Fast Fiction

واپسی کا محفوظ راستہ پھر کھل گیا

سلمان نے ٹرے سیدھی پکڑ کر حرا کے اوپر جھکایا ہوا چائے کا کپ گرنے سے پہلے تھام لیا، اور اگلے ہی لمحے کینٹین کے شیشے والے کاؤنٹر پر پھیلتی بھوری لکیر کو اپنے آستین سے روک دیا۔ “ہاتھ مت لگاؤ، داغ اور پھیل جائے گا،” اس نے جلدی سے کہا، مگر حرا کی بجائے اس کی خالہ صائمہ نے تیز آواز میں پلٹ کر دیکھا۔

“تم ہر جگہ کیوں موجود ہوتے ہو؟” خالہ نے ایسے کہا جیسے سلمان نے چائے نہیں، حد پار کی ہو۔ “لڑکی سنبھال سکتی ہے اپنے آپ کو۔”

سامنے کالج کے سوسائٹی فنڈ کے رجسٹر پڑے تھے، ایک فارم بھیگنے ہی والا تھا۔ سلمان نے جواب نہیں دیا۔ اس نے رجسٹر کو کھینچ کر خشک حصے میں رکھا، اسٹیل کے جگ سے تھوڑا پانی لیا، شوگر کی چپچپاہٹ صاف کی، اور حرا کے ہاتھ سے کانپتا کپ لے کر خالی ٹرے میں رکھ دیا۔ حرا کے لنچ باکس کا ڈھکن کھلا پڑا تھا؛ اندر کی بریانی ٹھنڈی ہو کر ایک طرف جم گئی تھی۔ وہ صبح سے اسٹال، کلاس اور فون کالوں کے بیچ دوڑ رہی تھی، اور اب اس کے ہاتھ ایسے کانپ رہے تھے جیسے جسم نے بس کر دی ہو۔

پیچھے سے مہر نے ہنس کر کہا، “واہ، سلمان بھائی پھر حاضر۔ بڑا خیال ہے آپ کو۔”

یہی ان کا طریقہ تھا: سلمان محنت کرے، اور اسے یا تو نوکر سمجھا جائے یا بے موقع دلچسپی رکھنے والا۔ سوسائٹی کے ایونٹ کی ساری دوڑ دھوپ انہی تین دنوں سے وہ کر رہا تھا کیونکہ حرا صدر تھی، نام اس کا تھا، مگر خرابی کہیں بھی ہو تو انگلی سلمان پر اٹھتی۔ فیس جمع کرنے والے لفافے، اسپانسر کے بینر، مہمانوں کی فہرست—سب اس نے سنبھالا تھا۔ پھر بھی رجسٹر کے سرورق پر حرا اور مہر کے نام تھے۔

حرا نے آہستہ سے کہا، “خالہ، بس چائے گر جاتی تو فارم خراب ہو جاتے۔” پھر اس نے سلمان کی طرف دیکھے بغیر اپنے دوپٹے کے کنارے سے انگلیاں پونچھیں۔ ایک سانس کے بعد، بہت ہلکی آواز میں بولی، “آپ وہ رجسٹر اسٹاف روم میں رکھ دیں... اور لنچ باکس بھی۔”

یہ حکم نہیں تھا۔ یہ پہلا دروازہ تھا۔ خالہ صائمہ نے ناگواری سے ہونٹ بھینچے، مگر حرا نے رجسٹر سلمان ہی کے ہاتھ میں رہنے دیا۔ سلمان نے گیلا ڈھکن بند کیا، لنچ باکس اور رجسٹر اٹھائے، اور اسٹاف روم کے آدھے کھلے دروازے سے اندر قدم رکھا، جہاں عام طور پر طلبہ کو روک دیا جاتا تھا۔

