کام مجھ پر ڈالا، پھر مجھے پکارا
سائرہ نے رجسٹر کی پٹی اپنی کہنی سے سیدھی کی ہی تھی کہ حارث نے اس کے ہاتھ سے مریضوں کی فائلوں کا گچھا لے کر زور سے کاؤنٹر پر رکھا اور اونچی آواز میں بولا، “ندا، تم فرنٹ ڈیسک سنبھالو، ڈاکٹر صاحب نے خاص کہا ہے۔” اگلے ہی لمحے اسی فہرست کے اوپر اس نے ندا کا نام لکھ دیا، حالانکہ صبح سے ٹوکن، خون کے نمونے، فیس کی رسیدیں اور الٹراساؤنڈ والوں کی قطار سائرہ ہی کھینچ رہی تھی۔ اس کے گلے میں پڑا کریز پڑا بیج لینیارڈ پسینے سے گردن سے چپکا ہوا تھا، اور جیب میں آدھی تہہ، آدھی کھلی رسید بار بار انگلی سے مڑ رہی تھی؛ امی کی دوائی کے پیسے اسی میں گنے گئے تھے۔
سائرہ نے جواب میں بحث نہیں کی۔ اس نے وہی فہرست دوبارہ کھینچی، ایک سرسری نظر سے ناموں کی ترتیب بدلی، اور کاؤنٹر کے نیچے پڑی نیلی ٹرے اٹھا کر ندا کے سامنے رکھ دی۔ “پہلے روزے والی مریضہ کو بھیج دو، شوگر لو ہے۔ پھر یہ بچہ، بخار تین دن سے ہے۔” ندا چونکی، پھر بےساختہ اسی ترتیب میں آوازیں لگانے لگی۔ حارث نے ایک لمحہ سائرہ کو دیکھا، جیسے یہ چھوٹی سی حرکت اس کے منصوبے میں لکھی نہ ہو۔
کلینک کراچی کے گلشن والے مصروف بازار میں تھا، اوپر کرائے کے فلیٹ، نیچے فارمیسی، درمیان میں یہ تنگ سی شاخ جہاں سروس سیکٹر کی ساری بےنام محنت سفید ٹیوب لائٹ میں زیادہ ننگی لگتی تھی۔ پلاسٹک کی کرسیوں کے کونوں پر لوگ آدھے بیٹھے، آدھے لٹکے تھے؛ کوئی کھڑا رہ جائے تو اسی سے اس کی حیثیت سمجھ آتی تھی۔ ندا نئی تھی، صاف استری شدہ عبایا، اچھا موبائل، اور حارث کے ساتھ ایسی بےتکلفی جیسے یہاں کی ہوا بھی اسے پہلے سے جانتی ہو۔ سائرہ کی کرسی اکثر کوئی اور لے لیتا تھا، مگر کمپیوٹر کا جام ہونا، ٹوکن کے جھگڑے، ڈاکٹر کے مزاج کا وقت، سب اس کے ہاتھ پہچانتے تھے۔
دس بجے سے پہلے ہی مشکل مریض آ گیا؛ ایک بوڑھی عورت، سانس پھولا ہوا، ساتھ دو گھبرائی ہوئی لڑکیاں، ایک کے ہاتھ میں سرکاری اسپتال کی پرچی، دوسری کے پرس میں ادھورے نوٹ۔ حارث نے انہیں دیکھتے ہی ہلکا سا منہ بنایا، پھر ندا سے مسکرا کر بولا، “تم بس کیش لو، یہ کیس سائرہ دیکھ لے گی، اسے ایسے لوگوں کی عادت ہے۔” آخری لفظ میں چھپا ہوا تحقیر اتنا باریک تھا کہ سننے والے کے کان پر الزام نہ آئے، مگر سائرہ کے سینے میں سیدھا لگا۔ اسی کے ساتھ اس نے اپنی نشست بھی کھسکا لی؛ رجسٹر اس کی طرف، ہنگامی مریض سائرہ کی طرف۔
سائرہ نے بوڑھی عورت کو پلاسٹک کی کرسی کے کونے پر نہیں چھوڑا۔ اس نے اپنی کرسی اٹھا کر دی، نبض پوچھی، فارمیسی والے لڑکے کو اشارہ کیا، “نیبولائزر ابھی۔” پھر فائل پر سرخ قلم سے اوپر “فوری” لکھا۔ ڈاکٹر آصف اندر سے نکلے، ایک نظر فائل پر پڑی، پوچھا، “یہ کس نے چڑھائی؟” حارث جواب دینے کو آگے بڑھا ہی تھا کہ ڈاکٹر نے فائل میں سائرہ کی لکھائی پہچان لی۔ “اچھا، اسی ترتیب میں باقی بھی بھیجو۔” پہلا انعام بس اتنا تھا: نام نہیں، مگر ہاتھ پہچان لیا گیا۔ حارث کے ہونٹ لمحہ بھر کو بند ہو گئے۔
