پرانا اندراج بول اٹھا
لفٹ کے دھندلے شیشے کے سامنے شازیہ بھابھی نے مہرین کے ہاتھ سے سفید کارڈ کھینچ لیا اور دروازے پر چپکے مہمانوں کی فہرست میں اس کے نام پر کالا نشان لگا دیا۔ “کچن سائیڈ سے آؤ۔ سامنے والی نشستیں صرف خاندان کے لیے ہیں۔” فہرست کے کنارے پر نیلی سیاہی سے لکھا تھا: **مہر النساء، کیٹرنگ**۔ مہرین نے پلک بھی نہ جھپکی۔ اس کی لینیارڈ گردن پر پسینے سے مڑی ہوئی تھی، آستینوں میں لمبی ڈیوٹی کی شکنیں تھیں، اور بس کارڈ کا گھسا ہوا کنارہ اس کی انگلی سے ٹکرا رہا تھا۔ اس نے فہرست اپنی طرف موڑ کر صرف ایک لفظ دیکھا—کیٹرنگ—پھر کارڈ واپس نہیں مانگا، سیدھی دروازے کے شیشے سے اندر جھانکا، جہاں خالہ نسرین کی بیٹی کی منگنی کی بیٹھک سجی تھی اور سامنے والی نشست خالی پڑی تھی، بالکل وہاں جہاں اسے کبھی بٹھایا جاتا تھا جب ارسلان خود بلایا کرتا تھا۔
“نام غلط لکھا ہے،” اس نے آہستہ کہا، مگر اتنا آہستہ نہیں کہ دروازے کے پاس کھڑی پھوپھی سمعیہ نہ سن سکیں۔
شازیہ بھابھی نے ناخن سے فہرست ٹھک ٹھک کی۔ “جو درج ہے وہی مانا جائے گا۔ تمہیں بلایا ہے تو کام کے لیے۔ بات بڑھاؤ مت، لوگ دیکھ رہے ہیں۔”
لوگ واقعی دیکھ رہے تھے۔ دروازے کے اندر قالین کے کنارے پر جوتے سیدھے کیے جا رہے تھے، پلیٹوں کی ہلکی کھنک آ رہی تھی، اور دو لڑکیاں موبائل جھکائے سرگوشی کر رہی تھیں۔ مہرین نے ایک سانس لیا، اپنے ہاتھ سے وہی فہرست سیدھی کی جسے شازیہ نے ٹیڑھا پکڑا ہوا تھا، اور دائیں اوپر کونے پر چھپا ہوا لوگو پڑھ لیا—عمارت کے کمیونٹی ہال کا پرانا رجسٹر پرنٹ۔ نیچے تاریخ آج کی تھی، مگر نام پرانے سانچے میں چڑھایا گیا تھا۔ اس نے نظریں اٹھائیں۔ “تو پھر اصل رجسٹر بھی ہوگا۔”
شازیہ کے چہرے پر ایک لمحے کو رکاوٹ آئی، بہت ہلکی، مگر مہرین نے دیکھ لی۔ اگلے ہی لمحے وہ مسکرائی، وہی لوگوں کے سامنے والی مسکراہٹ۔ “ارسلان!” اس نے اونچی آواز میں بلایا، “ذرا اپنی دوست کو سمجھاؤ، رسم کے وقت ڈراما اچھا نہیں لگتا۔”
ارسلان اندر سے نکلا تو اس کی واسکٹ ابھی ٹھیک طرح بند بھی نہ ہوئی تھی۔ کبھی یہی لڑکا رات کو کورنگی سے ناظم آباد تک مہرین کو موٹر بائیک پر چھوڑنے جاتا تھا، کیونکہ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ رشتہ باتوں میں ہے، نام میں نہیں۔ آج اس نے پہلے فہرست دیکھی، پھر مہرین کو، پھر فوراً نظریں ہٹا لیں۔ “مہرین، ابھی نہیں۔ بعد میں بات کرتے ہیں۔”
“بعد میں کب؟” مہرین نے پوچھا۔ “جب سب کے سامنے مجھے کام والی کہہ چکے ہو؟”
