Fast Fiction

ہم نے ایک ہی بوجھ اٹھایا

“جلدی، یہ کپڑا دو—اور میز کے نیچے ہاتھ مت ڈالو، سائرہ، وہاں مہمانوں کے جوتے رکھے ہیں!”

سائرہ نے جواب نہیں دیا۔ اس نے جھکتے ہی گرے ہوئے قورمے کا تیل دار شوربہ سفید دسترخوان کے کونے سے سمیٹا، پھر پلیٹ کے ٹکڑوں کو اپنی ہتھیلی میں اس احتیاط سے جمع کیا جیسے کسی کی شرمندگی کو ننگا ہونے سے بچا رہی ہو۔ برآمدے کے اندر کھانے کی میز کے کنارے پر چائے کے کپ کا ہلکا سا حلقہ جم گیا تھا، ایک طرف چمچ، دوا کی پتی اور فولڈ کیا ہوا رسیدی لفافہ پڑا تھا۔ اوپر سے ہنسی آ رہی تھی؛ نیچے اس کی انگلیوں میں شوربہ اور شیشہ لگ رہا تھا۔

خالہ نسرین نے مہمانوں کی طرف مسکرا کر کہا، “آج کل کالج والے بچے بس تصویریں بناتے ہیں، کام تو آخر گھر کی لڑکیوں نے ہی سنبھالنا ہوتا ہے۔”

گھر کی لڑکیوں میں سائرہ کا نام کبھی پورا نہیں لیا جاتا تھا۔ وہ کراچی کے اسی نجی کالج میں ارحم کے ساتھ پڑھتی تھی، لیکن آج یہاں اس کا تعارف دوست سے بھی ہلکا تھا؛ بس “یہ سائرہ ہے، نوٹس بناتی ہے، بہت کام آ جاتی ہے۔” ارحم نے یہی کہا تھا، اس سے پہلے کہ وہ اپنے کزنز کے ساتھ صحن میں لائٹس چیک کرنے نکل جاتا۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ دونوں اکثر ایک ہی بس اسٹاپ سے آتے ہیں، ایک ہی پروجیکٹ پر کام کرتے ہیں، مگر جہاں نام دینا پڑتا، وہاں سائرہ غائب کر دی جاتی۔

اس نے ٹوٹے ہوئے پیالے کے آخری نوکیلے ٹکڑے کو نیپکن میں لپیٹا تو کاغذ کی خشک سی آواز اٹھی۔ پیچھے سے کسی نے آہستہ سے کہا، “رک، یہ ہاتھ کٹ جائے گا۔” حمزہ تھا، ارحم کا ماموں زاد، جو ابھی تک دیوار کے ساتھ لگا موبائل دیکھتا رہا تھا۔ اس نے بنا پوچھے باورچی خانے سے موٹا کپڑا اٹھایا، سائرہ کے ہاتھ سے نیپکن لیا اور ٹکڑے اپنی طرف کر لیے۔ پھر سب کے سننے کے قابل آواز میں بولا، “ارحم بھائی، کم از کم جھاڑو تو ادھر بھیج دیں۔”

یہ پہلی بار تھا کہ کسی نے اسی کمرے میں وزن برابر کیا۔ ارحم دروازے سے پلٹا، بس ایک لمحے کو۔ پھر ہنسا، “یار، تم لوگ ڈراما کر رہے ہو۔ سائرہ کو یہ سب آتا ہے، وہ کر لے گی۔ تم باہر آؤ، سپیکر لگانا ہے۔”

وہ “آتا ہے” ایسے بولا جیسے مہارت نہیں، درجہ بتا رہا ہو۔ خالہ نسرین نے فوراً کرسی کے پاس سے ایک پرانا پونچھا نکالا اور سائرہ کے سامنے رکھ دیا۔ “بیٹا، تم ذرا یہ بھی کر دو۔ مہمان آنے والے ہیں، فرش چمکنا چاہیے۔ حمزہ، تم لڑکوں کے کام میں جاؤ۔”

