Fast Fiction

خالی جگہ میری تھی

حنا نے دونوں ہاتھوں سے گرم دیگچی سنبھالی ہی تھی کہ کامران بھابھی نے دروازے سے اندر آتے ہوئے اونچی آواز میں کہا، “ارے، وہ برتن سیدھا کچن میں رکھو، میز پر جگہ مت گھیرنا۔” حنا نے ایک لمحے کو سانس روکی، پھر چپ چاپ ڈائننگ کی طرف بڑھی۔ اس کے بازو پر جھولا ہوا تھیلا آٹا، دہی اور دو ڈبوں میں مٹھائی سے بھرا تھا، پرس میں بس کارڈ کا گھسا ہوا کنارہ انگلی سے لگ رہا تھا، اور ہتھیلی میں وہ آدھی مڑی رسید دب رہی تھی جس پر صبح کے خرچ لکھے تھے۔ وہ سیدھی کام میں لگ گئی، جیسے اسے بلایا ہی اسی لیے گیا ہو۔ مگر میز کے سرے پر، جہاں ہمیشہ سلمان کے برابر ایک پلیس میٹ پڑتا تھا، آج ایک سنہری نامی کارڈ کھڑا تھا: “ڈاکٹر ماریہ”۔ حنا کے نام کی کوئی پرچی نہیں تھی۔

کمرے میں خالہ نجمہ کی سہیلیاں بیٹھی تھیں، ایک کزن فون پر تصویریں لے رہی تھی، اور چائے کے کپوں کے نیچے پڑے حلقے میزپوش پر بھورے نشان چھوڑ رہے تھے۔ خالہ نجمہ نے حنا کو دیکھ کر نرم لہجے میں کہا، “آگئی بیٹا؟” لیکن جواب دینے سے پہلے ہی کامران بھابھی نے ٹرے اس کے ہاتھ میں تھما دی۔ “مہمان زیادہ ہیں۔ تم ادھر پلیٹیں لگا دو۔ بیٹھنے کا بعد میں دیکھ لیں گے۔” بعد میں۔ یہی وہ لفظ تھا جس سے آدمی گھر میں رہتے ہوئے بھی باہر کر دیا جاتا ہے۔ حنا نے صرف “جی” کہا اور پلیٹیں اٹھا لیں، مگر اس کی انگلیاں ایک پل کے لیے خالی جگہ تلاش کرتی رہیں جہاں اس کا نام ہونا چاہیے تھا۔

یہ گھر اس کے لیے انجان نہیں تھا۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی بات تھی؛ خالہ نجمہ اسے برسوں سے جانتی تھیں، سلمان کے امتحان کے دنوں میں نوٹس دینے سے لے کر اس کی پہلی سروس سیکٹر والی نوکری کے انٹرویو کے لیے قمیص استری کرنے تک حنا اسی گھر کے بیچ چلتی رہی تھی۔ مگر آج منگنی سے پہلے کی یہ چھوٹی سی دعوت اچانک حساب کتاب بن گئی تھی: کون میز پر بیٹھے گا، کون کچن میں کھڑا رہے گا، اور کس کا نام بولا جائے گا۔

اس نے سلاد کے پیالے رکھے تو دیکھا سلمان ابھی ابھی اوپر سے اتر کر آیا ہے۔ لفٹ کے سامنے والے دھندلے آئینے کی مٹی اس کی آستین پر لگی تھی، شاید جلدی میں کندھا ٹکرایا ہوگا۔ اس نے ایک نظر میز پر ڈالی، پھر دوسری نظر حنا کے ہاتھ کی ٹرے پر۔ “میرا گلاس؟” اس نے معمول کے لہجے میں پوچھا، مگر سوال حنا سے نہیں، منظر سے تھا۔ کامران بھابھی فوراً بولیں، “تم ادھر بیٹھو، ماریہ آ رہی ہے۔ حنا کو میں نے کہا ہے وہ سرو کر دے گی۔ اسے تو سب آتا ہے۔”

حنا نے ٹرے میز پر نہیں رکھی۔ وہ سلمان کے قریب آئی، ایک گلاس اس کے سامنے رکھا، دوسرا خالی ہاتھ میں تھامے رہی۔ “میں کچن میں ہوں، اگر اور کچھ چاہیے ہو تو خود لے لیجیے گا،” اس نے بالکل سیدھے لہجے میں کہا۔ یہ انکار نہیں لگتا تھا، مگر تھا۔ پھر وہ مڑی اور کچن کی طرف چل دی۔ پیچھے سے چند آنکھیں اس کی کمر پر آ ٹکیں۔ پہلی بار دباؤ ذرا سا ہلا۔

