Fast Fiction

اس کی معافی مجھ تک نہ پہنچی

دروازے کے پاس کھڑی مہرین نے ابھی دوپٹہ سنبھالا ہی تھا کہ شفقَت خالہ نے اس کے ہاتھ سے مٹھائی کا ڈبہ لے کر نوکرانی کی ٹرے پر رکھ دیا اور کہا، "تم ادھر ہی رہو، اندر مہمان بیٹھے ہیں۔" صحن کی روشنی اس کے چہرے تک پوری نہیں آ رہی تھی۔ پلاستک کی ایک کرسی کونے میں تھی، اس پر بھی پہلے سے ایک شاپر رکھا ہوا تھا، جیسے اس کے لیے بیٹھنے کی جگہ بھی باقی نہ رکھی گئی ہو۔ اندر ڈائننگ کی طرف سے چمچوں کی آواز اور ہلکی ہنسی آ رہی تھی۔ مہرین کے جوتوں میں دن بھر کی دوڑ کی سختی ابھی موجود تھی؛ سروس سیکٹر کی بارہ گھنٹے کی شفٹ کے بعد وہ سیدھی ناظم آباد سے یہاں آئی تھی، صرف اس لیے کہ شفقَت خالہ نے فون پر کہا تھا، "ایک ضروری کاغذ آیا ہے، تمہارا نام ہے اس میں، آ جاؤ۔"

اس نے پوچھا، "کاغذ کہاں ہے خالہ؟"

شفقَت خالہ نے نظریں بچا کر موبائل کی روشنی ہتھیلی میں دبا لی۔ "حمزہ کے پاس ہے۔ وہ دیکھ لے گا۔ پہلے لوگ فارغ ہو جائیں۔"

حمزہ۔ نام سن کر وہ ساکت نہیں ہوئی؛ بس کندھا ذرا اور سیدھا کر لیا۔ یہ وہی گھر تھا جہاں کبھی گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والا تعلق آہستہ آہستہ سانس لیتا رہا تھا، پھر ایک دن ایسے بند کر دیا گیا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ اس وقت اسے بتایا گیا تھا کہ وہ بس جلد باز تھی، جذباتی تھی، حمزہ نے کچھ وعدہ کیا ہی نہیں تھا۔ اب اسی دہلیز پر اسے انتظار میں کھڑا رکھا جا رہا تھا، اور جس "ضروری کاغذ" کے لیے بلایا گیا تھا وہ کسی اور کے ہاتھ میں تھا۔

اندر سے آیان نکلا، حمزہ کا چھوٹا کزن، جس نے اسے دیکھ کر لمحہ بھر رک کر سلام کیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا کی-رِنگ تھا، جس پر فلیٹ نمبر کی چھوٹی پلیٹ لگی تھی۔ "آپی، یہ شاید آپ کا—" وہ بات پوری کرتا، اس سے پہلے شفقَت خالہ نے تیزی سے وہ چابی اس کے ہاتھ سے لے لی۔ "بعد میں۔ پہلے اندر جا کر جوس رکھو۔"

چابی کی ایک جھلک مہرین کے سینے میں کہیں جا لگی۔ یہ وہی اضافی چابی تھی جو حمزہ نے دو سال پہلے اپنے کرائے کے فلیٹ کی دی تھی، یہ کہہ کر کہ "تم آ جایا کرو، میں لیٹ بھی ہو جاؤں تو تم انتظار نہ کیا کرو۔" پھر منگنی کے ہفتے اس نے فون بند کر دیا تھا، اور بعد میں کہلوایا تھا کہ چابی واپس بھجوا دو۔ مہرین نے نہیں بھیجی تھی۔ اسے آج یہاں کس نیت سے بلایا گیا تھا، یہ ابھی صاف نہیں تھا، مگر اتنا واضح ہو گیا کہ اس کی عزت کا حساب دوسروں کے ہاتھ میں رکھا گیا ہے۔

تھوڑی دیر بعد اسے اندر بلایا گیا، مگر بیٹھک میں نہیں۔ ڈائننگ کے پاس سائیڈ والے برآمدے میں، جہاں جوتوں کی قطار اور پانی کا کولر رکھا تھا۔ حمزہ میز کے سرے پر اپنے ماموں کے ساتھ بیٹھا تھا، صاف استری شدہ کُرتا، گھڑی چمکتی ہوئی، آواز میں وہی نرم احتیاط جس سے آدمی فیصلہ بھی کرتا ہے اور الزام بھی نہیں لیتا۔ اس نے مہرین کی طرف سرسری نظر ڈالی، پھر شفقَت خالہ سے کہا، "ان سے وہ فائل لے لیں۔ یونیورسٹی والے فارم میں شاید ان کی پچھلی تفصیل چاہیے ہوگی۔"

