Fast Fiction

اس انجام نے دو لوگوں کو تھام لیا

حنا نے کپڑا بھگو کر صائمہ آنٹی کے ماتھے پر رکھا ہی تھا کہ دروازے پر کھڑی فرح خالہ نے تیز آواز میں کہا، “بس، بس، تم پیچھے ہٹو۔ نرس آ رہی ہے۔” صائمہ آنٹی کے لبوں کے کنارے سے الٹی کی پتلی لکیر بہہ رہی تھی۔ حنا نے جواب دینے کے بجائے ان کے دوپٹے کا کنارا موڑ کر ٹھوڑی کے نیچے رکھا، پھر بستر کے پاس رکھا اسٹیل کا پیالہ کھینچ لیا۔ کوریڈور کی سفید روشنی میں اس کے ہاتھ کانپ نہیں رہے تھے، حالانکہ فرش پر ابھی تک گرے چائے کے کپ کا ہلکا سا دائرہ پڑا تھا اور رجسٹر کاؤنٹر کے کنارے پر دو پرچیاں، ایک پین اور آدھا کھلا بسکٹ کا پیکٹ اکھٹا پھنسے ہوئے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب بولنے والے لوگ زیادہ تھے، کام کرنے والے کم۔

“یہ گھر کی لڑکی نہیں ہے،” فرح خالہ نے ساتھ کھڑی ایک عورت سے اتنی اونچی آواز میں کہا کہ اندر تک سنائی دے۔ “کالج سے ساتھ پڑھتے ہیں بس۔” حنا نے سر نہیں اٹھایا۔ صائمہ آنٹی کی سانس اٹک رہی تھی۔ اس نے بستر کا سرہ اونچا کیا، پانی کی بوتل کھولی، پھر دروازے کی طرف دیکھے بغیر کہا، “ان کی شوگر گر رہی ہے۔ میٹھی چائے نہیں، جوس چاہیے۔ اور ڈاکٹر نے جو پرچی دی تھی، وہ کون لے کر گیا؟” کسی نے جواب نہ دیا۔ صرف خشک کاغذی لفافے کی آواز آئی جو فرح خالہ کی انگلیوں میں مڑ رہا تھا۔ اس خاموشی میں حنا کی بے قدری اور زیادہ صاف ہو گئی—جیسے وہ سب کی مشکل اٹھا رہی ہو مگر کسی کی نظر میں جگہ نہ رکھتی ہو۔

سعد نے اسی وقت کوریڈور کے موڑ سے دوڑتے ہوئے آ کر جوس کا چھوٹا ڈبہ اس کی طرف بڑھا دیا۔ “کینٹین والا بند کر رہا تھا، میں لے آیا۔” یہ پہلا چھوٹا سا سہارا تھا، اتنا مختصر کہ کوئی اسے اعلان نہ کہہ سکے، مگر اتنا صاف کہ حنا اکیلی نہیں رہی۔ اس نے ڈبہ لیا، صائمہ آنٹی کے سر کے نیچے ہاتھ رکھا، چند گھونٹ پلائے۔ بستر پر پڑی عورت کی پلکیں ہلیں تو فرح خالہ نے فوراً آگے بڑھ کر ان کے بازو پر اپنا ہاتھ رکھ دیا، جیسے ابھی کی ساری محنت انہی کے حکم سے ہوئی ہو۔

کراچی کے اس نجی اسپتال کے کوریڈور میں رات جلدی پرانی ہو جاتی تھی۔ چھت کے پنکھوں کے نیچے دوا کی بو، سستا جراثیم کش محلول، اور باہر سڑک سے آتی بسوں کی ٹوٹی ہوئی آواز مل کر ایک ایسی تھکن بناتے تھے جو کپڑوں تک میں اتر جاتی۔ حنا کے بیگ سے بس کارڈ کا گھسا ہوا کنارا بار بار نکل کر واپس اندر جا رہا تھا۔ وہ شام سے کالج کے میڈیکل روم، پھر یہاں تک صائمہ آنٹی کو سنبھالتی آئی تھی۔ اور اب، جب دانش آخرکار پہنچا، تو سب نے اس کی طرف ایسے دیکھا جیسے اصل ذمہ داری ابھی دروازے سے اندر آئی ہو۔

دانش کی قمیص کے بازو تہہ تھے، بال بکھرے ہوئے، چہرے پر وہی دبا ہوا اضطراب جو آدمی گھر والوں کے سامنے چھپانا چاہے۔ اس نے ایک نظر بستر پر، ایک حنا پر، پھر فرح خالہ پر ڈالی۔ “امّی کی رپورٹ؟” “میرے پاس ہے،” فرح خالہ نے فوراً لفافہ اپنی بغل میں دبایا۔ “اور تم یہاں بیٹھو۔” ساتھ رکھی پلاسٹک کی کرسی انہوں نے اپنے قریب کھینچ کر دانش کے لیے چھوڑ دی۔ دوسری کرسی، جس پر حنا کا دپٹہ رکھا تھا، انہوں نے انگلی سے ہٹا کر دیوار کے ساتھ دھکیل دی۔ “تم کاؤنٹر پہ دیکھ لو، اگر کچھ رہ گیا ہو۔”

