Fast Fiction

بس ایک قدم پہلے

حدیہ بھابھی نے دروازے میں ہاتھ پھیلا کر راستہ روکا اور کہا، “ٹرے اندر دے دو، مریم، تم بس کچن تک ٹھیک لگتی ہو۔” مریم نے چائے کی ٹرے ذرا اوپر سنبھالی؛ کپوں کے ساتھ رکھی آدھی مڑی رسید اس کے انگوٹھے کے نیچے سے پھسل کر کنارے تک آئی، وہی رسید جس پر اس نے صبح سبزی، دودھ اور اپنے بس کارڈ کی ریچارج ایک ہی سانس میں لکھوائی تھی۔ ڈرائنگ روم کی روشنی دروازے کے فریم میں پھنسی ہوئی تھی۔ سامنے سے حمزہ ایک قدم آگے آیا تاکہ ٹرے لے لے۔ دونوں کے ہاتھ ایک ہی ہینڈل پر ایک لحظہ رکے۔ حدیہ بھابھی نے فوراً ہنس کر کہا، “ارے آپ کیوں؟ مہمان آ رہے ہیں، آپ اندر بیٹھیں۔” حمزہ نے ہاتھ کھینچ لیا، جیسے گھر کے قاعدے اس کی کلائی میں بندھے ہوں۔ مریم نے بھی ٹرے چھوڑ دی، مگر اس ایک جھٹکے میں اتنی قربت آ گئی تھی کہ وہ شام اچانک خطرناک محسوس ہونے لگی۔

یہ کراچی کی وہ شام تھی جس میں سمندر کی نمی لفٹ کے دھندلے شیشے تک چڑھ آتی ہے اور لوگ اپنے اپنے فلیٹوں میں عزت کے نام پر دیواریں موٹی کر لیتے ہیں۔ مریم نیچے سروس سیکٹر کی نوکری سے سیدھی آئی تھی؛ ریسیپشن ڈیسک پر آٹھ گھنٹے کھڑے رہنے کے بعد خالہ صائمہ کے کہنے پر اوپر چڑھی، کیونکہ گھر میں لڑکی والے آ رہے تھے اور “اپنے لوگ” ہاتھ بٹاتے ہیں۔ اپنے لوگ۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی نسبت کا یہی نام بچا تھا: جب ضرورت ہو تو وہ اندر کی سمجھی جائے، اور جب بیٹھک سجے تو اسے برتنوں کے ساتھ پیچھے کر دیا جائے۔

کھانے کی میز پر حدیہ بھابھی نے ترتیب بھی اسی طرح رکھی۔ بڑے صوفے پر حمزہ، اس کے بڑے بھائی، خالہ صائمہ اور آنے والے مہمان۔ سامنے کرسی پر نادیہ بیٹھی، بینک میں نوکری، مناسب خاندان، مناسب لہجہ، مناسب دوپٹہ۔ مریم کے لیے کچن کے دروازے کے پاس چھوٹی موڑھی رکھ دی گئی۔ “تم ادھر رہو تو آسانی رہتی ہے، پانی ویسے بھی تمہیں ہی اٹھنا ہوتا ہے۔” جملہ سادہ تھا، چوٹ صاف تھی۔ نادیہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا، “آپ بھی رشتہ داری میں ہیں؟” حدیہ بھابھی نے چائے ڈالتے ہوئے جواب دیا، “ہاں، بس گھر کی بچی ہے، بہت کام کی۔” کام کی۔ جیسے کسی نے آدمی کا نام اتار کر اس پر استعمال کا لیبل چپکا دیا ہو۔

حمزہ نے یہ سنا۔ اس نے فوراً کچھ نہیں کہا۔ یہی بدترین بات تھی۔ اس نے صرف گلاس کی تہہ پر انگلی پھیری اور نظریں ایک پل کو مریم کی طرف اٹھیں، پھر مہمانوں کی طرف واپس جا گریں۔ مریم نے پانی رکھا، روٹی بڑھائی، سوالوں کے بیچ خاموشی سے چلتی رہی۔ جب نادیہ نے ڈرائنگ روم میں آتے ہوئے اپنی سینڈل اتاری تو حدیہ بھابھی نے خود جھک کر سیدھی کر دیں۔ مریم کی جوتی البتہ دروازے کے پیچھے دھکیلی ہوئی پڑی رہی، جیسے کسی کو یاد ہی نہ ہو کہ وہ بھی اسی شام اس گھر میں آئی تھی۔

