وہ دروازہ بند ہونے کے بعد آیا #2
صبا نے دروازے کے پاس رکھی پلاسٹک کی کرسی کو پاؤں سے ایک طرف سرکایا اور مہرین سے کہا، “تم ذرا باہر ہی رہو، اندر والوں کو پہلے چائے پکڑا دوں۔” مہرین کے ہاتھ میں سموسوں کا ڈبہ تھا، اوپر رکھی رسید آدھی تہہ میں مڑی ہوئی، پسینے سے نرم پڑ چکی۔ وہ ابھی جواب دیتی کہ گیٹ کے باہر ایک گاڑی رکی، پھر کاغذی تھیلے کی خشک سی سرسراہٹ سنائی دی۔ صبا کا چہرہ بدل گیا۔ “ارے— زریاب آ گیا؟”
مہرین نے ڈبہ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ آج خالہ شمائلہ کے گھر منگنی کی چھوٹی سی بیٹھک تھی، وہی رشتہ دار، وہی نظر رکھنے والی خالائیں، وہی کھانے کی پلیٹیں اور چائے کے کپ جن کے بیچ لوگ ایک دوسرے کی قیمت ناپتے ہیں۔ تین سال پہلے اسی گھر کے دالان میں زریاب نے کہا تھا، “ابھی نہیں، مہرین۔ گھر والے مان نہیں رہے۔ تم سمجھداری دکھاؤ۔” سمجھداری کا مطلب تب یہ نکلا تھا کہ مہرین خاموشی سے پیچھے ہٹ جائے، جب تک وہ اپنے لیے زیادہ آسان لڑکی نہ ڈھونڈ لے۔
اب وہی زریاب گیٹ سے اندر آیا، استری شدہ کُرتا، ہاتھ میں بیکری کا ڈبہ، دوسری انگلی میں چابیوں کا چھلا ہلتا ہوا۔ خالہ شمائلہ خود دہلیز تک پہنچیں۔ “آؤ بیٹا، آؤ۔ تم تو بالکل غائب ہو گئے تھے۔” پھر ان کی نگاہ مہرین پر پڑی، جیسے اسے پہلی بار دیکھ رہی ہوں۔ “مہرین، تم یہ ڈبہ کچن میں رکھ دو۔ اور سنو، بیٹھک میں زیادہ دیر نہ ٹھہرنا، بڑی باتیں ہو رہی ہیں۔”
یہی ظلم ہمیشہ سیدھا نہیں آتا، کبھی صرف بیٹھنے کی جگہ سے ہوتا ہے۔ زریاب کو اندر والے صوفے کی جگہ ملی، ٹھنڈا شربت ملا، نام لے کر بلایا گیا۔ مہرین کے لیے دالان کے کونے والی پلاسٹک کرسی بچی، جس کے ایک پائے کے نیچے پرانا اخبار ٹھونس کر برابر کیا گیا تھا۔ اس نے سموسوں کا ڈبہ میز کے کنارے رکھا تو آدھی مڑی رسید پھر کھل گئی۔ اس پر حارث کے ہاتھ کی تحریر تھی: “واپسی میں کرایہ میں نے دے دیا۔ شام کو کال نہ اٹھے تو سیدھا آ جانا۔”
زریاب کی نظر ایک لمحے کو رسید پر گئی۔ “تم اب بھی بسوں میں آتی ہو؟” اس نے ہلکی ہنسی کے ساتھ پوچھا، جیسے پرانی واقفیت دکھا رہا ہو۔ “کراچی نے تمہیں نہیں سدھارا۔”
مہرین نے رسید تہہ کر کے مٹھی میں کر لی۔ “کراچی نے مجھے کافی کچھ سکھا دیا ہے۔” وہ اور کچھ کہتی، اس سے پہلے خالہ شمائلہ نے چائے کی ٹرے اس کے ہاتھ میں تھما دی۔ “بیٹا، مہمانوں کے سامنے خالی ہاتھ نہ کھڑی رہو۔”
