وہ دروازہ بند ہونے کے بعد آیا
فائزہ خالہ نے پلیٹ میز پر رکھ کر کہا، “مہرین، چائے پھر سے گرم کر دو—” اور دروازے پر دستک کے ساتھ ہی بات ادھوری رہ گئی۔ صفیہ ہانپتی ہوئی اندر آئی، دوپٹے کے نیچے سے ایک بھورا لفافہ اور چابیوں کا چھلا نکالتی ہوئی، جیسے راستے بھر انہیں مٹھی میں دبائے رکھا ہو۔ “اسٹیشن سے آ رہی ہوں،” اس نے کہا، “لاہور میل لیٹ تھی… یہ حارث نے دیا ہے۔ کہا ابھی پہنچا دوں۔”
مہرین کے ہاتھ میں کیتلی تھی۔ ابلتا پانی پیالی کے کنارے سے نکل کر طشتری میں جمع ہونے لگا، مگر وہ ہلی نہیں۔ کمرے میں بیٹھے لوگوں کی نظریں ایک ساتھ اس پر آ گریں۔ منگنی تو نہیں تھی کبھی، مگر گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی نسبت اتنی ضرور تھی کہ نام سنتے ہی ہوا الگ ہو جائے۔ چار سال پہلے بھی یہی ہوا تھا، بس اُس وقت حارث کے گھر والے بول رہے تھے کہ لڑکا آگے نکل گیا ہے، اور مہرین… وہ تو صرف کراچی کے ایک کال سینٹر میں رات کی شفٹ کرتی لڑکی ہے، جس کے ابا کے انتقال کے بعد دو چھوٹے بھائیوں کی فیس اور کرایہ اسی کی تنخواہ سے جاتا ہے۔
“رکھ دو ادھر،” فائزہ خالہ نے فوراً کہا، جیسے چیز مہرین تک پہنچنے سے پہلے اس کی عزت کی نگرانی کرنی ہو۔ “مہمان بیٹھے ہیں۔”
مہمان سچ مچ بیٹھے تھے۔ صوفے پر خالہ کے سسرال والے پھیلے ہوئے، پلیٹیں سامنے، باتیں اونچی۔ اور مہرین، جو صبح سے برتن، سلاد، چاول، سب سنبھال رہی تھی، دروازے اور ڈائننگ کے بیچ پلاسٹک کی کرسی کے کونے سے بھی محروم کھڑی تھی۔ عادل، جو خالہ کا بیٹا تھا اور اب بینک میں لگا ہوا تھا، اپنے فون سے سر اٹھا کر بولا، “اچانک اب؟ جب سب ختم ہو گیا؟”
فائزہ خالہ نے ہلکی سی ہنسی ہنسی، وہی جو ہمیشہ مہرین کے حصے میں حقارت بن کر آتی تھی۔ “بیٹا، کچھ لوگ تب یاد کرتے ہیں جب دوسرے آپشن بند ہو جائیں۔” پھر مہرین کی طرف دیکھ کر، “چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ کام کرو۔”
صفیہ نے لفافہ اپنی ہتھیلی میں پلٹا۔ کاغذ کی خشک سرسراہٹ کمرے میں عجیب صاف سنائی دی۔ “خالہ، اُس نے کہا مہرین کے سامنے دینا ہے۔” یہ کہہ کر وہ ایک قدم آگے آئی، جیسے دیر سے پہنچی ہو مگر ہدایت پوری کر کے رہے گی۔
مہرین نے کیتلی میز پر رکھ دی۔ “مجھے دو۔” اس کی آواز اتنی ہلکی تھی کہ کسی ضد جیسی نہیں لگی، مگر فائزہ خالہ نے فوراً درمیان میں ہاتھ رکھ دیا۔ “ہر بات کے تماشے نہیں بنتے۔”
