Fast Fiction

آخر کام میرے ہاتھوں میں آیا

کامران نے مہرین کے ہاتھ سے رجسٹر کھینچ کر اپنی کہنی کے نیچے دبا لیا اور گھومنے والی کرسی خود کھینچ کر بیٹھ گیا۔ شٹر ابھی پورا اوپر نہیں گیا تھا مگر کراچی کے اس تشخیصی مرکز کے فرنٹ کاؤنٹر کے سامنے قطار پہلے ہی مڑ کر سیڑھی تک پہنچ چکی تھی۔ مہرین کے گلے میں لٹکا کارڈ اس نے دو انگلیوں سے اٹھا کر دیکھا، پھر کاونٹر کے اندر والی دراز میں پھینک دیا۔ “آج رفتار چاہیے، تم پیچھے والے کام دیکھو۔ سامنے میں بیٹھوں گا۔” اس کے لہجے میں حکم کم، دکھاوا زیادہ تھا۔ شیشے کے پار کھڑے لوگ گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے تھے۔ پہلی رسید کی خشک کاغذی آواز ابھی ہتھیلی میں سیدھی بھی نہ ہوئی تھی کہ لائن رینگنے کے بجائے جم گئی۔

مہرین نے صرف ایک بار دراز کی طرف دیکھا جہاں اس کا کارڈ پڑا تھا، پھر سامنے کے باریک دروازے کے چوکٹھے پر آ کر رک گئی۔ اس کے بیگ میں آدھی تہہ کی ہوئی ایک رسید تھی جسے وہ رات سے بار بار سیدھا کر کے رکھتی آئی تھی؛ امی کی دوا، چھوٹے بھائی کی فیس، اور مالک مکان کا دو دن سے ٹلتا فون۔ یہ نوکری سروس سیکٹر کی معمولی کرسی نہیں تھی، گھر کا سانس تھی۔ کامران کو یہ بھی پتہ تھا، اور یہ بھی کہ مہرین کے بارے میں گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی باتیں اتنی پھیل چکی تھیں کہ ذرا سی سرِعام بے عزتی شام تک محلے کے دروازوں پر پہنچ جاتی ہے۔ اس نے خاموشی سے پیچھے والے شیلف سے فائلوں کا بنڈل اٹھایا، بولا، “ٹھیک ہے۔ مگر غلطی تمہاری ہوگی تو سامنے ہی رکے گی۔” کامران نے ہنس کر کندھے اچکائے، جیسے یہی چاہتا ہو۔

شروع کے پانچ منٹ میں اس کی ساری نمود کھل گئی۔ وہ شناختی کارڈ ایک طرف، پرچی دوسری طرف رکھتا، نام پکارنے سے پہلے ہی اگلے سے فارم مانگ لیتا، پھر خود ہی پلٹ کر پوچھتا، “او پی ڈی یا الٹراساونڈ؟” ایک بوڑھا شخص اپنی بیوی کو بازو سے سنبھالے کھڑا تھا، بار بار کہہ رہا تھا فاسٹنگ والی ٹیسٹ ہیں، دیر ہوئی تو روزہ اور کمزوری دونوں بیکار جائیں گے۔ کامران نے ان کی فائل غلط ٹوکری میں ڈال دی۔ دوسری طرف ایک اسکول یونیفارم پہنے لڑکی کی ماں، جس کے ہاتھ میں فیس کی پرچی اور لیب فارم ایک ساتھ مڑے ہوئے تھے، آواز دبا دبا کر کہہ رہی تھی، “بچی کا پیپر ہے، بس نمبر لگوا دیں۔” کامران نے اسے بھی ٹال دیا۔ ہر جواب کے بعد لائن ایک قدم آگے آنے کے بجائے دو قدم پیچھے پھیل جاتی۔