کھانے کے بعد خالہ صائمہ نے حدیہ بھابھی کو آہستہ سے کہا، مگر اتنا آہستہ نہیں کہ مریم نہ سن سکے، “مریم کو اب واپس بھیج دو۔ رات ہو رہی ہے۔ لوگ بیٹھے ہیں۔” حدیہ بھابھی نے فوراً آواز بلند کر دی، “ہاں، اور نیچے گارڈ کو بھی اچھا نہیں لگتا کہ لڑکیاں دیر تک اوپر رہیں۔” یہ وہی گھر تھا جہاں مہینوں سے مریم آتی جاتی تھی، رمضان میں افطار بناتی، خالہ کی دوا لاتی، حمزہ کی فائلیں پرنٹ کروا دیتی۔ مگر آج، جب ایک بہتر نام والی لڑکی صوفے پر موجود تھی، یہی دروازہ اچانک شرعی، سماجی، خاندانی سب کچھ بن گیا۔

مریم نے کچن سے اپنا ٹھنڈا پڑا ہوا کھانے کا چھوٹا ڈبہ اٹھایا، جو اس نے دوپہر کے وقفے میں ادھورا چھوڑ دیا تھا۔ لفٹ کی طرف چلتے ہوئے اس نے اپنے بس کارڈ کے گھسے کنارے کو انگلی سے رگڑا۔ پیچھے قدموں کی آہٹ آئی۔ وہ مڑی نہیں۔ لفٹ کے دھندلے آئینے میں حمزہ کی پرچھائیں اس کے پیچھے آ کر رکی۔ اتنی قریب کہ اگر وہ ذرا سا پیچھے ہٹتی تو کاندھا لگ جاتا۔ اتنی دور کہ دونوں میں سے کوئی بھی انکار کر سکتا تھا۔ حمزہ نے ہاتھ بڑھا کر لفٹ کا دروازہ بند ہونے سے روکا اور دھیمی آواز میں کہا، “میں نیچے چھوڑ دیتا ہوں۔” مریم نے فوراً “ضرورت نہیں” نہیں کہا۔ یہی پہلا خطرہ تھا۔ ایک سانس جتنی دیر تک اس نے انکار مؤخر رکھا، اتنی دیر میں حد پار ہونے کی پوری گنجائش پیدا ہو گئی۔ پھر اوپر سے حدیہ بھابھی کی آواز آئی، “حمزہ! مہمان بیٹھے ہیں!” اس نے ہاتھ دروازے سے ہٹایا۔ مریم لفٹ میں چلی گئی۔ دروازہ بند ہوتے وقت آئینے پر پچھلے کسی ہاتھ کے دھبے اس کے چہرے کو دھندلا کر گئے۔

دو دن بعد خالہ صائمہ کو کلینک لے جانا تھا۔ حدیہ بھابھی نے صبح ہی حکم لگایا، “مریم، تم باہر انتظار کرنا۔ اندر صرف گھر کے لوگ جائیں گے۔” مریم نے جواب نہیں دیا۔ وہ ویسے بھی دفتر سے آدھا دن کی چھٹی کاٹ کر آئی تھی۔ کلینک کی تنگ سیڑھیاں، نیچے دوائیوں کی دکان، اوپر سفید بلب، اور رجسٹر والی میز پر بیٹھا کمپاؤنڈر جو ہر دوسرے مریض کو شک کی نظر سے دیکھتا تھا۔ انتظارگاہ میں نادیہ بھی آ گئی؛ اتفاقاً نہیں، حدیہ بھابھی کے بلاوے پر۔ وہ پھل لے آئی تھی، آواز میں نرمی اور موجودگی میں دعویٰ۔ حدیہ بھابھی نے مریم کو دیکھ کر کہا، “اچھا ہوا تم آ گئیں، ذرا پرچی جمع کرا دو۔”

