وہ کمرہ میرا انتظار کرتا رہا
"حِنا، ٹرے سیدھی پکڑو— گر گئی تو تمہاری ذمہ داری ہوگی،" نادیہ باجی نے اونچی آواز میں کہا، اور اسی لمحے ان کے ہاتھ سے سوپ کا کاغذی کپ پھسل کر کلینک کی سفید ٹائلوں پر پھیل گیا۔ مریضوں کے لواحقین کی نگاہیں مڑیں، زین دیوار سے لگ کر آنکھیں بند کیے کھڑا تھا، اور خالہ شمیم رجسٹر والی میز پر سب کے سامنے بس اتنا بولیں، "اپنے لوگ بھی وقت پر کام نہیں آتے۔"
حنا نے ایک لفظ نہیں کہا۔ اس نے قریب پڑا ہوا ٹھنڈا پڑ چکا کھانے کا ڈبہ اسٹول سے ہٹایا، دو ٹشو نہیں بلکہ پوری نیلی صفائی والی رول کھینچی، گھٹنوں کے بل بیٹھی اور پھیلتا سوپ جوتوں تک پہنچنے سے پہلے روک لیا۔ زین کے پتلون کے پائنچے پر بھی چھینٹے آئے تھے؛ وہ جھک کر اس پر پانی کی بوتل سے آہستہ آہستہ ڈالنے لگی تاکہ داغ نہ جمے۔ نادیہ باجی نے اسی دوران نرس سے کہا، "یہ ہماری کالج کی بچی ہے، بس ساتھ آگئی تھی، اصل ذمہ داری تو گھر والوں کی ہے۔"
"بس ساتھ آگئی تھی" سن کر بھی حنا نے سر نہیں اٹھایا۔ تین راتوں سے وہی تھی جو زین کے ابا کے ٹیسٹ کی پرچیاں سنبھال رہی تھی، میڈیسن والے کو رقم بھیج رہی تھی، اور کراچی یونیورسٹی روڈ سے اس چھوٹی سی محلے کی کلینک تک بس بدل بدل کر پہنچتی تھی۔ مگر خالہ شمیم کے لیے وہ صرف اتنی تھی کہ جسے کام کے وقت آواز دی جا سکے اور دروازے پر بیٹھے رشتے داروں کے سامنے نام نہ لیا جائے۔
نرس پھسلنے سے بچی تو اس نے پہلی بار حنا کی طرف سیدھا دیکھا۔ "شکریہ۔" ایک سادہ سا لفظ۔ پھر اس نے رجسٹر والی میز کے پیچھے پڑی فولڈنگ کرسی باہر کھینچ کر کہا، "آپ یہاں بیٹھ جائیں، راستہ بند نہ ہو۔" یہ معمولی جگہ تھی، مگر دروازے کے پاس کھڑے رہنے سے بہتر۔ حنا نے کرسی پر رکھا پرانا رسیدی بورڈ اٹھایا؛ اس کے کنارے پر نیلے قلم کا پرانا نشان دبا ہوا تھا۔ وہ بیٹھ گئی، اور پہلی بار شام بھر میں کسی نے اسے ہٹایا نہیں۔
زین نے آنکھیں کھولیں تو چہرہ پیلا تھا۔ "تم گئی نہیں ابھی تک؟"
"آپ کی والدہ کی دوائیں باقی تھیں۔" حنا نے رسید اس کی طرف بڑھائی۔ "اور آپ نے ظہر سے کچھ نہیں کھایا۔"
نادیہ باجی نے فوری بیچ میں ہاتھ ڈال دیا۔ "اب یہ بھی بتائے گی ہم نے کیا کھایا کیا نہیں؟ زین، موبائل دو۔ میں شہباز کو بلاتی ہوں، وہ بائیک پر چھوڑ دے گا۔" شہباز ان کا منگیتر کزن تھا، وہی جس کا نام ہر مشکل میں ایسے لیا جاتا جیسے باقی سب لوگ عارضی مزدور ہوں۔ حنا نے خاموشی سے دوائیوں کا تھیلا سمیٹا، مگر زین نے موبائل نادیہ کے ہاتھ میں دینے کے بجائے حنا کی طرف دیکھا۔ "پانی کی چھوٹی بوتل ہے؟"
