ہم نے ایک ہی بوجھ اٹھایا #2
ماہر نے ڈرپ کی بوتل کو ہاتھ سے اوپر تھاما اور دوسری ہتھیلی سے حنا کی ماں کے بازو میں لگی سوئی کے پاس بہتا خون دبا دیا۔ نرس ابھی پردہ ہٹا کر اندر پہنچی بھی نہ تھی کہ دروازے پر کھڑی فریحہ باجی کی آواز چھری کی طرح لگی، “آپ کون ہوتے ہیں ہاتھ لگانے والے؟ یہ ہسپتال ہے، آپ کا ہوسٹل نہیں۔” ان کے پیچھے دو خالائیں اور ایک چچا زاد لڑکا ایسے جم گئے جیسے ماہر نے مریضہ نہیں، حد پار کی ہو۔ بستر کے پاس رکھی چائے ٹھنڈی ہو کر کپ کے نیچے حلقہ چھوڑ چکی تھی، اور کاؤنٹر کے کنارے پر نسخہ، پرچی، ایک آدھی ٹوٹی پنسل اور سینیٹائزر کی چھوٹی بوتل گچی بنی پڑی تھی۔
ماہر نے جواب نہیں دیا۔ اس نے خون دبا کر نرس کو جگہ دی، ڈرپ کا کلپ سیدھا کیا اور اتنا ہی کہا، “سوئی کھسک گئی تھی۔” حنا دروازے کے اندر آنا چاہتی تھی مگر فریحہ باجی نے بازو پھیلا کر اسے روک لیا، “تم باہر رہو۔ لوگ دیکھ رہے ہیں۔” یہی بات سب سے زیادہ کاٹتی تھی۔ کیونکہ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ ماہر اور حنا ایک دوسرے کو جانتے ہیں، مگر یہ پتہ ہونا کبھی حق میں نہیں جاتا تھا؛ بس اتنا کافی تھا کہ غلط وقت پر غلط معنی نکالے جائیں۔
کراچی کی شام بارش کے بعد چپچپی ہو گئی تھی۔ کلینک کے راہدارے میں گیلی جوتیوں کی مٹی اور دواساز کی تیز بو ملی ہوئی تھی۔ حنا کی ماں کو دفتر میں چکر آیا تھا؛ ان کا بلڈ پریشر اتنا گر گیا کہ سروس سیکٹر والی نوکری سے سیدھی یہاں لانا پڑا۔ ایمبولینس نہیں ملی، ماہر نے موٹر بائیک والے دوست کو چھوڑ کر ٹیکسی روکی، سیڑھیوں پر آدھا وزن خود اٹھایا، اور اب یہی اس کے خلاف ثبوت بنا کھڑا تھا۔
فریحہ باجی نے نسخہ ماہر کے ہاتھ سے لے کر اپنے پرس میں ٹھونس لیا۔ “آپ باہر بیٹھیں۔ جو کرنا ہوگا، گھر والے کر لیں گے۔” پھر اسی سانس میں انہوں نے حنا سے کہا، “تم جا کے امی کا دوپٹہ ٹھیک کرو، اور ان کو مت بتانا کہ کس نے اٹھا کے لایا تھا۔ پریشان ہوں گی۔” مگر جب فارمیسی سے دوائی فوراً منگوانی تھی اور وارڈ بوائے غائب تھا، تو وہی نسخہ پرس سے نکل کر پھر ماہر ہی کے ہاتھ میں آیا۔ فرق صرف یہ تھا کہ دینے کا انداز حکم والا تھا، احسان والا نہیں۔
وہ بھاگ کر نیچے گیا، پرچی پر مہر لگوائی، پیسے کم پڑے تو اپنی جیب سے دیے، اور اوپر آ کر بلڈ پریشر مشین کے نیچے سے گرا پانی بھی خود پونچھا کیونکہ حنا کی ماں کا پاؤں پھسل سکتا تھا۔ پھر چادر کے کنارے پر لگا قے کا دھبہ وہی ٹشو سے صاف کرتا رہا جبکہ فریحہ باجی سامنے کھڑی خالہ سے کہہ رہی تھیں، “آج کل کے لڑکوں کو موقع چاہیے ہوتا ہے اندر گھسنے کا۔” خالہ نے ایک بار ماہر کی طرف دیکھا بھی نہیں؛ بس اپنا ہینڈ بیگ سینے سے لگائے سر ہلاتی رہیں۔
