اصل ڈرائیور وہ تھا ہی نہیں
گاڑیوں کے پہیوں نے لوڈنگ بے کے سامنے چیخ ماری اور پھولوں سے ڈھکی دو ٹرالیاں ایک دوسرے میں اٹک گئیں۔ “روکو، روکو، پہلے گولڈ اسٹیج جائے گا!” فیصل نے رجسٹر اپنی کہنی کے نیچے دبا کر چیخا، اور عین اسی لمحے مہرین کے سامنے والی کرسی پر خود بیٹھ گیا۔ مہرین دروازے کے پاس کھڑی رہ گئی؛ اس کے کندھے کی سِلٹیں پورے دن کی ڈیوٹی سے چپٹی پڑ چکی تھیں، گلے میں لٹکا پرانا کارڈ بار بار مڑا ہوا سینے سے ٹکرا رہا تھا۔ بے نمبر تین بند تھی، بارات پہنچنے میں چالیس منٹ تھے، اور جس ترتیب سے سامان نکلنا تھا وہ فیصل کے پاس نہیں، مہرین کے ذہن اور اس رجسٹر میں تھی جو اس کے ہاتھ سے چھین لیا گیا تھا۔
باہر ہال کے سامنے برائیڈل انٹری والی گاڑی لگ چکی تھی۔ اندر، بیک لین میں باورچی خانے کی بھاپ، جنریٹر کی گڑگڑاہٹ اور راہداری کی ٹیوب لائٹ کی مسلسل بھنبھناہٹ ایک دوسرے پر چڑھی ہوئی تھیں۔ شازیہ آپا نے مہرین کے پاس آ کر دبی آواز میں کہا، “دلہن والوں کی خالہ نسرین باہر کھڑی ہیں، کہہ رہی ہیں ایک منٹ کی دیر بھی ہوئی تو گھر والوں اور دوستوں کو پتہ چلتے دیر نہیں لگے گی۔” مہرین نے جواب میں صرف ہاتھ بڑھایا۔ “رجسٹر دو۔” فیصل نے بغیر دیکھے کہا، “تم بس لڑکوں کو سیدھا کر دو۔ کمان میرے پاس ہے۔”
مہرین نے کرسی نہیں مانگی۔ وہ سیدھی پہلی اٹکی ٹرالی کی طرف گئی، نیچے جھک کر ایک ڈھیلا پہیہ لاک کیا، پھر عدنان کے ہاتھ سے رسّی کھینچ کر پھولوں کے خانے باندھے کہ راستے میں نہ گریں۔ “یہ آئینہ والا فریم ابھی نہیں، دیوار سے لگاؤ۔ پہلے مہندی کا سیٹ نکالو، دلہن کا واک وے بعد میں جائے گا۔” اس نے بغیر رجسٹر کے دو غلطیوں کو وہیں روکا جہاں وہ خرابی بننے والی تھیں۔ فیصل نے فوراً اس کی طرف انگلی اٹھائی، “میں نے کہا تھا گولڈ اسٹیج پہلے!” مگر گولڈ اسٹیج کی ٹرالی ابھی دروازے کے کونے میں پھنسی ہوئی تھی، اور اس کے سامنے برتنوں کی پیلیٹ ترچھی کھڑی تھی۔ فیصل کے حکم سے بس چیخ بڑھ رہی تھی، راستہ نہیں کھل رہا تھا۔
“مہرین!” شازیہ آپا نے دوسری طرف سے پکارا۔ “فریزر وین والا کہہ رہا ہے مٹھائی ابھی نہ لی تو وہ دوسرے ہال نکل جائے گا۔” فیصل نے رجسٹر پلٹنے کی ادا بنائی، جیسے سب کچھ اسی کے قابو میں ہو۔ “بولو اس کو انتظار کرے۔” “وہ انتظار نہیں کرے گا،” مہرین نے کہا۔ “اس کی اگلی بکنگ کورنگی میں ہے۔” فیصل نے تلخی سے ہنسا۔ “ہر چیز تمہیں ہی پتا ہے نا؟ پھر بھی تمہیں آگے کیوں نہیں بٹھایا جاتا، سوچا ہے کبھی؟” یہ بات اتنی اونچی کہی گئی کہ قریب کھڑے دو مزدور پلٹ کر دیکھنے لگے۔ یہ صرف روکا نہیں جا رہا تھا؛ اسے جگہ یاد دلائی جا رہی تھی۔
