Fast Fiction

لائیو ڈیمو میں بڑا ڈاکٹر ٹوٹ گیا

ڈاکٹر زارون نے ماہرہ کے ہاتھ سے پروب جھٹکے سے کھینچ کر ٹرے پر پٹخا اور رجسٹر میز کے کنارے سے لٹکتی اس کی عارضی رسائی کارڈ کو دو انگلیوں سے اٹھا کر نرس صبا کی طرف اچھال دیا۔ “اسے فائلوں پر رکھو۔ لائیو بے میں نہیں۔” سامنے پردے کے اُس پار ہال میں مائیک پر اعلان ہورہا تھا کہ خاندانی فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام دل کے معائنے کا خاص مظاہرہ چند منٹ میں شروع ہوگا، اور اِدھر سائیڈ وِنگ میں مریضوں کی قطار کھسک کھسک کر تنگ راہداری تک آ پہنچی تھی۔ ماہرہ کا ٹھنڈا پڑا کھانے کا ڈبہ رجسٹر کے پاس دبکا تھا، اور اس کے اوپر لوٹا ہوا چابیوں کا چھوٹا گچھا رکھا تھا جو صبح اسے دیر سے واپس ملا تھا، جیسے کسی نے یاد دلا کر بھی احسان کیا ہو۔

خالدہ خالہ خود اسپانسرز کے ساتھ کھڑی تھیں، ہلکے سبز دوپٹے کے کنارے سے پسینہ دباتی ہوئی۔ حارث ان کے پیچھے تھا، سوٹ میں جکڑا ہوا، وہی حارث جس کے بارے میں گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ بات آگے چل رہی ہے، بس وقت اور موقع کی دیر ہے۔ سب نے دیکھا جب زارون نے ماہرہ کو مریض کے بیڈ سے ہٹا کر کہا، “تم بس جیل دو، نام پکارو، اور خاموش رہو۔ بڑے لوگوں کے سامنے غلطی کا خرچ تم نہیں دے سکتیں۔”

ماہرہ نے جواب نہیں دیا۔ اس نے فقط مریض کی کاغذی فائل کے نیچے دبی رپورٹ سیدھی کی اور دیکھا کہ معمر مریضہ، بی بی رخسانہ، سانس کھینچتے ہوئے سینے پر ہاتھ جما رہی ہے۔ اسکرین ابھی بھی پرانے زاویے پر جمی تھی، دل کا خانہ ادھ کھلا، دھندلا، بے معنی۔ زارون نے مڑ کر باہر کی طرف ہاتھ ہلایا، جیسے تاخیر بھی کسی اور کی نااہلی ہو۔ “کیس سادہ ہے۔ والوز کا معمولی مسئلہ۔ ہم لائیو دکھا دیں گے۔”

نرس صبا نے آہستہ سے ماہرہ کی رسائی کارڈ اس کے سرد ہاتھ میں سرکا دی۔ کنارے گھسے ہوئے تھے، جیسے بس کارڈ بار بار جیب سے نکلتا رہا ہو۔ “آپ نے صبح کہا تھا زاویہ غلط ہے،” صبا نے اتنا ہی کہا۔ یہ پہلا چھوٹا سا دراڑ تھا، اتنا واضح کہ خالہ نے بھی سر گھما کر ماہرہ کو دیکھا، اور زارون نے فوراً صبا پر آنکھیں تریریں۔

پھر اس نے باقاعدہ رکاوٹ کھڑی کی۔ وہ مشین کے سامنے آ کر کھڑا ہوگیا، ایک ہاتھ کنسول پر، دوسرا ماہرہ کی طرف اٹھا ہوا۔ “تمہیں کس نے کہا ٹچ کرو؟” آواز اونچی نہیں تھی، مگر اتنی صاف کہ قریب کھڑے رشتہ دار، اسپانسر، جونیئر ڈاکٹر سب سن لیں۔ “یہ سروس سیکٹر کی نوکری ہے، مگر ہر کوئی ایک ہی دن ماہر نہیں بن جاتا۔ حد پہچانو۔ خاندانوں کے سامنے ترتیب بگڑتی ہے تو نام بھی بگڑتے ہیں۔”

حارث نے ہونٹ کھولے، پھر بند کر لیے۔ خالدہ خالہ نے فقط اتنا کہا، “ماہرہ، بیٹا، ابھی ماحول خراب نہ کرو۔” ماحول۔ جیسے دھندلی اسکرین، پسینے میں بھیگی مریضہ، اور بڑھتی قطار ماحول نہ ہوں؛ صرف ماہرہ کی موجودگی ماحول ہو۔

