Fast Fiction

وہ لمس جو ہم نے نہیں لیا

زینب نے کاؤنٹر پر رکھی رجسٹر بک اپنی طرف کھینچی ہی تھی کہ خالہ شمائلہ نے اس کے ہاتھ کے اوپر سے فائل اٹھا کر ارسلان کے سامنے رکھ دی۔ “یہ تم دیکھ لو بیٹا، تمہیں حساب بہتر آتا ہے۔” چائے کے دو ٹھنڈے کپ، ایک بند مگر چکنی ہو چکی بریانی کی ڈبی اور زینب کی بوسیدہ بیج لٹکی ڈوری کاؤنٹر پر پڑی تھی، جیسے سارا دن اس کا تھا مگر اختیار کسی اور کا۔ وہ سائیڈ دروازے سے نکلنے کو مڑی تو چوکھٹ میں حارث پہلے سے کھڑا تھا۔ نہ اتنا قریب کہ کوئی بات بنے، نہ اتنا دور کہ وہ آرام سے گزر جائے۔ اس کی نظر ایک لمحے کو زینب کے کندھے کی جھکی سختی پر ٹھہری، پھر اس نے خاموشی سے دروازہ مزید کھول دیا۔ راستہ دیا بھی، روکا بھی۔

یہ سب سامنے والوں کے لیے معمول تھا۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والا رشتہ دو سال سے یونہی لٹکا ہوا تھا؛ منگنی کی تاریخ کبھی “ابھی کاروبار سنبھل جائے” پر رکی، کبھی “پہلے بڑے بھائی کی شادی” پر۔ مگر پکوان کی لسٹ، مہمانوں کے فون، ہال کی ایڈوانس، خالہ کی دوائی، سب زینب کے حصے میں آتا۔ حارث کا خاندان صدر کے قریب کرائے کے فلیٹ سے کلفٹن کے دفتر تک اپنی عزت الگ تھلگ رکھتا تھا، اور زینب ناظم آباد سے بس بدل کر ایک سروس سیکٹر والی تقریباتی کمپنی کے دفتر آتی، شام کو وہی دفتری ہاتھ گھر کے کام میں لگ جاتے۔ نام صرف “اپنوں میں بات پکی ہے” کا تھا، جگہ ہمیشہ کنارے کی۔

اگلی صبح کراچی کی نم آلود گرمی میں وہ دفتر پہنچی تو اس کی آستین کہنی پر شکنوں سے سخت تھی۔ بیج کی ڈوری پھر گردن پر تھی، کونے سے ریشے نکلے ہوئے۔ استقبال والے شیشے کے دروازے پر کارڈ اسکین نہ ہوا۔ پیچھے کھڑے لڑکے نے ہنس کر کہا، “پھر رہ گیا نا ریچارج؟” زینب نے بیج سیدھا کیا، دوبارہ لگانے لگی، مگر لاک کھلا حارث کی اپنی کارڈ سے۔ وہ اندر آ چکا تھا اور اس نے دروازہ اتنا تھام رکھا تھا کہ زینب کو اس کے بازو اور شیشے کے بیچ سے گزرنا پڑا۔ “تمہارا کارڈ بدلوانا تھا، ہوا نہیں؟” اس نے آہستہ پوچھا۔

“وقت نہیں ملا کسی کو۔” زینب نے سیدھا جواب دیا اور گزر گئی۔

اس نے کچھ نہیں کہا، مگر پچھلے کمرے تک جاتے ہوئے زینب کو اپنے پیچھے اس خاموش توجہ کا دباؤ محسوس ہوتا رہا۔ دوپہر تک وہی دباؤ شکل لیتا گیا۔ اسٹور سے ٹیبل رانر اٹھانے وہ جھکی تو حارث نے سب سے اوپر والا بھاری کارٹن خود نیچے کر دیا، بغیر پوچھے۔ رجسٹر پر ادائیگی لکھتے ہوئے خالہ شمائلہ نے پھر ارسلان کو آواز دی، “تم دیکھ لو، زینب سے غلطی ہو جاتی ہے۔” حارث نے اسی وقت رجسٹر زینب کی طرف کھسکا دیا۔ “یہ اس کے ہاتھ کی لکھائی ہے، اسی سے پڑھو بھی۔” جملہ سیدھا تھا، لہجہ اور بھی سیدھا، مگر کمرے میں بیٹھے دو سپلائر ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر چپ ہو گئے۔ ارسلان کے چہرے پر ہلکی سی ناگواری آئی، جیسے چھوٹی بات کو بڑا بنا دیا گیا ہو۔ زینب نے سر نہیں اٹھایا، مگر اس کی انگلیوں کی گرفت قلم پر بدل گئی۔

