بس ایک قدم پہلے #2
خالہ شمیم نے مہر کے ہاتھ سے مہمانوں کی فہرست چھین کر ریما کی طرف بڑھا دی۔ “یہ والی میزیں تم دیکھو، اور مہر، تم کچن کے دروازے پہ رہو۔ پلیٹیں کم نہ ہوں۔” ہال میں جھاڑ فانوس گرم روشنی پھینک رہے تھے، سفید غلافوں والی کرسیاں سیدھی قطار میں کھڑی تھیں، اور مہر کے گلے میں پڑا بار بار استعمال سے مڑا تڑا شناختی فیتہ پسینے سے نم تھا۔ فہرست اس نے بنائی تھی، نشستیں اس نے بدلوائی تھیں، دلہن کے ماموں کے تین الگ نخرے اسی نے سنے تھے، مگر خالہ شمیم نے ریما کی طرف دیکھ کر اونچی آواز میں کہا، “اچھا کام۔”
مہر نے کچھ نہیں کہا۔ کراچی کے اس سروس سیکٹر میں خاموشی بھی ہنر تھی؛ جو لڑکی ہر وقت جواب دے، وہ جلدی بدل دی جاتی ہے۔ اس نے ٹھنڈا پڑا کھانے کا ڈبہ پانی کے کولر کے پاس رکھ دیا اور کچن کے دروازے پر جا کھڑی ہوئی، جہاں سے ہال بھی دکھتا تھا اور بھاپ بھی آتی تھی۔ اسی وقت سہیل اندر آیا—سیاہ شلوار قمیص، کلائی پر گھڑی، جیب میں گاڑی کی چابی، چہرے پر وہی تھکا ہوا ضبط جو اس کے گھر والوں کو شرافت لگتا تھا۔ اس نے ریما کی طرف دیکھ کر سر ہلایا، پھر ایک لمحہ دیر سے اس کی نظر مہر پر پڑی؛ مہر کے ہاتھ میں وہی مارکر تھا جس سے فہرست لکھی گئی تھی۔
“یہ تبدیلی کس نے کی تھی؟” اس نے فہرست لے کر پوچھا۔
ریما نے ہچکچائے بغیر کہا، “میں نے۔”
مہر نے پلک تک نہ جھپکی۔ سہیل کی نگاہ فہرست سے مارکر تک، مارکر سے مہر کے ہاتھ تک آئی۔ بس ایک سانس جتنی دیر۔ وہ اتنا قریب تھا کہ اگر مہر ایک قدم آگے بڑھتی تو اس کے آستین کا کنارا اس کے کندھے سے لگتا، مگر کچن کی دہلیز اور ہال کے بیچ رکھا فاصلہ رسم کی طرح قائم رہا۔ سہیل نے کچھ نہیں کہا۔ یہی اس کی دیر تھی، اور یہی مہر کی پہلی چوٹ۔
رات ختم ہوئی تو بارہ بج چکے تھے۔ بیرونی برآمدے میں پلاسٹک کی کرسی کے کونے پر بیٹھ کر مہر رسیدیں ملا رہی تھی جب عادل نے آ کر کہا، “اوپر والے دفتر کی چابی سہیل بھائی کے پاس رہ گئی۔ خالہ نے کہا تم لے آؤ۔ صبح آڈٹ ہے۔” اس نے تھکی ہوئی انگلیوں سے شناختی فیتہ سیدھا کیا۔ چابی لینا معمولی کام تھا، مگر دیر سے لوٹائی گئی چابی اکثر یہی بتاتی تھی کہ کس کو اوپر جانے کی اجازت ہے اور کس کو نہیں۔
اوپر کی منزل نیم تاریک تھی۔ لفٹ کے سامنے پیلی روشنی جل رہی تھی، راہداری میں قالین کا ایک کونا مڑا ہوا تھا۔ سہیل دفتر کے باہر کھڑا فون بند کر رہا تھا۔ اس نے مہر کو دیکھ کر جیب سے چابی نکالی، پھر جیسے یاد آیا، ساتھ ہی ایک اور چیز بھی نکالی—نیلا کارڈ ہولڈر، جس میں عمارت کا داخلی پاس لگا تھا۔ “یہ بھی تمہارا ہے؟”
“میرے بغیر اوپر کا دروازہ نہیں کھلتا،” مہر نے کہا۔
“آج کھل گیا تھا۔” اس کے لہجے میں معذرت نہیں تھی، بس سیدھی بات تھی، اور یہی بات زیادہ خطرناک تھی۔