زارون نے پروب مریضہ کے سینے پر رکھا، مگر ہاتھ سخت اور جلدی میں تھا۔ اسکرین پر الٹے سیدھے سائے بھاگے۔ “دیکھیے، یہی ہے،” وہ اسپانسرز کو سمجھانے لگا۔ “معمولی ریگَر—” اس نے لفظ آدھا ہی بولا تھا کہ ماہرہ کی نظر اسکرین کے اوپری کونے میں جا لگی؛ رنگی بہاؤ غلط جہت میں تھا، مگر زاویہ ایسا کہ سچ چھپ جائے۔

“پروب دو ملی میٹر گھڑی کی سمت گھماؤ،” ماہرہ نے سیدھا کہا۔

زارون ہنسا نہیں؛ اُس نے بدتر کیا۔ اس نے پروب اور بھی اوپر دھکیل دیا، جیسے ہدایت سننا بھی اپنی توہین ہو۔ “تم مجھے سکھاؤ گی؟”

بی بی رخسانہ نے کراہ کر آنکھیں بند کرلیں۔ ماہرہ آگے بڑھی۔ زارون نے کندھے سے راستہ روکا۔ اسی لمحے مریضہ کی بیٹی، جو باہر والی قطار سے دھکیلتی ہوئی اندر آئی تھی، چلّا اٹھی، “میری امی کا رنگ نیلا پڑ رہا ہے، کوئی ٹھیک سے دیکھے گا یا فوٹو کھنچوائیں گے؟”

یہ شور زارون کے حق میں جانا چاہیے تھا، مگر ماہرہ نے اسی شور کے اندر ہاتھ بڑھا کر پروب پکڑا، اس کی کلائی کو جھٹکا نہیں دیا، صرف دو انگلیوں سے زاویہ بدلا—ذرا سا، گھڑی کی سمت، پھر ہلکا سا جھکاؤ بائیں۔ اسکرین پر رنگ یکایک پھٹ کر صاف سرخ نیلی دھار میں بدل گیا، پیچھے کی دیوار پر بہاؤ الٹا جا لگا، اور والو کے کنارے کے ساتھ لرزتی ہوئی باریک لکیریں اب دھندلا سایہ نہیں رہیں۔ یہ معمولی لیک نہیں تھی؛ یہ خطرناک ریگَرجیٹیشن تھی، وہ قسم جو ایک اور غلط تاخیر برداشت نہیں کرتی۔

زارون کی زبان وہیں اٹک گئی۔ اگلا قدم اسے لینا تھا—جیٹ کی پیمائش، پریشر کی قرأت، فوری درجہ بندی—مگر اُس نے اسکرین کو ایسے دیکھا جیسے اپنی ہی لکھائی پہچان نہ رہا ہو۔ صبا کے ہاتھ سے قلم گر کر رجسٹر کے کنارے سے نیچے لڑھک گیا۔ خالدہ خالہ کی انگلیاں تسبیح کے دانے پر رک گئیں۔ حارث ایک قدم آگے آیا، مگر اس بار ماہرہ کی طرف۔

ماہرہ نے پروب واپس نہیں کیا۔ “سیویئر۔ پوسٹیریر لیف لِٹ فیل۔” اس نے مریضہ کی بیٹی کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا، “انہیں ابھی بیٹھا مت رہنے دیں۔ آکسیجن بڑھاؤ۔ سینئر سرجیکل کال کرو۔” پھر کنسول پر فریز دبایا، ناپ لی، نمبر اسکرین کے کنارے پر ابھرے۔ زارون نے کہا، “ایک فریم سے فیصلہ نہیں ہوتا، مشین دوبارہ—”

“تو کیجیے،” ماہرہ نے ایک طرف ہٹے بغیر کہا۔

وہ نہ کر سکا۔

یہ شکست کافی نہیں تھی؛ پرانا نظام صرف ایک لغزش سے نہیں ہٹتا۔ اسی وقت داخلی دروازے پر شور اٹھا۔ دو وارڈ بوائز ایک اور مریض کو اسٹریچر پر لاتے دکھے۔ سفید شلوار قمیص، مہنگی گھڑی، ساتھ دو آدمی اور ایک درمیانی عمر کی عورت جس کے چہرے سے پہچان ٹپکتی تھی۔ “حاجی سلیم صاحب کو ابھی اسی بے میں دیکھیں،” عورت نے کہا، “فاؤنڈیشن کے مرکزی عطیہ دہندہ ہیں۔ باہر نہیں لے جائیں گے۔ ابھی، سب کے سامنے۔”