شازیہ نے موقع لیا۔ “کام والی نہیں، مدد کے لیے آئی ہے۔ اتنا بھی برا نہ مانو۔ اور ویسے بھی پچھلی بار سے بات صاف ہے۔ خاندان نے نام لکھ دیا تھا، تمہارا نہیں تھا۔ ہر چیز جذبات سے نہیں چلتی، اندراج سے چلتی ہے۔”
یہ وہ پہلا کٹ تھا جو سیدھا ہڈی تک جاتا تھا۔ پچھلے سال خالہ نسرین کے گھر نکاح کی پہلی بات چلی تھی، پھر اچانک مہرین کا نام غائب ہو گیا، اور محفل میں کہا گیا کہ “لڑکی تو کبھی طے ہی نہ تھی، غلط فہمی تھی۔” اس دن بھی شازیہ نے ایک پرچی دکھائی تھی، کسی پرانے گھریلو رجسٹر کی نقل، جس میں دلہن کے کپڑوں اور زیور کے نیچے ایک نام لکھا تھا: **مہر النساء**۔ اس کے بعد سب نے یہی مان لیا تھا کہ مہرین نے خود کو آگے سمجھ لیا تھا۔ آج وہی جھوٹ دروازے پر پھر کھڑا تھا۔
مہرین نے دروازہ نہیں چھوڑا۔ “اصل رجسٹر دکھا دیں۔ ایک نظر ہی سہی۔ اگر اس میں میرا نام نہ ہوا تو میں خود کچن میں چلی جاؤں گی۔”
فھوپھی سمعیہ نے تیز سانس لی، جیسے کسی نے گرما گرم چائے چھلکا دی ہو۔ “یہ وقت ہے ان باتوں کا؟”
“وقت یہی ہے،” مہرین نے جواب دیا، “کیونکہ غلط نام بھی ابھی سب کے سامنے لکھا ہے۔”
ارسلان نے دبے لہجے میں کہا، “تم بات کیوں مشکل کر رہی ہو؟” مگر اس کے لفظوں میں وہ زور نہیں تھا جو کبھی فیصلے بدل دیتا تھا۔ شازیہ نے خود ہال کے منتظم لڑکے کو اشارہ کیا۔ “سٹور کی چابی لاؤ۔ اسے رجسٹر دیکھنا ہے تو دیکھ لے، پھر بات ختم۔”
یہ رعایت نہیں تھی؛ یہ یقین تھا کہ جو کچھ لکھی ہوئی چیز میں ہے، وہی اسے کچل دے گا۔ مہرین نے وہ یقین بھی نوٹ کر لیا۔
سٹور کے دروازے کے پاس لوہے کی الماری تھی، اوپر دھول، کناروں پر پرانی ٹیپ کی چھلکی ہوئی پٹیاں۔ منتظم نے رجسٹر نکالا تو اس کا سرورق نمی سے پھولا ہوا تھا۔ شازیہ نے کتاب اپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوشش کی، مگر مہرین نے پہلی بار سیدھا ہاتھ بڑھایا۔ “میرے سامنے کھولیے۔” اس آواز میں التجا نہیں تھی؛ یہ کام کے کاؤنٹر پر روز جھگڑالू گاہک روکنے والی سروس سیکٹر کی تربیت یافتہ سختی تھی۔
صفحے پلٹے۔ تاریخیں، نام، رقمیں، چیزوں کی فہرست۔ پھر وہ اندراج آ گیا جس نے پچھلے ایک سال سے اس کا نام چاٹ رکھا تھا۔ اوپر لکھا تھا: **منگنی نشست، خاندان کی اندرونی فہرست**۔ نیچے زیور، کپڑے، مہمان، اور ایک سطر: **مہرانساء – نشست اندر، خاندان**۔ شازیہ نے فوراً انگلی اسی سطر پر رکھ دی۔ “لو۔”
مہرین نے انگلی ہٹوا دی۔ “نیچے والا خانہ بھی پڑھیں۔”