حمزہ نے پونچھا سائرہ کے سامنے رکھنے کے بجائے خود کھولا۔ لکڑی کا ڈنڈا سیدھا کیا اور پانی بھری بالٹی کی طرف بڑھایا۔ خالہ کی مسکراہٹ تھوڑی سخت ہو گئی۔ “میں نے کہا نا، باہر جاؤ۔”

“مہمان اندر پھسل گئے تو زیادہ برا لگے گا، خالہ۔” حمزہ نے نگاہ نیچی رکھ کر کہا اور پونچھا بالٹی میں ڈبو دیا۔ اب برآمدے میں سب کو صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ کس کے ساتھ کھڑا ہے۔

سائرہ نے بس ایک بار اس کی طرف دیکھا، پھر فرش کے دوسرے کونے پر جھک گئی۔ ارحم کی ایک کزن نے دوسری کے کان میں کچھ کہا اور دونوں نے نظریں بچا کر ہنسی دبائی۔ یہی سب سے برا تھا؛ کام نہیں، وہ جگہ جو کام کے ساتھ دی جا رہی تھی۔ سائرہ وہی لڑکی تھی جس کے ابو سروس سیکٹر میں رات کی ڈیوٹی کرتے تھے اور جس کی ماں کپڑوں کے کنارے لگا کر گھر چلاتی تھی۔ کالج کی فیس وہ ٹیوشن اور اسکالرشپ سے نکالتی تھی۔ اس کے پاس شکوہ کرنے کا آسرا نہیں تھا، بس یہ اختیار تھا کہ ہاتھ نہ کانپیں۔

فرش صاف ہوتے ہوتے عصر ڈھل گئی۔ پھر سب اوپر چھت پر چلے گئے، جہاں منگنی سے پہلے کی چھوٹی سی بیٹھک کے لیے رشتے دار جمع ہونے تھے۔ سائرہ کو اصل میں صرف ایک پریزنٹیشن فائل پہنچانی تھی—ارحم نے اسی بہانے بلایا تھا، کہ “امی ملنا چاہتی ہیں، ویسے بھی سب کو پتہ ہے۔” مگر اوپر جاتے ہوئے اس نے دیکھا کہ اس کے لیے رکھی گئی ایک فولڈنگ کرسی دیوار سے ہٹا کر کزنز کے پیچھے ڈال دی گئی ہے، اور میز کے سرے پر ارحم کے ساتھ ایک اور لڑکی بٹھا دی گئی ہے، بینک والے چچا کی بیٹی، جو انگلش میں ہنس ہنس کر بات کر رہی تھی۔

سائرہ نے فائل میز پر رکھی۔ ارحم نے بغیر اسے دیکھے کہا، “تھینک یو، بس یہ خالہ کو دے دو… اور ہاں، جوس کم پڑ رہا ہے، نیچے والے کریٹ سے دو بوتلیں لے آنا۔”

اس ایک جملے نے اس کی ساری حیثیت کو ٹرے کے ساتھ باندھ دیا۔ سامنے بیٹھے دو اساتذہ، چند کزنز، خالہ نسرین—سب نے سن لیا۔ کوئی چونکا نہیں۔ کمرے میں رکھی چائے ٹھنڈی ہو کر اوپر باریک جھلی باندھ چکی تھی۔ سائرہ نے فائل خالہ کی طرف بڑھائی، پھر پلٹی۔ کرسی ویسے ہی خالی رہی، مگر اس کے لیے نہیں۔

سیڑھیوں کے موڑ پر حمزہ نے اس کے ہاتھ سے کریٹ پکڑ لیا۔ “دو میں اٹھا لیتا ہوں۔”

“چھوڑ دو۔” سائرہ نے آہستہ سے کہا، “پھر وہی کہیں گے۔”