“تماشہ تب بنا تھا جب آپ نے سب کے سامنے کہا تھا میں نے خود پیچھے دوڑنا شروع کیا تھا،” مہرین نے ان کی طرف دیکھے بغیر کہا۔ “اب چیز آئی ہے تو میرے ہاتھ میں آئے گی۔”
کمرے میں بیٹھے دو مرد ذرا سیدھے ہوئے۔ صفیہ نے کسی کی اجازت کا انتظار نہیں کیا، لفافہ اور چابیاں مہرین کی طرف بڑھا دیں۔ چھلے میں ایک فلیٹ کی چابی تھی، ساتھ سوسائٹی کا پرانا کارڈ۔ حارث وہی چابی کبھی اپنی انگلی پر گھماتا تھا اور کہتا تھا، “اگلے سال تک اپنا گھر لے لیں گے، رینٹ سے جان چھوٹے گی۔” پھر اگلے سال اس نے فون بند کر دیا تھا۔
فائزہ خالہ نے بات سنبھالنے کے انداز میں کہا، “چابی واپس بھیج دی، بس؟ اچھا ہے۔ مردوں کو بھی کبھی عقل آ جاتی ہے۔”
“صرف چابی نہیں ہے،” صفیہ نے جلدی سے کہا۔ “اس میں ایک چھوٹا فون بھی ہے۔ کہہ رہا تھا، اگر وہ نہ مانے تو آپ لوگ خود سن لینا۔”
اب فائزہ خالہ کے چہرے پر جھنجھلاہٹ آئی۔ “ہمیں کچھ سننا نہیں۔ گھر میں بڑے بیٹھے ہیں۔”
“بڑے ہی تو بیٹھے ہیں،” مہرین نے لفافہ کھولتے ہوئے کہا۔
اندر ایک سستا سا بٹن والا فون تھا، ربڑ بینڈ سے بندھا ہوا، اور اس کے ساتھ ایک آدھی مڑی رسید۔ رسید پر دواؤں کی دکان کا بل، تاریخ چار سال پرانی، اوپر حارث کے ابا کا نام، نیچے دل کی دوا، نیبولائزر کٹ، اور وہی رات جس رات حارث نے مہرین کو آخری بار میسج کیا تھا: “گھر میں مسئلہ ہے، دو دن دو۔” پھر دو دن چار سال بن گئے تھے۔ رسید کے پیچھے حارث کی تحریر میں جلدی جلدی لکھا تھا: امی نے کہا تھا مہرین کو نہ بتانا، وہ آ گئی تو لوگ سمجھیں گے ہم نے لڑکی کو بوجھ ڈال دیا۔ ابو نے کہا پہلے ڈاکٹر، پھر بہن کی بات پکی، پھر دیکھیں گے۔ میں نے ہاں کر دی۔
کمرے میں کسی نے سانس کھینچ کر روکی۔ مہرین نے فون آن کیا۔ صفیہ نے قریب آ کر کہا، “وہ ٹرین میں چڑھتے وقت مجھے دے گیا۔ کہہ رہا تھا، اس میں صرف ایک آڈیو ہے۔”
اس بار فائزہ خالہ نے روکنے کی کوشش کی مگر دیر ہو چکی تھی۔ کھڑکھڑاتی ہوئی آواز ابھر کر کمرے میں پھیل گئی۔ حارث کی آواز تھی، دبی ہوئی، جیسے کسی پرانے کمرے میں ریکارڈ کی گئی ہو۔ “امی، میں اسے بتا دوں؟” پھر ایک عورت کی سخت آواز، “بتا کر کیا کرے گا؟ اس کے باپ مرے پڑے ہیں، وہ لڑکی آ جائے گی تو سب دیکھیں گے ہمارے گھر کے حالات۔ تمہیں شرم نہیں؟ پہلے نادیہ کی شادی نکلوا لو۔ مہرین جیسی لڑکیاں انتظار کر لیتی ہیں۔” کچھ لمحے بعد خود حارث بولا، ہنسی چھپا کر، “ٹھیک ہے، ابھی خاموش رہتا ہوں۔ ویسے بھی اگر واقعی چاہتی ہوئی تو خود رابطہ رکھے گی۔”
