مجھے ہٹا کر پھر مجھے ہی پکارا
حنا نے اپنی انگلیوں میں دبی ہوئی شفٹ شیٹ سیدھی کی ہی تھی کہ مومنہ بھابھی نے سب کے سامنے وہ کاغذ اس کے ہاتھ سے کھینچ لیا اور بولیں، “تم بس کچن دیکھو۔ دروازے پر عائشہ رہے گی۔” پچھلے تین ہفتوں سے اسی آدھی تہہ لگی رسید، اسی بار بار کھلنے بند ہونے والی فہرست، اور اسی گھسے ہوئے فیتے والے کارڈ کے ساتھ حنا ہی دوڑ رہی تھی؛ کس وقت بریانی آنی ہے، کس خالہ کو سیڑھی کے پاس والی کرسی نہیں دینی، کس طرف مردانے کے ٹرے جائیں گے، کس طرف زنانے کے۔ مگر صحن میں رکھی سفید پلاسٹک کرسیوں کے بیچ، جہاں گھر والے اور دوست دونوں موجود تھے اور سب کو پتہ تھا کہ سلمان اور حنا کی بات گھر والوں اور دوستوں کو پتہ کے درجے تک پہنچ چکی ہے، وہاں مومنہ بھابھی نے اسے ایک معمولی مددگار کی طرح ہٹا دیا۔ حنا نے جھک کر گرے ہوئے دو چمچے اٹھائے، ٹرے سیدھی کی، اور بغیر اوپر دیکھے پوچھا، “بریانی والے کو کون فون کرے گا؟ وہ پچھلا موڑ چھوڑ کے آگے نکل جاتا ہے۔” مومنہ بھابھی نے عائشہ کی طرف دیکھ کر ہنس کر کہا، “اب یہ سب عائشہ سنبھال لے گی۔ تم ہاتھ ہلکے رکھو، مہمانوں کے سامنے اتنا آگے آگے اچھی نہیں لگتیں۔”
حنا نے جواب میں کوئی صفائی نہیں دی۔ اس نے کاؤنٹر کے کنارے سے اپنے فیتے والا کارڈ اٹھایا، چابیوں کا گچھا جو اب بھی اس کی ہتھیلی میں دب رہا تھا، آہستہ سے اسٹیل کے جگ کے پاس رکھا اور گیس کے قریب جا کر دیگ کے ڈھکن چیک کرنے لگی۔ یہی اس کا پہلا سرد جواب تھا: پیچھے ہٹی، مگر خالی نہیں ہوئی۔ دو منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ خالہ نسرین، جو دمے کی وجہ سے تیز چل نہیں سکتی تھیں، دروازے سے آواز دے بیٹھی، “حنا، پانی کے گلاس کہاں رکھوائے تھے تم نے؟” مومنہ بھابھی کا چہرہ ایک پل کو کھنچا۔ حنا نے مڑے بغیر کہا، “فریج کے ساتھ والے سبز کریٹ میں۔ اوپر صاف، نیچے اضافی۔”
صحن بھرنے لگا۔ کراچی کی سردی ایسی نہیں تھی کہ کان کاٹ لے، مگر شام کی ہوا میں نمک سا لگا ہوا تھا، جیسے سمندر کی طرف سے آتی نمی گھر کے اندر تک چلی آئی ہو۔ اوپر چھت پر لائٹیں جل چکی تھیں، نیچے دالان میں زنانے کے لیے دسترخوان بچھ رہا تھا۔ عائشہ کے ہاتھ میں شفٹ شیٹ تھی، مگر وہ اس پر نظریں جما کر بھی کچھ سمجھ نہیں رہی تھی۔ ہر دو منٹ بعد کوئی اسے روک لیتا: “چائے پہلے آئے گی یا کولڈ ڈرنک؟” “دلہن والوں کی پھوپھی کہاں بٹھانی ہیں؟” “سلمان کے آفس والے آئیں تو کس طرف؟” وہ ہر سوال کے جواب میں مومنہ بھابھی کی طرف دیکھتی، اور مومنہ بھابھی ہر بار ایسا چہرہ بناتیں جیسے یہ سب تو معمولی بات ہے، مگر ان کی آواز ذرا ذرا اونچی ہونے لگی تھی۔