خالدہ خالہ کا رنگ بدل گیا۔ “یہ ہمارا خاص سیشن تھا—”

“اور یہی وجہ ہے کہ ابھی ہوگا،” عورت نے کاٹ کر کہا۔ “اگر اتنا نام ہے تو انتظار کیوں؟”

زارون نے موقع سمیٹنا چاہا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر کہا، “میں دیکھتا ہوں۔ ابھی پچھلا کیس صرف—”

حاجی سلیم نے ماسک کے پیچھے سے ہاتھ اٹھایا، انگلی سیدھی ماہرہ کی طرف۔ شاید اُس نے وہی دو منٹ پہلے دیکھا تھا، شاید اُس کی سانس اتنی تنگ تھی کہ اداکاری پہ اعتبار نہ رہا۔ “وہ لڑکی۔ اس نے ٹھیک پکڑا تھا۔ اسی سے کرواؤ۔”

یہ طلب نہیں، حکم تھا، اور گواہ بہت تھے۔ زارون نے فوراً ہنس کر نرم کرنے کی کوشش کی۔ “وہ میری ٹیم میں ہے۔ میں سپروائز—”

ماہرہ نے اپنا رسائی کارڈ جیب سے نکالا، اس کی گھسی ہوئی کنار والی پٹی انگلی پر الٹ کر سیدھی کی، اور کنسول کے اوپر ماسٹر لاگ اِن سلاٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ زارون نے درمیان میں ہاتھ رکھا۔ “تم اوونر موڈ نہیں کھولو گی۔ یہ اختیار—”

صبا نے بےآواز تیزی سے ڈاکٹر اسٹیشن کی چھوٹی چابیوں کی ڈوری اٹھا کر ماہرہ کے سامنے رکھ دی۔ دیر سے لوٹائی گئی وہی چابیاں دھات کی ننھی آواز کے ساتھ کنسول کے پاس ٹھہریں۔ حارث نے پہلی بار صاف کہا، “مشین کے پچھلے تین لائیو کیس کس نے پری لوڈ کیے تھے؟ ماہرہ نے۔ اگر مالک رسائی چاہیے تو کھولو اسے۔ ابھی۔”

خالدہ خالہ نے حارث کو گھورا، مگر دیر ہو چکی تھی۔ اسپانسر بورڈ کے ایک رکن نے خود آگے بڑھ کر کہا، “وقت ضائع مت کریں۔ مریض گر رہا ہے۔ جس کے ہاتھ میں درست قرأت ہے، وہی کرے گا۔” یہ نام کا اعلان نہیں تھا، اس سے بدتر تھا: کمان کسی اور کے منہ سے ماہرہ کے ہاتھ میں جا رہی تھی۔

زارون نے آخری بار طاقت آزمائی۔ “اگر کچھ ہوا تو ذمہ داری؟”

ماہرہ نے چابیاں اٹھا کر اس کے پھیلے ہوئے ہاتھ کے بجائے کنسول کے بائیں خانے میں ڈالیں، اوونر رسائی کھولی، اور اسٹریچر کو خود مشین کے برابر لانے کا اشارہ کیا۔ “ذمہ داری اس وقت اُس کے پاس ہونی چاہیے جو پڑھ سکتا ہے۔” پھر اُس نے زارون کی طرف دیکھے بغیر کہا، “آپ پیچھے ہٹیں۔ سایہ پڑ رہا ہے۔”

وہ جملہ چھوٹا تھا، مگر زارون دو قدم پیچھے ہٹا۔ اس کے مہنگے جوتے کی ایڑی موبائل کیبل میں الجھ کر رکی، اور اسے اپنے توازن کے لیے رجسٹر میز پکڑنی پڑی۔ نزدیک کھڑے ایک انٹرن نے فوراً اُس کی اسٹول ماہرہ کے قریب کھسکا دی، اُس کے نہیں۔ یہ کمرے کی ترتیب بدلنے کا لمحہ تھا، سب کے سامنے، بےآواز۔

ماہرہ بیٹھ گئی۔ اس کی آواز اب بالکل سیدھی تھی۔ “نام؟ عمر؟ درد کب سے؟” سوال مختصر، ہاتھ تیز۔ جیل، پروب، زاویہ۔ اسکرین پر پہلے دھندلا سا دل، پھر واضح چار خانوں کی تصویر۔ “سانس روکیے... اب چھوڑیں۔” حاجی سلیم کا سینہ اُکھڑ رہا تھا مگر ماہرہ کی کلائی نرم رہی۔ اس نے پہلی قرأت لی، پھر رنگی بہاؤ کھولا، پھر نچلا زاویہ بدلا۔ “نہیں، یہ سامنے والا مسئلہ نہیں۔ صبا، پریشر نوٹ کرو۔ دوبارہ۔”

