اصل شفٹ پھر میرے نام ہوئی
مہرین نے شٹر اٹھا کر کلینک کا شیشے والا دروازہ کھولا، رات کی تاخیر سے لوٹائی گئی چابی ابھی اس کی ہتھیلی میں ٹھنڈی تھی، اور کاؤنٹر کے نیچے رکھا اس کا کھانے کا ڈبہ صبح تک سرد ہو چکا تھا۔ اس نے رجسٹر کھولا، ڈاکٹرز کی پرچیاں ترتیب دیں، ٹوکن مشین چلائی، پچھلی رات کے بقایا بل الگ کیے۔ ابھی اذان کی نمی ہوا میں تھی کہ فائزہ بھابھی ہلکی خوشبو اور استری شدہ دوپٹے کے ساتھ اندر آئیں، سیدھا سامنے والی کرسی پر بیٹھیں اور کاؤنٹر کی کلپ والی شناختی پٹی اپنی چھاتی پر لگا لی۔ “آج فرنٹ میں میں بیٹھوں گی۔ تم اندر والی میز سنبھالو۔ مریضوں سے بات کرتے ہوئے تمہارا لہجہ کبھی کبھی بہت سیدھا ہو جاتا ہے۔”
مہرین نے سر نہیں اٹھایا۔ صرف نقدی کی دراز بند کی، اپنی قلم رجسٹر کے اوپر رکھ دی اور کہا، “پہلا ڈاکٹر آتے ہی فالو اَپ کی فائلیں مانگے گا۔ ترتیب بگڑی تو مریض دروازے تک بھر جائیں گے۔” فائزہ بھابھی نے ہنسی دبا کر شیشہ صاف کیا۔ “ترتیب تم بنا دو، سامنے میں رہوں گی۔ آخر گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہے بات کہاں تک پہنچی ہوئی ہے۔ ہر چیز سب کے سامنے اچھی لگنی چاہیے۔” یہ پہلا انعام نہیں تھا، بس اتنا ہوا کہ مہرین نے مریضوں کی فائلوں میں اپنی ہاتھ کی لکھی سرخ نشانی والا بنڈل الگ کر کے کاؤنٹر کے بائیں حصے میں رکھ دیا، وہاں جہاں ہاتھ صرف اسی کا عادی تھا۔
سات بجتے ہی کراچی کی سڑکوں کا شور شیشے سے ٹکرانے لگا۔ موٹر سائیکلوں کی آواز، بس کے بریک، باہر ناشتہ والے کے پراٹھوں کی مہک۔ اندر قطار بننے لگی۔ فائزہ بھابھی ہر دوسرے مریض سے زیادہ نرم آواز میں بولتیں، لیکن ہر تیسرے جملے کے بعد سر موڑ کر سرگوشی میں مہرین سے پوچھتیں، “یہ دوسرا وزٹ ہے یا نیا؟” “اس کے ٹیسٹ کس ڈاکٹر نے مانگے تھے؟” “اس کی رعایت لکھی ہوئی ہے یا نہیں؟” مہرین جواب دیتی جاتی، تیز، مختصر، بغیر اوپر دیکھے۔ جب ایک بوڑھی عورت نے جھنجھلا کر کہا، “بیٹی، مجھے دو دفعہ نام لکھوایا گیا ہے، اب کس کے پاس جاؤں؟” تو فائزہ بھابھی نے فوراً مسکرا کر جواب دیا، “چھوٹا سا مسئلہ ہے، ہو جاتا ہے۔” اور نیچے دبے لہجے میں بولیں، “جلدی بتاؤ نا۔”