اس کے بعد دن سیدھی لکیر میں نہیں چلے۔ کراچی کے اس نجی کالج میں جس کے سامنے بس اسٹاپ سے لڑکے موٹر بائیکیں کتراتے ہوئے گزرتے تھے، ہر چھوٹا کام کسی بڑے احسان یا بڑی بے ادبی میں بدل سکتا تھا۔ حرا صبح کلاس، دوپہر سوسائٹی، شام اپنے گھر والوں کے فون، اور رات خالہ صائمہ کے ساتھ ایک چھوٹے بیوٹی کلینک کے حساب میں پھنسی رہتی۔ خالہ صائمہ کا اصرار تھا کہ “لڑکی کے گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ وہ کہاں ہے، کس کے ساتھ ہے، مگر حد بھی ہوتی ہے۔” حد ہمیشہ سلمان کے سامنے کھینچی جاتی، اور ضرورت پڑتے ہی اسی کے ہاتھ سے مٹ بھی جاتی۔

ایک شام حرا کے فون کی بیٹری مردہ ہو گئی اور خالہ صائمہ نے کالج کے باہر کھڑے کھڑے شور مچا دیا کہ گاڑی کیوں نہیں آئی۔ سلمان نے اپنی جیب سے بس کارڈ نکالا، پھر پاس کھڑے رکشے والے کو ایڈوانس دیا، راستہ خود طے کیا، اور حرا کو کلینک تک پہنچا کر واپس موٹر سائیکل پر بیٹھے دوست کے ساتھ ہاسٹل کی طرف نکلا۔ اگلے دن شکریہ مہر نے سمیٹ لیا: “میں نے ہی کہا تھا کوئی بندوبست کر دو۔”

دوسری بار حرا کو مائگرین چڑھی ہوئی تھی۔ ایونٹ کے دن اس نے ایک گولی بھی پوری نہیں نگلی، پانی منہ تک لائی اور رکھ دی۔ سلمان نے کینٹین سے دہی لیا، اس کے لنچ باکس کے ساتھ رکھ کر کہا، “خالی معدے پر مت کھائیے گا۔” مہر نے درمیان میں ہاتھ ڈال کر باکس اٹھایا، “میں دے دوں گی۔” مگر دوپہر میں جب حرا نے سلمان کو خالی ڈبہ واپس کیا تو اس کے انگوٹھے کے پاس پرانے نیلے قلم کا نشان لگا تھا، وہی جو سلمان کے ڈبوں کے ڈھکن پر ہوتا تھا تاکہ کمرے والے بدل نہ دیں۔ “دہی اچھا تھا،” اس نے بس اتنا کہا، اور چابیوں کے گچھے سے الگ ایک چھوٹی سی چابی اس کے ہاتھ پر رکھ دی۔ “اسٹور روم کی۔ بینر وہیں رکھ دیجیے گا۔ دیر سے واپس بھی ہو تو۔”

دیر سے واپس بھی ہو تو۔ یہی دوسرا دروازہ تھا، غیر رسمی، کمزور، مگر سچ۔

پھر اسپانسر شپ کی رات آئی۔ آڈیٹوریم کے باہر تیز بتیوں، پسینے اور سستے عطر میں سب کے چہرے چمک رہے تھے۔ مہمان آ چکے تھے۔ خالہ صائمہ سامنے والی قطار میں بیٹھی تھیں، اپنے کلینک کے کارڈ بانٹتی ہوئی۔ حرا اسٹیج کے پردے کے پیچھے کھڑی تھی جب اس کے والد، جو حیدرآباد سے خاص آئے تھے، اچانک سینے پر ہاتھ رکھ کر دیوار سے ٹک گئے۔ پہلے کسی نے سمجھا گرمی ہے۔ پھر ان کے ہونٹ سفید پڑ گئے۔

“پانی!” مہر چیخی، مگر پانی سے کچھ نہ ہونا تھا۔ سب لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہ گئے۔ خالہ صائمہ بس اتنا کہہ سکیں، “قریب کوئی بڑا اسپتال؟” کسی کے پاس گاڑی نہیں، ایپ والی گاڑی جمعہ کی شام میں اٹکی ہوئی، اور حرا کے ہاتھ اتنے بری طرح لرز رہے تھے کہ وہ فون بھی سیدھا نہ پکڑ سکی۔