زارون اب بھی بچنا چاہتا تھا۔ “یہ اسکیمک لگ رہا ہے، فوری گھبراہٹ نہ—”

ماہرہ نے جواب میں تقریر نہیں کی۔ اس نے پروب چند ملی میٹر سرکایا، اسکرین کے دائیں اوپری حصے میں ایک باریک لرزتی لکیر کو پکڑا، گین کم کیا، پھر مَود بدل دیا۔ وال موشن کی بےقاعدگی صاف ابھری، مگر وہ اصل زخم نہیں تھا۔ اگلے فریم میں بائیں ایٹریئم کے قریب ننھا سا سیاہ ابھار دھڑکن کے ساتھ ہلا۔ “یہ رہا،” اس نے کہا، مگر کمرے کو نہیں، خود اسکرین کو۔ “کلاٹ۔ متحرک۔ اسی لیے وقفے وقفے سے سانس بیٹھ رہی ہے۔”

اس نے فریز نہیں کیا۔ پہلے دو مزید چکر لیے، ایک ہی مقام تین زاویوں سے پکڑا، پھر فریز۔ “یہ ٹکاؤ نہیں، عارضی سایہ نہیں۔” کیلپر رکھے۔ پیمائش ابھری۔ صبا کی قلم اس بار نہیں گری؛ سیدھی چلتی گئی۔ “نقل و حرکت کے ساتھ اٹیچمنٹ پوائنٹ دیکھو،” ماہرہ نے کہا، اور اسکرین پر کرسر سے نشان کھینچا۔ “یہاں۔ یہاں۔ اور یہاں۔ سرجیکل الرٹ۔ ابھی۔ اینٹی کوایگولیشن ڈاکٹر کے حکم تک مت چھیڑو، پہلے کارڈیو تھوراسک ٹیم نیچے لاؤ۔”

حاجی سلیم کے ساتھ آئی عورت نے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا۔ اسپانسر بورڈ والا آدمی زارون کی طرف نہیں، ماہرہ کے نشان کی طرف جھکا۔ زارون نے ایک بار اور زبان کھولی، مگر اسکرین پر موجود تین زاویوں کی ایک جیسی قرأت نے اُس سے اونچی بات کی۔ اُس کی کوئی جگہ نہیں بچی تھی جہاں کھڑے ہو کر شک ڈالتا۔ یہ محض اختلاف نہیں رہا تھا؛ اس کی کمان ٹوٹ چکی تھی۔

ماہرہ مسلسل کام میں رہی۔ “صبا، ٹائم اسٹیمپ محفوظ۔ مریض کو منتقل کرنے سے پہلے یہ کلپ لاک کرو۔ سر،” اس نے بورڈ والے رکن سے کہا، “سرجیکل ٹیم کے لیے راستہ صاف کرائیں۔ تماشہ ختم۔ راستہ چاہیے۔” پھر اس نے حاجی سلیم سے آہستہ کہا، “آپ کی سانس کی وجہ ہمیں مل گئی ہے۔ اب تاخیر نہیں ہوگی۔”

زارون کی آواز پہلی بار نیچی پڑی۔ “ماہرہ، ایک منٹ۔ میں... میں کیس کلوز کر دیتا ہوں، رسمی اندراج میرے نام سے—”

ماہرہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر ماؤس اپنے ہاتھ میں لیا۔ کنسول کے نیچے اس کا ٹھنڈا پڑا کھانے کا ڈبہ ابھی بھی بند پڑا تھا، اور چابیوں کا گچھا اس کے ساتھ رکھا تھا، جیسے دونوں چیزیں آخرکار ایک ہی طرف آ گئی ہوں۔ اُس نے تشخیصی خانے میں آخری سطر لکھی: “متحرک کلاٹ، فوری سرجیکل الرٹ، تاخیر خطرناک۔” پھر اوونر تصدیق کے لیے اپنا کوڈ داخل کیا، “کیس بند.”

اسکرین پر صاف قرأت جمی رہی، نشان زدہ سیاہ ابھار کے گرد سفید لکیر، نیچے تشخیص کی سطر، اور آخری کونے میں کرسر ایک بار جھپکا، پھر readable trace کے اوپر رک گیا۔