آواز ختم ہوتے ہی کمرے کی ہوا میں جو چیز بدلی وہ صرف خاموشی نہیں تھی؛ فائزہ خالہ کا وہ پکا لہجہ بھی ڈھیلا پڑ گیا جس سے وہ برسوں مہرین کی کہانی سناتی آئی تھیں۔ مہرین کو یاد آیا، ابا کے جنازے کے اگلے دن وہ بس بدلتی ہوئی حارث کے محلے تک گئی تھی، مگر باہر ہی سے لوٹ آئی تھی کیونکہ اس کے دو میسج پڑھے گئے تھے اور جواب نہیں آیا تھا۔ پھر یہی سننے کو ملا: لڑکیاں عزت دار ہوں تو ایک بار انکار سمجھ جاتی ہیں۔
عادل نے فون اپنی ماں کی طرف بڑھایا نہیں، بس دور سے دیکھا۔ “اس نے یہ کہا تھا؟ واقعی؟” سوال مہرین سے نہیں، اپنی پچھلی یقین دہانیوں سے تھا۔
فائزہ خالہ نے لب سخت کیے۔ “گھر کے حالات میں لوگ غلطیاں کر بیٹھتے ہیں۔” پھر فوراً، دفاع بدل کر، “اور مرد ڈر جاتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں—”
“یہی مطلب ہے،” مہرین نے آہستہ سے کہا۔ “بس اب آپ کے منہ سے سننے کی ضرورت نہیں رہی۔”
دروازے کے پاس پھر سایہ ہلا۔ اس بار صفیہ بھی پیچھے ہٹ گئی۔ حارث خود اندر آیا، پسینے میں بھیگا، سفر کی گرد چہرے پر، ہاتھ میں ایک سفید لفافہ اور دوسری ہتھیلی میں وہی پرانا نیلا مگ جس پر کبھی مہرین نے اسٹیکر چپکایا تھا۔ شاید جلدی میں وہ سیدھا اسٹیشن سے آیا تھا؛ قمیص کی آستین پر پلیٹ فارم کی گرد ابھی تک جمی تھی۔
“میں دیر سے پہنچا،” اس نے کہا، اور یہی جملہ اس کی ساری صورت پر لکھا ہوا بھی تھا۔ “ٹرین… چھوڑو۔ میں خود دینا چاہتا تھا۔”
فائزہ خالہ، جو ابھی تک ہر بات میں آگے تھیں، اس لمحے پیچھے ہو گئیں۔ حارث نے مہرین کی طرف وہ سفید لفافہ بڑھایا۔ “یہ فلیٹ کی بکنگ کی رقم ہے۔ آدھی نہیں، پوری۔ میں نے اپنے حصے کی چیزیں بیچ دی ہیں۔ اور چابی بھی… اگر تم چاہو تو—” اس کی آواز پھٹ گئی، مگر اس نے خود کو سنبھالا، “میں نے بزدلی کی تھی۔ تم پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا تھا، یہ جھوٹ تھا۔ میں اپنے گھر والوں کے سامنے تمہیں چھوٹا دکھا کر آسان راستہ لے رہا تھا۔ اب سمجھ آیا ہے۔ لے لو۔ کم از کم یہ تو—”
“کم از کم کیا؟” مہرین نے پوچھا۔
حارث نے لفافہ میز پر رکھا، پھر مگ بھی۔ “جو تمہارا تھا، واپس۔”
