اب وہ مجھے چن نہیں سکتا
چابی اس کی ہتھیلی پر رکھ کر دانش نے کہا، “وہ نیچے کھڑا ہے، مہر۔ پھر سے اوپر آنے کی ہمت نہیں ہوئی، اس لیے مجھے بھیج دیا۔”
مہر نے ابھی ابھی دکان کا شٹر آدھا گرایا تھا۔ بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد اس کی آستینوں پر کپڑے کے رولوں کی دھول لگی تھی، کندھے سخت تھے، اور فون کی مدھم روشنی اس کی ہتھیلی میں دب کر بجھ سی رہی تھی۔ کراچی کی ستمبر والی نمی میں سانس لینا بھی کام جیسا لگتا تھا۔ دانش کی انگلیوں میں پڑی وہ پرانی پیتل کی چابی دیکھتے ہی اس کے پیٹ میں خالی سا جھٹکا لگا۔ یہ اسی چھت والے کمرے کی چابی تھی جہاں وہ کبھی نوٹس پڑھا کرتی تھی، اور جہاں حمزہ نے ایک شام اسے کہا تھا، “تھوڑا وقت دو، بس گھر والوں کو راضی کرنا ہے۔”
اس نے چابی نہیں لی۔ “اب کیوں؟”
دانش نے نظریں چرائیں۔ “خالہ نسرین نے آج پھر تمہارا ذکر چھیڑا ہے۔ حمزہ کی منگنی کی بات ٹوٹ گئی۔ وہ تم سے ملنا چاہتا ہے۔ کہہ رہا تھا، چابی واپس کر دوں… اور اگر تم چاہو تو—”
“اگر میں چاہوں تو کیا؟” مہر کی آواز ہلکی تھی، مگر شٹر کے لوہے سے ٹکرا کر سخت سنائی دی۔
دانش نے چابی کاؤنٹر پر رکھ دی۔ “اوپر آجاؤ۔ خالہ کے فلیٹ پر سب موجود ہیں۔ انہوں نے خود بلایا ہے۔”
یہی ناانصافی تھی: جب دل چاہا نام مٹا دیا، جب دل چاہا سیڑھیوں پر واپس رکھ دیا۔ مہر نے کاؤنٹر بند کیا، اپنے دوپٹے کی شکن سیدھی کی، اور چابی اٹھا لی۔ دھات گرم نہیں تھی، بے جان تھی؛ جیسے کسی نے دیر سے لوٹائی ہوئی امانت سے اپنا حق بھی کھینچ لیا ہو۔
خالہ نسرین کا فلیٹ اسی عمارت کی تیسری منزل پر تھا، مگر وہ راستہ ہمیشہ لمبا لگتا تھا۔ دروازہ کھلا تھا۔ اندر ڈائننگ ٹیبل پر چکن کڑاہی، سلاد، روٹیاں، اور وہ خاص پلیٹیں رکھی تھیں جو صرف مہمانوں کے لیے نکلتیں۔ مہر کے قدم اندر پڑتے ہی خالہ نے ایک نظر اوپر سے نیچے تک دیکھی، پھر صائمہ آپا سے کہا، “اس کے لیے کرسی ادھر لگا دو، دروازے کے پاس۔ ادھر خاندان بیٹھا ہے۔”
بس اتنا ہی۔ ایک کرسی، چند انچ کا فاصلہ، اور سب سمجھ گئے کہ اس کی جگہ کہاں ہے۔ حمزہ کی چھوٹی کزن نے پانی کے جگ کو اس کے آگے رکھنے کے بجائے درمیان میں رکھ دیا۔ صائمہ آپا نے ایک لمحہ کو رک کر مہر کی طرف دیکھا، پھر خاموشی سے پلاسٹک کی کرسی کونے میں کھینچ دی۔ وہی سستی کرسی جس کے ایک پائے سے ہلکی چرچر کی آواز آتی تھی۔ مہر بیٹھی نہیں، صرف ہاتھ رکھ کر کھڑی رہی۔