کمپاؤنڈر نے نام پوچھا، “ساتھ کون ہے مریض کے؟” حدیہ بھابھی منہ کھولتی، اس سے پہلے حمزہ نے، جو خالہ کو سہارا دیے اوپر چڑھا آ رہا تھا، سیدھا رجسٹر اپنی طرف کھینچا، پھر قلم مریم کے سامنے رکھ دیا۔ “پرچی مریم جمع کرائے گی۔ اور اندر وہ رہے گی۔ خالہ کو دو آدمیوں کا ہجوم نہیں چاہیے۔” الفاظ کم تھے، ضرب پوری۔ حدیہ بھابھی کے چہرے پر ایک لمحے کو وہی حیرت آئی جو امیر لوگوں کو تب آتی ہے جب کوئی ان کے ترتیب دیے ہوئے منظر میں کرسی بدل دے۔ نادیہ نے ہاتھ میں پکڑا پھلوں کا تھیلا ذرا نیچے کر لیا۔ کمپاؤنڈر نے دوبارہ سوال نہیں کیا۔ رجسٹر مریم کی طرف تھا؛ پہلی بار کسی نے گھر کی دیوار سے باہر، لوگوں کے سامنے، اس کے لیے جگہ نہیں بلکہ حق کھسکا کر رکھا تھا۔

وہ اندر گئی تو خالہ صائمہ کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ مریم نے پانی دیا، دوپٹہ سنبھالا، نسخہ لیا۔ جب ڈاکٹر نے کہا، “رات کی دوا وقت پر دینی ہے، کسی ذمہ دار کو سمجھا دیتا ہوں،” حمزہ نے دروازے سے کھڑے کھڑے کہا، “مریم سمجھ لے گی۔” اس جملے میں محبت نہیں تھی، اعلان نہیں تھا، مگر اعتماد کھڑا تھا۔ اسی لیے زیادہ خطرناک تھا۔ مریم نے نسخہ پکڑا، اور پہلی بار اس کی انگلیاں کانپیں۔ اس نے فوراً اپنی مڑی رسید اسی نسخے کے نیچے دبا دی، جیسے حساب اور حیثیت کو ایک ہی کاغذ کے اندر قابو میں رکھنا چاہتی ہو۔

اس دن کے بعد عام جگہیں عام نہ رہیں۔ فلیٹ کی لفٹ کا آئینہ، سیڑھی کا موڑ، کچن اور ڈائننگ کے درمیان آدھا پردہ—ہر جگہ ایک چھپی ہوئی شناخت سانس لیتی تھی۔ مگر حمزہ نے کوئی آسانی نہیں دی۔ یہی اس کی سختی تھی۔ وہ اب بھی خاندان کے سامنے خاموش رہتا، اب بھی حدیہ بھابھی کے جملے نہیں کاٹتا، اب بھی مریم کو نام دے کر نہیں بلاتا جب دوسرے سن رہے ہوں۔ صرف چھوٹی چھوٹی ناممکن رعایتیں پیدا ہوتی رہیں: خالہ کی دوا کی چابی اس کے ہاتھ میں آ جاتی، رجسٹر میز کے اس طرف سرک جاتا، یا واپسی پر موٹر بائیک کی چابی نکالنے کے بجائے وہ خود رکشہ روکتا تاکہ ساتھ بیٹھنے کی ذلت اور جرات، دونوں سے بچا رہے۔ مریم کو انہی ادھورے فیصلوں میں پہچان ملتی اور انہی میں سزا۔

