Fast Fiction

فاصلہ ہی منظر بن گیا #2

ٹرے اس کے ہاتھ سے لے کر خالہ شمائلہ نے سیدھا دانش کی طرف بڑھا دیا۔ "بیٹا، یہ اوپر ارحم کے کمرے میں دے آؤ۔ مہرین، تم نیچے مہمانوں کے کپ گن لو، اور ہاں، پھولوں والی میز کو ہاتھ نہ لگانا۔"

مہرین نے جواب نہیں دیا۔ اس کے ہاتھ میں لنچ باکس ابھی تک تھا، صبح دفتر سے سیدھا آئی تھی، ڈبے کے اندر سالن ٹھنڈا ہو کر تیل چھوڑ چکا تھا۔ اس کی گردن پر پڑا ہوا بیج لینیارڈ پسینے اور روز کے رگڑ سے مڑ چکا تھا۔ وہ ڈائننگ روم کے دروازے کے پاس ایک قدم ہٹ کر کھڑی تھی، جیسے گھر کی اپنی دیوار نے اسے راستے سے الگ کر دیا ہو۔ دانش ٹرے لے کر سیڑھیوں کی طرف بڑھا، مگر اوپر والے موڑ سے ارحم خود اتر آیا۔ اس نے پہلے ٹرے نہیں دیکھی، پہلے مہرین کو دیکھا؛ اتنی سیدھی، اتنی دیر تک، کہ خالہ شمائلہ کی آواز دوبارہ اونچی ہوئی۔

"ارحم، تمہیں کہا تھا نا، لڑکی والوں کے سامنے ادھر ادھر نہ گھوما کرو۔"

ارحم کا ہاتھ سیڑھی کی ریل پر رک گیا۔ بس ایک لمحہ۔ پھر اس نے نگاہ ہٹائی، دانش سے ٹرے لے لی، اور مہرین کے قریب سے گزرتے ہوئے اتنا پاس آیا کہ اس کے دوپٹے کا کنارہ اس کے بازو سے لگنے ہی والا تھا۔ مگر لگا نہیں۔ وہ خود ایک آدھا قدم پیچھے ہٹ گیا۔ جیسے کوئی لکیر دیکھ لی ہو جسے باقی سب نے ابھی نام بھی نہ دیا ہو۔

کراچی کی شامیں ایسی ہی ہوتی ہیں؛ گھر کے اندر بھی ہجوم، گھر کے اندر بھی نگرانی۔ نارتھ ناظم آباد کے اس دو منزلہ مکان میں آج منگنی کی بات چیت ہونی تھی۔ ارحم، خالہ شمائلہ کا بھانجا، بینک میں افسر، اپنی حیثیت کے ساتھ چلنے والا آدمی۔ اور مہرین؟ وہی جو کلفٹن کے ایک سروس سیکٹر دفتر میں فرنٹ ڈیسک پر بیٹھ کر دوسروں کے نام اندر بھیجتی، خود ہر دروازے کے باہر رہتی تھی۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ خالہ شمائلہ کبھی اسے "اپنی بچی" کہہ دیتی ہیں، مگر رشتے کی میز پر نام آتا تو اس کے اوپر سے بات گزار دی جاتی۔

نیچے بیٹھک میں چینی کے کپ رکھتی مہرین نے اوپر سے قدموں کی آواز سنی۔ پھر ارحم کی۔ "خالہ، میری فائل کس نے ہٹائی؟"

"دانش لے گیا ہوگا۔ مہرین، تم دیکھ لو، تمہیں چیزوں کی جگہ یاد رہتی ہے۔"

اسے حکم دیا گیا جیسے وہ گھر اور دفتر دونوں جگہ صرف گم شدہ چیزیں ڈھونڈنے کے لیے بنی ہو۔ وہ سیڑھیوں کے نیچے پہنچی ہی تھی کہ ارحم تیزی سے اترتا ہوا سامنے آ گیا۔ دونوں ایک ہی تنگ موڑ پر آ کر رکے۔ اس کے ہاتھ میں ایک بھورا لفافہ تھا، اس کے ہاتھ میں چابیوں کا چھوٹا حلقہ۔ لفافہ نیچے گرا نہیں، مگر کونے سے مڑ گیا۔ ارحم نے جھک کر اٹھانے کو ہاتھ بڑھایا، اسی لمحے مہرین بھی جھکی۔ ان کے ہاتھ ایک ہی کاغذ پر آنے سے پہلے رک گئے۔ اوپر سے خالہ شمائلہ کی بھانجیوں کی ہنسی آئی، نیچے باورچی خانے میں کڑچھے کی آواز۔ ارحم سیدھا ہوا، ذرا سخت سانس کے ساتھ۔