خالہ نسرین نے رسمی نرمی میں لپٹی ہوئی آواز نکالی۔ “بیٹا، برا وقت سب پر آتا ہے۔ تم بھی ضدی تھیں، وہ بھی۔ اب اللہ نے چاہا تو اچھا ہو جائے گا۔ ویسے اب حمزہ کی نوکری بھی ٹھیک ہو گئی ہے۔ بینک والوں میں آنا جانا ہے۔ گھر سنبھل رہا ہے۔”
مہر نے خالی ہنسی بھی نہ دی۔ “جب میں اس کے ساتھ تھی تب بھی میں کام کرتی تھی۔ تب گھر کیوں نہیں سنبھلا تھا؟”
کمرے میں چمچ پلیٹ سے لگا۔ کسی نے نظر اٹھا کر پوری نہ کی۔ حمزہ کہیں نظر نہیں آیا۔ یہی اس کا طریقہ تھا؛ فیصلے دوسرے کریں، دیر سے پچھتاوا خود لے آئے۔
صائمہ آپا پانی کا گلاس لے کر مہر کے پاس آئیں۔ “بیٹھ جاؤ، کھڑی کیوں ہو؟”
“یہ کرسی کافی ہے،” مہر نے کہا۔
“کافی تو اسے تب بھی سمجھا گیا تھا جب تمہاری ماں بیمار تھیں اور تم اسپتال، کالج، نوکری سب ایک ساتھ کر رہی تھیں،” صائمہ آپا کے ہونٹ ہلے، آواز نہیں۔ پھر اونچا بولیں، “خالہ، حمزہ کو بلائیے نا، جس کے لیے سب یہ اہتمام ہے۔”
خالہ نے ناگواری چھپائی۔ “لڑکوں کو بھی وقت چاہیے ہوتا ہے۔ اتنی جلدی کیا ہے؟”
“جلدی؟” دروازے سے ایک نئی آواز آئی۔ دانش واپس آیا تھا، اس کے پیچھے ایک دبلے سے آدمی کے ساتھ۔ “ماموں رشید آئے ہیں۔ ان سے پوچھ لیں جلدی کس کو تھی۔”
ماموں رشید حمزہ کے تایا زاد تھے، سفید شلوار کے نیچے موٹرسائیکل کے تیل کے داغ، آنکھوں میں وہ جھجک جو سچ بولنے سے پہلے آتی ہے۔ انہوں نے کمرے میں داخل ہو کر مہر کو دیکھا، پھر سیدھا خالہ نسرین سے کہا، “میں دیر سے آیا ہوں، مگر بات اب اور نہیں دبا سکتا۔”
خالہ کے چہرے کا رنگ بدلا۔ “اب کیا نئی بات ہے؟”
ماموں رشید نے دانش کے ہاتھ سے چابی لی، دو انگلیوں میں اٹھا کر سب کے سامنے دکھائی۔ “یہ چابی مہر نے غصے میں واپس نہیں کی تھی۔ یہ میں نے حمزہ کے کہنے پر اس سے لی تھی۔ اس دن وہ اوپر کمرے میں جانا چاہتی تھی، بات ختم نہیں کرنا چاہتی تھی۔ حمزہ نے خود نیچے کھڑے ہو کر کہا تھا، ‘آپ لے لیجیے۔ ابھی اسے اوپر نہ آنے دیں۔ امی دیکھ لیں گی تو مسئلہ ہو جائے گا۔’”
مہر کی انگلیاں کرسی کی پشت پر سخت ہو گئیں۔
ماموں رشید رکے نہیں۔ “اور صرف یہی نہیں۔ اس نے مجھ سے یہ بھی کہا تھا کہ مہر اچھی لڑکی ہے، مگر اس وقت گھر والے ڈاکٹر والی لڑکی پر راضی ہیں۔ اس کے باپ کی اپنی کوٹھی ہے، جہیز الگ۔ بولا، ‘اگر ابھی مہر کو روکا نہیں تو وہ امید باندھ لے گی۔’”
کمرے میں جو چیز ٹوٹی وہ آواز نہیں تھی، سانس کا توازن تھا۔ خالہ نسرین نے فوراً کہا، “یہ جھوٹ ہے۔ اتنے مہینے بعد—”