وہ کرسی کا دھکیلا جانا معمولی بات نہیں تھی؛ کمرے میں حنا کی پوری حیثیت ایک لمحے میں دروازے کے باہر پھینک دی گئی۔ سعد نے یہ دیکھا، مگر کچھ بولا نہیں۔ دانش نے بھی دیکھا، اور اسی لیے اس کی گردن اکڑی۔ حنا نے اپنا دپٹہ اٹھایا، جیسے یہ تو ہونا ہی تھا، اور کاؤنٹر کی طرف چل دی۔ کاؤنٹر کے تنگ کنارے پر بلوں کے ساتھ ایک ٹھنڈی پڑی چائے کا کپ رکھا تھا جس پر اوپر پتلی جھلّی جم گئی تھی۔ رسیپشن والا لڑکا فون کان اور کندھے کے بیچ دبائے بیٹھا تھا۔ حنا نے پرچی سیدھی کی، نام بتایا، رقم سنی، اور خاموشی سے اپنے پرس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اس سے پہلے کہ وہ نوٹ نکالتی، دانش اس کے پاس آ کھڑا ہوا۔

“میں دے دیتا ہوں۔” حنا نے آنکھ اٹھائے بغیر کہا، “ابھی رقم دو، باتیں بعد میں۔ انجیکشن رکا ہوا ہے۔” فرح خالہ پیچھے سے قریب آئیں۔ “دانش، تم کیوں؟ لڑکی نے اتنا شوق دکھایا ہے تو بھرنے دو۔ کل کو احسان بھی جتائے گی؟” کاؤنٹر والے لڑکے نے نظریں اٹھا کر تینوں کو دیکھا، پھر بل حنا کی طرف بڑھا دیا، گویا فیصلہ ہو چکا تھا کہ ادائیگی اسی کے حصے آئے گی۔ یہ دوسرا وار تھا—کھلے عام، حساب کے کاغذ پر۔

حنا نے پرس سے تہہ شدہ نوٹ نکالے۔ وہ اس کی ٹیوشن کی فیس کے بچے ہوئے پیسے تھے۔ کاغذ کی خشک آواز اس کی انگلیوں میں چبھ گئی۔ دانش نے جیب سے بٹوہ نکالا ہی تھا کہ فرح خالہ نے اس کا ہاتھ دبا لیا۔ “تم رہنے دو۔ تمھیں صبح دفتر بھی جانا ہے۔” سروس سیکٹر کی نوکری، وقت کی پابندی، صاف کپڑے، درست لہجہ—فرح خالہ کو یہی سب دکھانا پسند تھا۔ حنا نے نوٹ کاؤنٹر پر رکھ دیے۔ “بس رسید دے دیں۔” رسید لیتے وقت اس نے پہلی بار دانش کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں معذرت تھی، مگر معذرت سے ڈرپ نہیں لگتی، ادویات نہیں آتیں۔

آدھے گھنٹے بعد صورتحال بگڑی۔ صائمہ آنٹی کو دوا لگی تو انہیں شدید گھبراہٹ ہوئی، سانس تیز، ہاتھ جھٹکے سے ہلتے ہوئے۔ نرس ایک اور مریض کے پاس اٹکی ہوئی تھی۔ فرح خالہ چیخ کر کلمہ پڑھنے لگیں۔ دانش نے بستر کے پاس بڑھنا چاہا مگر صائمہ آنٹی کے ہاتھوں سے ڈرپ کی سوئی کھسکنے والی تھی۔ “بازو پکڑو، زور سے نہیں—یہاں سے، کہنی کے اوپر!” حنا کی آواز پہلی بار کمرے کے بیچ میں صاف اور کاٹ دار ابھری۔ ساتھ کھڑا ایک چمکدار جوتوں والا لڑکا—فرح خالہ کا بھانجا، وہی جو شام سے بار بار کہہ رہا تھا کہ “پرائیویٹ روم میں شفٹ کرا دیتے ہیں”—آگے آیا۔ “میں پکڑ لیتا ہوں، تم ہٹو۔” “تم نہیں جانتے کیسے پکڑنا ہے،” حنا نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا۔ “دانش، آپ ادھر۔ ابھی۔”