"میں لے لوں گا۔"

مہرین نے لفافہ اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا، مگر ہاتھ آخر تک نہیں بڑھایا۔ "آپ کی چیزیں ہمیشہ کسی اور کو ہی کیوں اٹھانی پڑتی ہیں؟"

اس کی آواز دبی ہوئی تھی، لیکن چھری کی طرح سیدھی۔ ارحم نے پہلی بار اسے ایسے دیکھا جیسے لفظ اس کے کپڑوں کے رنگ یا کام کے اوقات سے الگ بھی کوئی چیز ہوں۔ پھر اوپر سے خالہ شمائلہ پکار اٹھیں، "مہرین، ذرا جلدی کرو، لوگ آنے والے ہیں۔"

اس نے لفافہ اس کے ہاتھ میں رکھا نہیں؛ سیڑھی کی چوڑی سطح پر رکھ دیا۔ ارحم نے جھک کر خود اٹھایا۔ جب وہ سیدھی ہوئی، وہ پھر ایک لمحہ رکا رہا، جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو، پھر بغیر کچھ کہے دو سیڑھیاں ایک ساتھ چڑھ گیا۔ اس کے چڑھنے میں وہ یکسوئی نہیں تھی جو ابھی تک اس کا حصہ لگتی تھی۔

دفتر میں اگلے دن بھی یہی ہوا، مگر زیادہ صاف۔ شام کی شفٹ کا اختتام تھا، شیشے کے دروازے کے پار شارع فیصل کی ٹریفک لال سفید دھاریوں کی طرح بہہ رہی تھی۔ مہرین نے روز کی طرح آنے والوں کے کارڈ رجسٹر کے ساتھ ملا کر رکھے۔ ارحم وہاں کلائنٹ میٹنگ کے لیے آیا ہوا تھا؛ خالہ شمائلہ کے ذریعے اس کے بینک نے کمپنی کے ساتھ حسابی معاملہ باندھا تھا، اور تب سے اس کا آنا جانا بڑھ گیا تھا۔ منیجر نے مہرین کی طرف دیکھے بغیر کہا، "مسٹر ارحم کے لیے کانفرنس روم کھول دو، اور چابی یہیں چھوڑ دینا۔ بعد میں دانش بند کر دے گا۔"

مہرین نے چابی اٹھائی، کانفرنس روم کھولا، اور واپس پلٹنے لگی تو ارحم دروازے کے بیچ آ کھڑا ہوا۔ باہر کھلے دفتر کی روشنی اندر کے اندھیرے فرش پر لمبی لکیر بنا رہی تھی۔ "رہنے دو، تم بند کر دینا بعد میں۔"

یہ جملہ معمولی ہو سکتا تھا، اگر اس کے لہجے میں وہ ذاتی حق شامل نہ ہوتا جو اس نے مانگا نہیں تھا، مان لیا تھا۔

مہرین نے اس کی طرف چابی نہیں بڑھائی۔ اس نے کمر سیدھی کی، لینیارڈ انگلی سے کھینچ کر سیدھا کیا، پھر چابی رجسٹر کے اوپر رکھ دی۔ "دفتر کی چابی رجسٹر کے ساتھ رہتی ہے۔ کسی کے ہاتھ میں نہیں۔"

وہ اندر قدم رکھنے ہی والا تھا۔ رک گیا۔ اس کی نظر پہلے چابی پر گئی، پھر اس کے چہرے پر۔ باہر سے دو ملازم گزرے، ایک نے سلام کیا، دوسرے نے ہنستے ہوئے پوچھا، "سر، کافی اندر بھیج دوں؟" ارحم نے جواب دیر سے دیا۔ "نہیں۔"

یہ "نہیں" کافی کے لیے تھا یا اس لمحے کے لیے، سمجھنا مشکل تھا۔ مگر اس کے بعد اس نے چابی نہیں اٹھائی۔ مہرین نے رجسٹر بند کیا اور دروازہ اتنا ہی کھلا چھوڑ کر ہٹ گئی جتنا ضابطے میں تھا۔ وہ پاس سے گزرا، مگر اس بار خود اپنے کندھے کو دروازے کے فریم سے لگا کر، جیسے فاصلہ اس کی طرف سے بھی مقرر ہو۔

