جسے اوپر سمجھا گیا تھا وہ نیچے رہ گئی
“یہ نشست خالی نہیں، تم کھڑی رہو۔”
عالیہ باجی نے پلاسٹک کی بینچ کے کونے پر رکھا اپنا پرس ذرا سا پھیلا کر سائرہ کے لیے بچی ہوئی آدھی جگہ بھی بند کر دی۔ رجسٹریشن کھڑکی کے سامنے تین عورتیں بیٹھی تھیں، دو مامیاں گردنیں لمبی کر کے دیکھ رہی تھیں، اور سائرہ ایک ہاتھ میں ٹھنڈی پڑی بریانی کا ڈبہ، دوسرے میں سیاہی کے پرانے نشان والا چھوٹا پرس دبائے کھڑی رہ گئی۔ اس کے کندھے کپڑے کے اندر سخت تھے؛ صبح سے پارلر، گھر، ہال، سب دوڑتے ہوئے آستینوں میں شکنیں جم گئی تھیں۔ پھر بھی عالیہ نے اتنی اونچی آواز میں کہا کہ پیچھے کھڑے لڑکوں تک سن لیں، “ابھی بزرگوں کی لسٹ جا رہی ہے۔ ہر جاننے والی لڑکی دلہن والوں میں نہیں بیٹھ جاتی۔”
سائرہ نے ڈبہ نیچے بینچ کے پائے کے ساتھ رکھا، پرس سیدھا کیا اور خاموشی سے رجسٹریشن کھڑکی کے پاس لٹکی ہوئی فہرست کو دیکھنے لگی۔ اس کا نام وہاں نہیں تھا۔ فراز کے گھر والوں کو، اس کے اپنے گھر والوں کو، دوستوں کو پتہ تھا؛ دو سال سے یہ تعلق چھپا ہوا نہیں تھا۔ مگر آج نکاح کے بعد والی باضابطہ بیٹھک میں نام نہ ہونا، اور عالیہ کا یوں کھڑے رکھنا، اسی ہال کی روشنی میں ایک نیا مطلب پیدا کر رہا تھا۔
کھڑکی کے اندر بیٹھا رجسٹر کلرک پکار رہا تھا، “دلہن کی خالہ، ایک دستخط۔” عالیہ فوراً آگے جھکی، “پہلے ہماری طرف کی خواتین۔ ترتیب بنائی ہوئی ہے۔” پھر اس نے گردن موڑ کر سائرہ کی طرف دیکھا، “تم بعد میں دیکھ لینا۔ ابھی راستہ مت روکو۔”
پہلا چھوٹا سا انعام اسی وقت گرا، اور سب نے دیکھا۔ خالہ نسرین، جو ابھی تک دوسری عورتوں کے بیچ اپنی چادر سمیٹتی خاموش بیٹھی تھیں، بینچ سے اٹھیں، عالیہ کے پرس کو دو انگلیوں سے اٹھا کر اپنی گود میں رکھا اور بولیں، “راستہ یہ نہیں روک رہی، تم روک رہی ہو۔ سائرہ، یہاں بیٹھو۔” بینچ کا کونہ خالی ہوا، سائرہ بیٹھ گئی، اور عالیہ ایک پل کو ایسے کھڑی رہ گئی جیسے اس کے پیر کے نیچے سے اینٹ نکل گئی ہو۔
مگر وہ فوراً سنبھل گئی۔ “خالہ، بیٹھنے سے کیا ہوتا ہے؟ اندراج تو ترتیب سے ہی ہوگا۔” اس نے کلرک کی طرف دو زرد ٹوکن بڑھائے۔ “یہ ہمارے گھر کی اندر والی خواتین کے ہیں۔ ایک میں ممانی، ایک میں میں۔” پھر سائرہ کو دیکھ کر ہونٹ سکیڑے، “جن کا رشتہ بس باتوں میں ہو، ان کے لیے الگ انتظار بنتا ہے۔”
