Fast Fiction

ڈسپیچ کی کرسی واپس میری

ٹرک نے ریورس کی تیز چیخ ماری، پیچھے والا شٹر آدھا کھلا رہ گیا، اور صائمہ کے سامنے ڈسپیچ کنسول کی کرسی پر عادل صاحب نے اپنا فولڈر پٹخ کر کہا، “تاخیر تم لوگوں کی وجہ سے ہو رہی ہے، مگر بورڈ کو کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا۔” لوڈنگ بے میں دو گاڑیاں قطار توڑنے کو ہارن پہ ہارن دے رہی تھیں، پیلی پیلی پیلیٹیں آدھی ریمپ پر، آدھی فرش پر اٹکی پڑی تھیں، اور دروازہ نمبر تین کے پاس ایک چائے کا کپ ٹھنڈا ہو کر اوپر جھلی باندھ چکا تھا۔ صائمہ نے اپنے کارڈ کے گھسے ہوئے کنارے کو انگوٹھے سے رگڑا، ایک قدم کنسول کی طرف بڑھایا، تو عادل نے کرسی ذرا پیچھے سرکا کر راستہ ہی بند کر دیا۔ “تم بس شیٹ اٹھاؤ، ریلیز میں نہیں آنا۔”

وہ رات کی شفٹ کے بعد سیدھی آئی تھی، کندھوں میں وہی شفٹ کی اکڑن، آستین پر دباؤ کے کریز، مگر اس نے صرف اتنا کیا کہ سامنے پڑی لوڈ لسٹ کھینچ کر اپنی طرف لے آئی اور خشک لہجے میں بولی، “دروازہ تین پہلے کھلا نہ، تو نمبر پانچ والا بھی پھنسا رہے گا۔” یہ جواب نہیں تھا، نشاندہی تھی۔ پاس کھڑا رفیق، جس کے ہاتھ میں پیکنگ ٹیپ لٹک رہی تھی، فوراً اس کی طرف دیکھنے لگا۔ پہلی دراڑ وہیں پڑی: حکم عادل کے پاس تھا، مگر کام کی سمت صائمہ کے منہ سے نکلی۔

عادل نے اسی دراڑ پر پاؤں رکھ کر اسے کچلنے کی کوشش کی۔ “خالد!” اس نے آواز لگائی۔ “ہیڈسیٹ لو، آج ریلیز تم دیکھو گے۔” خالد جوان تھا، محنتی بھی، مگر زندہ بے کو پڑھنا اس کے بس کا کام نہیں تھا۔ صائمہ نے ہی اسے پچھلے مہینے سکھایا تھا کہ کون سا ٹرک پہلے موڑنا ہے، کس ڈرائیور کو ایک منٹ روکنا ہے، کس پیلیٹ کو سائیڈ بے میں ڈال کر راستہ کھولا جاتا ہے۔ اب عادل نے جان بوجھ کر ہیڈسیٹ خالد کی طرف اچھال دیا۔ ہیڈسیٹ اس کے سینے سے ٹکرا کر لٹک گیا۔

اسی وقت شیشے والے دروازے کے پاس خالہ نسرین نظر آئیں۔ وہ صائمہ کی ماں کی چچازاد تھیں، قریبی علاقے میں رہتی تھیں، اور ان کے گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ صائمہ اس نوکری کو کیسے تھامے ہوئے ہے—کبھی گھر کے کرائے کے لیے، کبھی چھوٹے بھائی کی فیس کے لیے، کبھی صرف اس لیے کہ سروس سیکٹر میں عزت خود بنانی پڑتی ہے۔ وہ کسی رسید پر دستخط کروانے آئی تھیں، مگر قدم روک کر منظر دیکھنے لگیں: کرسی عادل کے نیچے، بے کی سانس صائمہ کے حساب پر، اور الزام اسی پر۔

