Fast Fiction

جو پھندا اس نے بچھایا تھا

“رک جاؤ، تم اندر نہیں جاؤ گی۔”

بیک گیٹ کے تنگ راستے میں کاشف نے ہاتھ سیدھا ماہم کے سامنے پھیلا دیا۔ لوہے کی جالی والا دروازہ آدھا کھلا تھا، اندر سے برتنوں کی ٹکر، جنریٹر کی بھاری آواز اور کوریڈور کی زرد بتی کی مسلسل بھنبھناہٹ آ رہی تھی۔ ماہم کے گلے میں لٹکا پرانا، کئی جگہ سے مڑا ہوا کارڈ اس کے دوپٹے پر ہلکا سا بجا۔ ایک ہاتھ میں اس کے پاس ٹھنڈا پڑا کھانے کا ڈبہ تھا، دوسرے میں اندراجی رجسٹر کی باریک فائل۔ دو ویٹر، ایک چوکیدار، اور سامنے برآمدے سے جھانکتی حنا نے ایک ساتھ ادھر دیکھا۔ کاشف نے اتنا زور سے کہا کہ لان کی پچھلی سیڑھیوں پر کھڑی اس کی بہن سدرہ بھی سن لے، “آج سے اندرونی راستہ سپروائزری کلیئرنس کے بغیر نہیں۔ اور تم اب صرف بیک آفس والی لڑکی ہو، سمجھیں؟”

یہ وہی راستہ تھا جو پچھلے آٹھ مہینے سے ماہم نے خاموشی سے زندہ رکھا تھا۔ جب فریزر خراب ہوا، جب بارات وقت سے پہلے پہنچی، جب رات کی ڈیوٹی والا لڑکا غائب ہوا، تو یہی راستہ کھلوا کر سامان، کھانا، اور لوگ گزارے گئے تھے۔ مگر آج لان میں سدرہ کے سسرال والے بھی تھے، منگنی کی تاریخ پر بات ہونی تھی، اور کاشف کو اپنی عارضی نگرانی مستقل دکھانی تھی۔ اس نے چوکیدار سے چیک لسٹ کھینچ کر کہا، “نام دیکھو۔ جن کے پاس میرا نشان نہیں، سیدھے باہر۔”

ماہم نے نہ آواز اونچی کی، نہ پیچھے ہٹی۔ اس نے فائل کھولی، رجسٹر کے کنارے پر انگلی رکھی، پھر چوکیدار کے ہاتھ میں دبی فہرست پر ایک نظر ڈالی۔ سرخ قلم سے اوپر “راستہ نمبر تین—صرف متبادل نقل و حرکت” لکھا تھا۔ نیچے دستخط کی جگہ خالی تھی۔ اس نے آہستہ سے کہا، “متعین راستہ بدلے گا تو سرد خانے کی چابی کس کے نام پر منتقل ہوگی؟”

کاشف ہنسا، وہ ہنسی جو خاص طور پر نیچا دکھانے کے لیے نکالی جاتی ہے۔ “دیکھا؟ یہی مسئلہ ہے۔ دو کاغذ سنبھالے ہیں تو خود کو ضروری سمجھنے لگی ہو۔” اس نے حنا کی طرف ذرا گردن موڑ کر کہا، “گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہو یا نہ ہو، کام کی جگہ پر حد ہوتی ہے۔ ہر کوئی خاندان نہیں ہوتا۔”

حنا کے چہرے پر ایسی کھنچاؤ آئی جیسے کسی نے اس کے سامنے پلیٹ کھینچ لی ہو۔ ماہم نے اس کی طرف نہیں دیکھا۔ اس نے بس چوکیدار سے پوچھا، “نعیم چچا کہاں ہیں؟”