“کہنے دو۔” اس نے کریٹ کا ایک کنارہ اپنے کندھے کے ساتھ جما لیا۔ “تم ہر دفعہ اکیلی کیوں اٹھاؤ؟”

اسی لمحے اوپر سے ارحم کی آواز آئی، “حمزہ! ادھر آؤ، یار۔” حمزہ رکا نہیں۔ وہ سائرہ کے ساتھ نیچے اترا، باورچی خانے کے دروازے تک کریٹ لے گیا، پھر دوسرا بھی۔ اندر ملازمہ نہیں آئی تھی؛ برتن سنبھالنے کو بس خالہ کی دو بہنیں تھیں، جو پہلے ہی سائرہ کو ایسے دیکھ رہی تھیں جیسے حد پار ہو رہی ہو۔

مغرب کے بعد اصل دباؤ شروع ہوا۔ صحن میں کرسیاں لگ گئیں، برآمدے میں عورتیں، اندر مرد۔ ایک بار سائرہ نے سنا، خالہ نسرین کسی سے کہہ رہی تھیں، “لڑکی اچھی ہے، محنتی ہے، مگر ہر چیز اپنی جگہ اچھی لگتی ہے۔ کالج کی دوستی اور گھر کا دروازہ ایک نہیں ہوتا۔” پھر ہلکی آواز میں، مگر اتنی کہ سنائی دے جائے، “اور آج کل بچوں کے بارے میں گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہونا الگ بات ہے، نام دینا الگ۔”

سائرہ برتن دھوتی رہی۔ اسٹیل کے سنک کے کنارے پر مصالحے، لیموں کا آدھا ٹکڑا اور ماچس کی ڈبیہ اٹکی ہوئی تھی۔ اس کے پاس اپنا پرانا بس کارڈ تھا جس کا کنارہ گھس چکا تھا؛ اس نے دوپٹے کی جیب میں انگلی ڈال کر اسے ٹٹولا۔ یہی اس کا راستہ تھا: وقت ہو تو بس پکڑ کر نکل جانا۔ مگر ارحم نے پھر نیچے آ کر کہا، “تم ابھی مت جاؤ۔ کیک کٹنے کے بعد سلائیڈز چلانی ہیں۔ اور پلیز، امی کے سامنے سین مت بنانا۔”

سائرہ نے پہلی بار سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ “میں نے کب سین بنایا ہے؟”

ارحم نے آس پاس نظر دوڑائی کہ کوئی سن نہ لے، پھر اور بھی دبا ہوا لہجہ اختیار کیا، “بس اپنا رول سمجھو۔ ہر جگہ خود کو مت رکھو۔”

اپنا رول۔ جیسے وہ انسان نہیں، ضرورت پر رکھا گیا سامان ہو۔ سائرہ نے سنک بند کیا، ہاتھ خشک کیے اور کہا، “ٹھیک ہے۔ پھر میں وہی کروں گی جو میرا ہے۔”

وہ مڑی اور صحن کے پچھلے کمرے میں رکھی پروجیکٹر کی تاریں سمیٹنے لگی۔ ارحم سمجھا شاید مان گئی۔ مگر جب خالہ نسرین نے پکارا، “سائرہ، ذرا سامنے آ کر کیک کی میز بھی سنبھال لو”، تو سائرہ نے پہلی بار صاف، سننے کے قابل مگر بےادب نہ ہونے والی آواز میں جواب دیا، “میں تاریں اور فائل جمع کر رہی ہوں، خالہ۔ جو گرایا گیا ہے، وہ سمیٹ دوں گی۔ سب کچھ نہیں۔”