اس سوال میں کوئی محبت کا اعلان نہیں تھا، صرف ترجیح تھی۔ حنا نے بیگ سے بوتل نکالی، ڈھکن کھولا، اس کے ہاتھ میں نہیں دی بلکہ خود پکڑ کر اس وقت تک تھامی رکھی جب تک اس نے دو گھونٹ نہ لے لیے۔ نادیہ باجی کے چہرے پر وہی ناگواری آئی جو ان لوگوں کے چہروں پر آتی ہے جنہیں خدمت چاہیے ہوتی ہے مگر خدمت کرنے والے کا وجود نہیں۔
اگلے دو دن اسی طرح کٹے۔ کالج کے بعد حنا بس میں آتی، کلینک یا گھر کے نیچے والی فارمیسی سے دوائیں اٹھاتی، اور اوپر جانے سے پہلے ہر بار یہی سنا کرتی، "بس یہ رکھ دو اور چلی جاؤ، محلے میں بات بنتی ہے۔" زین کے گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ حنا کلاس فیلو ہے، یہ بھی کہ زین کو سیمسٹر کے پروجیکٹ میں وہی بچاتی رہی تھی، مگر پتہ ہونا اور گھر کے اندر جگہ ملنا دو الگ درجے تھے۔ اسے اکثر سیڑھی کے موڑ پر روکا جاتا، کبھی جوتوں کے پاس کھڑا رکھا جاتا، کبھی خالہ شمیم کہتے ہوئے گزر جاتیں، "ہمارا لڑکا اب سروس سیکٹر میں نوکری کے انٹرویو دے رہا ہے، بدنامی برداشت نہیں۔"
اس شام بارش تھی۔ نادیہ باجی نے نیچے آ کر دواؤں کے تھیلے لیے اور حنا کے ہاتھ میں ایک چابی رکھ دی۔ "یہ اوپر والے سٹور کی ہے۔ اندر مت جانا۔ زین کا چارجر رہ گیا ہے، بس دروازہ کھول کر دے دینا۔" چابی گیلی تھی، شاید دیر سے واپس کی گئی ہو؛ حنا نے اسے مٹھی میں بند کیا تو دھات کی ٹھنڈک سیدھی دل تک گئی۔ اوپر جا کر اس نے سٹور نہیں، غلطی سے نیم کھلے کمرے کا دروازہ دھکیلا۔ وہاں بستر کے کنارے زین جھکا بیٹھا تھا، سانس بےترتیب، ایک ہاتھ سے سینہ پکڑے ہوئے۔
"زین!" وہ لپک کر پہنچی۔ اس نے جواب میں کچھ کہنا چاہا مگر آواز کٹ گئی۔ باہر گیلری میں خالہ شمیم کی کسی رشتے دار سے فون پر تیز گفتگو آرہی تھی؛ کوئی نہیں سن رہا تھا۔ حنا نے پہلے پنکھا بند کیا، پھر اس کا کندھا سیدھا کیا تاکہ وہ آگے نہ گرے، پھر پانی ڈھونڈنے کے بجائے اسی دم انہیلر والا پاؤچ ڈیسک سے اٹھا لیا جو اس نے پچھلے ہفتے خود خریدوا کر رکھا تھا۔ "گہرا سانس۔ میری طرف دیکھیں۔" اس نے ماسک اس کے ہونٹوں تک پہنچایا، ایک ہاتھ اس کی پیٹھ کے پیچھے جما کر رکھا۔ زین کا وزن اس پر آ گیا۔ وہ چند سیکنڈ بہت لمبے تھے؛ دروازے کے چوکھٹ میں بارش کی ہوا ہل رہی تھی، اور حنا نے جان بوجھ کر پیچھے قدم نہیں لیا۔
سانس کچھ بحال ہوئی تو زین نے آنکھیں کھولیں۔ "میں… امی کو نہیں بتایا۔ انہیں لگتا ہے میں ٹھیک ہوں تو بات آسان رہتی ہے۔"