جمعے کی رات خاندان کے کھانے کے بعد حدیہ بھابھی نے آخری وار کیا۔ “کل نادیہ کے گھر جانا ہے۔ خالہ، آپ دعا کریں اب بات آگے بڑھے۔ کچھ چیزیں عمر کے ساتھ نہیں ٹالنی چاہییں۔” پھر مریم کی طرف دیکھے بغیر بولی، “اور مریم، تم صبح جلدی آ جانا، میٹھا بنانا ہے۔ باہر کے لوگ آ رہے ہیں، ہاتھ چاہیے ہوتے ہیں۔” ہاتھ۔ پھر وہی۔ مریم نے پلیٹیں سمیٹیں، ٹھنڈا سالن ڈبے میں ڈالا، اور خالہ کے کمرے میں دوا رکھ آئی۔ حمزہ پورے وقت موجود تھا۔ اس نے صرف ایک بار کہا، “کافی ہے، باقی میں رکھ دوں گا۔” حدیہ بھابھی نے فوراً ہنس کر کاٹ دیا، “آپ رہنے دیں، یہ کام جانتی ہے۔”

رات بہت گزر چکی تھی جب مریم نکلنے لگی۔ خالہ سو چکی تھیں۔ ڈرائنگ روم کی بتیاں بجھ گئی تھیں، صرف سیڑھی کے موڑ پر زرد روشنی جل رہی تھی کیونکہ لفٹ پھر سے بند تھی۔ حدیہ بھابھی نے اوپر سے آواز دی، “دروازہ بند کر کے جانا، مریم۔” جیسے وہ کوئی مستقل ملازمہ ہو، کوئی رشتہ نہیں، کوئی خطرہ نہیں، کچھ بھی نہیں۔ مریم نے اپنا ڈبہ، نسخہ اور وہ آدھی مڑی رسید ایک ساتھ ہاتھ میں پکڑی اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔

پہلے موڑ تک پہنچی تو اوپر سے قدم اترتے سنائی دیے۔ حمزہ تھا۔ نہ جلدی میں، نہ بہانے میں۔ بس اتنی دیر سے آیا کہ یہ اتفاق نہ لگے۔ سیڑھی تنگ تھی؛ ایک طرف دیوار، دوسری طرف لوہے کی ریلنگ جس پر پرانی پینٹ اکھڑی ہوئی تھی۔ وہ ایک سیڑھی اوپر رکا، مریم ایک نیچے۔ ان کے درمیان بس آدھا قدم کا فرق تھا، وہی فرق جو اگر کوئی اور جگہ ہوتی تو کچھ بھی نہ ہوتا، مگر یہاں پورے خاندان، پورے شہر، پوری عورت کی عزت جتنا بھاری تھا۔

حمزہ نے آہستہ سے کہا، “نیچے اکیلی جاؤ گی؟”

مریم نے جواب دینے میں دیر کی۔ نیچے کی تاریکی میں عمارت کا دروازہ بند تھا، باہر سڑک پر آدھی رات کی گاڑیوں کا شور، اندر اس کے اور اس کے درمیان سانس کی ہلکی گرمی۔ “میں ہمیشہ اکیلی ہی جاتی ہوں،” اس نے کہا۔ جملہ نرم تھا، کاٹ سخت تھی۔

وہ اور ایک سیڑھی نیچے آ سکتا تھا۔ اس کے چہرے پر وہی روکی ہوئی بے بسی تھی جو کسی ایسے آدمی میں ہوتی ہے جسے آخرکار سمجھ آ جائے کہ خاموشی بھی ظلم کی ایک شکل ہے، مگر سمجھ آ جانے سے ماضی صاف نہیں ہو جاتا۔ اس نے ریلنگ پر ہاتھ رکھا۔ “مریم—” صرف نام۔ پہلی بار اس وقت، جب کوئی سن نہیں رہا تھا۔ نام میں جو کچھ بھی تھا، وہ دیر سے آیا تھا اور اسی لیے کم تر نہیں ہوا؛ زیادہ بھاری ہو گیا۔

