Fast Fiction

گڑھا میرے لیے تھا، گرے وہ

دوسری گاڑی کے دروازے ابھی کھلے ہی تھے کہ نعمان نے انگلی سیدھی صائمہ کی طرف اٹھائی۔ “تم ادھر نہیں، پیچھے والی لین میں کھڑی ہو۔ پھولوں کے ٹوکرے بھی تم ہی پکڑو۔” سفید کرولا سے اترتی عادل بھابھی نے اسی لمحے اپنے دوپٹے کا پلّو سنبھالا اور ایسے اندر بڑھ گئیں جیسے یہ سب پہلے سے طے تھا۔ صائمہ کے ہاتھ میں ابھی تک وہ کاغذی کپ تھا جس کی چائے اوپر جھلی باندھ چکی تھی، اور کپ کے نیچے میز پر گول سا نشان رہ گیا تھا جہاں وہ پانچ منٹ پہلے تک بیٹھنے والی تھی، استقبال کرنے والی نہیں۔

کراچی کی شام مرطوب تھی، مگر شادی ہال کے آمدی حصے پر ٹھنڈی روشنی اور گرم حکم چل رہا تھا۔ ایک طرف رشتے دار گاڑیوں سے اترتے، بچوں کو سمیٹتے، سونے کے کام والے جوڑے سیدھے کرتے اندر جا رہے تھے؛ دوسری طرف صائمہ کو پارکنگ اور دروازے کے بیچ اس طرح دوڑایا جا رہا تھا جیسے وہ کسی کرائے کی انتظامی لڑکی ہو۔ حالانکہ اسی خاندان میں سب کو معلوم تھا کہ پچھلے دو برسوں سے جس رشتے کی بات چلی ہوئی ہے، گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہے، وہ صائمہ اور عدنان کے درمیان ہے۔ صرف نکاح کی تاریخ رہ گئی تھی۔ لیکن آج، عادل بھابھی نے جان بوجھ کر اسے رشتے داروں کی صف سے نکال کر مزدوری کی لکیر میں کھڑا کر دیا تھا۔

“خالہ رشیدہ آ رہی ہیں، ان کے آگے سیدھی کھڑی ہونا،” نعمان نے پھر جھڑکا، “اور مسکرا کے کہنا، وی آئی پی راستہ ادھر ہے۔ تمہیں بس راستہ سنبھالنا ہے، منہ نہیں کھولنا۔”

صائمہ نے اس کی طرف دیکھا۔ نعمان کے ہاتھ میں لٹکتا پلاسٹک کا راستہ کارڈ ایک نیلی پٹی میں بندھا تھا، کنارے پر پرانی سیاہی کا داغ جما ہوا۔ وہی داغ اس نے دوپہر کو دیکھا تھا جب ہال کے سروس سیکٹر والے لڑکے نے رجسٹر پر دستخط کراتے ہوئے کہا تھا، “بی بی، جس کے پاس یہ کارڈ ہو گا، اسی کی بتائی لین مانی جائے گی۔ آج دلہن والوں کا دباؤ بہت ہے، غلط موڑ پر گاڑی گئی تو اندر کا استقبالی دروازہ بند ہو جائے گا۔”

اس وقت صائمہ نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ نعمان نے ہنس کر کہا تھا، “چھوٹی سی بات ہے، تم تو ہر چیز کو عزت کا مسئلہ بنا دیتی ہو۔” پھر اس نے خود دستخط کیے، عدنان کے والد کا نام لے کر اختیار جتایا، اور اب وہی کارڈ صائمہ کے سامنے لہرا رہا تھا۔

خالہ رشیدہ کی گاڑی رکی۔ ڈرائیور ساجد جلدی سے باہر نکلا، مگر نعمان نے اس سے پھولوں کا ٹوکرا لے کر صائمہ کے بازوؤں میں ٹھونس دیا۔ “لو، یہ بھی۔ خالہ کو سیدھا پچھلے راستے سے لے جاؤ۔ مین دروازے پر دلہن والوں کا فوٹو چل رہا ہے۔”

“خالہ رشیدہ پچھلے راستے سے کیوں جائیں گی؟” صائمہ کے منہ سے سیدھا سوال نکلا۔

عادل بھابھی نے مڑ کر ایسی مسکراہٹ دی جس میں میٹھا کچھ نہیں تھا۔ “کیونکہ ہم نے ترتیب بنائی ہے۔ ہر ایک اپنی جگہ پہ اچھا لگتا ہے۔ تم بھی۔”