یہ اعتراف ماضی کی کہانی نہیں تھا؛ ابھی کی کمزوری تھی، کچی اور شرمناک۔ حنا چاہتی تو فوراً خالہ شمیم کو آواز دیتی اور خود کنارے ہو جاتی۔ مگر نیچے سے نادیہ باجی کی آواز آئی، "چارجر ملا؟ زیادہ دیر نہ لگانا۔" اس ایک جملے میں حکم بھی تھا، نگرانی بھی، اور وہی پرانی حد بھی۔ حنا نے زین کے بازو کے نیچے ہاتھ دے کر اسے بستر سے اٹھایا۔ "کھڑے ہو سکتے ہیں؟ کلینک چلنا ہے، ابھی۔"
"امی—"
"میں بتا دوں گی کہ چکر آیا تھا۔ آپ چلیں۔"
اس نے اس کی چپل پاؤں کے سامنے سیدھی رکھی، موبائل اور بٹوّا جیب میں ڈالا، اور کمرے سے باہر نکلتے ہوئے دروازہ آہستہ سے کھینچ کر بند کر دیا۔ سیڑھیوں پر پہنچے تو نادیہ باجی سامنے آ گئیں۔ "یہ کیا ڈرامہ ہے؟ نیچے سب بیٹھے ہیں۔ ایسے لے کر جاؤ گی تو بات پھیلے گی۔ شہباز آرہا ہے، وہ لے جائے گا۔"
"شہباز آنے تک یہ پھر گر سکتے ہیں۔" حنا کی آواز پہلی بار سخت ہوئی۔ "ابھی رکشہ چاہیے۔"
"تم حد سے بڑھ رہی ہو۔"
حنا نے جواب میں بحث نہیں کی؛ اس نے زین کو ریلنگ سے ٹیک دی، موبائل نکالا، نیچے گلی کے کونے والے رکشہ والے اقبال کو کال کی جس کا نمبر دواؤں کے چکر میں اسے یاد ہو گیا تھا۔ پھر زین کی طرف پلٹی۔ "میں نیچے ہوں۔ آپ میرے ساتھ آئیں گے تو ہی چلوں گی۔" یہ گزارش نہیں، حد تھی۔
کلینک کے ہنگامی کمرے میں روشنی اور بھی تیز تھی۔ ڈاکٹر نے بلڈ پریشر دیکھ کر خالہ شمیم کو ڈانٹا کہ دو دن سے تھکن اور سانس پھولنے کو کیوں چھپایا گیا۔ نادیہ باجی فوراً بولیں، "ہم تو لے ہی آتے، یہ بچی گھبرا گئی تھی۔" مگر اس بار زین نے لیٹے لیٹے آنکھیں بند رکھ کر کہا، "حنا نہ لاتی تو میں نہیں آتا۔" صرف اتنا۔ نہ زیادہ، نہ کم۔ اتنا کہ جھوٹ کی چمک اتر جائے۔
رات لمبی ہوئی۔ ٹیسٹ، انتظار، بل، دعا، خاموشی۔ حنا نے اپنی بسیں کھو دیں۔ اس کا فون کئی بار بجا؛ ہوسٹل والی ہم جماعت پوچھتی رہی، کہاں ہو۔ خالہ شمیم نے ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ اوپر ہمارے ساتھ آ جاؤ۔ بلکہ جب ڈاکٹر نے بتایا کہ زین کو رات بھر نگرانی چاہیے تو نادیہ باجی نے صاف کہا، "حنا، تم اب نکل جاؤ۔ صبح آجانا۔ یہاں رات رکنا مناسب نہیں۔"
حنا نے سر ہلایا، جیسے حکم سن لیا ہو۔ پھر بلنگ کاؤنٹر پر جا کر ادھار کی فہرست دیکھی، اپنے پرس سے جمع شدہ بس کارڈ کے پیسے اور ٹیوشن کی دو ہزار کی تہہ نکالی، کمی پوری کی، اور واپس آ کر زین کے بستر کے پاؤں کی طرف کھڑی ہو گئی۔ وہ نیم بےہوشی میں تھا، مگر اس کی انگلیاں چادر کے کنارے کو ایسے پکڑے تھیں جیسے کہیں گرنے سے بچنا ہو۔ حنا نے چادر سیدھی کی اور پیچھے ہٹ گئی۔