دوپہر کے قریب دباؤ اور تیز ہو گیا۔ ویکسین کے بچوں کی قطار، لیب کا آدمی غائب، ایک ڈاکٹر نماز سے لوٹنے میں دیر، اوپر سے نظام بار بار بیٹھ رہا تھا۔ حارث نے بغیر سائرہ کی طرف دیکھے بیج کلپ اپنے کوٹ پر سیدھی کی اور بولا، “میں مالک کے فون پر جا رہا ہوں، تم پیچھے کا بہاؤ سنبھالو۔ ندا، سامنے رہنا۔ اگر کچھ پھنسے تو سائرہ ہے نا۔” یہ کہہ کر وہ اندر کے ٹھنڈے کمرے میں چلا گیا جہاں صرف عملے کا دروازہ کھلتا تھا۔ مشکل سارا سائرہ کے ہاتھ، دکھاوا سارا اس کے نام۔
پندرہ منٹ بعد پہلا شور اٹھا۔ ایک بچے کا ٹیکہ رہ گیا تھا مگر فائل لیب کی ٹرے میں چلی گئی؛ ایک حاملہ عورت کو غلط کمرے کے سامنے بٹھا دیا گیا؛ اور دو مریض ایک ہی ٹوکن پر کھڑے ہو گئے۔ ندا گھبرا کر سائرہ کے قریب آ گئی، “آپا، پہلے کس کو بھیجوں؟” سائرہ نے اس کی گھبرائی انگلیوں سے فائل چھینی نہیں، سیدھی کی۔ “یہ نہیں، پہلے یہ۔ جس کے کاغذ پر نیلا نشان ہے، وہ ڈاکٹر ثمن کے پاس۔ سفید پرچی والا الٹراساؤنڈ سے واپس آئے گا تو ادھر۔ بچے کو اب روکنا مت۔” اس کی آواز بلند نہ تھی، مگر کاؤنٹر کے اردگرد کی بھاگتی ہوا ایک دم ایک سمت چلنے لگی۔ دو منٹ میں قطار کا رخ بدل گیا۔ فارمیسی والا لڑکا خود فائلیں اسی کے ہاتھ دینے لگا، ندا نام اسی ترتیب سے پکارنے لگی، اور اندر سے ڈاکٹر نے پہلی بار آواز دی، “سائرہ، اگلا کون ہے؟”
حارث جب باہر آیا تو منظر بدلا ہوا تھا۔ ندا اس کی نہیں، سائرہ کی ہدایت سن رہی تھی۔ رجسٹر کاؤنٹر کے اس حصے پر تھا جہاں ابھی تک وہ اپنی کہنی ٹکاتا تھا۔ اس نے آ کر بےزاری میں کہا، “میں نے کہا تھا فرنٹ الگ رکھو، تم لوگ چیزیں الجھا دیتی ہو۔” سائرہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر اگلی فائل آگے کی۔ “الجھی ہوئی تھیں۔ اب ترتیب یہی رہے گی۔” جملہ مختصر تھا، مگر اتنا صاف کہ قریب کھڑی دو عورتیں ایک دوسرے کو دیکھ کر خاموش ہو گئیں۔ حارث نے ہاتھ بڑھا کر رجسٹر اپنی طرف کھینچنا چاہا، مگر اسی وقت ڈاکٹر آصف نے باہر آ کر کہا، “نہیں، اسے وہیں رہنے دو۔ جس نے بہاؤ سیدھا کیا ہے، وہی رکھے۔”
یہ کافی تھا کہ حارث کے چہرے سے اختیار کا رنگ ہلکا پڑے، مگر اس دن کی بدقسمتی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ عصر کے بعد خالہ شمیم کلینک آ گئیں، ہاتھ میں ڈبہ، چہرے پر وہ تہذیبی مسکراہٹ جس کے اندر سوال بھی ہوتا ہے اور حساب بھی۔ انہیں سائرہ اور حارث کے بارے میں گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی سطح تک سب خبر تھی؛ باقاعدہ کچھ طے نہیں ہوا تھا، مگر اتنا ضرور تھا کہ سائرہ کو کئی بار یہ جملہ سننا پڑا تھا: “لڑکی اچھی ہے، بس نوکری ذرا معمولی ہے۔” خالہ نے آتے ہی ندا کی طرف ڈبہ بڑھایا۔ “بیٹا، سب میں بانٹ دو۔ اور حارث کہاں ہے؟”