خالہ رشیدہ گاڑی سے اترتے ہوئے ٹھٹھک گئیں۔ اُن کی آنکھ صائمہ کے ہاتھوں میں دبے پھولوں اور پھر نعمان کے کارڈ پر گئی۔ ایک پل کو ہوا اُلٹی پڑی۔ پھر عادل بھابھی آگے بڑھ کر خالہ کا ہاتھ پکڑ چکی تھیں۔ “آئیں خالہ، صائمہ ہے نا، سب دیکھ لے گی۔”

یہ پہلا انعام تھا، چھوٹا مگر صاف۔ خالہ رشیدہ نے اپنا پرس صائمہ کے ہاتھ سے نہیں دیا۔ وہ نعمان کی طرف دیکھ کر بولیں، “راستہ لڑکیاں نہیں بانٹتیں، عقل بانٹتے ہیں۔” نعمان ہنسا تو ضرور، مگر اُس ہنسی میں ایک چھوٹا سا کٹ پڑ گیا۔ ساجد نے اسی وقفے میں گاڑی کا پچھلا دروازہ بند کر کے صائمہ کے قریب سرک کر اتنا کہا کہ صرف وہ سن سکے، “بی بی، پچھلی لین ابھی کچرے والی طرف بند پڑی ہے۔ ادھر سے جو جائے گا، واپس گھومے گا۔”

صائمہ کے ہاتھ میں پھول بھاری ہو گئے، مگر چہرہ نہ بدلا۔ “کب سے؟”

“آدھا گھنٹہ۔ مگر انہوں نے بورڈ پھیروا دیا ہے۔” ساجد نے آنکھ سے اشارہ کیا۔ واقعی، پیچھے سروس والے دروازے کی طرف لگے عارضی اسٹینڈ پر تیر کا رخ بدل دیا گیا تھا۔ کاغذ نیا تھا، ٹیپ تازہ تھی۔

نعمان نے جیسے اس سرگوشی کی بو پا لی۔ وہ قریب آ کر کارڈ صائمہ کی ہتھیلی پر رکھ گیا۔ “اب تم یہی سنبھالو۔ جس گاڑی پر میں اشارہ کروں، اسے پچھلی لین میں لگاؤ۔ سب ریکارڈ میں ہے۔ بعد میں یہ نہ کہنا مجھے بتایا نہیں تھا۔”

کارڈ کے ساتھ ایک پتلا سا دستخط شدہ پرچہ بھی تھا: آمدی ترتیب۔ اوپر عدنان کے والد کا نام، نیچے نعمان کے دستخط، اور درمیان میں گاڑیوں کے نمبر۔ صائمہ کا نام کہیں نہیں، مگر کارڈ اس کے ہاتھ میں۔ اگر کوئی غلطی ہوتی تو داغ اسی کے حصے آتا۔ یہ وہی پرانا طریقہ تھا جس سے اسے ہر بار استعمال کیا جاتا تھا—کام اُس کے ہاتھ، اختیار کسی اور کے نام۔

“میں وہی دکھاؤں گی جو پرچے پر لکھا ہے،” صائمہ نے آہستہ کہا۔

“بس اتنا ہی چاہیے۔” نعمان نے تسلی سے سانس لی۔ “اور جب عدنان کے بیرونِ شہر والے مہمان آئیں، ان کو بھی پچھلی لین میں موڑ دینا۔ مین دروازہ ابھی ہمارے خاص لوگوں کے لیے رہے گا۔”

ہمارے خاص لوگ۔ یہ دو لفظ کنارے دار تھے۔ صائمہ نے ایک بار ہال کے شیشے والے اگلے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سنہری قوس کے نیچے استقبال ہو رہا تھا، پھر اُس سروس راہداری کی طرف جہاں ٹھنڈی دیوار، تارپولین کی بو اور آدھا اُترا ہوا پینٹ تھا۔ دروازے کے چوکھٹ میں ذرا سا ٹھہراؤ آیا؛ وہی چھوٹا سا رکا ہوا لمحہ جب آدمی واپس بھی مڑ سکتا ہے اور اندر بھی جا سکتا ہے۔ صائمہ نے کارڈ مضبوطی سے پکڑا اور ساجد سے کہا، “اگلی بڑی گاڑی جب آئے، تم صرف دروازہ کھولنا۔ بولنا کچھ نہیں۔”