پہلا چھوٹا سا بدلاؤ تب آیا جب نرس نے بلند آواز میں کہا، “جو لڑکا ابتدائی کاغذ لے کر آیا تھا، مریضہ کا شناختی نمبر اسی نے درست لکھوایا تھا، ورنہ داخلہ اٹک جاتا۔” یہ تعریف نہیں تھی، صرف ایک خشک حقیقت تھی، مگر اس نے ایک لمحے کے لیے راہدارے کی ہوا کا رخ بدلا۔ حنا نے اسی لمحے پانی کی خالی بوتل ماہر کی طرف بڑھائی اور آہستہ سے کہا، “یہ بھر دو، پلیز۔” فریحہ باجی نے فوراً مداخلت کی، “میں کسی کو بھیجتی ہوں۔” حنا نے پہلی بار ان کی طرف دیکھے بغیر کہا، “نہیں، ماہر جانتا ہے امی کون سا پانی پی سکتی ہیں۔”
یہ جملہ لمبا نہیں تھا، مگر اس کی قیمت تھی۔ خالہ کا چہرہ کھنچ گیا۔ چچا زاد لڑکے نے موبائل نیچے کر دیا۔ ماہر بوتل لے کر مڑ گیا تو فریحہ باجی کی آواز پیچھے سے آئی، “حد ہوتی ہے مان دینے کی بھی۔” وہ رکا نہیں۔ واپسی پر اس نے دیکھا حنا اپنی ماں کی انگلیاں دبا رہی تھی، اور فریحہ باجی ان کے تکیے کے پاس کھڑی کسی اور رشتے دار کو فون پر یقین دلا رہی تھیں کہ “سب قابو میں ہے۔”
ڈاکٹر نے رات گئے کہا کہ خطرہ ٹل گیا ہے، مگر دو نئی مصیبتیں ایک ساتھ آ کھڑی ہوئیں: ڈسچارج صبح ہوگا، اور بل، دوائیں، مزید ٹیسٹ اور گاڑی کے انتظام کے بغیر مریضہ کو نہیں لے جا سکتے۔ حنا کے والد حیدرآباد میں ٹریفک میں اٹکے تھے۔ گھر کے بڑے فون پر ہدایات دے رہے تھے، کوئی پہنچ نہیں رہا تھا۔ فریحہ باجی نے اسی وقت اپنا اختیار چوڑا کیا، “حنا میرے ساتھ چلے گی کاؤنٹر پر۔ ماہر بس باہر رہے۔ رقم میں دیکھ لوں گی۔ کاغذات میں گھر کے مرد کا نام چاہیے، سمجھا کریں۔”
ماہر نے کچھ نہیں کہا۔ اس نے صرف پرچیوں، دواساز کی رسیدوں اور اپنی جیب سے نکلے مڑے ہوئے نوٹ ایک بھورے لفافے میں جمع کیے۔ کاغذوں کے رگڑنے کی خشک آواز اس کے ہاتھوں میں بجتی رہی۔ اس کے ٹرانزٹ کارڈ کا گھسا ہوا کنارہ پرس سے جھانک رہا تھا؛ صبح یونیورسٹی جانا تھا، پھر جزوقتی کام، مگر وہ کب کا دن چھوڑ چکا تھا۔ حنا نے یہ سب دیکھا، مگر اس کے دیکھنے سے زیادہ تیز چیز فریحہ باجی کی اگلی حرکت تھی: انہوں نے رجسٹر میز کی طرف بڑھتے ہوئے وارڈ بوائے سے کہا، “اس لڑکے کو یہاں نہ آنے دینا۔ ہر جگہ نام جوڑتے ہیں لوگ۔”
اسی لمحے نرس نے بستر سے آواز دی، “مریضہ کو اٹھاتے وقت دو آدمی چاہییں۔” فریحہ باجی نے چچا زاد لڑکے کی طرف دیکھا۔ وہ فوراً آگے آیا، مگر حنا نے اپنی ماں کے کندھے کے نیچے ہاتھ ڈالتے ہوئے سیدھا کہا، “ماہر، ادھر۔” فریحہ باجی نے چونک کر اسے گھورا، “یہ کام ساجد کر لے گا۔” حنا نے ماں کی کمر سنبھالے سنبھالے دانت بھینچ کر کہا، “ساجد نے انہیں لانے میں بھی ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ ماہر، ادھر آؤ۔”
