حارث نے چپکے سے مہرین کے ہاتھ میں سموسے کا کاغذی لفافہ تھمایا۔ “شام سے کچھ نہیں کھایا تم نے۔” مہرین نے سر ہلایا مگر لفافہ نہیں کھولا۔ اس کی انگلیوں میں دوائیوں کی رسید، بس کارڈ، اور سو روپے کا ایک مڑا ہوا نوٹ اکٹھے دبے تھے۔ اتنی دیر میں سائرہ بھابی نے صرف ایک کال کی: “دیکھو، اگر رات رکنا پڑے تو مہمانوں کو مت بتانا۔ لوگ بات بناتے ہیں۔”
مہرین نے فون بند کر دیا۔
فجر سے ذرا پہلے خالا نسیم کی حالت سنبھل گئی۔ ڈاکٹر نے کہا گھبرانے کی بات نہیں، مگر نگرانی چاہیے۔ عمار نے سکون کی سانس لی اور فوراً اگلا مسئلہ چنا: “اب انہیں کہاں رکھا جائے؟ اوپر والا فلیٹ بھر جائے گا۔ بہن کی رسمیں چل رہی ہیں، آنا جانا لگا ہے۔”
“میرے کمرے میں نہیں ہو سکتا،” سائرہ بھابی نے فون پر صاف کہا۔ “میری بچیاں ہیں۔ پھر لوگ دیکھیں گے رات کو کون آ رہا، کون جا رہا۔ ابھی ذرا سنبھل کر رکھو باتیں۔”
یہ “باتیں” ہمیشہ مہرین کے حصے کیوں آتی تھیں، خالا نسیم کی بیماری کے نہیں۔
ڈسچارج کے وقت عمار نے مسئلہ آسانی سے حل کرنا چاہا۔ “مہرین، تم آج کے لیے خالا کو اپنے ہوسٹل نما فلیٹ لے جاؤ۔ حارث شام کو چھوڑ دے گا۔ ویسے بھی تم عورت ہو، تمہارے ساتھ آسان ہے۔”
ساری رات جاگنے، دو شفٹیں کھونے اور مسلسل کھڑے رہنے کے بعد یہ جملہ اس کے اندر سیدھا ہڈی تک اتر گیا۔ عورت ہو۔ آسان ہے۔ جیسے اس کی جگہ، اس کی عزت، اس کا محلہ، سب سستے راستے ہوں۔ مہرین نے خالا نسیم کے کمبل کی شکن سیدھی کی، پھر آہستہ سے کہا، “میرا کمرہ ایک لڑکی کے ساتھ شیئر ہے۔ اور خالا کو بیمار حالت میں سیڑھیاں چڑھانا ظلم ہوگا۔”
“تو پھر کیا کریں؟” عمار کے لہجے میں پہلی بار درخواست نہیں، الجھن تھی۔ مگر اس الجھن کے اندر بھی پرانا حق جڑا ہوا تھا؛ فیصلہ وہ کرے گا، اٹھائے گی مہرین۔
مہرین نے جواب دینے کی کوشش کی مگر الفاظ نہیں نکلے۔ رات بھر کی جاگی آنکھوں کے سامنے سفید روشنی تیر گئی۔ وہ دیوار کے ساتھ ہاتھ رکھ کر کھڑی ہوئی، پھر اگلے ہی لمحے اس کے گھٹنے مڑ گئے۔ حارث نے بڑھ کر بازو پکڑا، مگر اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتی، کسی نے اس کے کندھے پر تہہ کیا ہوا شال رکھ دیا۔
عمار نہیں تھا۔
وہ سادہ سا سرمئی شال خالا نسیم کا تھا، اور اسے تھمانے والا حارث بھی نہیں۔ دروازے کے پاس سے ایک مضبوط، خاموش ہاتھ نے وہ شال اس کے گرد درست کی، پھر دوسرا ہاتھ اس کے سامنے کھلا: چابیوں کا چھوٹا گچھا۔ مہرین نے دھندلی نظر سے اوپر دیکھا۔ یہ فلیٹ کے مالک اور عمار کے ماموں زاد، جنید تھے، جو رات کو ایمرجنسی میں صرف دوا پہنچا کر چلے گئے تھے۔ وہ عام طور پر کم بولتے تھے اور گھر کے بڑے معاملات میں سائرہ بھابی کے آگے ہٹ جاتے تھے۔