اس نے چابی آگے بڑھائی۔ مہر نے لینے کو ہاتھ بڑھایا تو اس کی انگلیاں فیتے کے ساتھ الجھ گئیں۔ سہیل نے فورا چھوڑنا چاہا، مگر کارڈ کی پٹی اس کے انگوٹھے میں پھنس گئی۔ ایک لمحہ دونوں کے ہاتھ ایک ہی بوسیدہ فیتے پر تھے۔ راہداری خالی تھی، پھر بھی مہر نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ “دیر ہو گئی ہے، نیچے لوگ ہیں۔”
سہیل ایک طرف ہٹ گیا۔ “ہاں۔”
اگلے دو دن اسی طرح گزرے؛ ایک بار وہ آدھی رات کو پھول والے کے حساب کے لیے اوپر بلائی گئی، ایک بار خالہ شمیم نے سہیل کی امی کے لیے دوا نیچے پارکنگ تک پہنچانے بھیجا۔ ہر بار کوئی نہ کوئی چھوٹی چیز اس کے ہاتھ سے ہو کر سہیل تک جاتی—فائل، چابی، پاس، رسید—اور ہر بار وہی ہوتا: وہ سب کے سامنے فاصلے کی پوری پابندی کرتا، مگر اکیلے میں اس کی آنکھیں اس چیز پر ٹھہرتیں جسے باقی سب محض استعمال سمجھتے تھے۔ مہر کو یہ نرمی نہیں لگی؛ یہ دیر سے آنے والی پہچان تھی، اور دیر سے آنے والی ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔
تیسرے دن شام کو دفتر کے اسٹور روم میں ریما نے اس پر آواز کَسی۔ “سنو، اوپر والی مہمان لسٹ دوبارہ بنا دو۔ اور آج رات تم یہیں رک جانا، سہیل بھائی نے کہا ہے۔” آخری جملہ اس نے خاص طور پر خالہ شمیم کے سامنے کہا، جیسے احسان سنا رہی ہو۔
مہر نے لسٹ اس کے ہاتھ سے نہیں لی۔ “اگر سہیل صاحب نے کہا ہے تو وہ خود کہیں۔”
خالہ شمیم مڑی۔ “تم سے کہا جا رہا ہے، بس کر لو۔”
“کام کر لوں گی،” مہر نے سیدھا جواب دیا، “لیکن نام غلط نہ بولیں۔ حکم آپ دیں یا وہ، ریما نہیں دے گی۔”
ریما کے چہرے پر لالی دوڑ گئی۔ “بڑی آئی—”
اسی وقت سہیل دروازے پر آ کر رکا۔ اسٹور روم تنگ تھا؛ ایک طرف ٹشو کے ڈبے، دوسری طرف پانی کی بوتلوں کے کارٹن۔ ریما اس کے قریب ہو کر گزرنا چاہتی تھی، مگر مہر نے لسٹ لینے کے بجائے دروازے کی چوکھٹ پر ہتھیلی رکھ دی۔ “پہلے بات صاف ہو گی۔” اس نے سہیل کی طرف دیکھے بغیر کہا، “اگر مجھے روکنا ہے تو براہِ راست کہیں۔ اگر نہیں، تو میرے نام پر دوسروں کو مت بھیجیں۔”
خالہ شمیم نے طنزیہ ہنسی ہنسی۔ “بڑی عزت چاہیے اسے۔”
سہیل نے پہلی بار بغیر گھماؤ کے کہا، “ریما، تم نیچے جاؤ۔ لسٹ مہر بنائے گی۔ اور آئندہ اس کے کام کا حکم میرے نام سے مت دو۔”
کمرے میں کچھ ٹوٹا نہیں، مگر ترتیب بدل گئی۔ ریما جاتے جاتے کندھا مارنے کو مڑی تھی، پھر دروازے میں مہر کی ہتھیلی دیکھ کر خود پیچھے ہٹ گئی۔ مہر نے تب ہاتھ ہٹایا۔ سہیل اندر نہیں آیا۔