سلمان نے ان کے بازو اپنے کندھے پر لیے، سامنے کھڑے سیکیورٹی گارڈ کو راستہ خالی کرنے کو کہا، پھر آڈیٹوریم کے باہر سوسائٹی کے لیے منگوائی گئی ڈیکوریشن وین کی چابی ڈرائیور کے ہاتھ سے کھینچ کر نہیں، مانگ کر لی—ایسے لہجے میں کہ آدمی نے سوال ہی نہ کیا۔ “کلینک نہیں، سیدھا کارڈیَک ایمرجنسی،” اس نے کہا۔ حرا کے والد کو وین کی پچھلی سیٹ پر لٹایا، حرا کو ساتھ بٹھایا، اور خالہ صائمہ کی جھجک پر دروازہ خود بند کر دیا۔ “آپ بھی آئیں، راستے میں رجسٹریشن کے لیے شناختی کارڈ چاہیے ہوگا۔”

اسپتال کے کوریڈور میں سب کچھ سفید نہیں تھا؛ کچھ جگہوں پر پرانی دیواروں سے نمی جھلک رہی تھی، کچھ جگہ فرش پر پونچھے کی بو تھی۔ کاؤنٹر پر جمع کرانے کے لیے رقم کم پڑ گئی۔ حرا اپنا بیگ کھولتی، بند کرتی رہی۔ خالہ صائمہ کے پرس میں صرف کلینک کی رسیدیں اور چھوٹے نوٹ تھے۔ سلمان نے اپنی فیس کے لیے رکھے پیسے، جو لفافے میں الگ تھے، نکال کر کاؤنٹر پر رکھ دیے۔ رسید کٹ گئی۔ ڈاکٹر اندر لے گئے۔

یہ پہلی بار تھا جب حرا نے سب کے سامنے اس کی آستین پکڑی۔ پکڑنا بھی کیا، جیسے کسی ڈوبتے آدمی نے لکڑی چھو لی ہو۔ “سلمان... ابو کو کچھ—”

“ابھی ڈاکٹر اندر ہیں۔” اس نے اس کی بات آدھی ہی روکی، آواز ہموار رکھی۔ “سانس لیجیے۔ آپ پانی پئیں۔”

خالہ صائمہ نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔ وہی عورت جو کینٹین میں اسے حد سے آگے سمجھ رہی تھی، اب اپنے کان سے فون لگائے کہہ رہی تھی، “ہاں، ایک لڑکا ہے کالج سے... اس نے پہنچایا... ہاں، ابھی یہی ہے۔” گواہ بس یہی کافی تھے: کوریڈور کی بینچ، رجسٹریشن ونڈو، اور حرا کی انگلیاں جو سلمان کی آستین چھوڑنے سے پہلے ایک بار مزید بھیگے کپڑے پر سکڑ گئیں۔

رات کے بعد دن بدلے، مگر سیدھے نہیں۔ حرا کے والد بچ گئے، مگر انہیں چند ہفتے آرام چاہیے تھا۔ گھر میں خرچ، علاج، اور لوگوں کی باتیں ایک ساتھ آ گئیں۔ کالج میں مہر نے نرم آواز میں قبضہ جمانا شروع کیا: “اب حرا اتنی دستیاب نہیں، سوسائٹی کے کام مجھے دیکھنے ہوں گے۔ سلمان، آپ سامان لا دیجیے۔” خالہ صائمہ نے اور بھی اونچی لکیر کھینچی۔ “اسپتال تک ساتھ جانا اور بات تھی۔ اب بار بار گھر کے چکر مناسب نہیں۔ لڑکی کے محلے میں زبانیں ہوتی ہیں۔”