حارث فوراً نرم پڑ گیا، جیسے یہی اس کی اصل جگہ ہو۔ وہ باہر آیا، خالہ کے ہاتھ سے ڈبہ لیا، اور ایک طرف ہو کر آہستہ سے بولا، “آپ بیٹھیں، میں ابھی آتا ہوں۔” پھر اس کی نظر سائرہ پر پڑی، جو کاؤنٹر کے پاس کھڑی فائلیں باندھ رہی تھی۔ خالہ شمیم نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا، نہ برا کہا نہ اچھا، صرف اتنا: “تم ابھی بھی یہی سامنے کھڑی رہتی ہو؟ عورت کو تھوڑا پردہ، تھوڑا لحاظ بھی دیکھنا چاہیے۔” ندا کے لیے کرسی فوراً نکلی؛ سائرہ کے لیے نہیں۔
سائرہ کے اندر کچھ پرانا سا تھک کر سیدھا ہو گیا۔ حارث نے آہستہ، مگر حکم والے لہجے میں کہا، “تم ابھی اسٹور کے دروازے کے پاس چلی جاؤ، خالہ بیٹھی ہیں۔” یہ درخواست نہیں تھی، وہی پرانا طریقہ تھا: کام تم کرو، منظر سے ہٹ بھی جاؤ۔ سائرہ نے فائلوں کا بند کھولا، ان میں سے چابی نکالی جو اس نے صبح سے سنبھال رکھی تھی، اور حارث کی طرف بڑھا دی۔ “اگر اتنی شرم آ رہی ہے تو یہ بھی رکھ لو۔ پھر نمونوں کی فہرست، ادائیگی کی رسیدیں اور شام کی بندش تم خود کرو گے۔” اس نے چابی اس کے ہاتھ میں دی، مگر اپنی جگہ سے ہٹی نہیں۔ دروازہ، کاؤنٹر، خالہ کی نظر—تینوں کے بیچ وہ سیدھی کھڑی رہی۔
یہ چھوٹا سا انکار سب کے لیے مہنگا پڑا۔ خالہ شمیم کے ابرو چڑھے، ندا نے نظریں جھکا لیں، اور حارث کے لہجے سے پہلی بار یقین پھسلا۔ “سائرہ، ڈرامہ مت کرو۔” سائرہ نے سر ہلایا۔ “میں ڈرامہ نہیں کرتی۔ میں کام کرتی ہوں۔ اور آج اگر میرا کھڑا ہونا نامناسب ہے تو میرا کام بھی نامناسب سمجھ لو۔” اس نے اپنی آستین نیچے کی، رسیدوں کی تہہ سیدھی کی، اور واقعی اسٹور کی طرف چل دی—مگر چھپنے نہیں، الگ ہونے کے لیے۔ اب اگر وہ اسے منظر سے ہٹانا چاہتا تھا تو اس کے ساتھ سارا بہاؤ بھی ہٹانا پڑتا۔
شام کی بھیڑ اس انتظار میں نہیں رہتی کہ کس کا رشتہ کہاں اٹکا ہے۔ مغرب سے ذرا پہلے ایک موٹر سائیکل پھسلنے کا کیس آ گیا؛ لڑکے کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا، ساتھ اس کی بہن رو رہی تھی، پیچھے محلے کے دو آدمی شور مچا رہے تھے۔ اسی وقت لیب کی رپورٹیں واپس آئیں، ویکسین کی ماں چیخنے لگی کہ بچے کو بخار ہے، اور بجلی ہلکی سی ڈپ ہوئی تو کمپیوٹر کی قطار اٹک گئی۔ حارث نے ایک ساتھ تین لوگوں کو مختلف باتیں کہیں، پھر غلطی سے خون والے مریض کی فائل جنرل اوپی ڈی میں بھیج دی۔ اندر سے ڈاکٹر آصف کی سخت آواز آئی، “یہ کس نے کیا؟ ٹراما کیس ادھر کیوں آیا؟”
ندا کے ہاتھ کانپ گئے۔ “بھائی، بیج کلپ… سسٹم… میں لاگ اِن نہیں کر پا رہی…” اصل مسئلہ وہ تھا جو سب جانتے مگر مانتے نہیں تھے: زندہ بہاؤ اس شخص کے بغیر نہیں چلتا تھا جسے وہ ابھی ذرا پہلے دروازے سے ہٹا رہے تھے۔ حارث نے ایک لمحہ اسٹور کے نیم کھلے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سائرہ فاصلے پر کھڑی تھی، ہاتھ باندھے، مگر تیار۔ پھر پہلی بار اس نے آواز نیچی کی۔ “سائرہ… آ جاؤ۔”