کچن میں بھاپ، تلی ہوئی پیاز اور بےوقت جلدبازی کی بو تھی۔ کامران بھابھی پیچھے آئیں، آواز دبی ہوئی مگر تیز۔ “یہ منہ بنانا ابھی ضروری تھا؟ لوگ بیٹھے ہیں۔ تمہاری کوئی باقاعدہ بات تو ہوئی نہیں، بس آنا جانا تھا۔ اب ہر چیز کو حق نہ سمجھا کرو۔” انہوں نے دراز سے مزید پلیٹیں نکالیں اور حنا کے سامنے یوں رکھ دیں جیسے فیصلہ بھی وہیں رکھ رہی ہوں۔ “دیکھو، تمہارا نام اس لیے نہیں رکھا کہ ڈاکٹر صاحبہ کے گھر والے بھی دیکھ رہے ہیں۔ عزت سے رہنا ہے تو سمجھداری کرو۔”

حنا نے پلیٹیں ایک طرف کر دیں۔ “آپ نے نام نہیں رکھا، ٹھیک۔ مگر مجھے پہلے بتا دیتیں تو میں کھانا اٹھا کر نہ آتی۔” اس کے لہجے میں نہ التجا تھی، نہ اونچی آواز۔ بس اتنا کہ بات دیوار سے نہ ٹکرا کر سیدھی سامنے گرے۔ کامران بھابھی کے ہونٹ پتلے ہو گئے۔ “تو اب کیا کرو گی؟ چلی جاؤ گی؟ لوگوں کے سامنے تماشا بناؤ گی؟”

“تماشا آپ نے بنایا ہے،” حنا نے کہا اور اپنی آدھی مڑی رسید کاؤنٹر پر رکھ دی۔ “یہ دہی، یہ مٹھائی، یہ سب میں لے آئی۔ اگر مجھے صرف کچن میں کھڑا رکھنا تھا تو کم از کم میرا نام چھپانے سے پہلے میرے ہاتھ خالی کرا لیتیں۔” یہ کہہ کر وہ دروازے کے پاس ہو گئی، نہ اندر پوری طرح، نہ باہر۔ وہیں جہاں سے کسی عورت کو سب سے آسانی سے ہٹایا جاتا ہے۔

اسی وقت سلمان اندر آیا۔ “بھابھی، میری جگہ کے ساتھ والی پرچی کہاں ہے؟” سوال اتنا سادہ تھا کہ کچن کی گرمی ایک لمحے کو رک گئی۔ کامران بھابھی نے ہنسی بنائی، “ارے تم بھی، ابھی لگا دیتے ہیں کچھ۔ پہلے مہمان تو بیٹھ جائیں۔ ماریہ اور اس کی امی آ رہی ہیں، تم سمجھا کرو۔” سلمان نے میز سے ایک اضافی چمچ اٹھایا، پھر دروازے کے پاس رکھی خالی کرسی کی طرف دیکھا جسے شاید ہٹایا جانا تھا۔ “نہیں، ابھی۔” اس نے خالہ نجمہ کے روزنامچے کے نیچے دبی سفید چھوٹی پرچی نکالی، قلم اٹھایا، اور سب کے سامنے بس دو لفظ لکھے: “حنا”۔ پھر وہ پرچی سلمان کی اپنی کرسی کے ساتھ والی خالی جگہ پر رکھ دی۔

یہ کوئی اعلان نہیں تھا، مگر کمرے کی ترتیب نے فوراً اسے سن لیا۔ کامران بھابھی نے ہاتھ بڑھا کر کہا، “وہ جگہ ماریہ کی ہے۔” سلمان نے کرسی ذرا سا پیچھے کھینچ دی، اتنا کہ کوئی اور اس میں آسانی سے نہ سمٹ سکے۔ “ماریہ کے لیے دوسری طرف نشست ہے۔ یہ ادھر رہے گی۔” اس کی آواز میں نرمی نہیں تھی، مگر ضد بھی خالی ضد نہیں تھی۔ خالہ نجمہ نے ایک لمحے کو چشمہ سیدھا کیا، پھر اپنی سہیلی سے بات جاری رکھی؛ یہی اس گھر میں پہلی چھوٹی رعایت تھی، خاموش مگر پڑھنے کے قابل۔ کامران بھابھی نے پرچی نہیں پھاڑی۔ بس پلیٹوں کی سمت بدل دی، جیسے اس ایک جگہ کو نظرانداز کر کے باقی کمرہ بچایا جا سکتا ہو۔

