Fast Fiction

میری جگہ ان کا شارٹ کٹ مر گیا

“مہرین، دو نمبر والی پٹی جلدی دو، اور امی کے لیے شوگر والی دوا الگ باندھو۔”

مہرین نے شیشے کے کاؤنٹر پر پرچی پھیلائی، پیچھے والی الماری سے ڈبہ نکالا، سامنے کھڑے بوڑھے آدمی کو رقم بتائی، اور ساتھ ہی بائیں ہاتھ سے رجسٹر میں اندراج کیا۔ اس کے برابر ایک چھوٹا سا اسٹیل کا لنچ باکس بند پڑا تھا؛ اوپر کی روٹی سکڑ کر سخت ہو چکی تھی۔ مگر حارث، جو کاؤنٹر کے باہر کھڑا اپنے استری کیے ہوئے کرتا آستین سے سیدھا کر رہا تھا، ایسے ہدایات دے رہا تھا جیسے سارا شام کا کام اسی کے کندھے پر ہو۔ شازیہ خالہ اپنی سہیلی کے ساتھ سامنے رکھی کرسیوں پر بیٹھی تھیں، اور دونوں کے چہروں پر وہی احتیاط تھی جو رشتہ دیکھنے کے وقت برتی جاتی ہے، اگرچہ زبان پر صرف دکان کی تعریف تھی۔

“ہمارا لڑکا بڑا سیٹ ہے،” شازیہ خالہ نے آہستہ سے کہا، مگر اتنا آہستہ بھی نہیں کہ مہرین نہ سن سکے، “اب شام کی نگرانی بھی خود کرتا ہے۔”

مہرین نے بوڑھے آدمی کو بقایا تھمایا، پھر حارث کی طرف دیکھے بغیر کہا، “حفاظتی شیلف کی چابی آپ کے پاس ہے۔ کھانسی والا سیرپ میں نے صبح سے الگ رکھا ہوا ہے۔” یہ جملہ جواب کم، ثبوت زیادہ تھا۔ حارث ایک لمحے کو رکا۔ اسے چابی واقعی اپنی جیب سے نکالنی پڑی۔ شازیہ خالہ کی سہیلی کی نگاہ ایک پل کو اس کی جیب، پھر مہرین کے ہاتھوں پر گئی جہاں رسیدی کاغذ، پرچیاں اور رقم ایک ساتھ چل رہے تھے۔

حارث نے مسکرا کر خفگی چھپائی۔ “آج سے شام کی نقدی میں دیکھوں گا۔ اوپر ابو نے کہا ہے۔ محلے میں لوگ چہرہ دیکھتے ہیں۔” اس نے گلے میں لٹکی چابیوں کا چھلا گھمایا اور دراز کی چابی الگ کر دی۔ “تم بس دوائیں نکالو۔ حساب میں غلطی کی گنجائش نہیں۔”

یہ بحث سے زیادہ بے دخلی تھی، کیونکہ اس نے ساتھ ہی شفٹ شیٹ اٹھا کر اپنے سامنے کر لی اور رجسٹر کی دراز کھولنے والی چابی دانش کے ہاتھ میں دے دی۔ دانش، جو دوپہر میں یونیورسٹی سے سیدھا آتا اور کبھی کبھی ڈلیوری کر دیتا تھا، جھینپ گیا۔ “بھائی، میں تو بس—”

“بس بیٹھ جاؤ،” حارث نے کرسی رجسٹر کے پیچھے کھینچ دی۔ “باہر سے دیکھنے والوں کو ترتیب چاہیے۔”

مہرین نے ایک لمحہ اس کرسی کو دیکھا، پھر خاموشی سے اپنے ربڑ کے دستانے اتارے، کاؤنٹر کے نیچے سے اسٹاک کی فائل نکالی اور رجسٹر کے پاس رکھنے کے بجائے پچھلی میز پر رکھ دی۔ “کنٹرولڈ اندراج میرے بغیر مت کھولیے گا،” اس نے کہا۔ “کوڈ بھی میرے پاس ہے اور حساب بھی۔” پھر وہ سامنے والے گاہک کی طرف مڑ گئی، گویا اسے یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ اصل بوجھ کس کے ہاتھ میں ہے۔