یہ جملہ چھوٹا تھا، مگر کمرے کی ہوا میں ایک سخت لکیر کھینچ گیا۔ ارحم کا چہرہ فوراً بدل گیا۔ شاید وہ اسی لمحے کچھ کہہ دیتا، مگر سامنے کے صحن میں بچوں نے دوڑتے ہوئے کیک کی چھوٹی میز کو ٹکر مار دی۔ اوپر رکھا شربت کا بڑا جگ ایک طرف لڑکھڑایا، پھر سفید چادر، مٹھائی کے ڈبوں اور نیچے بچھے قالین پر سرخ دھار کی طرح بہہ گیا۔ عورتوں میں حرکت مچی؛ کسی نے بچے کو پکڑا، کسی نے دوپٹا سمیٹا، کسی نے صرف “ہائے ہائے” کہا۔ سرخ شربت پاؤں کی طرف بڑھ رہا تھا۔

سائرہ سب سے پہلے جھکی۔ اس نے میز کے نیچے سے خالی ٹب کھینچا، چادر کا بھاری کنارہ لپیٹا اور شربت کی دھار موڑنے لگی تاکہ قالین میں کم جائے۔ “بالٹی!” اس نے زور سے کہا، “صاف پانی والی، ابھی!”

ایک لمحے کے لیے سب نے اسی کی طرف دیکھا، مگر حرکت کوئی اور نہ کرتا اگر حمزہ دوڑ کر اندر نہ جاتا۔ وہ نیلی بالٹی اور پونچھا لے آیا، پھسلن میں خود بھی لڑکھڑایا مگر بالٹی نہیں گرنے دی۔ ارحم صحن کے بیچ کھڑا رہ گیا، ایک ہاتھ سے اپنی پتلون بچاتے ہوئے، دوسرے سے لوگوں کو پیچھے ہٹنے کا اشارہ کرتا۔ “رکو، نوکر آ جائے گا—”

“ابھی نہیں آئے گا!” سائرہ نے چادر کا وزنی حصہ دونوں بازوؤں سے پکڑتے ہوئے کہا۔ شربت اس کی آستین تک چڑھ گیا تھا۔ “یہ اٹھاؤ، ورنہ نیچے تک جائے گا۔”

یہ وہ جگہ تھی جہاں کوئی بھی چہرہ بچا سکتا تھا—پیچھے ہٹ کر، حکم دے کر، کسی تیسرے کا انتظار کر کے۔ سائرہ نے چادر کا ایک سرا خود اوپر کیا، وزن اس کے کندھے میں دھنس گیا۔ اگلے ہی لمحے حمزہ نے دوسرا سرا پکڑ لیا۔ وہ صحن کے بیچ، سب کے سامنے، اس کے ساتھ وہی بوجھ اٹھا رہا تھا جو ابھی تک ہمیشہ اس کے حصے میں پھینک دیا جاتا تھا۔

خالہ نسرین نے بےاختیار کہا، “حمزہ، چھوڑو، لوگ دیکھ رہے ہیں!”

حمزہ نے سر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ “دیکھنے دیں۔ قالین بھی دیکھیں گے اگر یہ پھیل گیا تو۔” اس نے چادر سائرہ کے اشارے پر موڑی۔ دونوں نے ایک ساتھ اسے بالٹی کے اوپر نچوڑا۔ گاڑھا سرخ پانی چھپاک سے نیچے گرا۔ پھر حمزہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور پونچھا چلانے لگا، وہیں جہاں سائرہ پہلے سے ہاتھ رکھے ہوئے تھی۔ اب کام تقسیم نہیں تھا؛ ایک ہی داغ، ایک ہی سمت، ایک ہی عجلت۔

ارحم دو قدم آگے بڑھا، پھر خالہ کی نگاہ دیکھ کر رک گیا۔ اس کے رکنے میں سب کچھ تھا۔ خالہ کی بہنوں نے دوپٹے سمیٹ لیے، دو کزنز کرسیاں پیچھے کرنے لگیں تاکہ راستہ بنے۔ ایک بزرگ نے بس اتنا کہا، “پانی اور لاؤ، جلدی۔” حکم اب سائرہ کے سر سے گزر کر نہیں جا رہا تھا؛ اس کے کام کی سمت مانی جا رہی تھی۔