پانچ منٹ بعد کالی ہائی ایس مڑی۔ پچھلے شیشے پر لاہور کی ایک ٹریول کمپنی کا اسٹیکر تھا۔ نعمان نے دور سے ہاتھ ہلایا، “یہی ہیں! یہی ہیں! ادھر، ادھر!” اور صائمہ کے قریب آ کر دانت پیس کر بولا، “یاد ہے نا، پچھلی لین۔”

اسی وقت دوسری طرف سے ایک اور گاڑی آ لگی—عدالتی سبز نمبر پلیٹ والی بڑی گاڑی، جس میں سے عادل بھابھی کے ماموں اور اُن کی بیگم اترنے والے تھے، وہی لوگ جن کے سامنے آج عادل بھابھی اپنے گھر کی برتری دکھانا چاہتی تھیں۔ شور ایک ساتھ اٹھا۔ ساجد کالی ہائی ایس کے دروازے کی طرف دوڑا۔ نعمان، خود کو سنبھالتے ہوئے، سبز پلیٹ والی گاڑی کی طرف لپکا۔ اور صائمہ نے کارڈ اوپر اٹھا کر بالکل ویسے ہی اشارہ کیا جیسے اُسے کہا گیا تھا—صرف فرق یہ تھا کہ اس نے کارڈ ساجد کی آنکھ کے سامنے کر کے پرچے والا نمبر دکھا دیا، وہ نمبر جو نعمان نے جلدی میں الٹ ترتیب میں لکھوایا تھا۔

ہائی ایس کے اندر سے اترنے والا پہلا شخص عدنان کے دبئی سے آئے پھوپھا نہیں، بلکہ نعمان کا اپنا چچا زاد نکلا، جسے وہ خاص مہمانوں میں آگے رکھنا چاہتا تھا۔ ساجد نے بغیر سوال دروازہ کھولا، “حضور، راستہ ادھر سے ہے۔” اور پھولوں کے لڑکے نے اُن کے ہاتھ سے سوٹ کیس لے کر سیدھا پچھلی لین کی طرف موڑ دیا۔ دوسری طرف سبز پلیٹ والی گاڑی کے پاس فوٹو والا عملہ جا کھڑا ہوا، یہ سمجھ کر کہ یہی بڑے مہمان ہیں۔ عادل بھابھی کا ماموں مسکراتا ہوا سنہری قوس کی طرف لے جایا گیا۔ نعمان نے مڑ کر چیخنا چاہا، مگر اس کے اپنے اشارے نے اس کے لوگوں کو غلط راستے پر چلا دیا تھا۔

بات صرف ایک موڑ کی نہیں تھی۔ پچھلی لین سے جاتے ہی سروس راہداری آتی تھی، پھر بائیں طرف مڑا ہوا اندھا سا حصہ جہاں صفائی کا سامان، خالی کریٹس اور بند دروازہ تھا؛ وہاں سے مرکزی استقبالی دروازے تک واپس آنے میں وقت لگتا، اور ہال کا اگلا استقبال مسلسل بند کھل رہا تھا۔ جو ایک بار اس گردش میں پھنس جاتا، اس کی باری نکل جاتی۔

“روکو! روکو ان کو!” نعمان دوڑا، مگر تب تک ہائی ایس کے باقی دروازے بھی کھل چکے تھے۔ دو عورتیں، ایک بزرگ، دو بچے، تین بیگ—سب ہڑبڑی میں اُترے اور پھول اٹھائے لڑکے کے پیچھے چل پڑے۔ صائمہ نے کچھ نہیں کہا۔ اُس نے صرف کارڈ نیچے کیا اور پرچہ نعمان کی طرف آدھا موڑ کر دکھا دیا۔ اُس پر لکھا نمبر وہی تھا جسے ابھی ساجد نے مانا تھا۔

عادل بھابھی کے چہرے سے رنگ یوں اُترا جیسے بلب ہلکے ہو گئے ہوں۔ وہ تیزی سے آئی، مگر مین دروازے پر اسی وقت اگلی ویڈیو انٹری شروع ہو گئی۔ سنہری قوس کے سامنے پردہ کھنچ گیا، اور استقبالیہ لڑکی نے ہاتھ اٹھا کر نرمی سے مگر صاف لفظوں میں کہا، “ابھی ایک جتھا اندر جا رہا ہے، باقی مہمان ذرا رکیں یا متبادل راستہ لیں۔”