یہ ہال کراچی کے ان بڑے شادی ہالوں میں سے تھا جہاں روشنی زیادہ اور رحم کم ہوتا ہے۔ رجسٹریشن کی کھڑکی کے سامنے کلینک جیسی انتظار گاہ بنی تھی؛ ایک طرف پلاسٹک کی کرسیاں، دوسری طرف پردے کے بعد وہ راہداری جہاں سے خاندانِ داماد کو سرخ میز پوش والی اگلی قطار تک لے جانا تھا۔ جو یہاں پہلے بلایا جاتا، وہیں سے آگے بھی اسی کے لیے جگہ بنتی۔ لوگ اسی چھوٹی کھڑکی سے مستقبل پڑھتے تھے۔
سائرہ نے آہستہ سے پوچھا، “میرے لیے ٹوکن کس نے روکا ہے؟”
عالیہ باجی نے ہاتھ باندھ لیے۔ “کس حیثیت سے دوں؟” پھر اس نے اتنی نرمی سے کہا کہ زہر اور صاف سنائی دے، “فراز بیرونِ ملک والا لڑکا نہیں کہ ہر دوستی کو گھر کی مہر لگے۔ ہماری طرف سے جو طے ہو، وہی حیثیت ہوتی ہے۔”
پیچھے سے ایک کزن ہنس پڑی۔ دوسری نے سرگوشی کی، “اسی لیے تو بلا کے بھی باہر رکھا ہے۔” سائرہ کے کان گرم ہوئے مگر اس کی آواز نہیں بدلی۔ “دعوت نامہ تم نے بھیجا تھا۔”
“دعوت نامہ سب کو جاتا ہے۔ اندر کی قطار سب کو نہیں ملتی۔”
کلرک نے ہاتھ بڑھایا، “اگلا ٹوکن۔” عالیہ نے اپنا ٹوکن اوپر کیا اور عین کھڑکی کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ اس نے جان بوجھ کر کندھا پھیلا کر سائرہ کا راستہ کاٹ لیا۔ خالہ نسرین کے چہرے پر ناگواری آئی، مگر وہی پرانی دیوار سامنے آ گئی: عالیہ اس گھر کی بڑی بہو تھی، تقریبات کی ترتیب اسی کے ہاتھ میں رہتی تھی، اور جو شخص رجسٹریشن میز کے پاس کھڑا ہو، اکثر لوگ اس کی بات کو حق سمجھ لیتے ہیں۔
سائرہ نے اپنے پرس سے فولڈ کیا ہوا ایک سفید کاغذ نکالا۔ کنارے پر نیلا لوگو بنا تھا، اندر تاریخ اور ایونٹ کی فہرست۔ اس کے نیچے ہاتھ سے لکھا تھا: “خاندانِ داماد: خصوصی اندراج — سائرہ احمد، ایک معاون پاس، میزِ صدر کے قریب۔” نیچے فراز کے والد کا مختصر دستخط تھا؛ وہی سیاہی جس سے گھر کی مہمانی کی ادائیگیوں کی فہرست لکھی گئی تھی۔ سائرہ نے وہ کاغذ کلرک کے شیشے سے لگا دیا۔
کلرک نے آنکھیں سکیڑ کر پڑھا۔ “یہ تو—”
عالیہ بیچ میں بولی، “پرانی لسٹ ہے۔ بدلی جا چکی۔ مجھے دو۔” اس نے ہاتھ بڑھایا، مگر سائرہ نے کاغذ پیچھے نہیں کھینچا۔ بس اتنا کیا کہ اپنی کرسی سے اٹھ کر براہِ راست کھڑکی کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ اب عالیہ کو اس کے برابر ہونا پڑا، اوپر نہیں۔
کلرک نے کھڑکی کھولی اور کاغذ ہاتھ میں لے لیا۔ “اس پر حاجی صاحب کے دستخط ہیں۔”
“حاجی صاحب ہر چیز نہیں دیکھتے،” عالیہ نے فوری جواب دیا، “تقریب کی ترتیب میرے پاس ہے۔ پہلے اندر کے نام جائیں گے۔”