حنا کو پچھلے دروازے کے پاس ایک نیچی سی بنچ ملی، وہیں اس نے آلو کے کبابوں کی ٹرے پر کاغذ رکھ کر تیل سکھایا۔ بنچ کے ساتھ ایک خالی پلاسٹک کرسی الٹی رکھی تھی؛ کوئی اس پر بیٹھا نہیں تھا، پھر بھی وہ جگہ ایسی لگ رہی تھی جیسے خاص طور پر حنا جیسے کسی کے لیے ہو—جو کام میں ہو مگر گنتی میں نہ ہو۔ سلمان ایک بار کچن کے دہانے تک آیا۔ اس نے آہستہ سے کہا، “بھابھی کو آج بس دکھانا ہے کہ سب ترتیب سے ہے۔ تم دل پر نہ لو۔” حنا نے پہلی بار اوپر دیکھا۔ “ترتیب میں ہوں یا نہیں، یہ بھی دکھانے کی چیز ہے؟” سلمان کے پاس جواب نہیں تھا۔ اس نے بس اتنا کیا کہ جگ کے پاس پڑا چابیوں کا گچھا دیکھا، پھر حنا کی طرف، پھر واپس صحن کی طرف چلا گیا۔ یہ کوئی بڑی مدد نہیں تھی، مگر اتنا ضرور تھا کہ اس نے دیکھا تھا کس کے ہاتھ سے کیا ہٹایا گیا ہے۔
تھوڑی دیر بعد مومنہ بھابھی نے سب کے سامنے ایک اور حرکت کی۔ انہوں نے مرکزی دروازے کی اندرونی کنڈی کی چابی عائشہ کو دیتے ہوئے کہا، “یہ رکھو۔ مہمان سیدھے ادھر سے آئیں گے۔ غیرضروری لوگ پیچھے ہی رہیں۔” غیرضروری لوگ۔ لفظ زیادہ اونچا نہیں بولا گیا، مگر اتنا ضرور کہ پاس کھڑی دو پھوپھیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہلکی سی گردن ہلائی۔ حنا نے کباب والی ٹرے اٹھائی اور زنانے کے کمرے میں رکھ آئی۔ واپسی پر اس نے دیکھا، سلمان کی ماموں زاد بہنیں اب عائشہ کے اردگرد کھڑی تھیں اور اسے ایسے پوچھ رہی تھیں جیسے وہی اس گھر کی انتظامیہ ہو۔ حنا کی جگہ اب دروازے سے ہٹ کر چولھے اور سنک کے درمیان ایک تنگ راہداری تھی۔
پھر گاڑیوں کی قطار آنی شروع ہوئی، اور جھوٹا بندوبست وہیں ٹوٹا جہاں سب سے زیادہ آنکھیں تھیں۔ بریانی والا غلط گلی میں جا کر دوسری طرف رک گیا، مٹھائی والا سامنے کے گیٹ پر اٹک گیا کیونکہ عائشہ کو معلوم ہی نہ تھا کہ مردانے کی میزیں عارضی طور پر باہر برآمدے میں کھسکائی گئی ہیں۔ اوپر سے دلہن والوں کی ایک بوڑھی دادی، جنہیں سیڑھی چڑھنے میں دقت تھی، اندر آنے سے پہلے ہی تھک کر دروازے کے پاس رک گئیں۔ تین طرف سے آوازیں آئیں۔ “کون لے گا؟” “راستہ خالی کرو!” “یہ ٹرے کہاں جائیں گی؟” عائشہ کے ہاتھ سے چابیوں کا گچھا تقریباً چھوٹ گیا۔ اس نے غلط طرف کا دروازہ کھول دیا، وہاں جوتوں کا ڈھیر تھا اور راستہ بند۔ بریانی کی دیگ اٹھائے دو لڑکے صحن میں الٹے قدموں پھرنے لگے۔ مومنہ بھابھی پہلے عائشہ پر جھپٹیں، پھر مہمانوں کی طرف مڑ کر مسکرانے کی ناکام کوشش کی۔ مسکراہٹ ہونٹوں پر رہی، آنکھوں تک نہیں پہنچی۔
حنا پچھلے دروازے سے نکل کر گلی کے موڑ تک دوڑی، ہاتھ کے اشارے سے بریانی والوں کو روکا، ایک کو کہا دیگ مردانے کے برآمدے میں، دوسرے کو کہا مٹھائی سیدھی فریج والے کمرے کے پاس۔ وہ واپس آئی تو اس کے دپٹے کا کنارا پسینے سے گردن سے چپک گیا تھا۔ اس نے دروازے کے پاس کھڑی بوڑھی دادی کے لیے ایک مضبوط کرسی کھینچی، جوتوں کی قطار پاؤں سے پرے کی، اور صرف ایک جملہ کہا، “پہلے انہیں اندر لائیں، باقی بعد میں۔” دادی کو سہارا دے کر اندر لانے والی خالہ نسرین تھیں، اور انہوں نے راستے میں مومنہ بھابھی سے صاف کہا، “جو بچی نقشہ جانتی ہے، اس کو تم نے چولہے سے باندھ دیا۔”