مہرین کے ٹھنڈے کھانے کا ڈبہ، جو دوپہر سے سٹیل کے ریک پر رکھا تھا، اب بھی بند پڑا تھا۔ اس نے اس پر ایک نظر بھی نہ ڈالی۔ وہ فریزر وین والے تک گئی، اپنے کارڈ کی ڈوری کھول کر اس کے ہاتھ میں تھمائی، “پانچ منٹ۔ میری امانت رکھ، مگر گاڑی یہیں رکھو۔” یہ پہلا جھٹکا تھا: رسائی کا۔ فیصل کرسی پر بیٹھا رہا، مگر وین نہیں گئی۔ عدنان نے فوراً راستہ خالی کرنے کو دو لڑکے ساتھ لگا دیے۔ مہرین واپس مڑی تو فیصل نے اس کا کارڈ وین والے کے ہاتھ میں دیکھا اور سرخ ہو گیا۔ “کس اجازت سے؟” “جتنی دیر آپ سوچتے رہیں گے، اتنی دیر میں آئس کریم پانی ہو جائے گی،” مہرین نے کہا اور پھر اس سے آگے گزر گئی۔
اب بندش ایک جگہ نہیں تھی؛ تین جگہیں ایک دوسرے کو روک رہی تھیں۔ بے نمبر تین کے شٹر کے نیچے لکڑی کی پیلیٹ پھنس گئی تھی۔ اس کے پیچھے دلہن کے کمرے کا فرنیچر، اس کے پیچھے مٹھائی کے کریٹس۔ فیصل نے ریڈیو پر غلط بے کا نمبر بولا تو سامنے والے دروازے پر کھڑی خالی ٹرالی بھی ادھر آ گئی جہاں پہلے ہی سانس لینے کی جگہ نہ تھی۔ ایک مزدور کے ہاتھ سے شیشے کے دو لالٹین نما سنٹر پیس پھسل کر زمین پر آ لگے۔ کانچ ٹوٹنے کی آواز نے سب کو ایک سیکنڈ کو ساکت کیا، پھر بھاگ دوڑ دوگنی ہو گئی۔ یہی وہ نقصان تھا جسے فیصل بعد میں کسی اور کے سر ڈال دیتا۔
“سب پیچھے ہٹو!” مہرین کی آواز پہلی بار پوری لین میں سیدھی گئی۔ فیصل نے فوراً اوپر سے دبانا چاہا، “میرے بغیر کوئی ٹرالی نہیں ہلے گی!” مگر ٹرالی ہل ہی نہیں سکتی تھی جب تک شٹر کے نیچے پھنسی پیلیٹ نہ نکلتی۔ مہرین نیچے گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئی۔ اس کے کُرتے کی آستین دھول اور گریس سے سیاہ ہوئی۔ اس نے لاک پن نکالا، عدنان کو کہا، “بائیں کونا اٹھاؤ۔ نہیں، ایک ساتھ نہیں۔ پہلے وزن پیچھے دو۔” پھر دائیں طرف والے لڑکے کو: “سن، برتنوں والی پیلیٹ ایک فٹ پیچھے، ابھی۔” کوئی تقریر نہیں ہوئی۔ صرف دو انچ جگہ بنی۔ پھر چار۔ پھر لکڑی چِرّ کر نکلی اور شٹر ایک جھٹکے سے اوپر گیا۔
“اب سنو!” مہرین کھڑی ہوتے ہی بولی۔ “مہندی سیٹ بے تین۔ مٹھائی سیدھی کولڈ روم سے کراس لین۔ آئینہ فریم دیوار کے ساتھ۔ گولڈ اسٹیج آخر میں، جب راستہ خالی ہو۔ عدنان، تم سامنے نہیں جاؤ گے، پیچھے سے موڑو۔” ایک لمحہ ایسا آیا جس میں سب نے فیصل کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ دو ٹرالیاں ایک ساتھ، بغیر ٹکرائے، پہلی بار چلیں۔ فریزر وین کا پچھلا دروازہ کھلا، کریٹس اترے، اور کراس لین میں رکی ہوا میں حرکت آ گئی۔ مہرین نے ہاتھ سے اشارہ کیا، شازیہ آپا نے وہی ترتیب آگے پکا دی۔ فیصل کے منہ سے بس اتنا نکلا، “میں نے بھی یہی کہا تھا—” مگر اس کے لفظ پہیوں کی گھرگھراہٹ میں دب گئے۔