دوپہر سے پہلے خالہ شمیم آگئیں۔ وہ مہرین کی خالہ تھیں مگر اس جگہ فائزہ بھابھی کے ساتھ بیٹھ کر بولتی تھیں، جیسے عزت کا رخ ہمیشہ کرسی کے ساتھ بدلتا ہو۔ کاؤنٹر پر کھڑے کھڑے ہی انہوں نے کہا، “مہرین، شام کو گھر جلدی آ جانا۔ عدنان کی امی نے کہا ہے اب تمہیں ہر وقت سامنے نہیں رہنا چاہیے۔ منگنی کی بات جب گھروں میں ہو تو لڑکی کا انداز بھی دیکھا جاتا ہے۔” فائزہ بھابھی نے اسی لمحے ایک نوجوان مریض سے فیس لیتے ہوئے نرمی سے اضافہ کیا، “میں نے بھی یہی کہا تھا۔ یہ اندر والے کام میں بہت اچھی ہے، حساب کتاب اس سے بہتر کون کرے گا۔ سامنے والی جگہ بس… تھوڑی نفاست مانگتی ہے۔” اور پھر اگلے ہی سانس میں وہ مہرین کی طرف جھک کر بولیں، “اس بچے کی پرانی پرچی کہاں رکھی تھی تم نے؟”
مہرین کے حلق میں جواب کی جگہ کڑواہٹ اتری۔ عدنان کا نام سن کر اور زیادہ۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والا رشتہ تھا، مگر کھلے لفظوں میں کچھ نہیں۔ عدنان کبھی کلینک کے حساب کے بہانے آ جاتا، کبھی اپنی والدہ کی دوا لینے۔ بات اتنی ہی آگے بڑھی تھی کہ اب مہرین کو ہر جگہ کم دکھائی دینا چاہیے، تاکہ وہ قابلِ قبول لگے۔ اس نے سرد ڈبہ کھول کر ایک لقمہ توڑا، پھر بند کر دیا۔ کھانے کا وقت ہمیشہ اس کے حصے سے پہلے کٹتا تھا۔
مسئلہ ظہر کے بعد آیا۔ ایک طالب علم لڑکا، چہرے پر بخار، ہاتھ میں یونیورسٹی کارڈ، بار بار کہہ رہا تھا کہ اسے ڈاکٹر حارث نے کل دوبارہ بلایا تھا۔ فائزہ بھابھی نے اس کی فائل نئے مریضوں کے ڈھیر میں ڈال دی، پھر غلطی چھپانے کو نقدی کی رسید بھی تازہ بنا دی۔ جب حارث کمرے سے نکلے اور تیز لہجے میں پوچھا، “فالو اَپ کہاں ہے؟ میں نے اس کو ایک بجے بلایا تھا،” تو قطار رک گئی۔ لڑکے کی ماں نے گھبرا کر کہا، “ہم تو ڈیڑھ گھنٹے سے بیٹھے ہیں۔” فائزہ بھابھی نے فوراً مہرین کی طرف دیکھا، جیسے نظر سے دھکا دیتی ہوں۔ “یہ اندراج اس نے کیا تھا۔”
مہرین کی انگلیاں رجسٹر کے کنارے پر رک گئیں۔ ہر دن وہ ایسی گڑبڑ خاموشی سے سیدھی کر دیتی تھی۔ آج اس نے نہیں کیا۔ اس نے صرف رجسٹر اپنی طرف موڑا، صفحہ کھولا، سرخ قلم سے لگائی اپنی صبح کی نشانی دکھائی اور کہا، “فالو اَپ یہاں الگ رکھا تھا۔ نئی رسید ابھی بنی ہے، پہلے والی کٹی نہیں۔” قطار میں کھڑے دو آدمی ایک ساتھ جھکے۔ حارث نے فائزہ بھابھی کی طرف دیکھا۔ ان کے چہرے کی نرمی پہلی بار پھٹی۔ “تو پھر مریض باہر کیوں بیٹھا ہے؟”
کاؤنٹر کے نیچے ٹوکن مشین مسلسل ٹک ٹک کر رہی تھی اور کسی نے اسے ری سیٹ نہیں کیا تھا۔ اگلے تین مریضوں کے نمبر ایک ہی وقت پر چل گئے۔ ایک خاتون نے کہا، “میرا بچہ اندر کب جائے گا؟” ایک اور نے نقدی آگے بڑھائی، “رسید دے دیں، مجھے دفتر واپس جانا ہے۔” فائزہ بھابھی نے بکھرے کاغذ سمیٹنے کی کوشش کی، مگر ان کی انگلیاں غلط فائلیں اٹھا رہی تھیں۔ “مہرین، ذرا—” مہرین نے پہلی بار پوری طرح سیدھا ہو کر کہا، “آپ سامنے بیٹھنا چاہتی تھیں۔ سامنے یہی ہے۔”