مریم نے اوپر دیکھا۔ اس فاصلے پر اس کی کلائی تک ہاتھ بڑھانا مشکل نہ تھا۔ شاید اسی لیے ناممکن تھا۔ وہ چاہتی تو کہہ سکتی تھی، آج نیچے تک چھوڑ دو۔ چاہتی تو ایک قدم اوپر رکھ سکتی تھی، اور پھر ساری بےعزتیوں کا حساب اس ایک نرم لمحے میں کم از کم تھوڑی دیر کے لیے ڈوب جاتا۔ مگر پھر یہی لمحہ سستا ہو جاتا، چوری کی طرح، چھپے ہوئے احسان کی طرح، اس نسبت کے خلاف جسے وہ مہینوں سے بےنام سہی مگر بےقیمت نہیں رہنے دینا چاہتی تھی۔

اس نے اپنے ہاتھ میں دبی چابیوں کی چھنکار روکی، پھر خالہ کے دوا والے چھوٹے گچھے کی چابی الگ کی اور سیڑھی کے کنارے پر اوپر کی طرف بڑھا دی۔ “یہ خالہ کی الماری کی ہے۔ کل صبح مجھے میٹھا بنانے نہیں آنا۔ دوا وقت پر دے دیجیے گا۔”

حمزہ نے چابی لینے کو ہاتھ بڑھایا۔ ان کی انگلیوں کے بیچ ہوا کی ایک باریک تہہ رہ گئی۔ مریم نے چابی اس کی ہتھیلی میں رکھنے کے بجائے ریلنگ کے اوپر والے چپٹے حصے پر رکھ دی۔ دھات کی ہلکی سی ٹک ہوئی۔ یہی اس کا جواب تھا: خدمت واپس نہیں، اختیار واپس۔ میں آ سکتی ہوں، مگر بلانے کے انداز پر نہیں۔ میں موجود ہوں، مگر استعمال کے نام سے نہیں۔

حمزہ کی سانس ذرا گہری ہوئی۔ “اگر تم نہ آؤ تو—” وہیں رک گیا۔ جملے کا باقی حصہ یا تو بہت سچا تھا یا بہت کمزور؛ دونوں صورتوں میں مریم نے سننے کا حق اسے نہیں دیا۔ اس نے اپنا ڈبہ سینے سے ذرا اور لگا لیا۔ سردی نہ تھی، پھر بھی اس کے بازوؤں میں ایک گرفت آ گئی۔

“تو پھر یاد رہے گا کس کو کس جگہ رکھا گیا تھا،” مریم نے آہستہ سے کہا۔ آواز اونچی نہیں ہوئی، مگر سیڑھی کی تنگی میں کہیں ٹکرائے بغیر سیدھی کھڑی رہی۔

حمزہ ایک قدم نیچے آیا۔ بس ایک۔ اب فرق تقریباً ختم ہو سکتا تھا۔ زرد بلب کی روشنی میں اس کا سایہ دیوار پر جھک کر مریم کے سائے کے قریب پہنچا۔ نام، رات، تنہائی، پچھلے دنوں کی ساری چھوٹی رعایتیں—سب نے مل کر اس آدھے قدم کو تقریباً ناگزیر بنا دیا۔ مریم نے اس لمحے کو آتے دیکھا، پورے ہوش میں دیکھا۔ پھر خود پہلے ہٹی۔ صرف اتنا کہ قریب آنا ناممکن ہو جائے، دوری انکار نہ لگے، مگر اجازت بھی نہ بنے۔

“حمزہ صاحب،” اس نے پہلی بار اس کے نام کے ساتھ فاصلہ جوڑ کر کہا، “جو بات دن کے اجالے میں اپنی جگہ نہ بنا سکے، اسے رات کی سیڑھی پر جگہ نہیں دینی چاہیے۔”

وہ مڑی۔ نیچے اترنے کے لیے نہیں، پہلے اپنے قدم کی حد مقرر کرنے کے لیے۔ اس نے جوتے کی نوک اگلی سیڑھی کے کنارے تک لے جا کر روک دی، جیسے اپنے ہی جسم کو حکم دے رہی ہو کہ بس یہاں تک۔ اوپر لینڈنگ سے ایک قدم نیچے وہ تھم گئی، اور وہ ایک قدم اوپر۔ دیوار پر ان کے سائے چھو رہے تھے، مگر ایک دوسرے میں مل نہیں رہے تھے۔