“جھوٹ ہوتا تو چابی میرے پاس نہ ہوتی،” ماموں رشید نے کہا۔ “میں نے اس وقت غلطی کی، اب نہیں کروں گا۔ آج جب منگنی ٹوٹی اور حمزہ نے کہا مہر کو بلا دو، مجھے اپنا حصہ یاد آ گیا۔ اس نے اسے چھوڑا نہیں تھا کیونکہ محبت ختم ہو گئی تھی۔ اس نے اسے کم سمجھا تھا۔”
یہ سن کر سکون نہیں آیا۔ یہی تکلیف تھی۔ اگر محبت نہ ہوتی تو زخم سیدھا ہوتا۔ مگر حمزہ نے چاہا تھا، بس اتنا نہیں چاہا کہ اپنے گھر کے سامنے اس کے لیے کھڑا ہوتا۔ مہر کو اچانک وہ شام یاد نہیں آئی، صرف اپنی ماں کا بخار یاد آیا، یونیورسٹی کی فیس، بس اسٹاپ پر کھڑے کھڑے گیلے جوتے، اور حمزہ کا وہ پیغام: “ابھی گھر کا ماحول ٹھیک نہیں، کچھ فاصلے بہتر ہیں۔” فاصلے بہتر نہیں تھے، سستے تھے۔
خالہ نسرین نے کرسی کی پشت پکڑ لی۔ “مہر، تم سمجھدار لڑکی ہو۔ گھروں میں ایسے فیصلے ہو جاتے ہیں۔ مردوں پر دباؤ ہوتا ہے۔ اب اگر وہ خود—”
“خود کیا؟” مہر نے پہلی بار کرسی چھوڑ کر سیدھی نگاہ اٹھائی۔ “خود واپس آ گیا تو سب درست ہو جائے گا؟”
اس وقت حمزہ دروازے پر آ کر رکا۔ شاید وہ باہر سے سب سن چکا تھا۔ اس کی قمیص اچھی تھی، بال سنورے ہوئے، مگر چہرے پر وہ بے ترتیبی تھی جو دیر سے سچے آدمی پر نہیں، پکڑے گئے آدمی پر آتی ہے۔ اس نے اندر قدم رکھا، اور سب کی موجودگی کے باوجود سیدھا مہر کے سامنے آ کر رک گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا کاغذی لفافہ تھا اور دوسری ہتھیلی خالی۔
“مہر، میں تم سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔”
“یہاں کہو،” مہر نے کہا۔
اس نے ایک نظر اپنی ماں پر ڈالی، پھر ماموں رشید پر، پھر مہر پر آ کر ٹھہر گیا۔ “میں ڈر گیا تھا۔ امی نے کہا تھا کہ اگر میں ضد کروں گا تو گھر سے الگ سمجھا جاؤں گا۔ اب مجھے سمجھ آیا ہے کہ میں نے کیا کھویا۔” اس نے لفافہ میز پر رکھا۔ “یہ نئی فلیٹ کی چابی ہے۔ میں نے الگ جگہ لے لی ہے۔ اگر تم چاہو تو ہم—”
دانش نے سر موڑ لیا۔ صائمہ آپا کے ہاتھ میں گلاس ہلکا سا بجا۔ خالہ نسرین کے ہونٹ کھلے رہ گئے۔ اور مہر کو سب سے زیادہ تکلیف اس بات نے دی کہ حمزہ پہلی بار سچ میں تیار نظر آ رہا تھا۔ نہ آدھا، نہ مشروط، نہ “تھوڑا وقت دو” والا۔ پورا۔ مگر اس وقت جب اس پورے پن کی قیمت کوئی اور نہیں، صرف وہ اکیلی دے چکی تھی۔
“تم نے جگہ الگ لے لی؟” اس نے آہستہ پوچھا۔
“ہاں۔” حمزہ کی آواز پھٹ گئی۔ “اس بار میں واقعی کھڑا ہوں۔ تمہارا اور میرا جو تھا، وہ ختم نہیں ہوا۔ بس میں کمزور تھا۔ مجھے ایک موقع دے دو۔”