یہ پہلا کھلا دراڑ تھا۔ مگر مومنہ بھابھی پھر بھی پیچھے نہ ہٹیں۔ انہوں نے سانس چڑھتے ہوئے حنا کو قریب بلایا، آواز دبائی، “اب ضد نہ کرو۔ بس ذرا سا سنبھال دو۔ بعد میں جو کہنا ہو کہہ لینا۔” حنا نے سیدھی کھڑی ہو کر ان کے ہاتھ کی طرف دیکھا۔ شفٹ شیٹ اب بھی عائشہ کے پاس تھی، چابی اب بھی اس کی مٹھی میں۔ “سنبھال دوں گی،” حنا نے آہستہ مگر صاف کہا، “لیکن اس طرح نہیں۔” “کیا مطلب اس طرح نہیں؟” “یا تو مجھے کام کرنے دیں، یا پھر خود کریں۔ آواز سے بندوبست نہیں چلتا۔”
مومنہ بھابھی کے نتھنے پھولے۔ سامنے سے دو اور گاڑیاں آ گئیں۔ ایک طرف سے سلمان آیا؛ اس کے ساتھ دلہن والوں کا چچا تھا جو دروازے پر ٹھٹھکا ہوا کھڑا تھا، کیونکہ اندر آنے والوں کو کوئی ترتیب سے لے ہی نہیں جا رہا تھا۔ صحن میں رکھی پلاسٹک کرسیوں کا ایک کونہ خالی کر کے راستہ بنانا تھا، عورتوں کے کمرے سے دو بچیوں کو نکال کر دادی کے لیے جگہ کرنی تھی، اور بریانی کے ڈھکن اسی وقت اٹھنے تھے ورنہ بھاپ پانی بن کر چاول خراب کرتی۔ سلمان نے ایک نظر منظر پر ڈالی، دوسری حنا پر۔ اس نے وہی دیکھا جو سب دیکھ رہے تھے مگر ماننے سے بچ رہے تھے: بوجھ ادھر ہے، اختیار ادھر نہیں۔
“حنا، پلیز،” اس نے کہا۔ حنا نے اس کی طرف نہیں، اس کے ہاتھوں کی طرف دیکھا۔ “پلیز سے نہیں ہوگا۔” وہ جملہ تیر کی طرح نہیں، کیل کی طرح گیا؛ چھوٹا، سیدھا، دیوار میں اترتا ہوا۔ سلمان دو قدم مومنہ بھابھی کی طرف بڑھا۔ “بھابھی، شیٹ دیں۔ چابی بھی۔ ابھی۔” مومنہ بھابھی نے فوراً چہرہ بدلا، جیسے یہ سب معمولی سا تبادلہ ہو۔ “میں تو ویسے بھی—” “ابھی،” سلمان نے پھر کہا، اس بار آہستہ مگر سب کے سننے کے قابل۔
عائشہ کی انگلیاں ڈھیلی پڑ گئیں۔ مومنہ بھابھی نے ایک لمحہ چابی اپنے پاس روکنے کی کوشش کی، پھر جیسے جلتی چیز چھوڑتے ہیں ویسے سلمان کے ہاتھ پر رکھ دی۔ کاغذ بھی اس نے عائشہ سے لیا۔ کاغذ کے کنارے نمی سے نرم ہو چکے تھے، درمیان میں حنا کی اپنی لکھائی چھوٹی چھوٹی سطروں میں بھری تھی: کون کس طرف، کون پہلے، کون آخر میں۔ سلمان سیدھا حنا کے پاس آیا۔ اس نے شیٹ اس کی طرف بڑھائی، پھر چابیوں کا گچھا بھی۔ “یہ تم رکھو۔ اور سب… حنا جو کہے، ویسا کرو۔” اس نے بلند آواز میں اعلان نہیں کیا، کسی کی بےعزتی نہیں کی، بس راستہ وہیں موڑ دیا جہاں سے شروع میں موڑا گیا تھا۔