فجر سے ذرا پہلے انہیں گھر لایا گیا۔ گلی سنسان تھی، بارش کے بعد سیمنٹ کی سوندھی بدبو اٹھ رہی تھی۔ خالہ شمیم آگے آگے چلیں، نادیہ باجی نے پہلے ہی دروازہ کھول رکھا تھا۔ جیسے ہی حنا نے دوائیوں کا تھیلا اٹھا کر اندر قدم رکھنے کو پاؤں بڑھایا، نادیہ باجی نے چوکھٹ میں ہاتھ رکھ دیا۔ "یہاں تک۔ اب ہم سنبھال لیں گے۔ تم نے کافی کیا۔"
کافی کیا۔ جیسے وہ محنت ایک استعمال شدہ چیز ہو جسے اب دروازے پر چھوڑ دینا ہے۔
حنا نے تھیلا اپنی طرف کھینچ لیا۔ رات بھر جاگنے سے اس کی آنکھیں جل رہی تھیں، کپڑوں کے کناروں پر خشک بارش کے داغ تھے۔ اس نے پہلی بار سیدھا نادیہ باجی کی آنکھ میں دیکھا۔ "دواؤں کا وقت مجھے معلوم ہے۔ صبح سات بجے بھاپ دینی ہے۔ ڈاکٹر کی ہدایت بھی میرے پاس ہے۔ اگر اندر نہیں جانا تو تھیلا بھی نہیں چھوڑوں گی۔ آپ خود سب سنبھال لیں۔"
زین پیچھے سے دیوار پکڑ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ کمزوری سے اس کی آواز بھاری تھی، مگر سیدھی۔ "ہٹ جاؤ، نادیہ۔"
"زین، محلہ—"
"ہٹ جاؤ۔"
وہ چند انچ کا راستہ تھا، مگر اس میں ساری رات کی تھکن، مہینوں کی محنت اور گھر کی ساری بناوٹی ترتیب اٹکی ہوئی تھی۔ نادیہ باجی نے ہاتھ نہیں ہٹایا تو زین نے دروازے کے ساتھ لٹکی چابیوں کے ہُک سے ایک چھوٹی چابی اتاری اور حنا کی طرف بڑھا دی۔ "اوپر والا کمرہ کھولو۔ وہاں رہو۔ نیچے آنا ہو تو مجھے آواز دینا۔"
خالہ شمیم رک گئیں۔ "زین!"
اس نے ماں کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ بس ایک قدم آگے آیا، چوکھٹ کے اندر سے اتنی جگہ بنائی کہ حنا گزر سکے، اور دوائیوں کا تھیلا اس کے ہاتھ سے لے کر پھر اسی کو واپس دے دیا، جیسے چیز بھی اسی کی ذمہ داری ہو اور راستہ بھی۔ "اندر آؤ، حنا۔ اور آج کہیں نہیں جانا۔"
یہ کھلا اعلان نہیں تھا۔ گلی خالی تھی، دروازہ آدھا کھلا، اندر صحن کی نلکی سے پانی ٹپک رہا تھا۔ مگر قیمت پوری تھی: خاندان کی آنکھ کے سامنے، رات کے بعد، چوکھٹ پر۔ حنا ایک لمحہ دروازے میں رکی رہی۔ پھر اس نے چابی لی، اوپر جانے والی سیڑھی کی طرف مڑی، اور خود اپنے قدم سے اندر چلی گئی۔
اوپر والا کمرہ چھوٹا تھا، کرائے کے فلیٹوں جیسے بےجوڑ فرنیچر کے ساتھ: ایک پلنگ، لوہے کی الماری، کھڑکی کے پاس پلاسٹک کی شیلف۔ حنا نے دوائیوں کا تھیلا میز پر رکھا، اپنے گیلے دوپٹے کی گرہ کھولی، اور چابی دروازے کے اندرونی کنڈے کے پاس لٹکے چھوٹے سے ہُک پر ٹانگ دی۔ اس کے بعد اس کی نظر شیلف کے درمیانی خانے پر گئی۔ وہاں ایک سفید مگ پہلے سے رکھا تھا، کنارے پر نیلے قلم کا وہی سا پرانا داغ، اور ساتھ مڑی ہوئی چائے کی پتی کی چھوٹی پڑیا—جیسے صبح اٹھ کر اسے وہیں سے ہاتھ بڑھانا ہو۔