یہ پہلی بار تھا جب اس نے سب کے سامنے انتخاب کیا۔ ماہر نے آ کر مریضہ کے گھٹنوں کے نیچے ہاتھ رکھا، حنا نے کندھے تھامے، اور دونوں نے ایک ساتھ انہیں سٹریکچر پر سیدھا کیا۔ فریحہ باجی کا ہاتھ ہوا میں رہ گیا۔ ساجد پیچھے ہٹ گیا جیسے اسے اچانک کوئی کم ضروری کام یاد آ گیا ہو۔ حنا کی ماں نے نیم بے ہوشی میں صرف اتنا کہا، “آہستہ، بیٹا۔” یہ “بیٹا” کس کے لیے تھا، کسی نے پوچھنے کی جرات نہیں کی۔
مگر ایک انتخاب سے سب کچھ آسان نہیں ہوا۔ کاؤنٹر کے باہر فریحہ باجی نے حنا کو الگ کھینچنے کی کوشش کی۔ “بس بہت ہو گیا۔ لوگ تمہیں اسی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ کل محلے میں کون جواب دے گا؟” حنا کی آنکھوں کے نیچے جاگ کی سوجن تھی، آواز بیٹھ گئی تھی، “جو جواب دینا ہوگا، میں دوں گی۔ ابھی بل دینا ہے۔” فریحہ باجی نے پرس سے کارڈ نکالا مگر اتنا بیلنس نہیں تھا۔ انہوں نے جھنجھلا کر ماہر کی طرف دیکھا، جیسے کمی بھی اسی نے پیدا کی ہو۔ “آپ نے جو دوائیاں اٹھائیں، ان کی رسیدیں الٹی سیدھی ہیں۔” ماہر نے لفافہ کھولا، پرچیاں ترتیب سے رکھ دیں، اور خاموشی سے وہ ایک گم شدہ رسید بھی نکال دی جو فریحہ باجی کے اپنے پرس کے فلیپ میں اٹکی ہوئی تھی۔ بات بڑھی نہیں، لیکن ان کا لہجہ پھر بھی نرم نہ ہوا۔
تھکن اتنی ہو چکی تھی کہ سب کے چہرے اپنی اصل سے زیادہ سخت لگنے لگے۔ صبح کی اذان قریب تھی۔ انتظارگاہ کی لمبی بینچ پر کسی نے دو منٹ کو سر رکھا، پھر جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔ کاؤنٹر کے پاس اسٹیل کے جگ میں بچی چائے کی سطح پر جھلی جم گئی تھی۔ وارڈ بوائے نے آ کر کہا، “ایک بندہ مریضہ کے ساتھ رہے گا، باقی لائن بنا لیں۔ ڈسچارج سلپ، ادائیگی، پھر دواخانہ۔” فریحہ باجی نے فوراً راستہ بنایا، “ٹھیک ہے۔ حنا، تم امی کے پاس۔ کاغذ میں لے جاتی ہوں۔” یہی صاف ستھرا راستہ تھا: حنا بیٹی بنی رہے، ماہر محض استعمال شدہ آدمی۔
لیکن ماہر نے اسی وقت لفافہ بند کیا اور اسے کاؤنٹر کی طرف بڑھانے کے بجائے اپنی طرف کھینچ لیا۔ “میں لائن میں لگ رہا ہوں،” اس نے پہلی بار ذرا صاف لہجے میں کہا، “جو میری جیب سے گیا، اس کا حساب بھی اسی میں ہے۔ اگر آپ کو الگ کرنا ہے تو پہلے سب الگ کر لیں۔ یہ دوائیاں، یہ کرایہ، یہ رات بھر کے فارم۔ ابھی نہیں ہوگا تو بعد میں بھی نہیں ہوگا۔” اس نے کوئی اونچی بات نہیں کی، بس لفافہ نہیں چھوڑا۔ یہی اس کی حد تھی، یہی اس کا فیصلہ۔
کاؤنٹر کھلا تو اندر بیٹھے کلرک نے عادت کے مطابق فریحہ باجی کی طرف ہاتھ بڑھایا، “جی، سرپرست کون ہیں؟” فریحہ باجی نے فوراً کارڈ آگے کیا، “ہم ہیں۔ کاغذ ادھر دیں۔” وہ لمحہ بہت چھوٹا تھا، مگر اسی میں سب اٹک گیا۔ حنا نے مریضہ کے بستر سے پلٹ کر دو قدم میں فاصلہ طے کیا۔ اس نے فریحہ باجی کے بڑھائے ہوئے کارڈ کو ہلکا سا نیچے کیا، پھر ماہر کے ہاتھ میں پکڑے بھورے لفافے کے ایک کونے کو خود تھام لیا۔ “کاغذ یہیں رہیں گے،” اس نے کلرک سے کہا، “اور ادائیگی بھی یہیں سے ہوگی۔ جو کم ہے، میں دوں گی۔ الگ نہیں کرنا۔”