اب وہ نہیں ہٹے۔
“اوپر والے پورشن کی پچھلی سیڑھی خالی ہے،” انہوں نے سیدھے عمار کی طرف دیکھے بغیر کہا۔ “امی کو میرے کمرے میں لٹاؤ۔ اور مہرین”—یہ پہلا موقع تھا کہ اس نے نام لیا—“تم بھی وہیں جاؤ۔”
عمار چونکا۔ “لیکن—”
جنید نے پہلی بار اسے دیکھا۔ “سامنے والا ڈرائنگ روم مہمانوں کے لیے ہے نا؟ تو ٹھیک۔ پیچھے والا کمرہ بیمار اور جاگنے والوں کے لیے ہوگا۔ میں نیچے بیٹھ جاؤں گا۔” اس نے چابیاں مہرین کی ہتھیلی پر رکھ دیں، مٹھی بند کروا دی۔ “راستہ کھلا رہے گا۔ کنڈی اندر سے لگا لینا۔ کسی کو وضاحت دینے کی ضرورت نہیں۔”
یہ کوئی اعلان نہیں تھا۔ نہ کسی نے داد دی، نہ کسی نے معافی مانگی۔ مگر کمرے کی ترتیب ایک لمحے میں بدل گئی۔ سائرہ بھابی فون پر خاموش ہو گئیں۔ عمار نے کچھ کہنا چاہا، پھر خالا نسیم کے ویل چیئر کے ہینڈل پکڑ لیے۔ پہلی بار اسے بتایا نہیں گیا کہ کیا کرنا ہے؛ صرف اس کے لیے جگہ متعین کر دی گئی۔
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مہرین کا جسم کانپ رہا تھا۔ جنید آگے چل رہا تھا، پچھلی راہداری کی بتی جلا کر، ایک ایک موڑ پر رکتا کہ ویل چیئر پھنسے نہیں۔ وہی پیلی بھنبھناہٹ، مگر اس بار راستہ اس کے لیے رکھا گیا تھا، اس سے بچنے کے لیے نہیں۔ اوپر والے پورشن کا دروازہ کھلا تھا، اندر ایک سادہ سا کمرہ، پلنگ کے ساتھ پانی کا جگ، الماری کے اوپر اضافی تکیے، اور پنکھا پہلے سے چلتا ہوا۔ یہ تیاری نئی نہیں لگ رہی تھی؛ جیسے یہ جگہ ہمیشہ موجود تھی، بس اس کے لیے بند رکھی جاتی رہی۔
مہرین نے خالا نسیم کو پلنگ پر بٹھانے میں مدد دی، دوائی دی، کمبل ٹھیک کیا۔ جب وہ سیدھی ہوئی تو چکر پھر آیا۔ جنید نے صرف اتنا کیا کہ سامنے والی کرسی نہیں، پلنگ کے کنارے سے تکیہ اٹھا کر دیوار کے ساتھ لگا دیا۔ “بیٹھ جاؤ۔” پھر دروازہ کھلا چھوڑ کر ایک قدم پیچھے ہٹا۔ “میں نیچے ہوں۔ اگر نیند میں خالا کو کچھ ہو تو آواز دینا۔ اگر تمہیں کچھ ہو تو بھی۔”
مہرین نے چابی اپنی مٹھی سے نکالی، لمحہ بھر دیکھی، پھر اندر آ کر دروازہ آہستہ سے بند کیا۔ کنڈی چڑھائی۔ یہ پہلی بار تھا کہ کسی گھر میں رات کے لیے اسے باہر بھیجنے کے بجائے اندر بند ہونے کا حق ملا تھا۔
اس نے بیگ ایک طرف رکھا، گلے سے لینیارڈ اتاری، اور پلنگ کے پاس فرش پر بیٹھ کر جوتے کھولے۔ پھر اٹھ کر خالا نسیم کی سانس دیکھی، پانی کا گلاس قریب کیا، اور آخرکار خود بھی پلنگ کے دوسرے کنارے تک آ گئی۔
بستر کے ساتھ بچھے چھوٹے سے قالین پر دو جوڑے جوتے رکھے تھے، آمنے سامنے نہیں، ایک ہی طرف مڑے ہوئے—ان کے اگلے حصے اندر کی سمت، جیسے رات نے آخرکار کسی کو باہر کے لیے تیار نہیں رکھا۔