مہرین نے سادہ لہجے میں پوچھا، "مجھے اسی لیے بلایا تھا؟"

حمزہ نے پانی کا گلاس اٹھاتے ہوئے جواب دیا، "خالہ نے کہا تھا تمہارا نام آیا ہے تو آ جاؤ۔ ویسے بھی... گھر کے بڑے بیٹھے ہیں، بات مناسب طریقے سے ہونی چاہیے۔"

مناسب طریقہ۔ اس نے دیکھا، میز کے قریب دو کرسیاں خالی تھیں مگر کسی نے اسے پیش نہیں کیں۔ شفقَت خالہ نے اس کے ہاتھ میں فائل تھما دی اور کہا، "یہ رجسٹر والے خانے بھر دو، تمہیں لکھنے کی عادت ہے۔"

یعنی وہ مہمان نہیں، کام کی چیز تھی۔ حمزہ نے فاصلے کو شائستگی کی چادر سے ڈھانپ رکھا تھا؛ وہی فاصلے جو پہلے "عملی بات" کہہ کر اس کے حصے میں ڈال دیے گئے تھے۔ مہرین کھڑی کھڑی لکھنے لگی۔ اس کی انگلیوں میں تھکن کی لکیر اب اکڑن بن چکی تھی، مگر اس نے قلم نہیں روکا۔

اسی بیچ باہر گیٹ پر زور سے گھنٹی بجی۔ آیان دوڑ کر گیا۔ لمحے بھر بعد وہ ایک درمیانی عمر کے آدمی کے ساتھ لوٹا، جس کے ہاتھ میں کورئیر کا بورڈ تھا اور دوسرے ہاتھ میں بھورا لفافہ۔ "حمزہ صاحب؟ یونیورسٹی آفس سے اَرجنٹ ڈاک ہے۔ دستخط چاہیے۔"

حمزہ نے بے دلی سے ہاتھ بڑھایا، مگر کورئیر والا بول اٹھا، "اصل میں پچھلے پتے پر بہت گھمایا گیا۔ وہاں سے ایک صاحب نے کہا آپ نے غلط اطلاع دی تھی، اس لیے یہ تاخیر ہوئی۔ ساتھ تصدیقی نوٹ بھی ہے۔"

ماموں نے چونک کر پوچھا، "کون سا نوٹ؟"

کورئیر والے نے لفافے کے ساتھ ایک مُہردار پرچی نکالی۔ "فائنل ویٹنگ لسٹ کی تصدیق۔ اور شکایت پر جواب۔ جس امیدوار کا نام کٹنے کی بات کی گئی تھی، اُس کی فیس وقت پر جمع ہوئی تھی۔ نظام میں غلط رپورٹ گئی تھی۔"

شفقَت خالہ نے پرچی حمزہ کو دی۔ اس کی انگلیاں پہلی بار بے ترتیب ہوئیں۔ ماموں نے عینک لگا کر پرچی چھین لی اور اونچی آواز میں پڑھنے لگے۔ "امیدوار: مہرین ارشد۔ کلیئرڈ۔ داخلہ مؤخر ہوا بسبب غلط منفی اطلاع from guardian contact..." وہ انگریزی لفظ پر اٹکے، پھر تلخ ہو کر حمزہ کی طرف دیکھا، "یہ guardian contact تم تھا؟"

برآمدے کی ہوا جیسے ایک ہی جگہ ٹھہر گئی۔ مہرین نے قلم میز پر رکھ دیا۔ اسے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں رہی۔ دو سال پہلے جب اس کا ماسٹرز میں داخلہ آخری مرحلے تک پہنچا تھا، اسی ہفتے حمزہ نے کہا تھا، "کراچی میں اکیلی پڑھائی، پھر نوکری، پھر شادی کا کیا بنے گا؟ تمہارے گھر والے بھی پریشان ہوں گے۔" چند دن بعد اسے بتایا گیا کہ نشست کسی اور کو مل گئی۔ پھر حمزہ نے ہاتھ کھینچ لیا تھا، جیسے وہ خود ہی ناکافی رہی ہو۔

ماموں نے دوبارہ پرچی پڑھی، اب آہستہ۔ "غلط منفی اطلاع۔ مالی ناہمواری اور رہائش کی عدمِ استطاعت کے بارے میں دی گئی رائے غیر مصدقہ تھی۔" انہوں نے نگاہ اٹھائی۔ "یہ کس نے دی؟"

حمزہ نے ہونٹ بھیگے۔ "میں... میں نے صرف احتیاط کی تھی۔ خالہ پریشان تھیں۔ مہرین اُس وقت کال سنٹر میں نئی نئی تھی، رات کی ڈیوٹی، اکیلا ہاسٹل—"