اس ایک جملے کے بعد کچھ نہ ٹوٹا، بس ہر چیز آہستہ آہستہ رکنے لگی۔ غلط ٹوکن، ڈپلیکیٹ رسید، ڈاکٹر کے کمرے کے باہر بڑھتی قطار۔ حارث نے دو مریض خود بلا کر اندر لے جانے کی کوشش کی تو ایک بچے کی رپورٹ دوسری فائل سے نکل آئی۔ اب گڑبڑ چھپ نہیں سکتی تھی۔ فائزہ بھابھی نے ہڑبڑا کر اپنی شناختی کلپ اتاری، پھر فوراً دوبارہ لگا لی، جیسے تسلیم کرنا بھی آدھا آدھا ہو۔
شام سے کچھ پہلے عدنان اپنی والدہ کے ساتھ آ گیا۔ یہ وہ بدترین وقت تھا جب کسی رشتے دار کا آنا سب کچھ خاندان کی نظر میں بدل دیتا ہے۔ دروازے کے پاس آ کر وہ ایک لمحہ ٹھہرا؛ چوکھٹ کے اس چھوٹے سے وقفے میں مہرین نے اسے دیکھا، فون کی مدھم روشنی اس کی ہتھیلی میں جل رہی تھی، جیسے کوئی پیغام ادھورا رہ گیا ہو۔ اس کی والدہ کے چہرے پر وہی احتیاط تھی جو عورتیں شادی کی بات چلنے پر لاتی ہیں: کون کہاں بیٹھا ہے، کون کس لہجے میں جواب دے رہا ہے، کس کے ہاتھ میں اختیار ہے۔
اسی وقت ایک ضعیف مریض بے ہوش ہوتے ہوتے بچا۔ اس کے ساتھ آئے لوگ شور میں بولنے لگے، “پہلے ڈاکٹر! پہلے ڈاکٹر!” نقدی کی دراز کھلی رہ گئی، رجسٹر آدھا پلٹ کر نیچے لٹک رہا تھا، ٹوکن نمبر منجمد۔ فائزہ بھابھی نے ایک ساتھ تین حکم دیے اور کوئی بھی پورا نہ ہوا۔ خالہ شمیم نے بے بسی سے کہا، “کسی ایک کو تو سنبھالنا ہوگا!” حارث باہر نکلا، چہرہ سخت، اور سیدھا کاؤنٹر کی طرف آیا۔ “چابی، شفٹ شیٹ، مریضوں کا اندراج۔ ابھی۔”
فائزہ بھابھی نے اس لمحے بھی نیم مسکراہٹ سے بچنا چاہا۔ “میں کر رہی ہوں—” “نہیں,” حارث نے صاف کہا، مگر اس کی نظر مہرین پر تھی۔ عدنان کی والدہ کی موجودگی نے ہوا کو اور باریک کر دیا۔ اب اگر مہرین آگے بڑھتی تو یہ صرف کام نہ رہتا؛ یہ سب کے سامنے اپنی جگہ مانگنا بھی ہوتا۔ فائزہ بھابھی نے جلدی سے کہا، “ٹھیک ہے، دونوں مل کر—” مہرین نے کرسی کے پاس آ کر رک کر کہا، “نہیں۔ یا تو میں سنبھالوں گی، یا آپ سنبھالیں۔ نام دو نہیں چلتے، کاؤنٹر ایک ہے۔”