حرکت شروع ہوتے ہی اس نے دوبارہ کرسی بچانے کی کوشش کی۔ وہ دو قدم میں ڈسپچ میز تک آیا، رجسٹر اور ریڈیو دونوں اپنی طرف سمیٹ لیے۔ “سب میرے ذریعے ہوگا۔ کوئی براہِ راست حکم نہیں لے گا،” اس نے زور سے کہا، جیسے ابھی ابھی جو کچھ ہوا وہ محض حادثہ تھا۔ مگر حادثے کے بعد آدمیوں کی آنکھ بدل جاتی ہے۔ عدنان مٹھائی کے کریٹس لے کر مہرین کے سامنے رکا۔ “آگے کدھر؟” فیصل چیخا، “میں یہیں ہوں!” عدنان نے سر بھی نہ موڑا۔ مہرین نے صرف دو انگلیاں دائیں کراس لین کی طرف کیں۔ “پھولوں والی ٹرالی کے پیچھے۔ ٹھنڈا کمرہ بند ہونے سے پہلے۔” عدنان چل دیا۔
فیصل کے جبڑے کسے۔ اس نے ریڈیو کھولا، غلطی سے بے دو کا کال سائن دبا دیا، پھر غصے میں دوبارہ بٹن پیٹا۔ شور آیا، جواب نہ آیا۔ “تم لوگوں کو ڈسپلن نہیں ہے!” اس نے مزدوروں پر برسنا چاہا، مگر اب کوئی خالی کھڑا نہیں تھا کہ ڈرے۔ شازیہ آپا نے سامنے سے ایک کاغذی پرچی اٹھا کر مہرین کو دی؛ دلہن والے آخری وقت پر اضافی فوٹو وال مانگ رہے تھے۔ “یہ شامل نہیں ہوگا!” فیصل نے فوراً کہا، کیونکہ شامل کرنے کا مطلب پھر ترتیب بدلنا تھا، اور ترتیب اب اس کے قابو میں نہیں تھی۔ “ہوگا، اگر بار والا کاؤنٹر آدھا فٹ پیچھے جائے،” مہرین نے ایک نظر میں جگہ ناپی۔ “اور اس کے لیے پہلے گلدان اترواؤ، ڈبے سمیت۔”
اس وقت خالہ نسرین خود بیک لین کے دہانے تک آ پہنچی تھیں، دوپٹہ سنبھالتی، غصے اور شرمندگی کے بیچ۔ “بیٹا، سامنے سب مہمان بیٹھ رہے ہیں، ہمیں رسوا نہ کرو۔” وہ فیصل کی طرف دیکھ رہی تھیں کیونکہ کرسی پر وہی تھا۔ فیصل نے فوراً نرم لہجہ اختیار کیا، “بس دو منٹ، خالہ جی، سب قابو میں ہے۔” اسی لمحے سامنے والی ٹرالی اس کے غلط اشارے سے بائیں مڑی اور فوٹو وال کا ایک فریم دروازے سے ٹکرا کر کونے سے چِھل گیا۔ رنگ اکھڑنے کی سفید لکیر دور سے بھی دکھ رہی تھی۔ خالہ نسرین کی آنکھ اسی پر جا ٹکی۔ فیصل کا “قابو” لکڑی پر ننگا لکھا گیا۔
بے چار نمبر پر آخری اور سب سے مہنگا بوجھ پڑا تھا: دلہن کا مرکزی اسٹیج، مصنوعی پھولوں کا آرچ، کرسٹل لائٹس، اور نام والا سنہرا مونوگرام۔ یہ اگر وقت پر نہ نکلتا تو پورا ہال آدھا سجا رہ جاتا۔ شٹر کھلا تھا، راستہ جزوی صاف تھا، مگر چھوڑنے کے لیے ایک درست ترتیب چاہیے تھی؛ پہلے آرچ، پھر لائٹس، پھر اسٹیج بیس۔ غلطی ہوئی تو سب دوبارہ اٹکے گا۔ فیصل نے اپنی انا کے آخری زور سے رجسٹر چھاتی سے لگا لیا۔ “اس کو کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا۔ میں چھوڑوں گا آخری بے۔”