یہ لمحہ بہت چھوٹا تھا، مگر سب کی سانس اسی پر رک گئی۔ دانش نے ایک پل کو اپنے بھانجے نما رقیب، فرح خالہ، اور حنا کے درمیان دیکھا۔ پھر وہ سیدھا حنا کے بتائے ہوئے مقام پر آ کھڑا ہوا، صائمہ آنٹی کا بازو اس کے کہنے کے مطابق تھاما، اور رسیپشن سے لائی گئی ٹیپ کا رول حنا کے ہاتھ میں دے دیا۔ “یہ؟” “ہاں، یہی۔” وہ چمکدار جوتوں والا لڑکا پیچھے رہ گیا، اس کی انگلیاں ہوا میں معطل۔ فرح خالہ نے کچھ کہنا چاہا مگر اس لمحے ان کی آواز کسی کام کی نہ تھی۔ حنا نے سوئی سنبھالی، ٹیپ چپکائی، صائمہ آنٹی کے منہ کے کنارے صاف کیے، اور دانش نے اس کے کہنے پر تکیہ سیدھا کیا۔ جب نرس آخر پہنچی تو کام آدھا ہو چکا تھا۔

نرس نے مختصر نگاہ سے منظر دیکھا، پھر حنا سے کہا، “اچھا سنبھال لیا تم نے۔” یہ کوئی بڑا تمغہ نہیں تھا، صرف ایک عملی تصدیق۔ مگر کمرے میں کھڑے لوگوں کے لیے اتنا کافی تھا کہ نسبتیں ذرا ہل جائیں۔ فرح خالہ نے اپنا دوپٹہ کندھے پر چڑھایا، جیسے انہیں سردی لگ گئی ہو۔ دانش نے ہاتھ نہیں ہٹایا جب تک حنا نے خود نہ کہا، “اب چھوڑ دیں۔ ٹھیک ہے۔” اس ایک تعمیل میں وہ ساری چیز موجود تھی جو شام بھر غائب رہی تھی: اس نے اس کی ہدایت مانی، سب کے سامنے۔

اس کے بعد کی رات مرمت میں گزری، نرمی میں نہیں۔ حنا نے گندی شال بدلوا کر صائمہ آنٹی پر ہلکی چادر ڈالی، دانش دوا لینے نیچے فارمیسی گیا۔ واپسی پر اس کے ہاتھ میں دو کاغذی تھیلے تھے؛ ایک میں دوائیں، دوسرے میں بن اور پانی کی بوتل۔ “تم نے کچھ کھایا؟” اس نے آہستہ سے پوچھا۔ حنا نے صرف اتنا کہا، “پہلے ان کی رات والی دوا الگ کر دو۔ یہ والی ابھی نہیں دینی۔” وہ بن کھولنے کے بجائے دواؤں کی پٹیاں ترتیب دینے لگا۔ اس کی گھڑی کی چمک مدھم روشنی میں بار بار چمکتی اور بجھتی رہی۔ فرح خالہ کمرے کے دروازے پر بیٹھی رشتہ داروں کو فون پر تازہ حال بتاتیں، مگر اب ہر دو منٹ بعد ان کی نظریں اندر اٹھ جاتیں، جیسے انہیں پسند نہ ہو کہ کام کی ترتیب کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔

سعد نے ایک بار آ کر آہستہ سے کہا، “میں صبح کی کلاس میں حاضری لگوا دوں گا۔ تم فکر نہ کرو۔” حنا نے پہلی بار تھکا ہوا سا “شکریہ” کہا۔ دانش نے یہ سنا اور پلکیں جھپکیں، جیسے اسے اندازہ ہو کہ یہ لڑکی کب سے اپنے خرچ، اپنی کلاس، اپنی عزت—سب کچھ باری باری بچا رہی ہے۔ مگر اس نے پھر بھی کوئی لمبی بات نہ کی۔ وہ صرف اگلا کام پوچھتا رہا، اور کرتا رہا۔ رات کے پچھلے پہر صائمہ آنٹی سو گئیں تو حنا نے کاؤنٹر کے کنارے پر رکھی ٹھنڈی چائے اٹھا کر پھینک دی اور نیا پانی بھر لیا۔ یہ چھوٹے، بے نام کام تھے، مگر انہی سے کمرہ قابو میں آ رہا تھا۔

فجر کے بعد ڈسچارج کی بات چلی۔ ہسپتال والوں نے کہا مریضہ کو چند گھنٹے کے لیے گھر لے جا سکتے ہیں، پھر شام کو دوبارہ دکھانا ہوگا۔ اسی وقت اصل امتحان دروازے پر آیا۔ ویل چیئر تیار تھی، بیگ پیک ہو چکا تھا: دوائیں، رپورٹیں، پانی، ایک اضافی شال، اور فرح خالہ کا چھوٹا سا بیٹری والا لالٹین نما چراغ جو رات بجلی جھپکنے پر نکالا گیا تھا اور اب بھی تھیلے کے ساتھ بندھا تھا۔ فرح خالہ نے فوراً ترتیب سنائی۔ “دانش، تم امّی کے ساتھ گاڑی تک جاؤ۔ فہد بیگ اٹھا لے گا۔” وہی چمکدار جوتوں والا لڑکا آگے بڑھا۔ “اور حنا، تم بس اب گھر جاؤ۔ رات بہت کر لی۔”