شام کو سامان لوڈ کروا کے وہ پچھلے دروازے سے نکل رہی تھی۔ سیڑھی کے موڑ پر روشنی آدھی تھی اور نیچے موٹر سائیکلوں کی قطار سے پٹرول کی بو اٹھ رہی تھی۔ خالہ شمائلہ نے اوپر سے آواز دی، “ارسلان، زینب کو ساتھ چھوڑ دینا، رات ہو گئی ہے۔” ایسے جیسے زینب کوئی پارسل ہو۔ زینب نے پلٹ کر کہا، “میں بس سے چلی جاؤں گی۔” اور قدم تیز کیے۔ اسی لمحے موڑ پر حارث سامنے آ گیا۔ وہ شاید اوپر جا رہا تھا، مگر اس نے ریلنگ کے پاس ذرا سائیڈ لے کر جگہ بنا دی۔ “تمہاری کمر اکڑی ہوئی ہے، اتنا وزن کیوں اٹھایا؟”

“کیونکہ کسی کو یاد نہیں رہتا کہ میں سارا دن کام بھی کرتی ہوں۔”

بات تلخ تھی، مگر اس نے لے لی۔ “میں نے کہا تھا کل سے تم سامنے والے ڈیسک پر بیٹھو گی۔”

“کہا تھا۔ کیا ہوا؟” زینب نے پہلی بار اس کی آنکھ میں دیکھ کر پوچھا۔

نیچے سے ہارن کی آواز آئی، اوپر سے خالہ شمائلہ کے سونے کے کنگن کھنکے، اور دونوں ایک سیڑھی کے فرق پر کھڑے رہے۔ حارث نے جواب نہیں دیا۔ یہی اس کی عادت تھی؛ سہولت دے دیتا، اعلان نہیں کرتا۔ زینب اسی خاموش رعایت سے زیادہ تھک چکی تھی۔

جمعے کی رات شادی کے ایک بڑے فنکشن میں سب کچھ خراب ہوا۔ دلہا والوں نے آخری وقت پر میزوں کی ترتیب بدلوا دی، پھر کھانے کے کاؤنٹر پر شور مچا کہ مٹن کم ہے۔ خالہ شمائلہ نے مہمانوں کے سامنے زینب کو اس طرح بلایا جیسے نوکرانی کو جھاڑا جاتا ہے۔ “میں نے کہا تھا سامنے نہ رہا کرو، تم سے تاثر خراب ہوتا ہے۔ جا کر پچھلی سائیڈ سنبھالو۔” ارسلان اسی وقت ایک گاہک کی بیٹی کے ساتھ کھڑا ہنس رہا تھا اور بولا، “میں فرنٹ دیکھ لیتا ہوں، اسے بیک اینڈ ہی ٹھیک آتا ہے۔”

زینب کے ہاتھ میں پلیٹوں کی گنتی والی پرچی تھی۔ اس نے مڑ کر نکلنا چاہا۔ کچن اور سروس کوریڈور کے بیچ باریک چوکھٹ تھی، ایک طرف بھاپ، دوسری طرف روشنی۔ وہ اسی دہانے پر پہنچی تھی کہ کسی نے اس کی کلائی تھام لی۔

لمحہ اتنا مختصر تھا کہ آواز بھی نہیں بنی۔ حارث کی انگلیاں اس کی نبض کے اوپر بند ہوئیں، گرم اور سخت، جیسے وہ اسے اس ذلت والے کمرے میں واپس دھکیلنے یا اس سے نکال لینے، دونوں میں سے کچھ ایک کرنے جا رہا ہو۔ زینب نے چونک کر دیکھا۔ اس کی نگاہ پہلی بار کھلی ہوئی تھی، قابو میں مگر خطرناک۔ پھر اسی لمحے اس نے ہاتھ چھوڑ دیا، فوراً، جیسے خود اپنی حرکت سے چونک گیا ہو۔ مگر چھوڑنے سے پہلے جتنی دیر گزری، وہ کافی تھی۔ زینب کی جلد پر اس گرفت کا نشان نہیں، اس کی حقیقت رہ گئی۔