شفقت آپا، جو اندر خون لینے والے کمرے تک فائلیں پہنچاتی تھیں، دو بار آ کر بولیں، “سامنے سے نام ہی غلط جا رہے ہیں۔ اندر والے مریض واپس بھیج رہے ہیں۔” کامران نے ایسا چہرہ بنایا جیسے قصور بھی کسی اور کا ہو اور وقار بھی اسی کا۔ “میں نئی ترتیب لا رہا ہوں، آپا۔ ہر چیز مہرین کے پرانے طریقے سے نہیں چلے گی۔” یہ کہتے ہوئے اس نے ایک اور فائل اپنے سامنے جما لی، مگر نمبر مہرین سے پوچھنے کے بجائے بنانا شروع کر دیا۔ مہرین پیچھے کھڑی رسیدوں کے لفافوں کی خشک سرسراہٹ سنتی رہی۔ ایک بچہ اپنی نانی کے ساتھ فرش پر بیٹھ گیا۔ شیشے پر دستکیں بڑھنے لگیں۔

دانش، جس کا موٹر سائیکل ہیلمٹ ابھی بازو میں پھنسا ہوا تھا، کاؤنٹر پر جھک کر بولا، “باجی، میری خالہ اندر بیٹھی ہیں، گاؤں سے آئی ہیں۔ بارہ بجے کی ٹرین پکڑنی ہے۔” اس نے مہرین کو دیکھا، پھر کامران کو، پھر سمجھ نہ پایا کس سے بات کرے۔ کامران نے فوراً اپنی کرسی سیدھی کی۔ “مجھ سے بات کریں۔ سامنے میں ہوں۔” دانش ایک سانس رکا، مگر جواب پھر مہرین کی طرف موڑا، “آپ فارم دیکھ لیں نا، پچھلی بار بھی آپ نے کیا تھا۔” صرف ایک لمحے کے لیے کامران کے چہرے کی جلد کَسی۔ اس نے فائل اپنے ہاتھ میں اور زور سے پکڑ لی۔ یہ پہلا جھٹکا تھا: لوگ ابھی بھی راستہ مہرین میں ڈھونڈ رہے تھے، مگر کرسی اور رجسٹر اس کے پاس نہیں تھے۔

پھر اصل رکاوٹ آ گئی۔ ایک حاملہ عورت کا “فوری” نشان لگا فارم، اس کے پچھلے لیب ریکارڈ اور نئی ادائیگی کی رسید ایک دوسرے سے بندھے ہوئے تھے؛ کامران نے دھاگا کھولتے کھولتے پچھلی رپورٹ الگ گرائی، ادائیگی کا اندراج ادھورا رہ گیا، اور کمپیوٹر پر نام آدھا چڑھ کر سکرین پر اٹک گیا۔ اندر سے کمپاؤنڈر نے کھڑکی کھول کر چیخا، “یہ نمبر بغیر ادائیگی کیوں آیا؟ مریضہ کو واپس بھیج دو؟” باہر عورت کے ساتھ اس کی ساس کھڑی تھی، ہاتھ میں تسبیح، آنکھوں میں وہ گھبراہٹ جو گھر کی عزت اور جان کے خرچے کو ایک ساتھ پکڑتی ہے۔ “بیٹا، ہم صدر سے رکشہ کر کے آئے ہیں، دوبارہ نہیں ہو گا۔” کامران نے گھبرا کر ایک نئی پرچی پھاڑی، پرانی ڈھونڈنے لگا، اور پوری لین رک گئی۔ اب نہ اگلا ہو سکتا تھا نہ پچھلا۔

مہرین نے چوکٹھے سے ہٹنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔ اس نے کاؤنٹر کے اندر قدم رکھا تو کامران نے کہنی پھیلا کر راستہ روکا۔ “میں دیکھ رہا ہوں۔” مہرین نے اس کی بات کا جواب لفظوں میں نہیں دیا۔ اس نے اٹکی ہوئی فائل سیدھے اس کے ہاتھ کے نیچے سے کھینچی، نئی پرچی اس کے سامنے رکھ دی، پرانی رسید عورت کی ساس کی انگلیوں سے لے کر نمبر سے ملائی، پھر دراز کھول کر اپنا کارڈ خود نکال لیا۔ ایک جھٹکے سے کارڈ گلے میں ڈالا، رجسٹر کا صفحہ پلٹا، غلط اندراج پر دو سیدھی لکیریں کھینچیں، نیچے درست نمبر لکھا، اور اندر کھڑکی کی طرف زور سے بولی، “یہ ادائیگی لگی ہوئی ہے، پچھلا ریکارڈ ساتھ ہے، مریضہ سیدھی اندر جائے گی۔ اگلا نام میں دے رہی ہوں۔” اس کی آواز میں چیخ نہیں تھی، حکم تھا۔ کھڑکی کے اندر سے فوراً جواب آیا، “بھیجو۔”