یہ حکم نہیں، حد بندی تھی۔ صاف، خاندانی، سب کے سامنے۔ کوریڈور میں دو رشتہ دار اور ایک وارڈ بوائے کھڑے تھے۔ دانش کی خاموشی اگر اس لمحے بھی برقرار رہتی تو رات بھر کی ہر چیز عارضی ثابت ہو جاتی۔ حنا نے ایک پل ان سب کو دیکھا، پھر سیدھی ویل چیئر کے قریب گئی۔ اس نے دوا والا بیگ اٹھایا، اس کی پٹی اپنے ہاتھ میں لی، لالٹین کو سیدھا کیا کہ شیشے کی ٹکر سے آواز نہ آئے، اور بس اتنا کہا، “دوپہر کی دوا اوپر والی جیب میں ہے۔ اگر میں ساتھ نہ ہوئی تو کوئی وقت گڑبڑ کر دے گا۔” اس کے لہجے میں منت نہ تھی۔ یہ اس کا اپنا باندھا ہوا خط تھا: میں کام ادھورا چھوڑ کر نہیں جا رہی۔

فہد نے ہاتھ بڑھایا۔ “میں لے جاتا ہوں، آپ رہنے دیں۔” دانش نے اسی لمحے فرح خالہ کی طرف دیکھے بغیر فہد کا ہاتھ بیچ میں ہی روک دیا۔ پھر اس نے بیگ کی پٹی پر اپنی انگلیاں رکھ دیں—وہی پٹی جو حنا پہلے ہی تھام چکی تھی—اور اسے ایک طرف سے اپنے کندھے پر نہیں ڈالا، پورا بوجھ الگ سے نہیں لیا، بس پٹی کے دوسرے حصے کو پکڑ کر کہا، “یہ ساتھ ہی جائے گی۔” لفظ آہستہ تھے، مگر جگہ ایسی کہ سب سن لیں۔ نہ اعلان، نہ جھگڑا۔ صرف انتخاب۔ فرح خالہ کے چہرے پر غصے سے پہلے حیرت آئی، کیونکہ ان کے پاس اس ضد کو بدتمیزی کہنے کا آسان جواز نہیں تھا۔ صائمہ آنٹی نیم غنودگی میں تھیں۔ وارڈ بوائے نے ویل چیئر موڑ دی۔ فہد نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا، جیسے گرم چیز چھو گئی ہو۔

چلتے ہوئے دانش نے مزید کچھ نہیں کہا۔ وہ ویل چیئر کے دائیں طرف تھا، حنا بائیں طرف، اور دوا والے بیگ کی پٹی دونوں کے ہاتھوں کے بیچ کھنچی ہوئی تھی۔ لالٹین اس بیگ سے بندھی ہلکی ہلکی ٹکراتی رہی۔ کوریڈور سے باہر نکلتے وقت فرح خالہ نے ایک بار پھر پکارا، “دانش!” اس نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ صرف رفتار اس حد تک کم کی کہ حنا سیڑھیوں کے موڑ پر برابر آ سکے۔ وہاں لفٹ بند تھی اور نیچے جانے کے لیے سائیڈ کی سیڑھیاں استعمال کرنی تھیں۔ صبح کی مٹیالی روشنی جالی دار کھڑکی سے اندر آ رہی تھی، جس میں لالٹین کے شیشے پر جمے دھبے نمایاں تھے۔

حنا پہلے رکی۔ اس نے بیگ کی پٹی دونوں ہاتھوں سے تھوڑی اوپر کر کے وزن برابر کیا تاکہ سیڑھی اترتے وقت لالٹین دیوار سے نہ لگے۔ دانش نے بغیر پوچھے دوسرا سرا مضبوطی سے تھام لیا۔ ایک سانس بھر کا وقفہ دونوں کے درمیان ٹھہرا—نہ اتنا لمبا کہ بات بن جائے، نہ اتنا مختصر کہ کچھ نہ ہو۔ پھر وہ ساتھ نیچے اترنے لگے۔ لالٹین ہلکی سی جھولی، روشنی اور سایہ دونوں کے ہاتھوں کے بیچ ایک ساتھ ڈولے، اور سیڑھی کے موڑ پر وہ جنبش ٹھہرے بغیر کٹ گئی۔