وہی وقت تھا جب پہلا چھوٹا سا فرق ظاہر ہوا۔ حارث، جو خالہ کے اوپر والے پورشن میں کرایے دار ہوتے ہوئے بھی گھر کا آدمی بن چکا تھا، سیڑھیوں سے اتر کر سیدھا دالان میں آیا۔ اس نے مہرین کے ہاتھ سے ٹرے لے لی، جیسے یہ بات بالکل معمول کی ہو۔ “گرم ہے، گر جائے گی۔ میں رکھ دیتا ہوں۔ آپ خالہ کے پاس بیٹھیں، انہوں نے ابھی آپ کو بلایا تھا۔” “آپ” پر دالان کی دو عورتوں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ خالہ شمائلہ نے کچھ کہنا چاہا، پھر رک گئیں؛ شاید اس لیے کہ حارث گزشتہ چھ ماہ سے ان کے شوگر کے انجکشن لاتا، بجلی کا بل جمع کراتا، اور جمعہ کی رات نیچے آ کر برآمدے کا بلب خود بدل دیتا تھا۔ سروس سیکٹر کی نوکری کرتا تھا، صبح کال سینٹر، شام کو گھر کے چھوٹے موٹے حساب، اور اس سب کے بیچ اس نے مہرین کے لیے کوئی بڑا اعلان نہیں کیا تھا— بس جگہ بنائی تھی۔
زریاب نے مسکرا کر اپنی آستین درست کی۔ “اچھا ہے، مدد کرنے والے لوگ مل جائیں تو آسانی ہو جاتی ہے۔” اس کے لہجے میں وہی پرانی سرپرستی تھی، جیسے مہرین کی زندگی ہمیشہ کسی کے سہارا دینے کے قابل ہی سمجھی گئی ہو۔ “ویسے، میں تم سے بات کرنا چاہ رہا تھا۔ کئی بار آیا، تم ملیں نہیں۔”
“آئی تھی ایک بار آپ کے دفتر کے نیچے بھی گاڑی۔” صبا اچانک بول پڑی، پھر اپنی ہی بات سے گھبرا کر خاموش ہو گئی۔ مہرین نے اسے دیکھا۔ صبا کی آنکھیں ادھر ادھر پھسل گئیں۔
خالہ شمائلہ نے فوراً فضا سنبھالنے کی کوشش کی۔ “پرانے جاننے والے ہیں، بات ہو جانے دو۔ مہرین، تم ضد نہ کیا کرو۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہو تو رشتہ بگاڑنا اچھا نہیں لگتا۔” یہ جملہ دالان میں رکھے برتنوں کی طرح کھنکا: سب جانتے تھے، اس لیے گویا سب کو حق بھی تھا۔
زریاب نے جیب سے ایک چھوٹا لفافہ نکالا، پھر جیسے ابھی مناسب نہ سمجھا ہو، واپس رکھ لیا۔ “میں نے غلطی کی تھی۔” اس نے اتنا آہستہ کہا کہ آدھے لوگ سنیں اور آدھے اندازہ لگائیں۔ “مگر کچھ فیصلے آدمی دباؤ میں کرتا ہے۔ اب حالات بدل گئے ہیں۔”
مہرین کے منہ میں چائے کی تلخی اتر گئی۔ وہ جانتی تھی، یہی وہ لہجہ ہے جو کبھی معافی نہیں مانگتا، صرف موقع ناپتا ہے۔ مگر اس کے جواب دینے سے پہلے زریاب کا فون میز پر رکھا رکھا بج اٹھا۔ اس نے فوراً اسکرین پر ہاتھ رکھا، لیکن دیر ہو چکی تھی۔ اسکرین روشن ہوئی، اور سامنے سب کے: “امی: اس لڑکی کے گھر جانے کی اب کیا ضرورت؟ سارہ والوں سے بات ٹوٹ گئی تو فوراً پرانی طرف مت بھاگو۔ لوگ سمجھ جائیں گے۔”
دالان نے سانس نہیں روکی؛ بس چیزیں اپنی جگہ ذرا غلط ہو گئیں۔ صبا کے ہاتھ کی چمچ پلیٹ سے ٹکرائی۔ خالہ شمائلہ نے گردن دوسری طرف موڑ لی، جیسے انہوں نے کچھ پڑھا ہی نہیں۔ زریاب نے فون الٹا کر دیا، “امی بس—” وہ ہڑبڑا گیا، “غلط وقت پر—”
“نہیں، بالکل ٹھیک وقت پر۔” مہرین نے پہلی بار اسے سیدھا دیکھا۔ “سارہ والوں سے بات ٹوٹی، پھر تمہیں یاد آیا کہ میں ابھی وہیں ہوں جہاں چھوڑا تھا؟”
زریاب کے چہرے کی استری ایک دم ڈھیلی پڑ گئی۔ “بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ—”
“کیونکہ اب دروازہ تمہارے لیے بند ہوا ہے، تو تم نے وہ کھڑکی یاد کی جسے خود بند کیا تھا۔” مہرین کی آواز اونچی نہیں تھی، اسی لیے زیادہ صاف سنائی دی۔ “میرے ساتھ ‘غلطی’ نہیں ہوئی تھی، میرے اوپر فیصلہ ہوا تھا۔”