مہرین نے پہلی بار اس کی طرف سیدھا دیکھا۔ اس کی پیشانی پر پسینہ تھا، آستین پر گریس، اور گلے میں کارڈ کی جگہ خالی ڈوری کا نشان۔ “آپ چھوڑ نہیں سکتے،” اس نے آہستہ کہا۔ “ہٹ جاؤ راستے سے۔” “آرچ پہلے گیا تو لائٹس پھنسیں گی۔ لائٹس پہلے گئیں تو بیس موڑ نہیں کھائے گا۔ آپ نے پچھلے ہفتے بھی یہی الٹا کروایا تھا، تب صرف چھوٹا فنکشن تھا۔ آج شادی ہے۔” فیصل نے ہاتھ بڑھا کر ریڈیو کان سے لگایا، جیسے اس ایک حرکت سے حقیقت بدل جائے۔ “بے چار، روانہ—” کوئی نہ ہلا۔
یہ توقف خاموشی نہیں تھا؛ یہ انکار تھا۔ پہیوں کی ہلکی چرچراہٹ رکی رہی، چار مزدور اپنی جگہ جمے، عدنان دونوں ہاتھ ٹرالی کے ہینڈل پر رکھے مہرین کو دیکھتا رہا۔ شازیہ آپا نے میز کے کنارے پر انگلی سے رجسٹر کی طرف اشارہ کیا مگر کچھ کہا نہیں۔ فیصل نے دوبارہ حکم دیا، اس بار تیزی سے۔ “میں کہہ رہا ہوں، روانہ کرو!” پھر بھی کوئی نہ ہلا۔ غلط آدمی کی آواز ایک دم ہلکی پڑ جاتی ہے جب کام کرنے والے اس پر وقت ضائع کرنا چھوڑ دیں۔
باہر سے نقارے کی آواز آئی؛ بارات دروازے پر تھی۔
مہرین نے ایک قدم بڑھایا۔ فیصل نے راستہ روکا، مگر اس کے پیچھے کھڑی خالہ نسرین کی نظریں اب اس پر نہیں، اس چھلے ہوئے فریم اور رکے بے پر تھیں۔ ہال کی عزت، گھر کی بات، سب اسی گلے ہوئے لمحے میں ایک طرف جھک گئے۔ مہرین نے فیصل کے ہاتھ کے نیچے سے رجسٹر پکڑا۔ اس نے جھٹکا دیا۔ رجسٹر کے اندر رکھی دو پرچیاں فرش پر گر پڑیں۔ اسی جنبش میں ریڈیو بھی اس کی ہتھیلی سے پھسل کر میز سے ٹکرایا اور گھومتا ہوا مہرین کے سامنے آ رکا۔ فیصل نے فوراً اسے دوبارہ چھیننے کو ہاتھ بڑھایا۔ مہرین نے ریڈیو پہلے اٹھایا، پھر رجسٹر اپنے بازو کے ساتھ جما لیا۔ “عدنان، نام بدل دو۔ سلیم اور جبار بے چار۔ نعیم کولڈ روم سے ہٹ کر لائٹس پر۔” عدنان نے ایک سیکنڈ میں پرچی پر قلم پھیر دیا۔
“تم کس حیثیت سے—” فیصل کی آواز ٹوٹی۔ “جس حیثیت سے کام نکلتا ہے۔” مہرین نے رجسٹر کھولا، انگلی سے سطر پکڑی، پھر سیدھا بے چار کی طرف منہ کیا۔ “آرچ آدھا باہر، پورا نہیں۔ لائٹس ساتھ ساتھ، ایک اونچائی پر۔ بیس آخر میں، دائیں موڑ سے۔ ابھی۔” ٹرالی چلی۔ آرچ دروازے کی چوکھٹ سے ایک بالشت بچ کر نکلا۔ لائٹس اس کے سائے میں سلائیڈ ہو گئیں۔ بیس نے موڑ لیا۔ کسی چیز نے کسی چیز کو نہ کاٹا، نہ روکا۔ آخری بے نکل گیا۔