“اوپر کولڈ روم والے موڑ پر،” چوکیدار نے دبے لہجے میں کہا، مگر کاشف نے فوراً بیچ میں بات کاٹی، “انہیں چھوڑو۔ اب حکم میرا چلے گا۔ تم ادھر انتظار کرو۔” اس نے ہاتھ سے ایک طرف اشارہ کیا—دروازے کے اندر گھستے ہی دائیں طرف ایک تنگ سروس لین، جہاں دیوار کے ساتھ خالی کریٹس رکھے تھے اور سامنے دوسرا آہنی پھاٹک، جو عام دنوں میں اندر سے کھلتا تھا۔ “وہیں کھڑی رہو۔ جب بلاؤں تب آنا۔”

وہ جگہ بظاہر انتظار کی تھی، اصل میں پکڑ تھی۔ وہاں کھڑے ہونے والا سامنے کے کوریڈور کو دیکھ نہیں سکتا تھا، اور باہر نکلنے کے لیے اسی ایک پھاٹک سے گزرنا پڑتا تھا۔ ماہم نے ایک لمحے کو زاویہ ناپا؛ پھر بےآواز چل کر وہیں جا کھڑی ہوئی۔ اس کے قدموں کی آہٹ نم سیمنٹ پر بجھی بجھی سنائی دی۔ اس نے کھانے کا ڈبہ کریٹ پر رکھ دیا۔ اس جگہ سے کاشف کو لازماً دروازے کے عین بیچ میں رہنا پڑتا تھا تاکہ وہ اسے قابو میں رکھ سکے۔ اس کے پیچھے سے سامان لانے والوں کی قطار اکٹھی ہونے لگی: دو لڑکے گیس سلنڈر کے ساتھ، ایک ڈرائیور مٹھائی کے کارٹن اٹھائے، اور اوپر کی سیڑھی سے نعیم چچا نیچے اترتے ہوئے۔

“راستہ کیوں رکا ہے؟” نعیم چچا کی آواز پرانی اینٹ جیسی بھاری تھی۔

کاشف نے فوراً اپنی کمر سیدھی کی۔ “میں نے نئی ترتیب لگائی ہے۔ مرکزی خاندان کے لوگ آج ادھر سے گزریں گے، عملہ دوسرے گھوم کر جائے گا۔ بہاؤ بہتر ہوگا۔”

نعیم چچا نے صرف ایک بار ماہم کو دیکھا، پھر دروازے کے اوپر لگے چھوٹے کیمرے کی سرخ بتی کی طرف۔ “متبادل راستہ لگا رہے ہو؟ تو اندراج کرو۔ ورنہ بعد میں کولڈ روم کی کٹوتی بھی تمہارے سر جائے گی۔”

یہ پہلا چھوٹا سا دراڑ تھا۔ کاشف نے فوراً چیک لسٹ اپنے سینے کے قریب کر لی، جیسے کاغذ سے اختیار اور بھی چمک جائے۔ “اندراج ہو جائے گا۔” پھر ماہم کی طرف دیکھ کر بلند آواز میں بولا، “اور اس کا نام انتظار پر رہے گا۔ اس کا کام اب صرف کال اٹھانا ہے، راستہ کھلوانا نہیں۔”

لان کے پچھلے برآمدے میں اس کی بہن سدرہ کے ساتھ دو بڑی عمر کی عورتیں کھڑی تھیں۔ انہوں نے وہ جملہ صاف سنا۔ ان میں سے ایک نے بھنویں سکیڑ کر ماہم کو اوپر سے نیچے دیکھا۔ یہی کاشف چاہتا تھا: وہ بیک گیٹ پر ایک مزدور لڑکی بن جائے، جسے سب کے سامنے لائن میں کھڑا کیا جا سکے۔

ماہم نے جواب میں بس رجسٹر بند کیا اور دیوار کے ساتھ سیدھی ہو کر کھڑی رہی۔ اس کے بازو میں شفٹ ختم ہونے کی اکڑ تھی، آستینوں پر دن بھر کے موڑ جمے ہوئے تھے، مگر آواز ہموار رہی۔ “اندراج مکمل ہوئے بغیر کولڈ روم کی چابی نہیں کھلے گی۔ اور چابی نام کے بغیر نہیں چلتی۔”