لین کھلنے کی آواز بھی ہوتی ہے؛ ایک بند سانس اچانک چھوڑا جائے تو جو لہریں اٹھتی ہیں، ویسی۔ حاملہ عورت کی ساس نے تسبیح والی مٹھی کھولی، دانش نے فوراً اپنا فارم سیدھا کیا، شیشے کے پاس دبی ہوئی لائن ایک قدم آگے سرکی۔ شفقت آپا نے دو نئی فائلیں لا کر بے سوچے مہرین کی طرف بڑھا دیں، کامران کی طرف نہیں۔ کامران نے ہاتھ بڑھایا بھی، مگر آپا نے کہہ دیا، “جو چل رہا ہے، اسی طرف دو۔ اندر دوبارہ واپسی نہیں چاہیے۔” یہ دوسری ضرب تھی: لوگ صرف دیکھ نہیں رہے تھے، رُخ بدل رہے تھے۔

کامران نے اپنا وقار بچانے کو کرسی پر اور گہرا بیٹھنا چاہا۔ “فائل دو، میں سامنے سنبھالتا ہوں، تم بس درستگی کرو۔” مہرین نے اگلے مریض کا شناختی کارڈ لیا اور اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، “جو تم نے روکا ہے، میں وہی کھول رہی ہوں۔ ہاتھ نہ لگاؤ۔” اگلا آدمی، جو کسی شادی ہال کے لیے دوپہر تک ٹیسٹ رپورٹ مانگ رہا تھا، کاغذ مہرین کے سامنے رکھ گیا۔ پھر ایک خاتون نے اپنا فارم اسی طرف سرکایا۔ پھر اندر سے آواز آئی، “مہرین، بایو کیمسٹری والی تین فائلیں جلدی دو۔” کامران کے سامنے پڑا رجسٹر بےکار سا لگنے لگا، جیسے میز پر رکھا برتن جس میں اب کوئی کھانا نہ ڈالتا ہو۔

اس نے آخری بار زور لگایا۔ دراز سے ماسٹر فائل نکالی اور اپنے سامنے پٹخ دی۔ “قانون یہ ہے کہ مرکزی فائل میرے پاس رہے گی۔ تم حد میں رہو۔” یہ سن کر مہرین نے پہلی بار سیدھا اس کی طرف دیکھا۔ اس نظر میں نہ غصہ تھا نہ التجا؛ صرف حساب تھا۔ اس نے شیشے کے پار کھڑی حاملہ عورت، اسکول والی ماں، اور دانش کے فارم ایک ساتھ ہاتھ میں لیے، پھر بلند آواز میں نام پکارے۔ تینوں لوگ فوراً اس کے سامنے آ گئے۔ کامران بیچ میں بولا، “ایک منٹ، ترتیب—” مگر اسی لمحے اندر والے کمرے سے مریض واپس لوٹ آیا، “میرا نام پھر غلط گیا ہے!” غلطی کامران کی پچھلی انٹری سے تھی۔ شیشے کے پاس ایک بےچینی دوڑی۔ اب اس کے بولنے سے معاملہ سنبھلنے کے بجائے اور گرتا تھا۔

شفقت آپا سیدھی اندر کے دروازے سے نکلیں، ہاتھ پر نیلا دستانہ چڑھا ہوا، اور بغیر کسی اجلاس یا اعلان کے کامران کے سامنے سے ماسٹر فائل اٹھا کر مہرین کی طرف رکھ دی۔ “جس کے ہاتھ سے لائن چل رہی ہے، فائل بھی اسی کے پاس رہے گی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے ایک بھی مریض مزید واپس نہ آئے۔” کامران نے فائل پکڑنے کو ہاتھ بڑھایا، مگر اسی وقت دو لوگ اس کی بات چھوڑ کر مہرین کی طرف جھک گئے: “میرا نمبر؟” “میری ادائیگی لگ گئی؟” اس نے کرسی سے اٹھ کر راستہ گھیرنا چاہا۔ مہرین نے اس کے بازو کے کنارے سے گھوم کر گھومنے والی کرسی کی پشت پکڑی، ایک صاف حرکت سے اسے اپنی طرف کھینچا، خود بیٹھ گئی، اور ماسٹر فائل اپنے بائیں، رجسٹر دائیں رکھ دیا۔ اس کے بیٹھتے ہی اس نے اگلے مریض کی پرچی پر مہر لگا دی۔ یہ مہر اگلی حرکت تھی؛ فیصلہ ہو چکا تھا، بحث پیچھے رہ گئی۔