شام گہری ہونے تک کراچی کی نمی شیشے پر ہلکی دھند بٹھا چکی تھی۔ باہر موٹر بائیکیں رک رہی تھیں، اندر پرچیاں بڑھ رہی تھیں، اور دانش رجسٹر کے سامنے بیٹھا ہر دوسری رقم پر مہرین کی طرف دیکھ لیتا۔ حارث مسلسل ایک فون کان اور دوسرا ہاتھ کاؤنٹر پر رکھے کھڑا تھا؛ کبھی کسی سپلائر سے بھاؤ پوچھتا، کبھی اوپر والے گھر میں اطلاع بھجواتا کہ “سب قابو میں ہے”۔ پھر وہ گھڑی آئی جس سے مہرین نے اسے پہلے ہی خبردار کیا تھا: ایک ڈاکٹر کی مہر لگی پرچی آئی، ساتھ ایک بے چین لڑکا، اور اس کے پیچھے تین اور گاہک جمع ہو گئے۔

“یہ اندراج رجسٹر کے ساتھ والی لاگ بک میں ہوگا،” مہرین نے پیچھے سے کہا۔

حارث نے گردن موڑے بغیر جواب دیا، “ہو جائے گا۔”

ہوا نہیں۔ دانش نے غلط خانہ کھول دیا، مقدار کا کالم خالی رہ گیا، پھر نقدی دراز میں پچھلی فروخت کی رقم نئی رسید کے ساتھ مل گئی۔ اسی دوران ایک خاتون نے شور مچا دیا کہ ان کی بقایا رقم کم ہے۔ کاؤنٹر پر تین آوازیں ایک ساتھ چڑھ گئیں۔ حارث نے لاگ بک کھولی تو اس میں پچھلے ہفتے کی آخری سطر ادھوری تھی؛ وہی سطر جو صرف مہرین مکمل کرتی تھی کیونکہ اس نے پچھلی رات بندش اکیلے کی تھی۔

“مہرین، ذرا آ کر دیکھو،” اس نے پہلی بار درخواست کے لہجے میں کہا، مگر لفظوں میں اب بھی مالکانہ وزن رکھا۔

مہرین نے پچھلی میز سے آنکھ اٹھائی۔ قطار لمبی ہو گئی تھی۔ دانش کی کنپٹی پر پسینہ تھا۔ اس نے آ کر کتاب پر ہاتھ نہیں رکھا۔ “دراز، شفٹ شیٹ، اور لاگ بک سامنے رکھیے۔ پھر دیکھوں گی۔”

حارث نے دانت بھینچے۔ “اتنی دیر میں لوگ کھڑے ہیں۔”

“مجھے بھی یہی بتایا گیا تھا کہ میں بس دوائیں نکالوں،” مہرین نے صاف کہا۔ “تو پھر یہی ہو گا۔”

قطار میں کھڑے بوڑھے آدمی نے کھانسی روکی، خاتون نے بیگ مضبوط پکڑا، دانش نے اپنی کرسی سے آدھا اٹھ کر چابی کی طرف دیکھا۔ حارث نے پہلی بار سمجھا کہ اس نے آسانی کے نام پر جو شکل بنائی تھی وہ زندہ دباؤ میں بیٹھ نہیں رہی۔ اس نے دراز کی چابی کاؤنٹر پر رکھی، مگر ابھی بھی شیٹ اپنے ہاتھ میں تھی۔ مہرین نہیں ہلی۔

اوپر سے عابدہ کی آواز آئی، “حارث! ابو بلا رہے ہیں۔” پھر سیڑھیوں کے موڑ پر شازیہ خالہ نمودار ہوئیں۔ “بس دو منٹ کے لیے اوپر آ جاؤ۔ مہمان بیٹھے ہیں۔”

مہمان۔ یعنی وہی لوگ جن کے سامنے حارث کو شام کی ذمہ داری کا چہرہ بنایا جا رہا تھا، اور مہرین کو محض مددگار رکھا گیا تھا، حالانکہ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ پچھلے ایک سال سے دکان کی رات کی بندش، اسٹاک کی ترتیب، اور رجسٹر کا حساب مہرین سنبھالتی ہے۔ بس یہ پتہ ہونا اور باقاعدہ مان لینا دو الگ باتیں تھیں۔