“تم دھمکی دے رہی ہو؟” کاشف ایک قدم آگے آیا۔

“نہیں، یاد دلا رہی ہوں۔”

اس ایک جملے نے اس کے لہجے کی چمک میں باریک سا خراش ڈال دی۔ پیچھے سے ایک ڈرائیور نے بےصبری میں کہا، “بھائی، آئس کریم پگھل رہی ہے۔ راستہ کھولو۔” کاشف کو سب کے سامنے تیزی دکھانی تھی۔ اس نے چوکیدار سے قلم لیا، چیک لسٹ کو دروازے کی چوکٹ پر رکھ کر جلدی جلدی لکھا: “راستہ نمبر تین بند، نقل و حرکت سروس لین دو سے۔ مجاز نگران: کاشف۔” پھر اس نے اتنے زور سے دستخط کیے کہ کاغذ پھٹنے کو آیا۔ “ہو گیا اندراج۔ اب سب کچھ میرے نام پر۔”

نعیم چچا نے کچھ نہیں کہا، صرف اتنا کیا کہ دروازے کے پاس ہٹ کر کھڑے ہو گئے، جیسے گزرگاہ کو گواہی کی جگہ بنا رہے ہوں۔ ماہم نے اپنی جگہ سے ہلکے سے گردن موڑی۔ اب منظر صاف تھا: کاشف چوک پوائنٹ کے بیچ، اس کے پیچھے باہر کا دروازہ، سامنے اندر کا تنگ پھاٹک، اور بائیں طرف وہ کوریڈور جس کے آخر میں کنٹرول روم تھا۔ اس نے فائل کھولی، آخری صفحہ نکالا، اور موبائل کو رجسٹر کے اوپر رکھ کر ایک نمبر ملایا۔

کاشف نے فوراً روکا، “فون بند کرو۔ میں نے کہا نا، اب میری اجازت—”

ماہم نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، “مالک سائیڈ کلیئرنس۔” اور کال اسپیکر پر ڈال دی۔

دو گھنٹیوں کے بعد خشک، نیند سے کٹی ہوئی مگر بااختیار آواز آئی، “جی، کنٹرول۔”

“ماہم بول رہی ہوں، بیک گیٹ تین سے۔ متبادل نقل و حرکت درج ہوئی ہے، مجاز نگران نے خود نام لیا ہے۔ کولڈ روم روٹ اور لاک شفٹ کی تصدیق چاہیے۔”

کاشف نے جھپٹ کر فون چھیننے کی کوشش کی مگر نعیم چچا کا ہاتھ اس کے بازو کے آگے آ گیا۔ “کاغذ تم نے خود لکھا ہے۔ اب سنو بھی۔”

فون پر کاغذ پلٹنے کی آواز آئی۔ پھر سوال: “مجاز نگران کا نام؟”

ماہم نے چیک لسٹ اوپر اٹھا کر سب کے سامنے پڑھی، “کاشف۔”

“کولڈ روم اور سروس لین دو ایک ہی زنجیر پر ہیں،” آواز نے کہا۔ “جس کے نام پر متبادل نقل و حرکت درج ہو، جب تک وہ خود اندر سے لاک وصول نہ کرے، بیرونی بیک گیٹ سے گزر نہیں سکتا۔ حفاظتی بندش خودکار ہو جائے گی۔ عملے کی بیک آفس رسائی ماہم کے نام برقرار ہے۔ اسے اندر آنے دیں۔ نگران پیچھے ہٹے۔”

یہ جملہ ابھی مکمل بھی نہ ہوا تھا کہ الیکٹرونک چٹخ کی آواز آئی۔ اندر والے آہنی پھاٹک نے خود کو جکڑ لیا۔ سامنے لگی چھوٹی سبز بتی سرخ ہو گئی۔ قطار میں کھڑے لڑکے ایک قدم پیچھے ہٹے۔ کاشف نے پہلے فون کی طرف، پھر اپنے دستخط کی طرف دیکھا، جیسے دونوں میں سے کوئی ایک اس سے غداری کر گیا ہو۔