مہر نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ ایک لمحے کو حمزہ کے چہرے پر امید کی اتنی تیز روشنی آئی کہ دیکھنا مشکل ہوا۔ مگر مہر نے اس کے ہاتھ نہیں پکڑے۔ اس نے میز سے پرانی پیتل کی چابی اٹھائی، پھر وہ نئی چابی بھی۔ دونوں ایک ساتھ اس کی ہتھیلی میں بجیں؛ ایک ماضی، ایک بہت دیر سے آیا ہوا حال۔
“تم کمزور نہیں تھے، حمزہ،” اس نے کہا۔ “تم حسابی تھے۔ تم نے وہی دروازہ بند کیا تھا جس کے پیچھے میں کھڑی تھی، کیونکہ باہر تمہیں بہتر سودا دکھ رہا تھا۔ اب سودا ٹوٹ گیا ہے تو تمہیں محبت یاد آ گئی ہے۔”
“ایسا نہیں ہے۔”
“ایسا ہی ہے۔ اگر تم مجھے نہیں چاہتے ہوتے تو شاید میں اتنا نہیں ٹوٹتی۔ مگر تم چاہتے تھے، بس اتنا نہیں چاہتے تھے کہ میرے ساتھ بیٹھنے کی کرسی درمیان میں رکھو، دروازے کے پاس نہیں۔”
خالہ نسرین بول اٹھیں، “حد ہے، بڑے چھوٹوں کے سامنے—”
مہر نے ان کی طرف دیکھے بغیر بات جاری رکھی۔ “آج بھی تم نے مجھے یہاں اپنے وقت پر بلایا۔ پہلے چابی چھنوائی، پھر چابی بھیجی، اب نئی چابی لائے ہو۔ ہر بار دروازہ تمہارے ہاتھ میں رہا۔ بس ایک بار نہیں رہے گا۔”
حمزہ نے قدم بڑھایا۔ “مہر، پلیز۔ میں سب کے سامنے کہہ رہا ہوں، میں تمہیں—”
“مجھے اب یہ سننے کی ضرورت نہیں۔” اس نے دونوں چابیاں میز پر رکھ دیں، مگر نئی چابی کو اپنی انگلی سے اس کی طرف دھکیل دیا، جیسے کوئی غلط بل واپس کر رہا ہو۔ پرانی چابی درمیان میں رہ گئی۔ “اس گھر میں داخلے کا فیصلہ تم لوگوں نے بہت پہلے کر دیا تھا۔ میرے دل کا دروازہ بھی اسی دن بند ہو گیا تھا، بس مجھے دیر سے سمجھ آئی۔”
حمزہ کے ہاتھ میز کے کنارے پر رک گئے۔ “ایک بار اکیلے میں—”
“نہیں۔” مہر نے پہلی بار پوری طرح بیٹھنے کے بجائے سیدھی کھڑی ہو کر دوپٹہ سنبھالا۔ اس کا گلا بھرا ہوا تھا مگر آواز نہیں ڈگمگائی۔ “اب تم مجھے چن نہیں سکتے۔”
وہ مڑی اور دروازے کی طرف چل دی۔ صائمہ آپا نے راستے سے کرسی ہٹا دی، اس بار اتنی جلدی کہ اس کا پاؤں نہ اٹکے۔ دانش دیوار سے ہٹ کر ایک طرف ہو گیا۔ سیڑھیوں میں نیچے جاتے ہوئے مہر نے محسوس کیا کہ اس کے گھٹنوں میں کپکپاہٹ ہے، مگر قدم برابر پڑ رہے ہیں۔ نیچے سڑک پر چائے والے کے اسٹال کے پاس وہی لکڑی کی بینچ خالی تھی جہاں دانش اسے روکنے کو آیا تھا۔ اس نے رکے بغیر اپنی ہتھیلی میں دبی پرانی چابی نکالی، ایک لمحہ دیکھی، پھر اوپر والے فلیٹ کی ڈائننگ میز پر چھوڑ آئی ہوئی چابی یاد کر کے ہاتھ خالی کر دیا۔ اس کے پاس اب کچھ بھی واپس لینے کو نہیں تھا۔
بینچ پر ایک کپ رکھا تھا۔ چائے اوپر سے پتلی جھلی باندھ چکی تھی۔ دھواں جو تھوڑی دیر پہلے اٹھا ہوگا، اب صرف آخری بار ہلکا سا مڑا اور ختم ہو گیا۔