سیڑھی کے نیچے سے اوپر جاتی روشنی ایک تنگ پٹی کی طرح فرش پر پڑی تھی۔ مہرین نے اوپر نہیں دیکھا، مگر جب عابدہ خود نیچے آ کر دروازے کے پاس رکی تو وہ مجبوراً مڑی۔ عابدہ کے ہاتھ میں اوپر والے دروازے کی چابی تھی، وہی جو عموماً وقت پر واپس آ جاتی تھی مگر آج دیر سے لوٹی تھی۔ “خالہ کہہ رہی ہیں، تم بھی آ جاؤ۔ دو باتیں کرنی ہیں۔”

نیچے سے ایک اور آواز آئی، “باجی، بچی کو بخار ہے، جلدی دوا دے دیں۔”

یہی ان کی ساری دنیا تھی: اوپر خاندان کا آدھا کھلا دروازہ، نیچے کاؤنٹر پر زندہ ضرورت۔ مہرین سیڑھی کے پہلے زینے تک گئی، مگر دہلیز پر رک گئی۔ دروازہ پورا نہیں کھلا تھا۔ اندر سے چائے کے چمچ کی چھنک، بڑوں کی دبی ہوئی باتیں، اور حارث کے ابو کی بھاری کھنکار آ رہی تھی۔

“بیٹا،” شازیہ خالہ نے آدھا دروازہ کھول کر کہا، “دکان دکان ہوتی رہتی ہے، گھر کی بات پہلے ہوتی ہے۔ تم ضد نہ کرو۔ لڑکے کی عزت بھی چیز ہوتی ہے۔ نیچے ابھی بس ہاتھ بٹا دو، حساب بعد میں سمجھ لینا۔”

مہرین نے عابدہ کے ہاتھ سے چابی لی، مگر جیب میں رکھنے کے بجائے اپنی مٹھی میں بند کر لی۔ اس کے فون کی روشنی ہتھیلی میں ہلکی سی چمکی؛ دانش کا پیغام تھا: لاگ بک رک گئی ہے۔ پیچھے سے پھر آواز آئی، “بچی کانپ رہی ہے۔”

مہرین نے آہستہ کہا، “میں ہاتھ بٹانے نہیں جاؤں گی۔ یا اختیار واپس آئے گا، یا جو اوپر ٹھیک لگ رہا ہے وہی نیچے بھی چلایا جائے۔” شازیہ خالہ نے کچھ کہنا چاہا، مگر نیچے کسی شیشی کے گرنے کی آواز سنائی دی اور سب کے چہرے ایک ساتھ تن گئے۔

جب وہ واپس کاؤنٹر پر پہنچی تو منظر بکھرا ہوا تھا۔ دانش غلطی سے دو الگ نسخوں کی رقم ملا بیٹھا تھا، خاتون بقایا کے نوٹ ہوا میں گن رہی تھی، اور حارث لاگ بک کے خالی خانے پر قلم رکھے کھڑا تھا جیسے کاغذ خود بھر جائے گا۔ ایک بچی اپنی ماں کے کندھے سے لگی سسک رہی تھی۔ مہرین نے ایک نظر میں سب دیکھ لیا: دراز آدھی کھلی، رجسٹر رول ٹیڑھا، کنٹرولڈ دوا کی بوتل شیلف سے نکل کر بے نام پڑی، اور حارث کی انگلیاں پہلی بار بے کار۔

“مہرین—” اس نے شروع کیا۔

“سب کچھ یہاں رکھیے۔ سامنے۔” اس کی آواز بلند نہیں تھی، مگر سیدھی تھی۔

حارث نے ایک لمحہ اپنے ابو کی سیڑھیوں کی طرف دیکھا، جیسے وہاں سے کوئی اور راستہ نکل آئے گا۔ کچھ نہیں نکلا۔ اس نے شفٹ شیٹ کاؤنٹر پر رکھی۔ مہرین نے نہیں چھوا۔ “دراز کی چابی۔”

وہ بھی آ گئی۔

“لاگ بک۔”