"اور تم نے اس کے لیے فیصلہ کر دیا؟" مہرین کی آواز بلند نہیں ہوئی، مگر برآمدے کی دیوار تک سیدھی جا لگی۔ "میری فیس میں نے خود بھری تھی۔ رہائش کے لیے شفقت خالہ نے نہیں، میری ماں نے زیور بیچا تھا۔ تم نے صرف یہ کہہ دیا کہ میں سنبھال نہیں پاؤں گی۔"

حمزہ نے اس کی طرف دیکھا، پہلی بار بغیر ڈھال کے۔ میز کے سرے پر اس کی چمکتی گھڑی اب بھی تھی، مگر اختیار اس کے ہاتھ سے پھسل چکا تھا۔ شفقَت خالہ نے بات سنبھالنے کی کوشش کی، "بیٹی، اُس وقت سب تمہاری بھلائی—"

"بھلائی میں بند دروازہ شامل تھا؟" مہرین نے خالہ کی طرف نہیں دیکھا۔ "یا یہ کہ میرے حصے کا فیصلہ مجھ سے چھپا لیا جائے؟"

آیان کے ہاتھ سے جوس کا گلاس ذرا ٹکرا کر بجا۔ ماموں نے کرسی پیچھے کی اور خشک لہجے میں کہا، "حمزہ، تم اندر آؤ۔ ابھی۔" یہ وہی آدمی تھے جو ابھی تک حمزہ کی نوکری، گاڑی اور "سیٹل" ہونے کی تعریف کر رہے تھے۔ اب ان کے لہجے میں رتبہ نہیں، حساب تھا۔

مہرین نے فائل بند کی۔ اسے اچانک محسوس ہوا کہ جس جگہ وہ کھڑی ہے وہ پہلے سے کم تنگ ہو گئی ہے، مگر راحت نہیں آئی۔ سچ نے اس کے حق میں کمرہ موڑ دیا تھا، مگر دو سال واپس نہیں آئے تھے۔ اس کی رات کی شفٹیں، بسوں کے دو دو بدل، امتحان کی چھوٹی میز پر سو جانا، اور وہ دن جب اس نے سمجھا تھا کہ شاید واقعی وہ کم پڑ گئی تھی—وہ سب اسی برآمدے میں نہیں سمٹ سکتے تھے۔

شفقَت خالہ اب نرم پڑ گئی تھیں۔ "بیٹی، تم بیٹھ جاؤ۔ چائے منگواتی ہوں۔"

"میں جا رہی ہوں۔"

"کم از کم کھانا—"

"میں کام سے سیدھی آئی تھی، حساب لینے نہیں۔ جواب مل گیا۔"

وہ مڑی تو آیان نے آہستہ سے وہی پرانی چابی اس کی طرف بڑھا دی۔ اس بار شفقَت خالہ نے روکا نہیں۔ مہرین نے چابی لی، ایک لمحہ ہتھیلی میں محسوس کی، پھر برآمدے کے جوتوں والے ریک پر رکھ دی۔ "یہ بھی اُس وقت کی چیز ہے۔ اب میرے کسی کام کی نہیں۔"

وہ سیڑھی کے موڑ تک پہنچی ہی تھی کہ پیچھے سے تیز قدموں کی آواز آئی۔ حمزہ تھا۔ اس کی سانس ذرا پھولی ہوئی، ہاتھ میں ایک چھوٹا سا سفید ڈبہ اور اس کے اندر دبا ہوا بند لفافہ۔ شاید جلدی میں کسی دراز سے نکالا گیا تھا؛ کنارے تھوڑے مڑے ہوئے تھے۔ اس نے آواز نیچی رکھی، جیسے گھر والے سن بھی لیں اور پوری بات نہ سنیں۔ "مہرین، ایک منٹ۔ بس ایک منٹ۔"

سیڑھی کے پاس دیوار سے لگی لکڑی کی بنچ تھی، آدھی روشنی میں۔ مہرین نے قدم نہیں روکا، صرف رخ اس کی طرف کیا۔

حمزہ نے ڈبہ دونوں ہاتھوں سے تھام رکھا تھا۔ "یہ تمہارے لیے ہے۔ اُس یونیورسٹی کا نیا خط بھی ہے۔ میں نے آج ہی بات کی ہے۔ ابھی بھی لیٹ داخلہ ہو سکتا ہے، فیس میں مدد بھی—" اس نے جلدی سے بات بدلی، "اور اگر تم چاہو تو میں خالہ سے، سب سے، صاف کہہ دوں گا۔ اُس وقت غلطی میری تھی۔ میں نے سوچا تھا میں تمہیں بچا رہا ہوں، مگر میں—"