متبادل راستہ وہی تھا جسے نعمان نے دوسروں کے لیے جال بنایا تھا۔

اب رکنے کا وقت اُن کے پاس نہیں تھا۔ پچھلی لین میں اُن کے اپنے لوگ پھنسے ہوئے تھے، سامنے والا دروازہ عادل بھابھی کے ماموں کی تصویروں میں مصروف تھا، اور خالہ رشیدہ ساری ہلچل دیکھتے ہوئے اپنی جگہ بدل چکی تھیں۔ اب وہ صائمہ کے قریب کھڑی تھیں، نعمان کے نہیں۔ اُن کے ایک قدم کی قیمت خاندان میں سب جانتے تھے۔

“صائمہ، ادھر آؤ۔” نعمان کی آواز پہلی بار نیچی ہوئی۔ “ایک منٹ۔ نجی بات ہے۔”

صائمہ نہیں ہلی۔

وہ خود قریب آیا۔ اس کے ماتھے پر پسینے کی باریک تہہ تھی۔ “کارڈ دو۔ ساجد تمہاری سنتا ہے۔ تم جاؤ، میرے چچا زادوں کو سیدھا اگلے دروازے سے لے آؤ۔ بعد میں بات کر لیں گے۔”

“بعد میں” وہ لفظ تھا جس کے نیچے صائمہ نے دو برس گزارے تھے۔ بعد میں عزت، بعد میں بات، بعد میں تاریخ، بعد میں نام۔ آج بھی وہی۔

عادل بھابھی بھی آ گئی۔ آواز دبی ہوئی مگر تیز۔ “تم ضد مت کرو۔ یہ گھر کی بات ہے۔ سب کے سامنے تماشہ نہ بناؤ۔”

“تماشہ کس نے بنایا؟” صائمہ نے پوچھا، آواز اتنی ہی ہموار جتنی ہال کے سنگ مرمر کی سل پر جمی نمی۔ پھر اُس نے وہ پرچہ سیدھا کیا۔ “دستخط آپ کے بھائی کے ہیں۔ راستہ کارڈ بھی اِن کے کہنے پر میرے ہاتھ میں دیا گیا۔”

نعمان نے ہاتھ بڑھا کر کارڈ لینا چاہا۔ پہلی بار اس کی انگلیوں میں حکم کم، جلدی زیادہ تھی۔ “صائمہ، پلیز۔”

یہ لفظ اُس پر عجیب لگا۔ دور کہیں بریانی کے دیگچے کی بھاپ اور گاڑیوں کے دھوئیں کی بو ملی ہوئی تھی۔ پاس ساجد کھڑا تھا، دروازہ کھولنے کے لیے تیار مگر اب حکم کے انتظار میں نہیں، ثبوت کے انتظار میں۔ خالہ رشیدہ نے اپنا پرس بازو پر ٹھیک کیا۔ عدنان کہیں اندر سے شیشے کے پار دکھا، پھر کسی نے اسے روک لیا۔ منظر چھوٹا تھا، مگر کافی تھا۔

صائمہ نے کارڈ کو دیکھا۔ نیلی پٹی، پلاسٹک کے کنارے، پرانی سیاہی کا داغ، انگلیوں کی گرمی۔ پھر اُس نے نعمان کا پھیلا ہوا ہاتھ دیکھا، وہی ہاتھ جس نے تھوڑی دیر پہلے اس پر پھولوں کا ٹوکرا دھکیلا تھا۔ صائمہ نے کارڈ اس کے ہاتھ میں نہیں دیا۔ ایک قدم سائیڈ پر ہو کر وہ سروس راہداری کے منہ تک گئی، جہاں ٹھنڈی دیوار کے ساتھ بند موڑ پڑتا تھا۔ وہاں لوہے کی کیل نکلی ہوئی تھی، غالباً پرانے نشان کے لیے۔

اس نے دستخط شدہ پرچہ کارڈ کی ڈوری میں پھنسا کر اسی کیل پر ٹانگ دیا۔

“جس راستے پر دستخط کیے ہیں، اُسی پر لے آئیے,” وہ بولی، اور پلٹ گئی۔

راہداری کے اندھے موڑ میں نیلی پٹی والا کارڈ ٹھنڈا لٹک رہا تھا، نیچے بند دروازہ تھا، آگے راستہ وہیں ختم ہوتا تھا۔