جسے روکا گیا تھا، وہی منتخب ٹھہری
سفید کار نے بریک لگائی تو عائزہ نے دروازہ کھولا ہی تھا کہ فراز صاحب نے ہاتھ اٹھا کر ڈرائیور کو دوسری طرف موڑ دیا۔ “یہ لائن بڑے مہمانوں کے لیے ہے، تم سائیڈ سے جاؤ۔” آواز اتنی اونچی تھی کہ استقبالی دروازے کے پاس کھڑے اس کے ماموں، ممانی صدف اور دو کزن ایک ساتھ پلٹے۔ عائزہ کے ہاتھ میں آویزاں کارڈ کا گھسا ہوا کنارہ اس کی انگلی میں چبھ گیا۔ دوسرے ہاتھ میں آدھی تہہ کی ہوئی رسید تھی؛ ہال کے باقی بقایاجات، جن کے لیے اس نے پچھلے دو مہینے ہر ادائیگی خود دوڑ کر کی تھی۔ اس نے کار کا دروازہ بند کیا، ڈرائیور کو صرف اتنا کہا، “گاڑی پیچھے نہ لے جانا۔ یہی رہے گی۔”
شادی ہال کراچی کے پوش علاقے میں تھا مگر پچھلی گلی سے آنے والی بدبو اور سامنے چمکتے شیشوں کے درمیان وہی سروس سیکٹر کی تھکن کھڑی تھی جس میں عائزہ برسوں سے کام کر رہی تھی۔ آج اسی ہال میں اس کے خالہ زاد خالد کی منگنی کی تقریب تھی، اور گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی نسبت بھی اسی خاندان کے اندر دبے لفظوں میں چلتی آ رہی تھی۔ فراز صاحب خالد کے تایا کے دوست اور تقریب کے نامزد منتظم تھے؛ کاغذ ان کے ہاتھ میں، آواز ان کے گلے میں، مگر بکنگ، مہمانوں کی ترتیب، سپلائر، اور وی آئی پی استقبالیہ کا پورا بہاؤ عائزہ نے بنایا تھا۔ اسی لیے یہ دھکا صرف کام کا نہیں تھا۔ یہ عزت کو مجمعے کے سامنے چھوٹا کرنا تھا۔
وہ ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹی۔ فراز صاحب نے گیٹ کلرک کو رجسٹر تھمایا اور اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، “اسے اندر پچھلی میز پر بٹھا دو۔ نام چیک کرنے کا کام نادیہ کرے گی۔ چابیاں دو، واکی دو، اور مہمانوں کی فہرست میرے پاس رہنے دو۔” پھر جیسے احسان کر رہے ہوں، ممانی صدف سے بولے، “بچی جذباتی ہو جاتی ہے، تقریبیں اس سے نہیں سنبھلتیں۔”
عائزہ نے اپنے پرس سے سٹور روم کی چابی نکالی۔ وہی چابی جو کل رات دیر سے اسے واپس ملی تھی، جب پھولوں والے نے ادھوری آرائش چھوڑ کر بھاگنے کی کوشش کی تھی اور اس نے خود جا کر تالہ لگایا تھا۔ فراز صاحب نے ہتھیلی آگے کی۔ عائزہ نے چابی ان کی ہتھیلی پر رکھنے کے بجائے استقبالی میز پر رکھ دی۔ دھات کی چھوٹی سی آواز ہوئی۔ گیٹ کلرک کی گردن خودبخود اٹھی۔ عائزہ نے پھر اپنی واکی ان کے پاس نہیں رکھی۔ اسے آن کیا، چینل بدلا، اور پُرسکون لہجے میں کہا، “فولڈنگ اسٹیج کا بایاں پینل پانچ منٹ میں سیدھا کرو۔ دلہن والوں کی گاڑی آدھے گھنٹے پہلے نکل چکی ہے۔” دو مزدور، جو ابھی تک فراز صاحب کی طرف دیکھ رہے تھے، چونک کر دوڑ پڑے۔ پہلا انعام یہی تھا: حکم ان کی آواز میں گیا، حرکت اس کے اشارے پر ہوئی۔