نیچے دائیں کونے میں کاغذ گھسا ہوا تھا، جیسے کبھی وہاں سیل تھی یا پرچی چپکی ہو۔ روشنی کم تھی۔ مہرین نے رجسٹر کو دروازے کے قریب کھینچا جہاں راہداری کی سفید ٹیوب لائٹ سیدھی صفحے پر پڑتی تھی۔ وہاں ایک چھوٹا سا وقت لکھا تھا، باریک مگر صاف: **شام ۵:۱۲، تصحیح شدہ**۔ اور اس کے ساتھ مختصر دستخط: **ش.ر**۔
“تصحیح شدہ؟” مہرین کے منہ سے نکلا۔ اس نے اوپر والی سطر پھر دیکھی۔ لفظ کے درمیان ہلکی خراش تھی۔ **مہرین** کے نون پر سفید سیال پھیر کر اس کے بعد **ساء** چڑھایا گیا تھا۔
یہ بڑی سچائی نہیں تھی، مگر اتنی تھی کہ پورا کمرہ ایک دم سے ٹیڑھا محسوس ہونے لگا۔ پچھلی ذلت غلط فہمی نہیں تھی۔ کسی نے نام بدلا تھا، وقت ڈال کر بدلا تھا، اور دستخط بھی کیے تھے۔
شازیہ کا ہاتھ بے اختیار پیچھے ہٹا۔ “پرانی فائلوں میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ کلرک کی غلطی—”
“کلرک گھر کا تھا؟” مہرین نے دیکھا کہ دستخط شازیہ رافع کے مختصر حروف سے ملتے ہیں، وہی جو وہ واٹس ایپ پر دعوتی تصویروں کے نیچے لگاتی تھی۔ ارسلان نے پہلی بار رجسٹر کو مہرین کے ہاتھ میں رہنے دیا۔ اس کے گلے کی رگ کھنچی، مگر اس نے کچھ نہ کہا۔
خالہ نسرین راہداری تک آ گئی تھیں۔ “کیا ہوا؟”
شازیہ فوراً سیدھی ہو گئی۔ “کچھ نہیں خالہ، بس پرانی تحریر مٹی ہوئی ہے۔ میں نے تب پڑھنے کے لیے صاف کی تھی۔”
“صاف نہیں کی تھی، بدلی تھی،” مہرین نے کہا۔ اس نے صفحہ بند نہیں کیا۔ وہ ایک دم ماضی میں نہیں گئی، کوئی لمبی صفائی نہیں دی۔ بس ایک نئی چیز دیکھی: اندراج کے پچھلے صفحے میں دبے کاربن کا ہلکا عکس۔ جیسے کسی پرچی کی نیچے والی نقل کبھی ساتھ رکھی گئی ہو۔ “اصل پرچی کہاں ہے؟”
یہ سوال شازیہ کو پہلی بار بے آواز کر گیا۔ اس کی نظر خود بخود الماری کی نچلی دراز پر گری، صرف ایک لمحے کو، مگر مہرین کے لیے اتنا کافی تھا۔
دراز میں پرانی شادی کارڈوں، ٹیپ، پنوں، اور رسیدوں کے بیچ ایک بھورا لفافہ تھا۔ سامنے لکھا تھا: **داخلی فہرست / نہ لگانا**۔ شازیہ نے فوراً ہاتھ بڑھایا۔ “اس میں کچھ نہیں—”
مہرین نے لفافہ پہلے اٹھا لیا۔ اندر سے آدھی مڑی، نمی سے نرم پڑی ایک پرچی نکلی۔ اوپر وہی تاریخ۔ اوپر وہی عنوان۔ لیکن اس بار سطر صاف تھی: **مہرین طاہر – نشست اندر، خاندان**۔ نیچے دوسرے قلم سے تیر بنا تھا، پھر کٹا ہوا لفظ: **باہر**۔ اور سب سے نیچے ارسلان کے ہاتھ کی پہچانی ہوئی جلدی: **ابھی نہ لگانا، بھابھی سے پوچھنا**۔
راہداری جیسے کسی نے تنگ کر دی۔ اب ذلت کا ڈھانچا پورا دکھ رہا تھا۔ نام پہلے مہرین کا تھا۔ “باہر” بعد میں آیا۔ “بھابھی سے پوچھنا” اس سے بھی بعد میں۔ اور جو کچھ ایک سال سب کو سچ بنا کر سنایا گیا، وہ کسی لمحاتی گھبراہٹ یا بزرگوں کے فیصلے سے نہیں، باقاعدہ سنوارے گئے اندراج سے پیدا ہوا تھا۔