سلمان نے زور نہیں دیا۔ اس نے وہی کیا جو کر سکتا تھا۔ حرا کی کلاس نوٹس پرنٹ کرا کے گیٹ کے چوکیدار کے پاس چھوڑتا، دواؤں کی پرچیاں کلینک کے لڑکے سے بھجوا دیتا، اور ایک بار جب اسٹور روم کی چابی تین دن بعد واپس ملی تو اس نے کچھ نہیں کہا، بس اپنے انگوٹھے سے اس پر جمی گرد پونچھ دی۔ دیر سے واپس آنے والی چابی کے ساتھ ہمیشہ یہ خطرہ ہوتا ہے کہ اگلی بار دروازہ بند ملے۔ مگر حرا نے چابی واپس کرتے ہوئے صرف اتنا کہا، “میں نے سنبھال کر رکھی تھی۔”

اصل مار تب پڑی جب حرا کے گھر پر منگنی کی بات چلی۔ کوئی پکا رشتہ نہیں، مگر دیکھنے آنے والوں کے سلسلے نے اس کے آنے جانے، بیٹھنے اٹھنے، فون اٹھانے تک کو رسم بنا دیا۔ خالہ صائمہ نے اسے کلینک کے اوپر والے فلیٹ میں روک لینا شروع کر دیا کہ “لوگ کم دیکھیں گے۔” ایک شام سلمان دوائیں دینے گیا تو سیڑھی کے موڑ پر خالہ صائمہ سامنے آ گئیں۔ آدھا دروازہ کھلا تھا، اندر روشنی تھی، اور اس روشنی میں حرا کی آواز کہیں دور سے آ رہی تھی۔

“دوائی دے کر جاؤ، اندر آنے کی ضرورت نہیں،” خالہ نے سیدھا ہاتھ دروازے کے فریم پر رکھ دیا۔ “یہ گھر ہے، کالج نہیں۔ ہر جگہ راستہ نہیں ملتا۔”

سلمان نے پلاسٹک کی تھیلی آگے بڑھا دی۔ “دوپہر والی خوراک رہ نہ جائے، اس لیے—”

“ہم سنبھال لیں گے۔” پھر ایک سانس کے بعد، نیچی مگر زیادہ زہریلی آواز میں، “لوگ پہلے ہی پوچھتے ہیں۔ اسپتال میں جو ہوا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمہیں حق مل گیا۔”

یہ وہ لمحہ تھا جب پچھلے سارے کام عارضی لگنے لگے: رجسٹر بچانا، رکشہ کرانا، فیس کے پیسے دینا، اسٹور روم کی چابی۔ جیسے وہ ہر بار بس دروازے تک پہنچا ہو، کبھی اندر نہیں۔

اندر سے حرا نکلی۔ اس کے سر پر دوپٹہ ٹھیک سے تھا، چہرے پر وہ تھکا ہوا سکون جو لوگوں کے سامنے مجبور ہو کر پہننا پڑتا ہے۔ اس نے سلمان کے ہاتھ سے تھیلی لینے کو ہاتھ بڑھایا، مگر خالہ صائمہ نے پہلے پکڑ لی۔ “چلو اندر، مہمان بیٹھے ہیں۔”

حرا کی انگلیاں ہوا میں آدھی رہ گئیں۔ اس نے ایک لمحے کو دروازے کے چوکھٹے کے پاس ٹھہر کر سلمان کی طرف دیکھا۔ وہ ٹھہراؤ بہت چھوٹا تھا، مگر اس میں پوری بے بسی کی چرچراہٹ تھی۔ پھر وہ پلٹ گئی۔ دروازہ بند نہیں ہوا، بس اتنا رہ گیا کہ روشنی کی لکیر اور تنگ ہو گئی۔

سلمان سیڑھیاں اتر آیا۔ بارش ہونے والی تھی، کراچی کی نم ہوا میں بجلی کی بو تھی۔ اس نے موٹر سائیکل اسٹارٹ نہیں کی۔ کافی دیر سڑک کے کنارے کھڑا رہا، پھر جیب سے ایک اور چابی نکالی—اپنے کرائے کے کمرے کی۔ لیاقت آباد کی پرانی عمارت میں اوپر والی منزل پر ایک چھوٹا سا کمرہ، جس کا کرایہ وہ سروس سیکٹر کی شام کی نوکری اور ٹیوشن سے جوڑ جوڑ کر دیتا تھا۔ کمرہ کبھی فخر کی چیز نہیں تھا؛ لوہے کا پلنگ، ایک الماری، ایک چولہا، ایک میز۔ مگر دروازہ اس کا تھا۔ اجازت اس کی تھی۔ اور سب سے بڑھ کر، کسی خالہ کے ہاتھ کا رکھا ہوا نہیں تھا۔