وہ جملہ نہ اونچا تھا نہ لمبا، مگر اس نے کمرے کی حد بندی بدل دی۔ حارث نے شفٹ شیٹ اٹھا کر اس کی طرف بڑھائی۔ فائزہ بھابھی کے ہاتھ اب بھی کلپ پر تھے۔ مہرین نے ان کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا۔ “کلپ بھی۔ اور دراز کی چابی۔” یہ مانگ درخواست نہیں تھی۔ فائزہ بھابھی نے ایک لمحہ عدنان کی والدہ، پھر خالہ شمیم، پھر قطار کی طرف دیکھا۔ آخر کلپ کھولی۔ دھات مہرین کی ہتھیلی سے ٹکرائی تو ایک خشک سی آواز نکلی۔ پھر چابی رکھی گئی۔ مہرین نے دونوں چیزیں لے کر پہلے اپنی قمیص پر کلپ لگائی، پھر شفٹ شیٹ رجسٹر کے اوپر سیدھی رکھی، اور دراز بند کر کے دوبارہ اپنے طریقے سے کھولی۔
اس کے بعد حرکت واپس آئی، مگر اب سیدھی۔ “چچا جی، اس مریض کو پہلے اندر لے جائیں۔” “آپا، آپ کی فیس پہلے سے جمع ہے، دوبارہ نہیں لگے گی۔” “بچے والی امی، آپ یہاں بیٹھیں، ڈاکٹر حارث ابھی دیکھیں گے۔” اس نے نئی رسید پر ترمیم لکھی، پرانی غلط اندراج کے گرد دائرہ کھینچا، اپنی دستخطی مختصر لکیر ڈالی۔ حارث نے سوال نہیں کیا، بس اسی ترتیب پر چلنے لگا۔ قطار کے آگے کھڑی خاتون نے ایک طرف ہو کر دوسروں کو جگہ دی؛ کوئی اعلان نہیں ہوا، مگر لوگ اب اسی سے پوچھ رہے تھے کہ کس کا نمبر کب ہے۔ عدنان نے ایک قدم آگے بڑھ کر بے ہوش ہوتے مریض کے لواحقین کو پانی دیا، پھر خاموشی سے کاؤنٹر کے کنارے پر فائلوں کا ڈھیر اس کی پہنچ کے مطابق سرکا دیا۔ مہرین نے اس طرف دیکھا بھی نہیں، صرف اگلا نام پکارا۔
فائزہ بھابھی پیچھے ہٹ کر شیشے والے دروازے کے پاس جا کھڑی ہوئیں۔ ان کے دوپٹے کی پن پہلی بار ٹیڑھی ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک آدھ بار بولنے کی کوشش کی، پھر خود ہی رک گئیں، کیونکہ کاؤنٹر اب ان کے جواب قبول نہیں کر رہا تھا۔ خالہ شمیم نے مریضوں کے سامنے کچھ بھی نہ کہا؛ بس ایک بار مہرین کے پاس پانی کا گلاس رکھ دیا اور پیچھے ہو گئیں۔ اتنا ہی کافی تھا کہ کس کی محنت کس کے نام لکھی جا رہی ہے، یہ اب کاغذ پر بھی دکھ رہا تھا۔
رش کم ہوتے ہوتے مغرب لگ گئی۔ آخری مریض گیا تو اندر کے کمروں کی بتیاں ایک ایک کر کے بجھنے لگیں۔ باہر سڑک پر سموسے تلنے کی خوشبو آ رہی تھی۔ عدنان دروازے کے پاس ٹھہرا، جیسے کچھ کہنا ہو، مگر مہرین نے پہلے ہی نگاہ اٹھائے بغیر کہا، “گھر میں جو پوچھے، یہی کہنا کہ آج کاؤنٹر جس نے کھولا تھا، اسی نے بند کیا ہے۔” وہ رکی نہیں۔ شفٹ شیٹ کے نیچے درستگی والی رسیدیں کلپ کیں، رجسٹر کا صفحہ سیدھا کیا، اور اپنی فائل کاؤنٹر کی اپنی طرف چھوڑ دی۔ دستخط شدہ کاغذ اس کی ہتھیلی میں ایک لمحہ ٹھہرے، پھر اس نے انہیں فائل کے اوپر رکھ کر ہاتھ ہٹا لیا۔