ارسلان نے پرچی دیکھتے ہی ہاتھ بڑھایا، مگر مہرین نے پیچھے کر لی۔ “ابھی نہیں۔” اس ایک لفظ میں سال بھر کی خاموشی کا سرد کنارہ تھا۔
ہال کے اندر سے اعلان کی آواز آئی کہ دلہن والوں کو دروازے کے قریب جمع ہونا ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب فیصلے بیٹھکوں سے دروازوں پر آ جاتے ہیں۔ خالہ نسرین نے گھبرا کر کہا، “جو بھی ہے، بعد میں دیکھیں گے۔ پہلے رسم—”
“پہلے جگہ طے ہوگی،” شازیہ نے تیزی سے کہا، آخری کوشش میں۔ “اگر یہ اندر کھڑی رہی تو اور باتیں بنیں گی۔ اسے کچن میں بھیج دو۔”
مگر اب “کچن” حکم نہیں لگ رہا تھا، پناہ گاہ لگ رہا تھا، اور شازیہ کو بھی یہ محسوس ہو رہا تھا۔ مہرین نے رجسٹر، پرچی، اور لفافہ اپنے بازو میں دبایا۔ دروازے کے ساتھ نوٹس بورڈ کے اوپر شیشے والا پینل لگا تھا، جہاں ہال کی بکنگ، پانی کے اوقات، اور جنازے کی اطلاعیں پن ہوتی تھیں۔ آج کی مہمان فہرست وہیں لگی تھی، اسی شیشے کے پیچھے، جہاں سے سارا جھوٹ اختیار لے رہا تھا۔
شازیہ آگے بڑھی۔ “ہاتھ مت لگانا، وہ انتظامیہ کا—”
“آج میرا نام بھی انتظامیہ سے باہر نہیں رہے گا،” مہرین نے کہا۔
اس نے شیشے کا کنارے والا کلپ اٹھایا، موجودہ فہرست نکالی، اور ایک نظر آخری بار اس جھوٹے لفظ پر ڈالی: **کیٹرنگ**۔ پھر اس کے پیچھے وہ پرانی اصل پرچی رکھی جس پر نمی کے باوجود نام پڑھا جا سکتا تھا—**مہرین طاہر – نشست اندر، خاندان**—ساتھ رجسٹر کے اسی صفحے کی نقل کھول دی، جہاں خراش، سفید سیال، اور **۵:۱۲، تصحیح شدہ** صاف دکھ رہا تھا۔ یہ تقریر نہیں تھی؛ کاغذ خود بول رہا تھا۔
ارسلان نے ہلکی آواز میں کہا، “مہرین...” شاید معافی، شاید روک، شاید وہی بزدل درمیانی جگہ جہاں وہ ہمیشہ کھڑا رہا۔ مہرین نے اس کی طرف دیکھے بغیر اپنی لینیارڈ سے لٹکی چھوٹی پن نکالی۔ پن کے سرے پر زنگ کی ہلکی تہہ تھی؛ دفتر کی نوٹس شیٹوں سے سالوں کی عادت اس کی انگلی میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے دونوں کاغذ ایک ساتھ شیشے پر جما دیے۔ پہلے اوپر والا کونا پھسلا، پھر نیچے کی نمی نے پرچی کو سرکانا چاہا۔ مہرین نے پن ذرا زور سے دھنسائی، بالکل وہاں جہاں پرانے کاغذ کا گھسا ہوا نشان تھا، جیسے کسی مرے ہوئے اندراج کی جگہ اب اسی پر بند ہو رہی ہو۔
کاغذ ایک لمحہ ہلا، پھر شیشے کے پیچھے ٹھہر گیا۔ پن کے گرد نمی کی باریک روشنی جمی رہی، اور پرچی کا نیچے والا کنارہ، جو ابھی تک سرک رہا تھا، اس کے ہاتھ ہٹتے ہی رک گیا۔