فیصل نے دوبارہ چیخ کر اپنی جگہ بچانے کی کوشش کی۔ “رکو! فوٹو وال پہلے—” مگر اب اس کا حکم راستے میں پڑی ٹوٹی لالٹین کے کانچ جیسا تھا؛ نظر آتا تھا، کام کا نہیں تھا۔ مہرین نے ریڈیو کھولا، اس کی آواز سیدھی اور صاف: “کراس لین صاف رکھو۔ دلہن کا اسٹیج پہنچے تو مہندی سیٹ اندر۔ فوٹو وال بار کے بعد۔” آگے سے فوراً جواب آیا۔ وہی چینل جس پر ابھی فیصل کی آواز الجھ رہی تھی، اب سیدھا چل پڑا۔ شازیہ آپا نے میز پر پڑی باقی ناموں والی پٹیاں اٹھا کر مہرین کے ہاتھ کے پاس رکھ دیں، فیصل کے سامنے نہیں۔ یہ تعریف نہیں تھی؛ یہ صف بندی تھی۔
بے کے دہانے سے خالہ نسرین ایک قدم پیچھے ہٹیں، جیسے آخرکار سمجھ آ گیا ہو کس سے بات کرنی چاہیے تھی۔ فیصل نے کرسی کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر عدنان نے اسی کرسی کو خالی کرنے کے لیے پہیے والی چھوٹی میز آگے دھکیل دی۔ کرسی مہرین کے پیچھے آ گئی، فیصل کے نہیں۔ اس کے چہرے پر وہی آدمی رہ گیا جو تھوڑی دیر پہلے حکم دے رہا تھا، مگر اس کے اردگرد کوئی حکم لینے والا نہ تھا۔ سماجی خفت اکثر شور سے نہیں، نظرانداز ہو جانے سے مکمل ہوتی ہے۔
اب رفتار تیز تھی اور مہرین بھی۔ وہ بیٹھی نہیں، مگر کرسی اس کے گھٹنے کے پیچھے تھی، رجسٹر اس کے ہاتھ میں، ریڈیو اس کے انگوٹھے کے نیچے۔ “فوٹو وال کی پٹی بدل دو، خراش والا حصہ اندر۔ پھول اوپر سے ڈراپ کرو۔” “کولڈ روم بند کرو مگر مٹھائی کی ایک کریٹ باہر رہنے دو۔” “مہندی سیٹ کے بعد فرش صاف، ابھی، بارات اندر ہے۔” ہر حکم کسی چیز کو ہلاتا، کسی دروازے کو کھولتا، کسی رکاوٹ کو ہٹاتا۔ فیصل ایک بار پھر درمیان میں بولا، “میں نے کہا تھا نا—” مگر اسی وقت ریڈیو سے جواب آیا، “سمجھ گیا، مہرین باجی، اسی حساب سے بھیج رہے ہیں۔” یہ ایک مختصر سا وار تھا، مگر سیدھا نام پر۔ اب چینل بھی جانتا تھا کمان کس کے ہاتھ میں ہے۔
آخری کرسٹل لائٹ بے سے نکل کر اندر گئی تو مہرین نے رجسٹر کی تین سطروں پر جلدی سے نئے نام لکھے۔ پرانی ترتیب پر ایک سیدھی لکیر کھینچی، نئی پرچی اوپر لگائی، اور میز اپنی طرف سرکا لی۔ فیصل کا ہاتھ ابھی بھی کنارے پر تھا؛ میز اس کی انگلیوں کے نیچے سے نکل گئی۔ یہ چھینا جھپٹی نہیں، انتقال تھا—کھلے عام، واپس اسی طرف جہاں سے کام چلتا تھا۔
پچھلی کراس لین میں روشنی مدھم تھی، ٹیوب لائٹ کی بھنبھناہٹ اب بھی کان کے ساتھ رگڑ کھا رہی تھی۔ مہرین نے ریڈیو کو رجسٹر کے اوپر رکھا، نئے ناموں والی پرچیاں سیدھی کیں، پھر بٹن دبا کر مختصر سا کہا، “ڈسپچ میرے پاس ہے۔ بے چار بند، بے دو چھوڑو۔” ریڈیو میں ایک چھوٹی سی کڑک اٹھی، پھر شور پتلا ہوتا گیا، اور جامد آواز صاف ہوتی ہوئی مر گئی۔