“ادھر نہیں،” حارث نے بہت آہستہ کہا، اور سائیڈ والا اسٹاف کمرہ کھول دیا۔

زینب اندر گئی، صرف اس لیے کہ واپس ہال میں جا کر خالہ شمائلہ کی آواز دوبارہ نہ سننی پڑے۔ اندر پانی کی بوتلیں، اضافی رومال، اور دیوار سے لگا ایک لمبا آئینہ تھا جس کے کونے میں لائٹ ٹوٹی ہوئی چمک دے رہی تھی۔ حارث نے دروازے کے باہر ہی رہ کر کہا، “دو منٹ۔” پھر کسی کو فون پر مختصر ہدایت دی۔ اگلے ہی لمحے ارسلان کو سامنے والے کاؤنٹر سے ہٹا کر باہر پارکنگ والے مسئلے پر بھیج دیا گیا اور زینب کا نام ادائیگی کی میز پر لگا دیا گیا۔ یہ پہلی دفعہ تھا کہ تبدیلی لفظ سے نہیں، جگہ سے ہوئی۔

اس رات کے بعد معاملہ چھپنے کے بجائے اور نازک ہو گیا۔ خالہ شمائلہ نے اگلے اتوار کھانے کی میز پر قصداً بات چھیڑی۔ سالن کے چمچ کے ساتھ انہوں نے زینب کو نہیں، اس کی ماں کو دیکھا۔ “دیکھ بہن، ارسلان کے لیے لاہور سے بات آئی ہے۔ لڑکی بینک میں ہے، جہیز بھی ٹھیک۔ ہم نے تو اپنے ہی بچوں کو ترجیح دی ہوئی تھی، مگر زندگی فیصلوں سے چلتی ہے، انتظار سے نہیں۔” پھر زینب کی طرف پلٹ کر ایک چابی بڑھائی۔ “یہ اسٹور کی ہے۔ آئندہ سامنے والے کام ارسلان دیکھے گا، تم سامان اور حساب کے ڈبے سنبھالو۔ تمہارے مزاج کو وہی سوٹ کرتا ہے۔”

یہ چابی نوکری کی نہیں، درجے کی تھی۔ سب کے سامنے اس کا مقام واپس پچھلے کمرے میں پھینکا جا رہا تھا۔ حارث میز کے دوسرے سرے پر تھا۔ اس نے فوراً مداخلت نہیں کی۔ یہی اس کا سب سے بڑا ظلم تھا: دیر۔

زینب نے چابی ہاتھ میں لی، ایک سانس بھری، پھر اٹھ کر میز کے درمیان پڑی ادائیگی کی رجسٹر بک اپنی طرف کھینچی اور چابی اس کے اوپر رکھ دی۔ “اسٹور کی چابی اسٹور رکھنے والے کے پاس ہی رہے تو بہتر ہے،” اس نے خالہ شمائلہ سے کہا، مگر آواز اتنی بلند تھی کہ سب نے سنی۔ پھر وہ ارسلان کی خالی پلیٹ کے پاس رکھی کرسی پیچھے دھکیل کر راستہ بند کیے بغیر نکل گئی۔ نہ انکار کی وضاحت، نہ ناراضی کی نمائش۔ صرف واپسی۔

اس کے بعد دو دن حارث نے اسے دفتر میں نہیں روکا۔ نہ دروازہ تھاما، نہ راہداری میں سوال کیا۔ مگر اس کی توجہ ختم نہیں ہوئی؛ وہ اور تنگ ہو گئی۔ استقبالیہ پر نیا کارڈ آیا تو اس پر زینب کا نام درست ہجے میں تھا، پہلی بار۔ سامنے والی میز پر فائلوں کے ساتھ اس کے لیے کرسی رکھی گئی، مگر زینب نے نہیں لی۔ وہ پیچھے کے کاؤنٹر پر ہی کھڑی رہی، جیسے ہر سہولت اب آزمائش ہو۔ ایک بار حارث نے دور سے اشارہ کیا کہ شام کی میٹنگ کے بعد رکنا۔ زینب نے بیج اتار کر کاؤنٹر پر رکھ دیا اور دوسرے راستے سے نکل گئی۔ اگلی صبح اس کی میز پر وہی بیج تہہ کر کے رکھا تھا، ڈوری سیدھی کی ہوئی۔