انہی لمحوں میں راہداری کے پردے کی طرف سے شور ہٹا اور فراز کا چچا، رانا سلیم، تیزی سے آیا۔ اس کے ہاتھ میں واکی ٹاکی نہیں، پلیٹوں کی گنتی والی چھوٹی رجسٹر بک تھی؛ گھر کے مردوں میں وہی آج کھانے اور بٹھانے کی ترتیب سنبھال رہا تھا۔ ایک لڑکا اس کے پیچھے سرخ حاشیے والے دو جگہ کارڈ اٹھائے ہوئے تھا، جن پر سنہری قلم سے نام لکھے جا رہے تھے۔ رانا سلیم نے چلتے چلتے پوچھا، “یہاں کیوں رکاوٹ ہے؟ خاندانِ داماد کی قطار کیوں جمی ہوئی ہے؟”
کلرک نے فوراً وہ پرچی اس کی طرف بڑھا دی۔ عالیہ نے ایک قدم آگے کر کے بات لپکی، “کچھ نہیں بھائی صاحب، ایک غلط فہمی ہے۔ عام مہمان کو اندر والی ترتیب میں آنے کی ضد ہے۔ میں دیکھ لوں گی۔”
سائرہ نے پہلی بار آواز ذرا بلند کی، مگر چیخے بغیر۔ “عام مہمان کو آپ نے خود بلایا تھا، خاص نشست کا لکھا ہوا کاغذ روک لیا، اور اب میرا نام فہرست سے غائب ہے۔ آپ دیکھ نہیں رہیں، دکھا رہی ہیں۔”
یہ جملہ سن کر پیچھے بیٹھی دونوں مامیاں سیدھی ہو گئیں۔ رانا سلیم نے پرچی دوبارہ پڑھی، پھر کلرک سے پوچھا، “اصل رجسٹر کہاں ہے؟ وہ جس میں حتمی اندراج ہوا تھا، موبائل والی لسٹ نہیں۔”
کلرک نے نیچے سے موٹی کاپی نکالی۔ عالیہ نے فوراً ہاتھ رکھ دیا۔ “وہ ابھی نہ کھولیے، لوگوں کے سامنے کیا تماشا—”
“ہاتھ ہٹاؤ،” رانا سلیم نے خشک لہجے میں کہا۔
کاپی کھلی۔ “خاندانِ داماد، خصوصی نام” کے نیچے دو لکیریں کٹی ہوئی تھیں۔ ایک نام صاف، دوسری جگہ اوپر سے گھسیٹا ہوا۔ رانا سلیم نے انگلی سے رکا، پھر کلرک کو دیکھا۔ “یہ کس نے کاٹا؟”
کلرک کی نظریں فوراً عالیہ پر جا ٹھہریں۔ “باجی نے کہا تھا… نشست بھر گئی تھی۔”
یہ کمرے کا پہلا کھلا زخم تھا۔ عالیہ کے چہرے کا رنگ بدلا، مگر وہ پیچھے نہیں ہٹی۔ “ہاں، میں نے کہا تھا۔ عزت دیکھنی ہوتی ہے۔ ہر تعلق کو سرِ عام نہیں بٹھایا جاتا۔ ابھی بھی بہتر یہی ہے کہ اسے بعد میں—”
“اسے؟” رانا سلیم نے لفظ پکڑا۔ “نام لو۔”
عالیہ کی پلک جھپکی۔ “سائرہ۔”
“تو پھر سیدھا بولو۔ سائرہ کا نام تم نے کاٹا؟”
خاموشی اتنی نہیں ہوئی کہ کہی جائے؛ بس ہوا میں برتنوں کی ٹکر، پنکھے کی گھرر اور دور سے آتی قوالی کے بیچ عالیہ کی سانس ذرا اونچی سنائی دینے لگی۔ پھر اس نے اپنی آخری ڈھال اٹھائی۔ “میں اس گھر کی بڑی بہو ہوں۔ مجھے یہ حق ہے کہ کس کو آگے بٹھانا ہے، کس کو نہیں۔ گھر کی عورتوں کی عزت میری ذمہ داری ہے۔”