فراز صاحب کے جبڑے کسے۔ “میں نے کہا تھا تم سائیڈ پر رہو۔ تمہیں سمجھ نہیں آتی؟”
“مجھے وقت سمجھ آتا ہے،” عائزہ نے کہا۔ “اور اس تقریب میں تاخیر کی قیمت کون دے گا، یہ بھی۔”
انہوں نے فوراً اگلا وار کیا۔ ممانی صدف اور دو خالائیں ابھی تک قریب تھیں، اس لیے لہجہ اور زیادہ رسمی کر لیا۔ “مہمانوں کے استقبال کی کرسی سامنے سے ہٹا دو۔ وہاں تانیہ بیٹھے گی۔ عائزہ، تم کچن اور واش روم کی نگرانی دیکھ لو۔ لڑکی کے لیے یہی بہتر ہوتا ہے۔”
سامنے پڑی گول کرسی واقعی ہٹا دی گئی۔ سفید غلاف کھنچا، رگڑ کی آواز آئی، اور تانیہ—جو فراز صاحب کی بھانجی تھی اور کل تک ناموں کی ہجے پوچھ رہی تھی—جھجکتے ہوئے آ کر بیٹھ گئی۔ گیٹ کلرک نے رجسٹر بھی عائزہ کی پہنچ سے دور سرکا دیا۔ ایک ویٹر نے اس کی طرف بڑھایا ہوا پانی کا گلاس واپس اٹھا لیا، جیسے اسے اب سامنے کھڑے رہنے کا حق بھی نہ ہو۔ ممانی صدف نے دانت بھینچ کر آہستہ کہا، “بیٹا، برداشت کر لو، تقریب گھر کی ہے۔”
عائزہ نے جواب میں کوئی صفائی نہ دی۔ وہ استقبالی میز کے کنارے پر جھکی، آدھی تہہ رسید سیدھی کی، اور مہمانوں کے ترتیب نامے کی اپنی نقل کھولی۔ اوپر نیلے قلم سے لکھا تھا: “خصوصی آمد — بابر نقوی، جماعت کے ساتھ، دروازہ نمبر ایک، استقبال کنندہ: عائزہ.” یہ وہی سرمایہ کار تھا جو خالد کے نئے ریستوران منصوبے میں پیسہ لگا رہا تھا، اور اسی ایک آدمی کے سامنے اگر تقریب بے ڈھب لگتی تو صرف خاندان نہیں، خالد کی سال بھر کی دوڑ بھی کھوکھلی ہو جاتی۔
فراز صاحب نے رسید اس کے ہاتھ سے کھینچنے کو ہاتھ بڑھایا۔ “یہ اب تمہارے کام کی نہیں۔”
عائزہ سیدھی ہوئی۔ آواز اتنی ہی بلند رکھی جتنی ضروری تھی کہ سب سن لیں۔ “آپ استقبال کنندہ بدل رہے ہیں؟”
“ہاں، بدل رہا ہوں۔ مسئلہ؟”
اس نے وہ سوال لوٹایا جس سے کمرے کا رخ پلٹ سکتا تھا۔ “تو بابر نقوی صاحب کے ذاتی معاون کا نمبر سنائیے۔ گاڑی کا رنگ بتائیے۔ ان کے ساتھ کتنے لوگ ہیں؟ اور انہیں کس نام سے خوش آمدید کہنا ہے؟” اس نے ایک ایک فقرہ نپا تلا پھینکا۔ “کیونکہ میں غلط نام لوں گی تو شرمندگی میری ہو گی۔ آپ غلط لیں گے تو شرمندگی پورے گھر کی ہو گی۔ بتائیے۔”
دروازے کے شیشے میں لفٹ کے دھبہ دار عکس جیسی ایک خاموش جنبش دوڑی۔ تانیہ کی انگلی رجسٹر پر رک گئی۔ گیٹ کلرک نے قلم کان سے نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا مگر لکھا کچھ نہیں۔ فراز صاحب نے ہونٹ کھولے، بند کیے۔ “کالی گاڑی—”
“غلط۔” عائزہ نے فوراً کہا۔ “نیوی بلیو ویگو نہیں، گرے ایس یو وی۔ اور ذاتی معاون عورت نہیں، عمر نام ہے۔” اس نے وقفہ دیا۔ “اب بتائیے، کس دروازے سے لائیں گے؟”