شام کو گھر میں رشتے کی بات زیادہ کھل کر ہوئی۔ خالہ شمائلہ نے روٹیاں توڑتے ہوئے کہا، "ارحم کے لیے لاہور سے بھی رشتہ آیا ہے۔ لڑکی ڈاکٹر ہے۔ اپنے برابر کا ساتھ چاہیے آدمی کو۔"

"اور گھر سنبھالنے والی بھی ہونی چاہیے،" ان کے شوہر نے نمک دانی سرکاتے ہوئے اضافہ کیا۔ "نوکری کرنے والی لڑکیاں ہر چیز میں حساب رکھتی ہیں۔"

مہرین نے پانی کا جگ اٹھایا۔ کسی نے اس سے نہیں پوچھا کہ وہ کھانا کھا رہی ہے یا صرف خدمت۔ خالہ شمائلہ نے دانش کی پلیٹ میں بوٹی رکھی، پھر اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، "مہرین، اوپر والے کمرے کی اضافی چابی تمہارے پاس ہے نا؟ ارحم کے کاغذات وہیں ہیں، دے دو اسے۔"

اس نے جیب سے چابی نکالی۔ دھات گرم تھی، دن بھر جسم کے ساتھ لگی رہی تھی۔ ارحم میز کے دوسرے سرے پر بیٹھا تھا۔ خاندان کے بیچ، روشنی کے بیچ، نام اور حیثیت کے بیچ۔ اس نے ہاتھ بڑھایا، جیسے یہ ایک سیدھا سا تبادلہ ہو۔ مہرین نے چابی اس کے ہاتھ میں نہیں دی۔ اس نے میز کے کنارے پر رکھ دی۔

"کمرہ اوپر ہے۔ چابی یہاں ہے۔"

خالہ شمائلہ نے فوراً نظریں اٹھائیں۔ "یہ کیا انداز ہے؟"

"امانت ہاتھ میں نہیں دیتی میں،" مہرین نے جگ واپس رکھا، "رکھ دیتی ہوں۔ جسے چاہیے، خود اٹھا لے۔"

ایک پل کے لیے کھانے کی آوازیں بےترتیب ہو گئیں۔ دانش نے روٹی توڑتے ہاتھ سست کر دیے۔ ارحم نے آگے بڑھ کر چابی اٹھائی، مگر اس کی انگلیاں مہرین کی انگلیوں تک پہنچنے سے پہلے ہی رُک گئیں۔ وہ چاہتا تو چھو سکتا تھا؛ کوئی اسے جرم نہ کہتا، صرف اتفاق سمجھتا۔ مگر وہ اتفاق ہونے نہیں دیا گیا۔ مہرین نے ہاتھ پہلے ہی سمیٹ لیا تھا۔ اس لمحے کی ملکیت اس کے پاس تھی، اور یہی سب سے زیادہ بےآرام کرنے والی چیز تھی۔

اس رات منگنی کی بات سرک کر ایک اور شکل میں آئی۔ خالہ شمائلہ نے برتن سمیٹتے ہوئے مہرین کو باورچی خانے کے دروازے پر روک لیا۔ "دیکھو، تم سمجھدار ہو۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہے کہ تم آتی جاتی رہتی ہو، مدد کرتی ہو، اس لیے اپنی حد خود پہچانو۔ اچھے گھروں کے فیصلے برابر والوں میں ہوتے ہیں۔"

"جی،" مہرین نے کہا۔

"اور ارحم کے سامنے اس طرح خشک مت رہا کرو۔ لڑکے غلط مطلب نکالتے ہیں۔"

مہرین نے پہلی بار ان کی آنکھوں میں سیدھا دیکھا۔ "غلط مطلب کون نکال رہا ہے، خالہ؟"

خالہ شمائلہ کے چہرے پر وہ جھنجھلاہٹ آئی جو اس وقت آتی ہے جب ایک خدمت کرنے والا شخص جملہ پورا کر دے۔ "تم حد سے بات نہ بڑھاؤ۔"