خالہ شمائلہ اب بیچ میں آئیں۔ “مہرین، مہمانوں کے سامنے—”
“مہمان؟” مہرین نے ایک نظر زریاب پر ڈالی۔ “مہمان وہ ہوتا ہے جسے بلایا جائے۔ یہ خود آیا ہے۔”
یہ بات دالان میں کسی نعرے کی طرح نہیں، کسی رسی کے اچانک کھنچ جانے کی طرح لگی۔ حارث نے کچھ نہ کہا۔ اس نے بس میز کے کنارے سے وہ آدھی مڑی رسید اٹھا کر مہرین کے سامنے رکھی، اور ساتھ ہی ایک چھوٹا سا چابیوں کا چھلا— اوپر والے پورشن کے سٹور روم کی اضافی چابی— اس کی ہتھیلی کے پاس رکھ دیا۔ “خالہ، شام سے حساب والی الماری کی چابی انہی کے پاس رہے گی۔ دودھ والے، گیس والے، اور دوائی کے پیسے ہر بار مجھے دفتر سے نکل کر نہیں سنبھلتے۔ مہرین بہن بہتر حساب رکھتی ہیں۔”
“بہن” پر زریاب نے پلک جھپکی، مگر اصل چوٹ لفظ میں نہیں، عمل میں تھی۔ چابی سب کے سامنے مہرین کی طرف سرکائی گئی۔ داخلے کی جگہ، کام کی ذمہ داری، بھروسے کی چھوٹی مگر پکی لکیر۔ خالہ شمائلہ نے ایک لمحہ حساب لگایا؛ پھر شاید انہیں یاد آیا کہ پچھلے دو مہینے کے اخراجات واقعی مہرین نے ہی رجسٹر میں سیدھے کیے تھے۔ “ہاں… رکھ لو،” انہوں نے خشک گلے سے کہا۔ “ویسے بھی تم آتی جاتی رہتی ہو۔”
“آتی جاتی نہیں،” حارث نے نرمی سے درست کیا، “یہ اپنے وقت پر آتی ہیں۔”
یہ کوئی محبت کا اعلان نہیں تھا، مگر مہرین کے لیے اتنا کافی تھا کہ دالان میں اس کے قدم پہلی بار کرائے کی طرح نہ لگیں۔ اس نے چابی اٹھا لی۔ زریاب اسے دیکھتا رہا، جیسے اب جا کر اسے سمجھ آیا ہو کہ غائب صرف وہ نہیں ہوا تھا، جگہ بھی بدل گئی تھی۔
“دو منٹ باہر آ سکتی ہو؟” اس نے دھیمی آواز میں کہا۔ “بس دو منٹ۔”
خالہ شمائلہ نے تھکے ہوئے لہجے میں اجازت دے دی؛ شاید وہ یہ مسئلہ دروازے کے باہر دھکیل دینا چاہتی تھیں۔ مہرین برآمدے تک گئی۔ نیچے گلی میں موٹرسائیکلیں ترچھی کھڑی تھیں، کہیں سے کباب کی خوشبو آ رہی تھی، اور بینچ کے پاس ایک کاغذی کپ سے بھاپ اٹھ رہی تھی— حارث نے اس کے لیے چائے رکھی تھی، جو وہ پی نہ سکی تھی۔
زریاب برآمدے کے ستون کے پاس آ کر رک گیا۔ اب اندر کی آسانی اس کے ساتھ نہیں تھی۔ “میں تمہیں لینے آیا ہوں، مہرین۔” اس نے جیب سے وہی چھوٹا لفافہ نہیں، بلکہ ایک چابی نکالی— وہی، نیلے پلاسٹک کے ٹکڑے والی، جو کبھی مہرین نے اسے دی تھی جب وہ یونیورسٹی کے دنوں میں اس کے کرائے کے فلیٹ پر نوٹس اور کتابیں چھوڑ جاتا تھا۔ “میں نے اسے سنبھال کر رکھا۔ کبھی پھینکی نہیں۔ میں نے سوچا… اگر تم چاہو تو ہم دوبارہ—”
مہرین نے چابی کو دیکھا تو پہچان نے پہلے دل پر وار کیا، پھر غصہ آیا۔ کتنی شامیں اس چابی کے انتظار میں گزری تھیں۔ کتنی بار اس نے فون کے سامنے بیٹھ کر سمجھداری دکھائی تھی۔ یہ وہ چیز تھی جو وقت پر لوٹ آتی تو شاید زندگی کی شکل دوسری ہوتی۔ اب یہ صرف ثبوت تھی کہ آدمی بعض چیزیں سنبھال کر رکھتا ہے، لوگ نہیں۔