یہ سوال ان کے گلے میں اٹک گیا۔ وہ پہلی بار کاغذوں والے آدمی نہیں، خالی ہاتھ آدمی لگے۔ ماموں نے بھنویں سکیڑ کر فراز صاحب کو دیکھا۔ ممانی صدف کی ٹھوڑی ذرا اوپر اٹھی۔ کزن، جو ابھی تک تماشہ دیکھ رہے تھے، ایک قدم عائزہ کی سمت کھسک آئے۔ مجمعے نے پہلی بار غلط گھوڑے پر شرط لگنے کی بو سونگھی۔
اسی وقت واکی میں خراش آئی۔ “باہر سے کال آئی ہے، خاص مہمان کی گاڑی موڑ پر ہے۔” عائزہ نے جواب دیا، “دروازہ نمبر ایک خالی رکھو۔ دونوں پینل کھولو۔ پھولوں کی ٹوکری ہٹاؤ۔” فراز صاحب نے فوراً ہاتھ بڑھا کر واکی چھیننے کی کوشش کی، مگر وہ ایک قدم پیچھے ہٹی۔ دوسری طرف سے ہال کے دو لڑکے دوڑتے ہوئے آئے اور دروازے کے پیتل کے ہینڈل کھینچ کر دونوں پٹ کھول دیے۔ شام کی نمی اندر لپکی۔
آمدنی کے حلقے میں سب کچھ ایک ساتھ ہونے لگا۔ گرے ایس یو وی آ کر عین اس کار کے برابر رکی جسے فراز صاحب نے ابھی سائیڈ پر بھیجنا چاہا تھا۔ ڈرائیور نے دروازہ کھولا، پہلے ایک دبلا نوجوان اترا، کان میں آلہ، ہاتھ میں فائل۔ اس نے سامنے نظر دوڑائی اور سیدھا عائزہ پر رکا۔ “مس عائزہ؟” وہ اس کی طرف بڑھا۔ “سر نے کہا تھا آپ ریسیو کریں گی۔”
فراز صاحب نے فوراً قدم آگے بڑھایا، مسکراہٹ چڑھائی۔ “جی، جی، ہم—”
نوجوان نے ان کی بات کاٹی تک نہیں، بس سنا ہی نہیں۔ اس نے پچھلا دروازہ کھولا۔ بابر نقوی باہر آئے، ساتھ دو اور آدمی۔ انہوں نے عائزہ کو دیکھا، پھر ادھر ادھر کی بھیڑ کو، اور سیدھا کہا، “آپ نے پارکنگ کا جو بہاؤ بنایا تھا، اچھا ہے۔ ہمیں اندر وہی راستہ چاہیے جو آپ نے کل بتایا تھا۔”
یہ جملہ تیر نہیں، مہر تھا۔ فراز صاحب کی مسکراہٹ آدھی چڑھی رہ گئی۔ تانیہ فوراً کرسی سے اٹھی۔ گیٹ کلرک نے رجسٹر بے اختیار عائزہ کی طرف سرکا دیا۔ خالد، جو ابھی تک اندر بزرگوں کے ساتھ گھرا ہوا تھا، دروازے پر آ کر رک گیا۔ اس کے چہرے پر وہی بدحواسی تھی جو آدمی اپنی محنت کو ڈوبتے دیکھ کر لاتا ہے، اور اسی کے ساتھ ایک دیر سے پہنچی پہچان۔
فراز صاحب نے آخری بچی ہوئی دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کی۔ “سر، رسمی استقبال دلہے کے بڑوں کی طرف سے ہوگا۔ پہلے اندر بیٹھک میں—”
“نہیں،” عائزہ نے صاف آواز میں کہا، اور پہلی بار اس نے “سر” یا “براہِ کرم” کا سہارا نہیں لیا۔ وہ arrival curb کے عین بیچ کھڑی ہوئی، جہاں سب کی نظریں ایک ہی نقطے پر آتی تھیں۔ “بابر نقوی صاحب دروازہ نمبر ایک سے میرے ساتھ اندر جائیں گے۔ ان کی جماعت کے لیے سامنے والی نشستیں کھولی جائیں۔ فراز صاحب، آپ پچھلے دروازے پر عام مہمانوں کی روانی سنبھالیے۔ تانیہ، رجسٹر یہیں رہے گا۔ پہلے ان کے نام درج ہوں گے، پھر باقی سب۔”