سائرہ نے بالٹی کھسکائی۔ “صحن کے کونے میں لے چلو، یہاں پھسلن رہے گی۔” وہ خود پیچھے ہٹی نہیں؛ اس نے ہینڈل پکڑا اور چل پڑی۔ نیلی بالٹی آدھی بھری ہوئی، چادر اندر دبی، سرخ پانی کناروں سے ہلتا ہوا۔ صحن سے برآمدے کے کونے تک وزن ایک طرف جھک رہا تھا۔ حمزہ نے بغیر پوچھے دوسرا دستہ تھام لیا۔ دونوں کے ہاتھ ایک ہی لوہے پر تھے۔

یہ سب دیکھتے ہوئے بھی ارحم کچھ نہ کر سکا۔ اس نے صرف اتنا کہا، “میں بندوبست کرواتا ہوں۔” مگر اب بندوبست کا لفظ ہلکا لگ رہا تھا، جیسے بہت دیر سے آیا ہو۔

کونے میں جا کر سائرہ نے بالٹی زمین پر رکھی۔ “صاف کپڑا دو۔” اس نے کسی خاص کو نہیں کہا۔ پھر خود ہی قریبی رسی سے لٹکا پرانا تولیہ کھینچ لیا اور قالین کے کنارے کو دبا کر پانی کھینچنے لگی۔ حمزہ دوسری طرف بیٹھ گیا۔ اس کی شلوار کے گھٹنے بھیگ گئے تھے؛ اس نے پرواہ نہیں کی۔ اندر سے ایک چھوٹی بچی جھانکی، پھر اپنی ماں کے اشارے پر واپس ہو گئی۔ فاصلے قائم تھے، مگر اب ان کے اندر ایک نیا نقش بن چکا تھا۔

کچھ دیر بعد ہنگامہ تھم گیا۔ مہمان دوبارہ بیٹھنے لگے، مگر کیک کی میز دوسری جگہ چلی گئی۔ ارحم ایک بار کونے تک آیا، بہت آہستہ بولا، “سائرہ، بس رہنے دو، میں کسی کو—”

سائرہ نے اوپر دیکھے بغیر کہا، “جو گرا ہے، وہ خشک کیے بغیر نہیں چھوڑتی میں۔” پھر تولیہ نچوڑ کر حمزہ کی طرف بڑھا دیا۔ یہ جواب ارحم کے لیے نہیں، اپنی حد کے لیے تھا۔ ارحم ٹھہرا، پھر پیچھے ہٹ گیا۔ اس کے جوتے کے نیچے ابھی بھی گیلا نشان رہ گیا۔

آخر میں صحن کا شور دور جا چکا تھا۔ برآمدے کے کونے میں صرف دھلی ہوئی چادر، آدھا گیلا قالین اور بالٹی رہ گئی۔ سائرہ پہلے بیٹھ گئی، دیوار سے ہلکا سا ٹیک لگا کر۔ اس نے بالٹی اپنے اور خالی جگہ کے درمیان کھینچ لی، جیسے کام ابھی ختم نہیں ہوا۔ حمزہ ایک سانس بعد آ کر دوسری طرف بیٹھ گیا۔ اس نے کچھ نہیں پوچھا، کوئی تسلی نہیں دی۔ بس پونچھا مروڑ کر بالٹی کے کنارے رکھا، تاکہ اگلا چکر بھی دونوں کے بیچ ہی رہے۔

سائرہ نے اپنا گھسا ہوا بس کارڈ جیب سے نکال کر ایک طرف رکھا، پھر بالٹی کا دستہ سیدھا کیا۔ حمزہ نے خاموشی سے اس دستے پر اپنی انگلی جما دی تاکہ وزن ایک طرف نہ ڈھے۔ بالٹی کے اندر پانی ایک بار ہلا، سطح پر سرخ لہر بنی، پھر تھم گئی۔