حنا نے فوراً ہاتھ نہیں بڑھایا۔ ایک سانس کے برابر وقفہ رکھا، جیسے کاغذ کا وزن پرکھ رہی ہو۔ پھر اس نے شفٹ شیٹ لی، چابیاں مٹھی میں بند کیں، اور مومنہ بھابھی سے نظریں ملائے بغیر کہا، “مردانے کا راستہ خالی کرو۔ دادی اماں اندر جا چکی ہیں؟ اچھا۔ عائشہ، تم پانی عورتوں والے کمرے میں رکھو، دروازہ میں دیکھتی ہوں۔” یہی اس کی شرط تھی: کام نام کے ساتھ واپس آئے۔ نرم جملے نہیں، ہاتھ میں چیز۔
اس کے بعد سب کچھ اچانک آسان نہیں ہوا، مگر سیدھا ہونے لگا۔ حنا نے پلاسٹک کرسیوں کی قطار میں سے دو کرسیوں کا کونا اندر دھکیلا، ایک لڑکے کو بریانی کے ڈھکن آدھے اٹھانے کو کہا، دوسرے کو دسترخوان کے نیچے اضافی پلیٹیں رکھنے کو۔ دالان میں جاتی ہوئی اس نے خواتین کے کمرے کی طرف آواز دی، “چٹنی ابھی نہ کھولو، پہلے سلاد رکھو۔” برآمدے میں اس نے سلمان کو صرف اتنا بتایا، “آپ دروازے پر کھڑے رہیں، نام پوچھیں نہیں، اندر بھیجتے جائیں۔ میں بٹھا دوں گی۔” اس کی چال میں وہ جلدی تھی جو گھبراہٹ سے نہیں، نقشہ ذہن میں صاف ہونے سے آتی ہے۔ لوگ اس کی بات ماننے لگے کیونکہ اس کے ہر جملے کے بعد ایک رکاوٹ کم ہو رہی تھی۔
بوڑھی دادی کو پانی ملا، مٹھائی ٹھنڈی جگہ پہنچ گئی، بریانی کی بھاپ قابو میں رہی، اور دروازے پر جو الجھن پھیل رہی تھی وہ سمٹنے لگی۔ خالہ نسرین نے خاموشی سے ایک ٹرے حنا کے پاس رکھی، جیسے دیر سے صحیح جگہ پہنچائی ہوئی چیز۔ حنا نے اسے لیتے ہوئے بس سر ہلایا۔ عائشہ ایک بار اس کے قریب آ کر رک گئی۔ “میں—” “یہ جگ لے جاؤ،” حنا نے کہا، نہ سختی سے، نہ نرمی سے، “اور واپسی پر خالی گلاس اٹھا لانا۔” عائشہ نے جگ لے لیا۔ اتنا ہی کافی تھا۔ آج کسی اور حساب کی جگہ نہیں تھی۔
شام ڈھلتے ڈھلتے گھر کا شور اپنی مناسب شکل میں آنے لگا؛ وہی پلیٹوں کی کھنک، بچوں کی دوڑ، بزرگوں کی کھانسی، دور سے آتی اذان کی لہر۔ مومنہ بھابھی اب بھی صحن میں تھیں، مگر ان کے ہاتھ خالی تھے۔ وہ کبھی کسی پھوپھی کو چائے کا پوچھتیں، کبھی پردہ سیدھا کرتیں۔ کسی نے ان سے کچھ چھینا نہیں؛ بس زندہ کام ان کے ہاتھ میں رہا ہی نہیں۔ سلمان ایک بار کچن کے دہانے پر آیا، جہاں حنا دیگ کے نیچے کی آنچ کم کر رہی تھی۔ اس نے آہستہ سے کہا، “میں پہلے دیکھ لینا چاہیے تھا۔” حنا نے چمچ دیگ کے کنارے سے ٹکایا۔ “اگلی بار پہلے دیکھنا۔” اس نے نہ شکوہ بڑھایا، نہ موقع کو نرمی میں بہایا۔ سلمان نے صرف سر ہلا دیا اور دروازے کی طرف واپس چلا گیا، جیسے اب واقعی وہی جگہ اس کے حصے کی ہے۔
رات کے آخر میں جب آخری ٹرے دھل چکی، کاغذ کی پلیٹیں بوری میں بند ہو گئیں، اور صحن کی لائٹیں ایک ایک کر کے مدھم ہونے لگیں، حنا پچھلے صحن کے واش لائن والے کونے میں گئی۔ اس نے اپنا ایپرن اتارا، رسی پر ٹانگا، اور کپڑے کے بیچ ابھری تازہ شکن پر انگلی ایک لمحہ رکھ کر چھوڑ دی۔ کپڑا ابھی تک گرم تھا۔