مہرین نے مگ کو دیکھا۔ اسٹیکر آدھا اکھڑا ہوا تھا۔ ایک وقت تھا جب وہ نارتھ ناظم آباد کی چھوٹی سی دکان سے یہ لے کر آئی تھی اور اس پر مارکر سے حارث کے نام کا پہلا حرف بنایا تھا۔ وہ معمولی چیزیں تھیں، مگر انہی معمولی چیزوں کے سہارے لوگ مستقبل پر یقین کرتے ہیں۔ اسے یہ دیکھ کر رونا نہیں آیا؛ بس ایک تھکا ہوا خالی پن آیا، جیسے کسی نے بہت دیر بعد وہ سامان لوٹایا ہو جو اب کسی اور زندگی کے دراز میں فٹ بیٹھتا تھا۔
حارث ایک قدم اور بڑھا۔ “میں نے نکاح نہیں کیا۔ کچھ بھی فائنل نہیں ہوا۔ اگر تم… اگر تم صرف ایک بار بیٹھ کر—”
فائزہ خالہ نے بے اختیار کرسی کھینچی، جیسے ابھی اسے بیٹھنے کی جگہ دینی چاہیے۔ وہی جگہ جو مہرین کو پورا دن نہیں ملی تھی۔ یہی ان لوگوں کا طریقہ تھا: طاقت ہمیشہ اس طرف رکھو جہاں دیر سے سہی، مگر مرد آ کر کھڑا ہو جائے۔
مہرین نے کرسی کی طرف نہیں دیکھا۔ اس نے سفید لفافہ اٹھایا، ایک لمحہ ہاتھ میں تولا، پھر ڈائننگ میز کے کونے پر رکھ دیا جہاں چائے کی بھاپ اب تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ “رقم وہاں رکھ دو جہاں چار سال پہلے سچ رکھنا تھا،” اس نے کہا۔ آواز میں چیخ نہیں تھی، اسی لیے سب کو صاف سنائی دی۔ “گھر چاہیے تھا تو مل جاتا۔ نام چاہیے تھا تو شاید وہ بھی۔ مجھے صرف یہ نہیں چاہیے کہ تم آج آ کر بتاؤ میں کتنی قابلِ افسوس تھی۔”
حارث نے جلدی سے کہا، “قابلِ افسوس نہیں۔ میں غلط تھا۔”
“ہاں،” مہرین نے کہا، “اور یہ بھی اب تمہارے کہنے کی محتاج نہیں۔”
وہ مگ کی طرف بڑھی۔ ایک لمحے کو صفیہ نے سمجھا شاید وہ اسے لے لے گی۔ مگر مہرین نے مگ کے پاس پڑی چابیوں کا چھلا اٹھایا، اسے سفید لفافے کے اوپر رکھ دیا، جیسے دونوں ایک ہی دیر سے لوٹی ہوئی چیز ہوں۔ پھر اس نے اپنے فون کی اسکرین دیکھی؛ آڈیو ابھی بھی کھلی تھی، حارث کی پرانی آواز کی لکیر ساکت پڑی۔ اس نے فون بند کیا، سستا آلہ لفافے کے ساتھ چھوڑ دیا، اور ٹھنڈی ہوتی چائے کی پیالی کو ذرا سا سرکا کر ان سب چیزوں کے برابر کر دیا۔
“خالہ، گیس بند کر دیجیے گا،” اس نے کہا۔ “میں جا رہی ہوں۔”
وہ ہال کے دروازے سے گزری تو کسی نے اسے روکنے کی ہمت نہیں کی۔ راہداری میں شام کی روشنی دیوار پر کٹ کر پڑ رہی تھی۔ پیچھے کمرے میں ڈائننگ میز پر سفید لفافہ، چابیاں، نیلا مگ اور بٹن والا فون ساتھ پڑے تھے؛ چائے کی سطح پر پتلی سی جھلی جم رہی تھی۔ مہرین نے دہلیز پار کرتے ہوئے اپنے فون کی اسکرین ایک بار دیکھی، انکھوں کے سامنے سیاہ عکس آیا، اور اس نے بٹن دبا کر اسے بند کر دیا۔