یہ دعویٰ صرف آواز نہیں تھا، ترتیب کا قبضہ تھا۔ ایک سانس کے اندر تین چیزیں ٹوٹیں۔ فراز صاحب کا ہاتھ ہوا میں رکا رہ گیا—واضح نقصان۔ عام مہمانوں کے لیے رکھا گیا پیلے ربن والا راستہ پلٹ کر انہی کے حصے میں چلا گیا—اختیار الٹ گیا۔ اور سب سے بڑھ کر، جب بابر نقوی نے بغیر ہچکچاہٹ اپنا قدم عائزہ کے اشارے کی سمت رکھا، فراز صاحب کا “ہم دیکھ لیں گے” والا لہجہ سستا پڑ گیا—ان کا توازن بکھر گیا۔
“یہ مناسب نہیں—” وہ بولے۔
عائزہ نے مڑے بغیر کہا، “مناسب وہ ہوتا ہے جو وقت پر درست ہو۔ دیر سے مالک بننے کی شرطیں اب نہیں چلیں گی۔”
دو ہینڈلر آگے آئے، ایک نے ربن کھولا، دوسرے نے سامنے کی دو کرسیاں اٹھا کر الگ کیں۔ ممانی صدف نے جلدی سے اپنا دوپٹہ سنبھالا اور بابر نقوی کی والدہ کے لیے جگہ بنوائی۔ ماموں خود آگے بڑھے اور وہی سلام کیا جو تھوڑی دیر پہلے فراز صاحب کے لیے بچا رکھا تھا۔ خالد نے ایک قدم فراز صاحب کی طرف نہیں، عائزہ کی طرف لیا، مگر وہ پہلے ہی بہاؤ کے اندر داخل ہو چکی تھی۔ اس نے بابر نقوی کے معاون سے فائل لی، دروازے کے اندر کھڑے ویٹر کو اشارہ کیا، “چائے نہیں، پہلے ٹھنڈا پانی۔ پھر نشست۔” حکم سن کر ویٹر کے جوتے ٹائل پر چرچرائے اور وہ پلٹ گیا۔
فراز صاحب نے آخری پناہ کاغذوں میں ڈھونڈی۔ “ناموں کی فہرست میرے پاس ہے۔ اندراج کے بغیر—”
عائزہ نے ان کے ہاتھ سے فہرست نہیں چھینی۔ اس نے گیٹ کلرک کی طرف دیکھا۔ “خالی تختی لاؤ۔ وہ بڑی والی، جس پر خصوصی مہمانوں کے نام لگتے ہیں۔” پھر فراز صاحب کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا، “اگر فہرست آپ کے پاس ہے تو نام بھی آپ ہی غلط کریں گے۔ آج نہیں۔”
گیٹ کلرک اتنی تیزی سے دوڑا کہ اس کی چپل ایک سیڑھی پر پھسل کر آواز کر گئی۔ چند سیکنڈ میں وہ سفید نامی تختی، کالے حروف کی پٹی اور پنیں لے آیا۔ دروازے کے ساتھ نوٹس وال پر پہلے سے دو نام لگے تھے؛ ایک دلہا والوں کے معززین کا، ایک دلہن والوں کے۔ عائزہ نے تختی اپنے ہاتھ میں لی۔ آدھی تہہ رسید ابھی تک اس کی انگلیوں کے بیچ تھی۔ اس نے اسے پُرس میں واپس رکھا، مارکر لیا، اور بڑے صاف حروف میں لکھا: “خصوصی استقبال — عائزہ کے ساتھ”
فراز صاحب ایک قدم بڑھے۔ “یہ حد سے—”
“حد ابھی لگی ہے،” عائزہ نے کہا۔ “جو سامنے سے آئیں گے، اسی تختی کے نیچے سے آئیں گے۔”
اس نے نوٹس وال پر خالی جگہ میں تختی جڑی۔ پن دھنساتے وقت ایک لمحے کو پلاسٹک کا کونہ مڑا، پھر سیدھا ہو گیا۔ دروازہ کھلا تھا، روشنی سیدھی اس تختی پر پڑ رہی تھی۔ سیاہ حروف جم گئے: “خصوصی استقبال — عائزہ کے ساتھ”