مہرین ہٹ گئی۔ مگر جاتے ہوئے اس نے دروازے کے فریم میں ایک مختصر وقفہ رکھا، جیسے پورا گھر دیکھ لے کہ راستہ وہ چھوڑ رہی ہے، اسے ہٹایا نہیں جا رہا۔

دو دن بعد ارحم خود دفتر کے باہر اس کا انتظار کرتا ملا۔ نہ بہت کھلے میں، نہ اتنے چھپ کر کہ اتفاق لگے۔ مغرب کے بعد کی نمی میں بس اسٹاپ کے پاس چائے والے کی بھاپ اٹھ رہی تھی، موٹر بائیکوں کے سائلنسر بدبو چھوڑ رہے تھے۔ مہرین نے اسے دیکھ کر رفتار نہیں بدلی۔ وہ ساتھ ساتھ چلنے لگا۔

"خالہ نے کچھ کہا تم سے؟"

"آپ کے گھر میں سب کچھ کہا جاتا ہے۔"

"میں نے وہ بات نہیں کی۔"

"لیکن ہونے دی۔"

اس کے پاس جواب تھا شاید، مگر اسی لمحے اس کا فون بجا۔ اس نے اسکرین دیکھی، جبڑا سخت ہوا، کال کاٹی نہیں، بجنے دی۔ "اوپر والے کمرے کی فائل تم نے ترتیب دی تھی؟"

"ہاں۔"

"مجھے پتا چل گیا۔"

مہرین رک گئی۔ "کیا؟"

"کہ تم چیزیں صرف سنبھالتی نہیں، جگہ بھی طے کرتی ہو۔"

یہ اعتراف نہیں تھا۔ اس سے کم بھی نہیں۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان اتنی جگہ رہی جتنی فٹ پاتھ کی ٹوٹی اینٹوں نے دی، مگر اس جگہ میں اب اندھی غفلت نہیں تھی۔ پھر محلے کا ایک جاننے والا ادھر سے گزرا، سلام کیا، ارحم فوراً ایک قدم دور ہٹ گیا۔ اس کے ہٹنے میں احتیاط تھی، مگر اس احتیاط نے ہی سارا ثبوت دے دیا۔ مہرین نے بس آتے دیکھی، چڑھ گئی، اور شیشے کے پیچھے سے اسے وہیں کھڑا چھوڑ دیا؛ فون اب بھی اس کے ہاتھ میں بج رہا تھا۔

جمعہ کی رات خالہ شمائلہ نے خاندان کو چھت پر کھانے کے لیے جمع کیا۔ بات اب صاف تھی: اتوار کو لاہور والوں کا آنا طے ہو گیا تھا۔ "بس دعائیں کرو،" انہوں نے مسکرا کر کہا، "اس بار بات پکی ہو جائے۔"

مہرین کو نیچے سے پلیٹیں لانی تھیں۔ اوپر جاتے وقت، نیچے آتے وقت، ہر سیڑھی پر گھر کا حکم تھا۔ نیچے کی منزل پر نیم اندھیرا تھا؛ انورٹر کی پیلی بتی جل رہی تھی۔ اس نے پلیٹوں کی ٹوکری اٹھائی تو اوپر سے ارحم کی آواز آئی، "رکو۔"

وہ نہیں رکی۔ پہلی فلائٹ چڑھ کر جب درمیانی لینڈنگ پر پہنچی، وہ سامنے آ گیا۔ اوپر چھت پر باتیں، بچوں کے دوڑنے کی چاپ، برتنوں کی ٹن ٹن؛ نیچے باورچی خانے میں پریشر ککر کی بھاپ۔ درمیان کا یہ موڑ آدھا نجی تھا، آدھا خطرہ۔

"خالہ نے مجھے لاہور والوں کے سامنے بیٹھنے کو کہا ہے،" اس نے آہستہ کہا۔

مہرین نے ٹوکری مضبوط پکڑی۔ "تو بیٹھ جائیں۔"

"تم ایسے کیوں بول رہی ہو جیسے—"

"جیسے کیا؟"

وہ ایک سیڑھی نیچے آیا۔ اب دونوں کے درمیان صرف آدھا قدم رہ گیا تھا، اتنا کہ کسی ایک کی سانس دوسرے کے چہرے تک پہنچ سکتی تھی۔ مہرین نے ٹوکری دیوار کی طرف کر لی تاکہ راستہ کھلا رہے۔ ارحم نے ہاتھ اٹھایا، شاید ٹوکری لینے، شاید راستہ روکنے، شاید اس جملے کو بدلنے کے لیے جو ابھی بنا ہی نہیں تھا۔ اسی وقت اوپر سے خالہ شمائلہ کی آواز گری، "ارحم! سب انتظار کر رہے ہیں۔"