اگلی شام حرا نے خود فون کیا۔ آواز دبی ہوئی، تیز سانسوں میں کٹی ہوئی۔ “ابو کو پھر تکلیف ہوئی ہے۔ اس بار اتنی نہیں... مگر گھر میں لوگ آئے ہوئے ہیں۔ سب کہہ رہے ہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا۔”

“میں آ رہا ہوں،” سلمان نے کہا۔

“نہیں—” وہ رکی۔ “خالہ نیچے ہیں۔ اگر آپ آئیں گے تو وہ—”

“میں پھر بھی آ رہا ہوں۔ آپ بس ابو کا شناختی کارڈ رکھ لیجیے۔”

وہ پہنچا تو گلی میں دو گاڑیاں کھڑی تھیں، بیٹھک میں مردوں کی آوازیں، اوپر سیڑھیوں پر خالہ صائمہ دیوار بنی کھڑی تھیں۔ “تمہیں سمجھ نہیں آتی؟ ابھی لوگ بیٹھے ہیں۔ لڑکی کا نام خراب کراؤ گے؟”

“ان کے والد کو ڈاکٹر چاہیے یا نام کی صفائی؟” سلمان کی آواز پہلی بار سخت ہوئی، مگر اونچی نہیں۔ وہ ان سے الجھا نہیں؛ اس نے اوپر سے نیچے آتی حرا کو دیکھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں اپنے والد کا بٹوہ تھا، دوسرے میں دواؤں کی پرچی۔ یہی فیصلہ تھا۔ یہی گواہی۔

خالہ صائمہ نے سیڑھی کے آخری موڑ پر راستہ روک لیا۔ “میں نے کہا نا، باہر کھڑے رہو۔”

سلمان نے جیب سے اپنی کمرے کی چابی نکالی، پھر موبائل اور پرس حرا کے ہاتھ سے لے کر اپنی جیکٹ کی جیب میں رکھے تاکہ اس کے ہاتھ خالی ہوں۔ “اسپتال کے بعد آپ وہاں نہیں جائیں گی،” اس نے خالہ سے نہیں، حرا سے کہا۔ “میرا کمرہ قریب ہے۔ خالہ رابعہ نیچے والے فلیٹ میں ہیں، میں ان کو اطلاع دے چکا ہوں۔ آپ اور انکل رات وہاں آرام کریں گے۔ صبح جو مناسب ہو گا، تب دیکھیں گے۔”

خالہ صائمہ ہکّا بکّا رہ گئیں، پھر ان کی آواز پھسل کر غصے میں آئی، “تم کون ہوتے ہو فیصلہ کرنے والے؟”

سلمان نے چابی حرا کی ہتھیلی پر رکھ دی۔ دھات ٹھنڈی تھی، پرانی، کنارے سے گھسی ہوئی۔ “وہ شخص جس کے پاس دروازہ ہے، اور جو اسے بند نہیں کرے گا۔”

نیچے گلی میں ایک محلے والے نے اوپر دیکھا، پھر نظریں پھیر لیں۔ بیٹھک سے آتی مردانہ آوازیں بدستور چلتی رہیں۔ کوئی اعلان نہ ہوا، کوئی فیصلہ نہ سنایا گیا۔ بس حرا نے ایک لمحے کو چابی کو دیکھا، پھر سیڑھی کا آخری قدم اتری۔ سلمان اوپر نہیں چڑھا، اسے نیچے آنے کے لیے جگہ دی۔ جب وہ اس کے برابر پہنچی تو اس نے اس کے والد کا بازو سنبھالا۔ تینوں نے مل کر تنگ سیڑھیاں اتریں۔