بدھ کی رات دفتر میں صرف آخری بندوبست رہ گیا تھا۔ نیچے سڑک پر چنے والے کی آواز آرہی تھی، اوپر اے سی بند ہونے کے بعد کمروں میں سمندری نمی گھلنے لگی تھی۔ خالہ شمائلہ ایک رشتے دار کی میت پر گئی ہوئی تھیں، ارسلان کسی کلائنٹ کے ساتھ باہر تھا۔ زینب نے حساب بند کیا، رجسٹر لاک کیا، اور واش ایریا کے پاس والے چھوٹے کمرے میں جا کر بچا ہوا دوپٹہ سیدھا کرنے لگی۔ یہی وہ کمرہ تھا جہاں فنکشن والی رات اس نے دو منٹ سانس لی تھی۔ دروازہ آدھا کھلا تھا، اندر آئینہ اور اوپر کی پیلی روشنی۔

قدموں کی آواز آئی تو اس نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ “میں جا رہی ہوں،” وہ بولی۔

حارث دروازے پر رکا۔ چوکھٹ نے دونوں کے بیچ ایک صاف لکیر ڈال دی۔ “چلی جاؤ،” اس نے کہا، “لیکن یہ سمجھ کر مت جاؤ کہ تمہیں جہاں رکھا گیا، میں نے وہی دیکھا۔”

زینب ہنس بھی سکتی تھی، رو بھی سکتی تھی، مگر اس نے صرف دوپٹے کا کنارہ موڑ کر چھوڑ دیا۔ “دیکھنے سے کچھ نہیں ہوا۔”

“ہوا ہے۔” اس کی آواز نیچی تھی، قابو میں۔ “کم از کم میرے لیے۔”

یہ اعتراف نہیں تھا، پھر بھی خطرناک تھا۔ زینب نے آہستہ سے ایک قدم اس کی طرف بڑھایا۔ اتنا کہ اگر وہ چاہتا تو فاصلہ ختم کر سکتا تھا۔ کمرے کی تنگی، آدھا کھلا دروازہ، رات کا وقت، خالی دفتر، سب کچھ اس ایک قدم کو مہنگا بنا رہا تھا۔ حارث نے بھی حرکت کی؛ اس کا ہاتھ اٹھا، جیسے وہ اس کے دوپٹے کے کنارے یا کلائی تک پہنچنے والا ہو۔ وہ لمحہ ہوا میں معلق ہو گیا۔

زینب نے اپنا ہاتھ پہلے اٹھایا۔

اس نے حارث کی کلائی نہیں پکڑی، صرف ہتھیلی کے سامنے اپنی انگلیاں رکھ دیں، ایک نرم مگر صاف رکاوٹ کی طرح۔ “نہیں،” اس نے کہا۔ آواز میں لرزش تھی مگر پیچھے ہٹنا نہیں تھا۔ “یہیں تک۔ اگر تمہیں دیکھنا تھا، تو اب یہی دیکھو۔”

حارث کا ہاتھ اس کی انگلیوں سے ایک سانس بھر کے فاصلے پر رک گیا۔ پھر آہستہ سے نیچے آ گیا۔ پہلی بار اس کے پاس اختیار تھا اور پہلی بار اس نے اسے استعمال نہیں کیا۔ یہی زینب چاہتی تھی: لیا نہ جائے، مگر انکار بھی معمول نہ رہے۔

زینب نے دروازے کی چوکھٹ کے اندر اپنی جگہ سنبھالی، جیسے حد اب اسی کے نام پر بند ہوئی ہو۔ پھر اس نے رخ موڑا۔ آئینے کی لمبی لکیر میں اس کا چہرہ آدھی روشنی، آدھے سائے میں آیا۔ اس کی سانس شیشے کے قریب جا کر اٹکی؛ باریک دھند کی ایک تہہ ابھری، ایک لمحہ ٹھہری، پھر آئینے کی لکیر پر ہلکی سی جم کر ہوا میں کٹی ہوئی رہ گئی۔