وہ جواب نہ دے سکا۔ اس کی نظر مہرین پر لگی رہی، اتنی تنگ، اتنی مرکوز، کہ باقی گھر کی ساری آوازیں دھندلی پڑ گئیں۔ مہرین کو پہلی بار واضح دکھا کہ جس آدمی نے اسے ہمیشہ چیزوں کی طرح گردش میں رکھا، وہ خود اب ایک ہی نکتے پر آ کر رک گیا ہے۔

"راستہ دیں،" اس نے کہا۔

اس نے نہیں دیا۔ بس اتنا کیا کہ ریل کے پاس اپنا ہاتھ رکھ کر جسم کو تھوڑا سا ایک طرف کیا، جیسے راستہ موجود بھی ہو اور نہ بھی ہو۔ "اگر تم نیچے چلی گئیں تو—"

"تو کیا؟" مہرین نے ایک اور آدھا قدم لیا۔ اب وہی لکیر فیصلہ تھی۔ "آپ کے گھر کی بات پکی ہو جائے گی؟ یا آپ پہلی بار اپنی مرضی سے کچھ کہیں گے؟"

اس کے گلے کی حرکت دکھائی دی۔ "میں—"

"نہیں۔" مہرین کی آواز بہت بلند نہیں تھی، مگر اس نے اس کے جملے کو وہیں کاٹ دیا۔ "آج آپ کچھ نہیں کہیں گے۔ اور میں بھی نہیں سنوں گی۔"

وہ سیدھی کھڑی رہی۔ پھر اس نے اپنی ٹوکری بائیں ہاتھ میں منتقل کی اور دائیں ہاتھ سے ریل پکڑ لی۔ یہ معمولی حرکت تھی، مگر اس سے اس کا پورا بدن ایک مقررہ زاویے میں ٹھہر گیا؛ اوپر جانے کا راستہ اس کے سامنے، نیچے اترنے کا اختیار اس کے پاس۔ ارحم نے اسی لمحے ہاتھ بڑھایا۔ شاید اس کے بازو تک، شاید ٹوکری تک، شاید صرف اس وقفے کو ختم کرنے کے لیے۔ مگر مہرین پہلے ہی ایک آدھا قدم پیچھے ہٹ چکی تھی۔ نہ بھاگ کر، نہ گھبرا کر؛ اپنی جگہ کی مالک کی طرح۔

"آپ کو میری عادت تھی،" اس نے بہت آہستہ کہا، "رسائی نہیں۔"

یہ کہہ کر وہ رکی نہیں۔ مگر وہ گزری بھی نہیں۔ اس نے فاصلہ قائم رکھا، وہی آدھا قدم، جس میں نہ بےبسی تھی نہ اجازت۔ اوپر سے پھر آواز آئی، اس بار سخت، "ارحم!"

مہرین نے نگاہ اس کے چہرے سے ہٹا کر سیڑھی کے اوپر کی طرف کر دی، جیسے فیصلہ اب اس سے نہیں، راستے سے متعلق ہو۔ "جائیں۔"

وہ نہیں چھوا گیا، مگر لمحہ چھونے جتنا قریب آ کر جل اٹھا۔ ارحم کا ہاتھ ہوا میں آیا، اس فاصلے کی حد تک، پھر وہیں رک گیا؛ جیسے پہلی بار کسی اور کے قائم کیے ہوئے قاعدے نے اس کے جسم کو روکا ہو، لفظوں نے نہیں۔ مہرین نے ریل کی گرفت سخت کی، ٹوکری ذرا سنبھالی، اور اپنی جگہ سے ہٹے بغیر راستہ اتنا چھوڑ دیا جتنا وہ چاہے تو گزار سکے، مگر صرف اسی صورت میں جب اس فاصلے کی اطاعت کرے۔

سیڑھی کی درمیانی لینڈنگ پر پیلی روشنی ریل کے لوہے پر ٹکی تھی؛ مہرین کی انگلیاں اس پر جمی تھیں، اور اس کے سامنے ہوا میں رکا ہوا ایک ہاتھ آدھے قدم کے خلا سے آگے نہ بڑھ سکا۔