مغرب کے بعد مہمان پورے آ گئے۔ ڈائننگ اور برآمدے کے بیچ جوتوں کی قطار بڑھی، بچوں نے سیڑھیوں کے موڑ پر شور مچایا، باہر گلی میں موٹربائیک کی آوازیں آ کر ٹوٹتی رہیں۔ ماریہ واقعی آئی، اچھی قمیص، سیدھی کمر، ڈاکٹر ہونے کا خاموش اعتماد ساتھ۔ اس نے میز پر اپنی پرچی دیکھی جو اب دوسرے سرے پر تھی۔ ایک لمحے کو اس کی ماں نے کامران بھابھی کی طرف دیکھا، اور کامران بھابھی نے ویسا ہی مسکراہٹ والا چہرہ پہن لیا جس سے لوگ حقیقت پر رومال ڈال دیتے ہیں۔ “تھوڑا ایڈجسٹ کر لیا ہے، بہن۔ گھر کی لڑکیوں میں تو چلتا ہے۔”

گھر کی لڑکیوں میں۔ حنا نے یہ جملہ دروازے کے پاس کھڑے کھڑے سنا۔ اس کے اندر کچھ سخت ہوا، پھر صاف۔ وہ اندر آئی، ٹرے سیدھی کاؤنٹر پر رکھی، اور اپنا دوپٹہ کندھے پر مضبوطی سے جما لیا۔ “میں سرو کر دیتی ہوں، مگر کھانا بعد میں نہیں کھاؤں گی۔ یا تو اپنی جگہ پر، یا بالکل نہیں۔” خالہ نجمہ کی سہیلی نے کھانسی دبائی۔ ایک کزن نے فون نیچے کر دیا۔ کامران بھابھی نے آنکھیں دکھائیں، “یہ وقت ہے شرطیں رکھنے کا؟”

“وقت آپ نے چنا تھا، بھابھی، جب میرا نام ہٹایا تھا،” حنا نے کہا۔ اب اس کے ہاتھ نہیں کانپ رہے تھے۔

یہ وہ لمحہ تھا جب پیچھے ہٹنا سب کے لیے آسان تھا اور اس کے لیے مہلک۔ سلمان برآمدے سے اندر آیا، اس کے ہاتھ میں روٹیوں کی ٹوکری تھی۔ اس نے ٹوکری میز پر رکھی اور جان بوجھ کر آخری خالی کرسی اٹھا کر دیوار سے لگا دی تاکہ اب صرف وہی ایک جگہ بچے جو حنا کے نام والی تھی۔ کامران بھابھی تقریباً پھٹ پڑیں، “یہ کیا کر رہے ہو؟ ایک مہمان کھڑی ہے!”

“کسی کو پلیٹ لے کر صوفے پر بھی بٹھایا جا سکتا ہے،” سلمان نے کہا، “لیکن جس کی جگہ پہلے سے یہاں ہے، اسے ہٹایا نہیں جائے گا۔” اس نے ماریہ کی طرف دیکھا، پھر اس کی ماں کی طرف، بےادبی کے بغیر، مگر رکا بھی نہیں۔ “آپ ادھر تشریف رکھیں۔”

کامران بھابھی نے آخری وار خالہ نجمہ کے سامنے کیا۔ “آپ ہی سمجھا دیں۔ کل کو محلے میں یہی بات پھیلے گی کہ گھر میں آنے جانے والی لڑکی نے میز پر ضد کر کے بیٹھنا لیا۔ ہم نے کب منع کیا تھا اسے آنے سے؟” یہ ظلم کا وہ طریقہ تھا جس میں دروازہ بند نہیں کیا جاتا، بس اندر کھڑے ہونے کی قیمت بڑھا دی جاتی ہے۔

خالہ نجمہ نے حنا کو دیکھا۔ تھکی ہوئی، سیدھی، پسینے سے چپکے بال، کلائی پر سستی گھڑی، اور آنکھوں میں وہ خالی صبر جو بہت دیر کام آنے کے بعد رہ جاتا ہے۔ “حنا، بیٹا، تم بیٹھ جاؤ،” انہوں نے آہستہ سے کہا۔ “اور کامران، جو کھانا اٹھا لایا ہو، اس کا نام چھپایا نہیں کرتے۔” جملہ نرم تھا مگر کامران بھابھی کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ ان کی بنائی ہوئی صف بندی میں پہلی دراڑ بزرگ کے ایک سیدھے لفظ سے پڑی، مگر جگہ ابھی بھی حنا کو خود لینی تھی۔

حنا میز کے پاس آئی تو کامران بھابھی نے تیزی سے ایک بڑی ڈش اسی خالی جگہ پر رکھنے کو ہاتھ بڑھایا۔ “چلو، کم از کم یہ یہاں رکھ دو، بعد میں—”