“یہ کیا فضول—” وہ آگے بڑھا، مگر چوکیدار نے اس کے سامنے ہاتھ رکھ دیا۔ اس کی آواز میں پہلی بار حکم تھا، “جناب، آپ کا نام درج ہے۔ آپ کو اندر سے لاک وصول کرنا ہوگا۔ باہر سے گزرنا بند ہے۔”

“میں نگران ہوں!” کاشف نے چیک لسٹ لہرا دی۔

“اسی لیے،” نعیم چچا نے کہا، “پیچھے ہٹو۔ راستہ روکے کھڑے رہو گے تو سب کچھ تمہارے نام پر اٹکے گا۔”

یہ دوسرا وار تھا—اور اس بار صاف جسم پر۔ پیچھے برآمدے سے عورتوں کی باتیں رک گئیں۔ حنا دو سیڑھیاں نیچے آ گئی۔ کاشف کو اپنے ہی لکھے حکم کی وجہ سے ایک قدم، پھر دوسرا قدم پیچھے لینا پڑا۔ جیسے ہی وہ دہلیز سے ہٹا، ماہم سیدھی اس کے برابر سے گزری۔ اس کے مڑے ہوئے کارڈ نے ریڈر پر چھوا تو سبز بتی جل اٹھی۔ وہ اندر داخل ہوئی، فائل بائیں بازو میں دبائی، دائیں ہاتھ سے اندر والے پینل پر لاک وصولی کا بٹن دبایا، پھر کنٹرول روم کی طرف دیکھ کر کہا، “بیک آفس رسائی ماہم۔ مالک سائیڈ قبول۔ بیرونی روٹ بند رکھیں جب تک درج نگران اندرونی لاک نہ لے۔”

“قبول،” فون پر آواز آئی۔

کاشف نے اس لمحے تیسری بار زور لگایا۔ “چوکیدار، دروازہ کھولو۔ یہ غلط اندراج ہے، میں کہہ رہا ہوں—”

مگر غلطی اب زبان پر نہیں، ریکارڈ میں تھی، اور ریکارڈ کے ساتھ لوہے کی بندش جڑی تھی۔ چوکیدار نے نظریں جھکا کر کہا، “جناب، اب یا تو آپ اندرونی سروس لین دو کے چکر سے جائیں، یا انتظار کریں۔ بیک گیٹ آپ کے لیے بند ہے۔”

اندر والے کوریڈور میں بتی کی بھنبھناہٹ زیادہ صاف سنائی دے رہی تھی۔ ماہم نے کنٹرول پینل سے ثانوی چابی نکالی، رجسٹر پر اپنے ابتدائی حروف ثبت کیے، اور باہر کی سمت لٹکے موٹے کنڈے والی زنجیر چھوڑ دی جو نظام بدلتے ہی خود کھنچ کر جڑ گئی۔ اس کے بعد وہ مڑی، دو قدم واپس آئی، اور بیک گیٹ کی بیرونی لائن میں کھڑے کاشف کے سامنے دروازے کے پاس پہنچ کر چابی کو لاک کے منہ میں گھمایا—صرف مالک سائیڈ کی آخری توثیق کے لیے، جیسا ضابطہ تھا۔

کاشف نے فوراً آگے بڑھ کر کنڈا پکڑا، شاید یہ سمجھ کر کہ ابھی زور سے گھما دے گا تو سب اس کی مٹھی میں آ جائے گا۔ ماہم نے ہاتھ ہٹا لیا۔ اس کا ہاتھ لاک پر گیا، اس نے پوری کلائی موڑی، مگر بند لوہے نے خشک، مردہ سی اٹکی ہوئی آواز نکالی۔ لاک نہیں گھوما۔