یہی وہ جگہ تھی جہاں راہداری، کھڑکی، بینچ، سب ایک ہی عدالت بن گئے۔ پیچھے راستہ بند تھا، آگے میزِ صدر کی قطار جانے والی تھی، اور ہر آنکھ ایسی چیز ڈھونڈ رہی تھی جس سے فیصلہ پڑھا جا سکے۔
رانا سلیم نے اس لڑکے سے دو جگہ کارڈ لیے۔ ایک پر لکھا تھا: “عالیہ زوجہ سعد — خاندانِ داماد، صفِ اوّل۔” دوسرے پر ابھی صرف “خصوصی” لکھا تھا، نام خالی۔ اس نے اپنی جیب سے قلم نکالا۔ سائرہ کے ہاتھ میں ابھی بھی وہی پرانا سیاہی والا پرس تھا؛ اس نے اسے ذرا سختی سے پکڑا، مگر قدم نہیں ہلایا۔
“حق تمہارا گھر چلانے کا ہو سکتا ہے،” رانا سلیم نے صاف آواز میں کہا، “نسبی ترتیب بدلنے کا نہیں۔ جس نام کو صاحبِ خانہ نے رکھا، اسے تم نہیں کاٹو گی۔” پھر اس نے خالی کارڈ پر بڑے واضح حرفوں میں لکھا: “سائرہ احمد — خاندانِ داماد، صفِ اوّل، میزِ صدر کے قریب۔”
لفظ لکھے جاتے دیکھ کر عالیہ نے ہاتھ بڑھایا، “یہ مناسب نہیں—”
سائرہ نے وہیں اس کی بات کاٹ دی۔ “آج مناسب یہی ہے کہ میرا نام میرے سامنے لکھا جائے۔”
رانا سلیم نے سر ہلایا، اور وہ لمحہ جس کا وزن سارے ہال نے فوراً محسوس کیا، کھل کر سامنے آ گیا۔ اس نے عالیہ والا کارڈ اس لڑکے کے ہاتھ سے لے کر نیچے پلٹا، سنہری کلپ نکالی، اور صفِ اوّل کی ٹرے سے وہ کارڈ اٹھا لیا جو راہداری کے شروع میں لگنا تھا۔ پھر اس نے نیا لکھا ہوا کارڈ کلرک کی کھڑکی کے پاس رکھ کر زور سے کہا، “پہلا اندراج: سائرہ احمد۔ اسے ابھی اندر لے جاؤ۔ اس کے بعد باقی۔”
کلرک نے فوراً رجسٹر کھینچ کر اپنی طرف کیا، اوپر پہلی سطر پر سائرہ کا نام درج کیا، مہر لگائی، اور کھڑکی سے سرخ ربن والا داخلہ ٹوکن سائرہ کی طرف بڑھا دیا۔ عالیہ نے بیچ میں ہاتھ ڈالنا چاہا، مگر کلرک نے پہلی بار اس کا ہاتھ نظر انداز کر دیا۔ “باجی، بعد میں۔ پہلے یہ۔”
یہی حقیقی الٹ تھی۔ کل تک جو کھڑکی عالیہ کے اشارے سے چل رہی تھی، اس کی سمت بدل گئی۔ پیچھے بیٹھے کزن لڑکے جو ابھی تک تماشائی تھے، راستہ چھوڑنے لگے۔ ایک ویٹر نے غلطی سے عالیہ کی طرف کھولی ہوئی پردے والی پٹی سائرہ کی طرف کر دی۔ خالہ نسرین نے اپنے دوپٹے کا پلو درست کرتے ہوئے سیدھا سائرہ کے قریب آ کر کھڑا ہونا مناسب سمجھا۔ عالیہ کی ٹھوڑی اوپر تھی مگر آواز میں پہلی بار پھسلن آ گئی۔ “بھائی صاحب، کم از کم صفِ اوّل میں میری جگہ—”