وہ نہیں ہلی۔ باہر شور بڑھ رہا تھا؛ اندر ڈاکٹر دوسری بار پکار رہے تھے۔ حارث دو قدم اس کی طرف آیا، اس کے ہاتھ میں اپنی بیج کلپ اور اسٹیشن کی چابی رکھ دی۔ “لے لو۔ ابھی تم سنبھالو۔” یہ جملہ معافی نہ تھا، مگر اختیار کا جسمانی وزن تھا، واپس اس ہتھیلی میں رکھ دیا گیا جس سے صبح چھینا گیا تھا۔ سائرہ نے فوراً نہیں پکڑا۔ اس نے سیدھی آنکھوں سے کہا، “میں سامنے رہوں گی۔ مجھے ہٹایا نہیں جائے گا۔ ترتیب میں دخل نہیں دو گے۔” حارث کے گلے کی ہڈی ہلی؛ خالہ شمیم دروازے کے پاس سب دیکھ رہی تھیں۔ “ٹھیک ہے،” اس نے بمشکل کہا۔
تب سائرہ نے کلپ لی۔ دھات اس کی ہتھیلی سے ٹکرائی۔ اس نے ایک حرکت میں بیج اپنے دوپٹے کے کنارے سے لگایا، چابی انگلی میں پھنسا کر کاؤنٹر کی طرف واپس آئی، اور آواز لگائی، “خون والا مریض سیدھا ڈریسنگ روم۔ بچے کی ماں، ادھر آؤ، پہلے درجہ حرارت۔ ندا، صرف وہی نام پکارو جو میں دوں۔” اس کی چال میں جلدی تھی مگر گھبراہٹ نہیں۔ فارمیسی والا لڑکا خود راستہ صاف کرنے لگا۔ ایک محلے والا جو ابھی شور کر رہا تھا، پیچھے ہٹ گیا جب سائرہ نے بس ایک بار کہا، “رک جائیں، راستہ بند نہ کریں۔”
ڈاکٹر آصف نے اندر سے پردہ ہٹا کر دیکھا۔ خون والا مریض صحیح میز پر، بخار والا بچہ کرسی پر، رپورٹیں ترتیب سے الگ، اور ندا پہلی بار صحیح نام صحیح دروازے پر پکار رہی تھی۔ “سائرہ، ٹیکہ پہلے، پھر سٹیچ،” انہوں نے کہا۔ سائرہ نے سر ہلایا، “جی، اسی ترتیب میں ہے۔” اس ایک “جی” میں نہ خوشامد تھی نہ فتح؛ صرف کام کا سیدھا جوڑ تھا۔ ڈاکٹر ایک لمحہ رکے، پھر حارث کی طرف نہیں، سائرہ کی طرف دیکھ کر بولے، “آج بندش بھی تم ہی کرو۔”
یہ سن کر خالہ شمیم کے چہرے پر وہی مسکراہٹ واپس نہ آئی۔ ان کی نظر سائرہ کے ہاتھ پر گئی جہاں بیج کلپ اب اپنے مقام پر تھی، جیسے اسے ہمیشہ وہیں ہونا چاہیے تھا۔ فیضان، جو شام کی دوا لینے آیا تھا اور دروازے کے پاس سب دیکھ چکا تھا، خاموشی سے پانی کا گلاس کاؤنٹر کے کنارے رکھ گیا۔ “پہلے ایک گھونٹ لے لو،” اس نے اتنا ہی کہا۔ سائرہ نے گلاس اٹھایا بھی نہیں، بس اس کی طرف ایک لمحہ دیکھا؛ یہ دیکھنا کافی تھا کہ وہ اسے اب بھی بچانے نہیں، ماننے آیا ہے۔
بھیڑ اترتے اترتے رات کی طرف ڈھل گئی۔ ندا خاموشی سے رجسٹر کے صفحات سائرہ کی سمت کرتی رہی۔ حارث ایک بار کچھ کہنے کو قریب آیا، پھر خالہ کی موجودگی اور اپنی ہی دی ہوئی شرطوں کے نیچے رک گیا۔ سائرہ نے آخری رسید پر مہر لگائی، آدھی تہہ رسید جیب میں واپس رکھی، اور کاؤنٹر بند کرنے کے بعد آلہ رکھنے والی دیوار کے پاس گئی۔ وہاں دھندلے سائے میں دستانوں کا جوڑا ہک سے آدھا لٹک رہا تھا، جیسے دن بھر غلط ہاتھ کی طرف جھکا رہا ہو۔
اس نے بیج کلپ اتار کر اپنی ہتھیلی میں سمٹی دھات کا وزن ایک بار محسوس کیا، پھر دستانوں کا جوڑا اٹھا کر اوزاروں والی ریک کے سائے میں ٹھیک سے جما دیا۔ کلپ اس کی ہتھیلی سے ٹکرائی، اور ربڑ ہلکے سے چٹخ کر بجا۔