فریحہ باجی کا منہ کھل کر بند رہ گیا۔ “حنا!” ان کی سرگوشی میں حکم، ڈر اور غصہ تینوں اکٹھے تھے۔ “تم سمجھ نہیں رہیں—” “سمجھ رہی ہوں،” حنا نے کہا، مگر وہ ان کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظر بل کی اس سفید پٹی پر تھی جس پر رقم چھپی تھی۔ ماہر نے لفافہ نہیں چھوڑا۔ اس نے صرف اپنا ہاتھ ذرا سا سرکایا تاکہ حنا کی انگلیاں کاغذوں پر ٹھیک جگہ آ جائیں۔ پھر دونوں نے ایک ساتھ رسیدیں، شناختی کارڈ کی نقل، دواخانے کی پرچی اور نوٹ کاؤنٹر پر پھیلائے۔ کلرک نے ایک لمحہ توقف کیا، پھر رجسٹر ان دونوں کی طرف کھسکا دیا۔ فریحہ باجی کی طرف نہیں۔
اب کام تیز ہونا تھا۔ ایک دستخط ادھر، ایک مہر ادھر، بقایا رقم کم۔ ماہر نے اپنی جیب کے آخری نوٹ نکالے۔ حنا نے کان سے بال ہٹائے، چوڑی کے نیچے پسینہ چمکا، اور اس نے اپنی چھوٹی سی سونے کی انگوٹھی اتار کر کاؤنٹر پر نہیں رکھی—بس پرس کے اندر دبائی، نقدی نکالی، اور رقم پوری کر دی۔ فریحہ باجی نے تیزی سے کہا، “میں بھیج دیتی ہوں کسی کو اے ٹی ایم—” حنا نے سر ہلایا، “اب دیر ہو جائے گی۔” یہ انکار اونچا نہیں تھا، مگر سیدھا تھا۔ وہی کافی تھا۔
ادائیگی کے بعد کلرک نے فائل باندھ کر ماہر کی طرف بڑھائی۔ شاید اس نے عادت سے ایسا کیا، شاید اس نے سب دیکھ لیا تھا۔ فریحہ باجی نے ہاتھ بڑھایا بھی، مگر حنا نے اس سے پہلے فائل کا آدھا وزن اپنے بازو میں لے لیا۔ “دواخانہ بھی یہی راستہ ہے نا؟” اس نے ماہر سے پوچھا۔ سوال معمولی تھا، مگر اس میں فیصلہ بند تھا۔ ماہر نے اثبات میں سر ہلایا، دوسرا ہاتھ دواساز کے سفید تھیلے پر رکھا، اور دونوں ایک ہی سمت مڑ گئے۔ پیچھے سے فریحہ باجی کے سینڈل کی آواز آئی، پھر رک گئی۔ وہ شاید کچھ کہنا چاہتی تھیں، مگر کلینک کے روشن، تنگ راہدارے میں اب ان کے لیے کوئی صاف جگہ نہیں بچی تھی جہاں وہ ماہر کو باہر رکھ کر کام اندر لے جا سکتیں۔
دواخانے کی قطار لمبی نہ تھی، بس سست تھی۔ مریضہ کو عارضی طور پر اسی راہدارے کے کونے میں روکنا پڑا جہاں لوہے کی ایک بینچ دیوار کے ساتھ لگی تھی۔ ماہر پہلے جا کر اس بینچ کے سرے پر نہیں بیٹھا؛ اس نے بس کاغذ اور تھیلا درمیان میں رکھتے ہوئے جگہ پکڑی، جیسے کوئی عارضی ڈھیر سنبھال رہا ہو۔ حنا آ کر اسی کے ساتھ بیٹھ گئی۔ الگ نشست خالی تھی، مگر وہ وہاں نہیں گئی۔ سامنے لائن ایک آہستہ سیڑھی کی طرح سرک رہی تھی۔
ماہر نے اپنے گھٹنوں کو سیدھا کر کے بینچ کے کنارے کے ساتھ ملا لیا، تاکہ لفافہ پھسلے نہیں۔ ایک لمحے بعد حنا نے بھی اپنے گھٹنے اسی سیدھ میں لا کر رکھ دیے۔ دونوں کے ہاتھ ایک ہی تھیلے اور ایک ہی فائل پر ٹھہرے رہے۔ کاؤنٹر کے پاس کہیں کاغذ مڑنے کی خشک آواز آئی، ٹھنڈی چائے کا داغ میز پر پھیلتا رہا، اور وہ دونوں اسی بینچ کے ساتھ، اسی لائن میں، خاموش بیٹھے رہے۔