“تمہاری جگہ وہی ہوگی جو ترتیب دے گی، دعویٰ نہیں،” رانا سلیم نے کہا۔ پھر اس نے سب کے سامنے رجسٹر کی سطر پر انگلی رکھی۔ “نام پہلے پڑھا جائے گا، نشست پہلے لگے گی، اور راہداری سے پہلے سائرہ گزرے گی۔”
سائرہ نے سرخ ربن والا ٹوکن لے کر ہاتھ میں رکھا، پھر دوسری چیز مانگی جس نے عالیہ کی سانس اور کھینچ دی۔ “جگہ کارڈ بھی مجھے دیجیے۔ میں خود لگاؤں گی۔”
ایک لمحے کو رانا سلیم نے اس کی طرف دیکھا، جیسے پرکھ رہا ہو کہ وہ پیچھے ہٹتی ہے یا نہیں۔ سائرہ نہیں ہٹی۔ اس نے کارڈ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔
عالیہ نے آخری کوشش کی، اب کی بار خاندان کی عزت کے پردے میں نہیں، سیدھی گھبراہٹ میں۔ “سائرہ، تم بعد میں بھی اندر آ سکتی ہو۔ سب دیکھ رہے ہیں۔”
“اسی لیے ابھی آؤں گی،” سائرہ نے کہا۔
وہ راہداری کی طرف بڑھی۔ سرخ قالین کے کنارے پر دو لڑکے قطار درست کر رہے تھے۔ ایک طرف میزِ صدر تک جانے والی مخصوص لائن تھی جہاں ہر کرسی کے آگے سفید غلاف اور سنہری پٹی بندھی تھی۔ شروع میں لگے دو کارڈوں میں سے ایک اپنی جگہ پر تھا، دوسرا ہٹایا جا چکا تھا؛ اس کی کلپ سفید کپڑے میں ایک ہلکا سا نشان چھوڑ گئی تھی۔ سائرہ نے اپنے ہاتھ کا کارڈ اٹھایا، صفِ اوّل کے آغاز پر، میزِ صدر کے قریب، خالی کلپ میں فٹ کیا۔ پھر وہیں نہیں رکی۔
عالیہ والا کارڈ ابھی ایک معاون لڑکے کے ہاتھ میں الٹا پڑا تھا۔ سائرہ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ “یہ مجھے دو۔” لڑکے نے فوراً دے دیا۔ سائرہ نے اسے صفِ اوّل سے ہٹا کر اگلی قطار کے کنارے کی نشست پر لگا دیا، جہاں سے میزِ صدر صاف تو دکھتی تھی مگر پہل کسی اور کی رہتی تھی۔
اس ایک حرکت نے باقی سب باتیں فضول کر دیں۔ نہ دلیل رہی، نہ اشارہ۔ جو لوگ ابھی تک سوچ رہے تھے کہ شاید یہ عارضی الجھن ہے، انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے صف بدلتی دیکھی: پہلا نام، پہلی گزرگاہ، پہلی نشست۔
سائرہ نے کارڈ لگا کر انگلی سے اس کی سیدھ درست کی، پھر مڑ کر صرف اتنا کہا، “اب اندراج بھی ہو چکا، جگہ بھی۔ مجھے دوبارہ کھڑا مت رکھیے گا۔”
وہ میزِ صدر کی طرف جانے والی قطار کے آغاز پر ایک لمحہ ٹھہری، اپنی ٹھنڈی پڑی بریانی کا ڈبہ نزدیک والی خالی سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا، اور سفید غلاف کی اس جگہ کو دیکھا جہاں پہلے والا نشان غائب تھا۔ صفِ اوّل کے کنارے کپڑا ہلکا سا لہرایا، پھر سیدھا ہو کر تھم گیا۔