“نہیں۔” حنا نے ڈش ان کے ہاتھ سے نہیں چھینی، بس دونوں ہاتھوں سے کرسی کی پشت پکڑ کر اسے ذرا سا باہر کھینچ لیا۔ اتنا کافی تھا۔ پلیٹ رکھنے کی جگہ اب نشست بن گئی۔ سلمان نے فوراً ڈش دوسری طرف لے جا کر رکھ دی اور باقی ٹرے کا بہاؤ اسی حساب سے موڑ دیا؛ سالن ادھر، روٹیاں اِدھر، چمچ وہاں، جیسے کمرہ خود مان رہا ہو کہ ایک جگہ کو خالی رہنا تھا اور وہ خالی کسی کمی کی نہیں، کسی شخص کی تھی۔ کسی نے تالیاں نہیں بجائیں۔ بس دو عورتیں سمٹ کر بیٹھ گئیں، ایک بچہ صوفے پر پلیٹ لے گیا، اور میز کی شکل نئی ہو گئی۔

حنا فوراً نہیں بیٹھی۔ اس نے سب کے لیے پانی ڈالا، خالہ نجمہ کے سامنے دہی رکھا، ماریہ کی ماں کی پلیٹ میں سلاد بڑھایا۔ کامران بھابھی شاید یہی چاہتی تھیں کہ وہ پھر سے خدمت میں گھل جائے اور جگہ کا سوال دھندلا جائے۔ مگر سلمان نے اس کی اپنی پلیٹ اٹھا کر خالی نشست کے سامنے رکھ دی، پھر خود بیٹھنے کے بجائے کھڑا رہا۔ “کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے،” اس نے آہستہ سے کہا۔ صرف اتنا۔ اس ایک جملے میں منت بھی نہیں تھی، حکم بھی نہیں؛ بس انتظار تھا، کھلا ہوا اور سب کے سامنے مہنگا۔

حنا نے اس کی طرف دیکھا۔ پہلی بار پورا منظر شور سے الگ ہو کر صاف نظر آیا: سلمان کی انگلیاں ٹرے کے کنارے پر دبی ہوئی تھیں، جیسے وہ خود بھی اسی دباؤ میں کھڑا ہو؛ کامران بھابھی کی ٹھوڑی اوپر تھی مگر آنکھوں میں ہارتی ہوئی جلدی؛ خالہ نجمہ خاموش مگر پیچھے ہٹی نہیں تھیں۔ یہ محض کرسی نہیں رہی تھی۔ یہ وہ لکیر تھی جس کے پار جا کر آدمی یا تو ہمیشہ کے لیے محض “کام آنے والا” رہ جاتا ہے، یا اپنے نام سے بیٹھتا ہے۔

وہ بیٹھ گئی۔

کمرے نے اسے قبول کرنے کا کوئی بڑا اشارہ نہیں دیا، مگر ساری ترتیب اس کے گرد ٹھیک ہونے لگی۔ سلمان نے تب اپنی جگہ لی۔ کامران بھابھی نے دو بار کچھ کہنا چاہا، پھر دوسرے مہمانوں کی پلیٹوں میں مصروف ہو گئیں کیونکہ اب اسی موضوع کو چھیڑنا ان کی اپنی سبکی تھا۔ ماریہ نے خاموشی سے پانی پیا، اس کی ماں نے ایک عمومی بات موسم پر کر دی۔ اوپر پنکھا گھومتا رہا، سالن کی خوشبو میں دھنیا تیز تھا، اور حنا کی پلیٹ آخرکار اس کے سامنے تھی، نہ کچن کے کاؤنٹر پر، نہ بعد کے لیے ڈھکی ہوئی۔

کھانے کے بعد برتنوں کی قطار سنک تک چلی گئی۔ چند لڑکیاں ہنستی ہوئی تصویروں میں لگ گئیں، بچے میٹھے پر ٹوٹ پڑے، اور برآمدے میں چائے کے نئے کپ رکھے جانے لگے۔ حنا نے اپنی پلیٹ خود اٹھائی۔ سلمان دوسری طرف سے ٹرے واپس رکھنے والی لکیر کے پاس کھڑا تھا، جہاں دھلے اور ادھورے صاف برتنوں کے بیچ لوگ جلدی جلدی جگہ بنا رہے تھے۔ کسی نے کہا، “یہاں رکھ دیں، یہاں بھی چل جائے گا۔” سلمان نے ایک ٹرے ذرا سا سائیڈ کر دی، ایک کپ اوپر کے ریک پر چڑھایا، اور سنک کے پاس وہی ایک جگہ خالی رکھی جہاں ابھی اس کی پلیٹ آ سکتی تھی۔

حنا آگے بڑھی، اپنی پلیٹ اسی خالی جگہ میں رکھ دی، اور ٹرے کی قطار میں اس کا نشان ٹھیک اسی جگہ واپس آ گیا جہاں اس کے لیے جگہ روکی گئی تھی۔