کامران کھڑا رہ گیا، ہاتھ میں آدھی نکلی ہوئی ایک فالتو پرچی، جیسے بے موقع ہتھیار۔ “میں انچارج ہوں۔” اس نے آہستہ کہا، مگر آہستہ لہجہ بھی کبھی کبھی شور سے زیادہ رسوا کرتا ہے، کیونکہ کوئی سنتا نہیں۔ مہرین نے سر اٹھائے بغیر کہا، “انچارج وہ ہوتا ہے جس کے بعد مریض واپس نہ لوٹے۔ اگلا۔” لائن نے فیصلہ اس کے بجائے کر دیا۔ بوڑھا شخص اپنی بیوی کو لے کر اسی کھڑکی پر آ گیا جہاں مہرین بیٹھی تھی۔ اسکول والی ماں نے اپنی مڑی ہوئی فیس پرچی سیدھی کر کے اسی طرف رکھی۔ دانش نے جھک کر بس اتنا کہا، “باجی، خالہ کا بھی لگا دیں۔” کامران کی کرسی اب اس کے پیچھے خالی تھی، مگر خالی چیز بھی بعض دفعہ گواہی بن جاتی ہے۔

پھر وہ حصّہ آیا جہاں عزت گرنے کی آواز کاغذوں سے بھی زیادہ خشک ہوتی ہے۔ کامران نے ایک اور فائل اٹھا کر خود سے نام بلانا چاہا، اندر سے فوراً جواب آیا، “سامنے سے جو نام مہرین دے رہی ہے وہی آئیں گے، باقی روک دو۔” شیشے کے پاس کھڑے دو آدمیوں نے گردن موڑ کر اسے دیکھا اور پھر اپنے فارم واپس نیچے کر لیے۔ اس کے ہاتھ کا کاغذ ہلکا لگنے لگا۔ مہرین مسلسل کام کرتی رہی: شناختی کارڈ، رسید، رجسٹر، مہر، اگلا نام۔ اس کی کلائیاں ایک جیسی رفتار سے چل رہی تھیں، جیسے پہلے ہی سے یہ جگہ انہی کے لیے بنی ہو اور تھوڑی دیر کے لیے غلط ہاتھوں میں چلی گئی تھی۔ ایک آدھ بار کامران نے بولنا چاہا، مگر ہر بار کوئی نہ کوئی سوال اس کے اوپر سے گزر کر مہرین تک پہنچ گیا۔

قطار چھوٹنے لگی تو اندر کے باریک راستے میں، جہاں خراب پرنٹر، اضافی کاغذ اور اوزاروں کی ٹرالی رکھی رہتی تھی، مہرین نے شفقت آپا کو اشارہ کیا۔ “پیچھے والی رسیدی مشین کا رول پھنس رہا ہے۔” یہ وہی مشین تھی جسے صبح سے کوئی چھیڑنے کی ہمت نہیں کر رہا تھا، کیونکہ سامنے کی افراتفری نے سب کو جکڑ رکھا تھا۔ مہرین کرسی سے اٹھ چکی تھی، ماسٹر فائل اس کے قبضے میں، رجسٹر اس کی طرف، لائن سیدھی۔ اس نے مرمت والی تنگ گزرگاہ میں پڑی اوزاروں کی ٹرالی کا ہینڈل پکڑا، ہلکا سا جھٹکا دیا؛ پہیے ایک لمحہ ڈگمگائے، پھر سیدھے ہو کر خاموشی سے رواں ہو گئے۔