اس کے بعد خالہ شمیم کی ناراضی چھپی نہیں رہی۔ ہفتے کے آخر میں سہیل کی چھوٹی پھوپھی کے گھر منگنی کی بیٹھک تھی، اور ایونٹ فرم کا آدھا عملہ وہاں کام پر تھا کیونکہ “اپنے لوگ ہیں” کہہ کر الگ سے پیسے بچائے جا رہے تھے۔ مہر صبح سے دوڑ رہی تھی؛ ڈرائنگ روم میں مٹھائی سجانا، صحن میں کرسیاں ٹھیک کرنا، چھت پر لائٹوں کی تار دیکھنا۔ دوپہر کے بعد جب خواتین بیٹھنے لگیں تو خالہ شمیم نے ریما کو اندر، اے سی والے کمرے میں پانی کے جگ کے ساتھ بٹھا دیا اور مہر کو دروازے کے پاس پلاسٹک کی کرسی کے کونے پر۔ “جو آئے، جوتے سیدھے کرے، دوپٹہ سنبھال کے اندر بھیجے۔”
دروازہ آدھا کھلا تھا۔ اندر ہنسی، چوڑیاں، سونے کی کھنک۔ باہر مہر کے پاس جوتوں کی قطار، گرمی، اور اس کا ٹھنڈا پڑا کھانے کا ڈبہ جو ابھی تک نہ کھلا تھا۔ ایک بزرگ خاتون نے آتے ہی ریما سے پوچھا، “بیٹا، تم دفتر سنبھالتی ہو؟” ریما نے مسکرا کر کہا، “جی، زیادہ تر۔” مہر نے جھک کر ان کے سینڈل سیدھے کیے۔
سہیل باہر سے دو آدمیوں کے ساتھ آیا۔ اس نے دروازے پر ایک لمحہ ٹھہر کر اندر ریما کو بیٹھے دیکھا، پھر نیچے نظر آئی—مہر جوتوں کے پاس بیٹھی تھی، دامن سمیٹے، ہاتھ میں داخلی فہرست۔ اس کے ساتھ آئے آدمیوں میں سے ایک نے آہستہ سے کہا، “اچھا ہے، لڑکیاں سلیقے سے رکھی ہیں۔” سہیل نے جواب نہیں دیا۔ جواب کی جگہ اس نے بس اپنا فون جیب میں ڈالا اور اندر چلا گیا، جیسے کسی نے اس کے گلے میں ایک پتلا سا لوہا کس دیا ہو اور وہ اسے سب کے سامنے کھول نہیں سکتا۔
مہر کے لیے یہی سب سے زیادہ ذلت آمیز تھا: وہ دیکھتا تھا، مگر عوامی وجہ کے بغیر کچھ نہیں کرتا تھا۔ اور شاید یہی وجہ تھی کہ جب مغرب کے بعد خالہ شمیم نے سب کے سامنے کہا، “اوپر گیسٹ سوئٹ میں چائے رکھ آؤ، لیکن سامنے والی لفٹ سے نہیں، پیچھے والی سے جانا۔ مہمانوں میں گھلنے کی ضرورت نہیں،” تو مہر نے صرف ٹرے اٹھائی اور سر ہلا دیا۔ ہدایت اس کے جسم پر رکھی گئی تھی، جیسے بتایا جا رہا ہو کہ کون کس دروازے سے جائے گا۔
سوئٹ والی منزل تقریباً خالی تھی۔ دور کہیں برتنوں کی ہلکی آواز آ رہی تھی۔ مہر نے ٹرے رکھ کر پلٹنا چاہا تو دیکھا پیچھے والی لفٹ بند تھی؛ بجلی کا اشارہ سرخ ہو رہا تھا۔ اسے سامنے والی لفٹ تک جانا پڑتا، وہی جس سے “نہ جانے” کا حکم ملا تھا۔ اس نے ایک لمحہ دیوار سے ٹیک لے کر سانس درست کی۔ پھر قدم بڑھائے۔ راہداری کے موڑ پر سہیل کھڑا تھا، جیسے کسی نے اسے ابھی خبر دی ہو۔
“تمہیں پیچھے والی سے بھیجا گیا تھا؟” اس نے پوچھا۔
“وہ بند ہے۔”
“میں کھول دیتا ہوں۔”
“اب رہنے دیں۔” مہر نے لفٹ کا بٹن دبا دیا۔
نیچے سے اوپر آتی لفٹ کی گونج میں دونوں کچھ دیر خاموش کھڑے رہے۔ دور کے کمروں میں روشنی تھی، مگر یہ حصہ آدھا سنسان تھا۔ سہیل ایک قدم نزدیک آیا۔ “آج دروازے پر—”
“وہ آپ نے دیکھا تھا، بس کافی ہے۔” مہر کی آواز ہلکی تھی، مگر سیدھی۔