دانش نے فوراً بڑھا دی، جیسے کسی ڈوبتے نے لکڑی تھمائی ہو۔

“اور بیٹھنے کی جگہ خالی کیجیے۔”

یہ جملہ سب سے مہنگا تھا۔ حارث نے کرسی پیچھے کی۔ کاؤنٹر کے شیشے میں ایک پل کو اس کا چہرہ نظر آیا، پھر وہ خود راستے سے ہٹ گیا۔ مہرین نے تب جا کر اپنی ہتھیلی کھولی، اوپر والے دروازے کی چابی کاؤنٹر کے کنارے رکھ دی، اور رجسٹر کے پاس بیٹھ گئی۔ اس نے پہلے دراز پوری کھولی، نوٹ الگ کیے، بقایا والی خاتون کے سامنے رقم دوبارہ گنی، پھر لاگ بک سیدھی کر کے مقدار، وقت اور ڈاکٹر کا نام ایک ایک خانہ بھر دیا۔ “اب شیشی دیجیے۔” دانش نے فوراً دی۔ “بچی کے لیے یہ ابھی، اور یہ رات میں۔ اگلی خوراک کا وقت رسید پر لکھ رہی ہوں۔”

قطار حرکت میں آ گئی۔ بوڑھے آدمی کو اس کی دوا ملی، خاتون کی آواز نیچی ہوئی، بچی کی ماں نے پرچی دوبارہ مروڑنا چھوڑ دی۔ مہرین کے ہاتھ تیز تھے مگر بدحواس نہیں۔ اس نے دو منٹ میں تین غلطیاں درست کیں، پھر شفٹ شیٹ اپنی طرف کھینچ کر نئے اندراج کے ساتھ وقت لکھ دیا۔ کاؤنٹر کے اس پار کھڑے لوگ اب سوال حارث سے نہیں، اس سے کر رہے تھے۔ حارث نے ایک بار کچھ بتانے کو منہ کھولا، مگر مہرین نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، “رقم صرف بتا دیجیے، باقی میں کر لوں گی اگر حساب دوبارہ نہیں بگاڑنا۔”

وہ خاموش ہو گیا۔ شازیہ خالہ سیڑھی کے موڑ پر آ کر رک گئی تھیں۔ اوپر والوں نے شاید نیچے جھانکا بھی ہو، مگر مہرین نے سر نہیں اٹھایا۔ یہ کوئی فتح کا مظاہرہ نہیں تھا؛ یہ صرف وہ بوجھ تھا جو غلط کندھے سے پھسل کر صحیح ہاتھ میں واپس آ گیا تھا، اور سب نے اتنا ہی دیکھا جتنا چھپایا نہیں جا سکتا تھا۔

ایک وقفہ آیا تو دانش نے بہت آہستہ کہا، “میں نے صبح والی اسٹاک فائل وہیں رکھی تھی جہاں آپ رکھتی ہیں۔” یہ چھوٹی سی بات تھی، مگر سیدھی۔ مہرین نے مختصر سا “اچھا” کہا اور اگلی پرچی لے لی۔ حارث اب کاؤنٹر کے کنارے کھڑا تھا، مالک نہیں، رکاوٹ بھی نہیں۔ صرف اتنا قریب کہ سب دیکھ سکے، اتنا دور کہ اب اس کے ہاتھ کام میں نہ پڑیں۔

بندش کے وقت دکان کی روشنی کچھ اور زرد ہو گئی۔ باہر آخری موٹر بائیک سٹارٹ ہوئی اور دور چلی گئی۔ مہرین نے نقدی گنی، خانہ بند کیا، لاگ بک کے نیچے دستخط رکھے، پھر رجسٹر میں نئی رسیدی پٹی سیدھی کی۔ کاغذ پہلے ٹیڑھا پھنس رہا تھا۔ اس نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے بیچ پکڑ کر آہستہ آہستہ کھینچا تو سیاہی والی باریک تحریر برابر آتی گئی۔ دراز کھلی رہی، اس کے اندر نوٹ الگ تہوں میں پڑے تھے، اور مہرین کے ہاتھ نے رجسٹر رول کو سیدھا کر کے کنارے پر چھوڑ دیا۔