"مگر تم اپنے آپ کو بچا رہے تھے،" مہرین نے کہا۔

وہ خاموش ہوا، پھر گردن جھکا کر بولا، "ہاں۔ شاید۔ نہیں، ہاں۔ میں نے آسان راستہ لیا تھا۔ امّی کو بھی یہی بتایا کہ تم خود غیر یقینی ہو۔ منگنی... وہ بھی اسی لیے کی کہ گھر والے خاموش ہو جائیں۔ لیکن میں نے تمہیں کبھی—"

"حمزہ۔" اس نے پہلی بار اس کا نام اس طرح لیا جیسے ایک بند فائل پر آخری مہر لگائی جاتی ہے۔ "آج تم نے سچ بولا ہے، اس لیے بات اور سخت ہو گئی ہے۔ اگر تم جھوٹ ہی بولتے رہتے تو شاید میں تمہیں وہی سمجھ کر چلی جاتی جو میں دو سال سے سمجھتی آئی ہوں۔"

اس نے ڈبہ آگے بڑھایا۔ "لے لو۔ چاہے بعد میں پھینک دینا۔ بس یہ نہ کہو کہ میں نے کوشش نہیں کی۔"

مہرین کی نگاہ ڈبے پر گئی، پھر اس کے ہاتھوں پر۔ وہ ہاتھ جنہوں نے کبھی اضافی چابی دی تھی، پھر رسائی واپس مانگ لی تھی، پھر اس کے مستقبل پر اپنی رائے لکھ دی تھی۔ "کوشش اُس وقت ہوتی جب میرے نام کے آگے غلط بات نہ بھیجتے۔ یہ اُس کے بعد کی چیز ہے۔"

"میں ٹھیک کر دوں گا۔"

"جو کاٹا تھا، وہ کاغذ نہیں تھا۔"

حمزہ کے چہرے پر پہلی بار وہی چیز آئی جو اکثر دیر سے آنے والوں کے حصے میں آتی ہے: سمجھ۔ نہ بہانہ، نہ وقار، نہ ترتیب۔ صرف سمجھ۔ اس نے ایک قدم اور بڑھایا، آواز اور آہستہ کی۔ "ایک موقع دے دو۔ گھر والوں کے سامنے نہیں، کہیں بھی۔ میں سن لوں گا، جو کہو گی۔"

مہرین نے بنچ کے پاس رک کر ڈبے کی طرف دیکھا۔ ہاتھ بڑھاتی تو اسے لینا پڑتا، وزن محسوس کرنا پڑتا، شاید اندر کا لفافہ کھولنا پڑتا، شاید وہی پرانی غلطی دوبارہ اس کے حصے میں آتی کہ فیصلہ دوسرے کی دیر پر چھوڑ دیا جائے۔ اس نے اپنے بیگ کا پٹا کندھے پر اوپر کیا۔ "تم نے میری خاموشی سے فائدہ لیا تھا۔ اب میرا جواب بھی سن لو۔ مجھے دیر سے پہنچی سمجھ بوجھ نہیں چاہیے۔"

حمزہ نے جیسے یقین نہ کیا ہو۔ "اتنا بھی نہیں کہ—"

"نہیں۔" لفظ چھوٹا تھا، مگر اس کے بعد جگہ خالی نہیں رہی۔ "میں اب تمہارے پچھتاوے کی جگہ نہیں ہوں۔"

اس نے ڈبہ لینے کے بجائے بنچ کے کنارے کی طرف اشارہ کیا۔ حمزہ کے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے۔ ڈبہ اُس نے آہستہ سے بنچ پر رکھ دیا، شاید اب بھی یہ امید لیے کہ مہرین جاتے جاتے اٹھا لے گی۔ لفافے کا سفید کنارہ ڈبے کے ڈھکن کے نیچے دبا ہوا تھا۔

مہرین نے دروازے کی چوکھٹ پار کی، پھر ایک بار بھی مڑے بغیر گیٹ کی طرف چل دی۔ باہر گلی میں موٹر سائیکلوں کی لڑی، دور بس کے بریک کی آواز، اور رات کی نمکین ہوا تھی۔ کراچی ایسے ہی آدمیوں اور ایسی ہی تاخیر سے بھرا رہتا ہے؛ ہر چیز وقت پر نہ ملے تو شہر معاف نہیں کرتا۔ اس نے گیٹ کھولا، باہر نکلی، اور بند کر دیا۔

بنچ کے آخری سرے پر سایہ گہرا تھا۔ وہیں سفید ڈبہ بے دعویٰ پڑا رہا، اندر بند لفافے سمیت، اور مہرین کے چلے جانے کے بعد بھی اس کا گتّا اپنی شکل سنبھالے رہا۔