اسپتال کی چھوٹی بھاگ دوڑ کے بعد رات اور زیادہ خاموش تھی۔ مسئلہ اس بار بڑا نہ نکلا، مگر ڈاکٹر نے سختی سے آرام اور نگرانی کہی۔ حرا کے فون پر خالہ صائمہ کی کالیں آتی رہیں؛ اس نے ایک بار دیکھی، پھر خاموش کر دیا۔ ٹیکسی لیاقت آباد کی گلی میں رکی۔ عمارت کی سیڑھیاں تنگ تھیں، بلب زرد۔ سلمان آگے آگے چڑھا، پھر دوسری منزل کے موڑ پر رک کر پلٹا۔ حرا کے والد تھک کر سانس لے رہے تھے، حرا کا دوپٹہ کندھے سے پھسل آیا تھا، مگر اس کی مٹھی میں چابی بند تھی۔

اس نے دروازہ خود اس کے ہاتھ سے کھلوایا۔ “ادھر،” بس اتنا کہا۔ تالا گھوما، لکڑی کا پرانا دروازہ اندر کی طرف کھلا، اور بند کمرے کی ہلکی سی باسی ہوا میں صابن، کتابوں اور پکی ہوئی دال کی ملی جلی بو نکلی۔ سلمان نے فوراً کھڑکی کھولی، پلنگ سے کتابیں اٹھا کر میز پر رکھیں، پانی کا جگ بھرا، الماری سے صاف چادر نکالی۔ حرا کے والد کو پلنگ پر بٹھایا، تکیہ سیدھا کیا۔ پھر پہلی اور آخری بار اس رات حرا کے کندھے کو ہلکے سے چھوا۔ “آپ بھی اندر آ جائیں۔ باہر کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں۔”

وہ جملہ بہت معمولی تھا، مگر اس میں پچھلے مہینوں کی ساری تھکن کھل گئی۔ حرا نے دروازے کے فریم پر ایک پل کو ہاتھ رکھا، جیسے اس چھوٹے سے وقفے کو سمجھ رہی ہو، پھر اندر قدم رکھ دیا۔ سلمان نے دروازہ بند نہیں کیا؛ پہلے نیچے والی خالہ رابعہ کو آواز دی، انکل کے لیے اضافی کمبل منگوایا، پھر آ کر کُنڈی آہستہ سے چڑھا دی۔ باہر کی دنیا اسی طرح موجود تھی—گلی، باتیں، خالہ صائمہ، بیٹھک، دیکھنے والے—مگر اب وہ لکڑی کے اس پار رہ گئی۔

حرا کے لیے وہ اپنی کرسی میز کے پاس سے کھینچ کر پلنگ کے قریب لے آیا۔ “یہاں بیٹھیں۔ اگر کچھ چاہیے ہو تو جگ ادھر ہے، دوائیں میں رکھ دیتا ہوں۔” اس نے اپنے بٹوے کے پاس رکھے ٹھنڈے ہو چکے سالن والے ڈبے کو چولہے کے قریب ہٹایا، دو صاف گلاس نکالے، اور چابی دروازے کے اندر والے ہُک پر ٹانگ دی—ایسے نہیں جیسے امانت رکھی جاتی ہے، جیسے استعمال میں آنے والی چیز اپنی جگہ پر رکھی جاتی ہے۔

پھر اس نے کمرے کی ترتیب آخری بار دیکھی: پلنگ سیدھا، پانی بھر ا، دوائی میز پر، کھڑکی آدھی کھلی، کرسی قریب۔ وہ ایک لفظ کہے بغیر باہر برآمدے میں نکلا، دروازہ پورا بند نہیں کیا، بس اتنا چھوڑا کہ اندر کی روشنی لکڑی کے کنارے سے نرم پٹی بن کر نکلتی رہے۔ کمرے کے اندر جلتا پیلا لیمپ صاف چادر، ہُک پر لٹکی چابی، اور میز کے کنارے رکھے ٹھنڈے لنچ باکس پر خاموشی سے پڑا رہا۔