“تمہیں معلوم ہے، سب سے بری بات کیا تھی؟” اس نے آہستہ کہا۔
“میں مانتا ہوں، میں نے تمہیں تنہا چھوڑا۔ مگر اب—”
“نہیں۔ سب سے بری بات یہ تھی کہ تمہیں یقین تھا میں یہی کھڑی ملوں گی۔” اس نے اس کے ہاتھ کی طرف نہیں بڑھا۔ “تمہیں ہمیشہ لگتا تھا، تمہارا دیر سے آنا بھی میرے لیے وقت پر ہوگا۔”
زریاب کے جبڑے سخت ہوئے، پھر ڈھیلے۔ “میں واقعی واپس آیا ہوں۔ سارہ کا معاملہ الگ ہے۔ امی جو کہتی ہیں، وہ—”
“میں تمہاری امی کی خالی جگہ نہیں ہوں۔” مہرین نے برآمدے کے اندر میز کے کنارے کی طرف اشارہ کیا، جہاں ابھی ابھی استعمال ہونے والی ٹرے رکھی تھی۔ “وہ چابی وہاں رکھ دو۔”
وہ ساکت سا رہ گیا۔ “کم از کم لے تو لو۔ بات تو—”
“بات ہو رہی ہے۔” مہرین نے پہلی بار ایک قدم پیچھے نہیں، آگے بڑھایا، تاکہ دروازے کی لکیر اس کے پیچھے آ جائے، زریاب کے نہیں۔ “اندر آنا مت۔ اور یہ میرے ہاتھ میں مت دو۔”
اس کے اندر کچھ اب بھی کانپ رہا تھا؛ محبت کبھی ایک دن میں مردہ نہیں ہوتی، بس عزت کے نیچے دب جاتی ہے۔ زریاب نے شاید یہی لرزش دیکھ لی۔ اسی امید پر اس نے چابی اس کی طرف اور بڑھائی۔ “میں اس بار سنجیدہ ہوں۔ خالہ سے بھی بات کر لوں گا۔ گھر پر بھی۔ جو ہونا ہے، سامنے ہوگا۔”
“جو ہونا تھا، سامنے تھا، جب تم نے مجھے پیچھے کھڑا کیا تھا۔” مہرین نے دروازے کے فریم پر ہاتھ رکھا۔ “اب میرے لیے تمہارا سنجیدہ ہونا بھی دیر سے آیا ہے۔”
اس نے خود آگے بڑھ کر زریاب کی کلائی کو نہیں چھوا، چابی نہیں لی۔ بس میز کے کنارے پر انگلی سے ایک خالی جگہ دکھائی۔ چند لمحے بعد زریاب نے جیسے اپنی ہی بے عزتی کو دیکھتے ہوئے چابی وہاں رکھ دی۔ نیلا پلاسٹک میز کی لکڑی سے ٹکرایا، ایک معمولی سی آواز ہوئی، مگر وہ کافی تھی۔ مہرین نے چابی کو چھوا تک نہیں۔
اندر سے خالہ شمائلہ کی آواز آئی، “مہرین، حساب والی کاپی کہاں رکھی ہے؟” اس سوال میں پہلی بار اس کا نام کام کے ساتھ جڑا تھا، منت کے ساتھ نہیں۔
مہرین نے نگاہ ہٹائے بغیر جواب دیا، “لے آتی ہوں، خالہ۔” پھر زریاب سے کہا، “راستہ ادھر نہیں ہے۔”
وہ مڑا نہیں۔ شاید اسے آخر تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ کوئی دروازہ واقعی بند بھی رہ سکتا ہے۔ مہرین نے ہاتھ بڑھا کر برآمدے کا آہنی دروازہ اندر کی طرف کھینچا۔ پٹ بند ہونے سے پہلے اس نے ایک آخری چیز دیکھی: میز کے کنارے رکھی پرانی چابی، بے مصرف، اور زریاب کا ہاتھ جو اب خالی تھا۔
دروازہ بند کر کے وہ اندر نہیں ٹھہری۔ اس نے حساب والی کاپی اٹھائی، اوپر جانے والی سیڑھی کی طرف مڑی، اور برآمدے کے پاس رکھی بینچ سے گزرتے ہوئے اپنی چائے کا کپ وہیں چھوڑ دیا۔ بینچ خالی رہی، کپ ٹھنڈا ہوتا گیا، اور اوپر اٹھتی ہلکی بھاپ آہستہ آہستہ مر گئی۔