“کافی نہیں۔” پہلی بار اس کے لہجے میں دراڑ آئی۔ “ہر بار دیر ہو جاتی ہے۔”
لفٹ آ کر رک گئی۔ دروازے کھلے۔ اندر خالی کیبن، اوپر سفید روشنی، سٹیل میں دھندلی پرچھائیاں۔ مہر نے قدم اندر رکھا، پھر مڑی نہیں۔ “چابی۔”
سہیل نے چونک کر دیکھا۔ “کون سی؟”
“اوپر دفتر کی اضافی چابی۔ آج بھی آپ کے پاس ہے۔ اور میرا پاس۔” اس نے ہاتھ بڑھا دیا۔ “ہر بار چیزیں آپ کے ہاتھ میں رہ جاتی ہیں۔”
اس نے فوراً جیب ٹٹولی۔ چابی اور وہی بوسیدہ فیتے والا پاس اس کی ہتھیلی پر آ گئے۔ اس بار اس نے دروازے کے باہر کھڑے کھڑے دینے کے بجائے ایک قدم اندر رکھا۔ بس ایک قدم۔ اتنا کہ لفٹ کے سینسر نے ہلکی سی ٹن کی آواز کی، اتنا کہ ان کے درمیان کی ہوا تنگ ہو گئی، اتنا کہ مہر کو اس کی آستین سے دھلی ہوئی صابن کی ہلکی بو محسوس ہوئی۔ اس نے چابی آگے کی، مگر مہر نے فوراً نہ لی۔ اس کے اور باہر کی راہداری کے درمیان اب سہیل کا آدھا وجود تھا، اور یہی وہ ناممکن قربت تھی جسے وہ چاہتی تو ایک جھٹکے سے ختم کر سکتی تھی۔
اس نے نہیں کی۔
ایک سانس، دو سانس۔ سہیل کی انگلیاں فیتے پر تھیں، مہر کی ہتھیلی ان کے نیچے۔ اس کے چہرے پر نہ معافی مانگنے کی جلدی تھی، نہ کوئی دعویٰ۔ صرف وہ سخت دھیان جو آدمی تب دیتا ہے جب اسے آخرکار معلوم ہو جائے کہ جو چیز وہ سہولت سمجھتا رہا، وہ کسی دوسرے کی محنت، وقار اور حد تھی۔ مہر نے پہلی بار اس کی طرف سیدھا دیکھا۔ “ایک قدم سے زیادہ نہیں، سہیل صاحب۔”
وہ رکا رہا۔
پھر اس نے آزاد ہاتھ اٹھا کر اس کے سینے کے پاس، کپڑے کو چھوئے بغیر، ہلکا سا دباؤ دیا۔ اشارہ کافی تھا۔ “یہیں۔”
سہیل نے اسی جگہ رک کر چابی اس کی ہتھیلی پر چھوڑ دی۔ فیتہ اس کی انگلی سے پھسل کر مہر کے ہاتھ میں آ گیا۔ مہر نے پاس کو مٹھی میں بند کیا، پھر اس کے قدم اور لفٹ کی دہلیز کے بیچ اپنی ایڑی جما دی۔ “اب باہر۔”
وہ پیچھے ہٹا۔ نہ جلدی سے، نہ ضد میں۔ بس اتنا کہ حد دوبارہ نظر آنے لگی۔ مہر نے بٹن کی طرف ہاتھ بڑھایا، پھر جیسے کچھ یاد آیا، اس نے فیتہ کھولا، بوسیدہ کارڈ ہولڈر اس کی طرف نہیں لوٹایا بلکہ اپنی گردن میں ڈال لیا۔ چابی مٹھی میں رہی۔ “دیر سے پہچان بھی حساب مانگتی ہے،” اس نے کہا، اور دروازہ بند کرنے والے بٹن پر انگلی رکھ دی۔ “کل سے اوپر والا دفتر میرے بغیر نہیں کھلے گا۔”
دروازے اندر کی طرف سرکنے لگے۔ سہیل دہلیز تک آیا، مگر اس کے اگلے قدم سے پہلے مہر کی انگلی بٹن پر قائم رہی، اس کی نگاہ سیدھی، اس کا جسم اپنی جگہ مالک کی طرح۔ لفٹ کے پٹ ایک دوسرے کی طرف آئے، بیچ میں باریک سی لکیر رہ گئی، اور وہ لکیر تقریباً بند ہو کر ٹھہر گئی؛ اس کے ہاتھ میں لوٹایا ہوا فیتہ تھا، سہیل کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