صائمہ نے ان کی طرف نہیں دیکھا۔ یہی اس کی عادت تھی؛ وہ اپنے لیے گواہ اکٹھے نہیں کرتی تھی۔ مگر عادل نے دیکھا، اور اس کے لہجے میں وہی مصنوعی نرمی آ گئی جو آدمی تب نکالتا ہے جب ذلت کسی رشتہ دار کی آنکھ میں اتر رہی ہو۔ “صائمہ بہت محنتی ہے، مگر آج اوپر سے ہدایت ہے۔” پھر فوراً گردن موڑ کر سختی واپس پہن لی۔ “تم receiving lane پہ جا کے گنتی ملاؤ۔ کنسول کے پاس مت رکنا۔”

“گنتی مل چکی ہے،” صائمہ نے کہا۔ “مسئلہ ریلیز آرڈر کا ہے۔”

“میں نے کہا نا، پیچھے ہٹو۔”

خالد نے گھبراہٹ میں ہیڈسیٹ پہنا اور پہلے ہی منٹ غلطی کر دی۔ اس نے دروازہ نمبر دو سے نیم خالی گاڑی اندر لے لی، حالانکہ نمبر چار پر بھری لوڈنگ رکی ہوئی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہینڈ لفٹیں ایک دوسرے کے سامنے پھنس گئیں، رفیق کی ٹیم کو پوری پیلیٹ واپس گھسیٹنی پڑی، اور ایک کارٹن پھٹ کر فرش پر بکھر گیا۔ ٹرک ڈرائیور نے شیشہ نیچے کر کے گالی پھینکی۔ ایک گارڈ نے شٹر کو آدھا اوپر، آدھا نیچے ہی تھام رکھا تھا، جیسے لوہا بھی فیصلہ نہ کر پا رہا ہو کہ اندر کس کی سنی جائے گی۔

“صائمہ، شیٹ!” عادل نے دوبارہ جھڑکا، جیسے کارٹن اس نے نہیں، صائمہ نے گرائے ہوں۔

اس نے شیٹ اس کی طرف بڑھانے کے بجائے رفیق کے ہاتھ میں دے دی۔ “اس پر نمبر چار لکھا ہے، آواز سے نہیں بدلے گا۔” پھر وہ receiving lane کے کنارے جا کھڑی ہوئی، وہیں پلاسٹک کی کرسی کے کونے کے پاس جہاں عام طور پر انتظار میں لگے لوگ ٹک کر کھڑے ہوتے ہیں، مگر اس نے بیٹھنا بھی گوارا نہ کیا۔ کرسی خالی رہی؛ بے نہیں۔

پانچ منٹ میں نقصان دکھنے لگا۔ نمبر پانچ والا ٹرک، جس میں اگلے شہر کی صبح والی کھیپ تھی، گرم انجن کے ساتھ ریمپ پر اٹکا ہوا تھا۔ نمبر دو والا اندر گھس کر راستہ بند کر چکا تھا۔ خالد ہیڈسیٹ میں ایک ہی بات دہرا رہا تھا، “ذرا رکو، ذرا رکو،” اور اس کی آواز میں وہ لرزش آ گئی تھی جو حکم نہیں، معافی لگتی ہے۔ عادل کنسول پر جھک کر بورڈ دیکھ رہا تھا مگر اس کے ہاتھ غلط جگہ جا رہے تھے؛ وہ فہرست اوپر نیچے کر رہا تھا، بے کو نہیں۔

خالہ نسرین اب دروازے کے اندر آ چکی تھیں۔ انہوں نے خاموشی سے صائمہ کے قریب آ کر پوچھا، “بیٹی، تمہیں کیوں ہٹایا ہوا ہے؟”

صائمہ نے جواب نہ دیا۔ سامنے دیکھتے ہوئے بولی، “رفیق، نمبر دو کے پیچھے والی ریپ ٹوکریاں ہٹا دو۔ راستہ کھلا چاہیے۔” رفیق نے ایک لمحہ عادل کی طرف دیکھا، پھر صائمہ کی طرف، اور ٹوکریاں کھینچنے لگا۔ دوسرا چھوٹا سا جھکاؤ بھی وہیں ہوا: ابھی کرسی نہیں بدلی تھی، مگر ہاتھ کس کے اشارے پر چل رہے تھے، سب نے دیکھ لیا۔

تب نمبر پانچ والے ڈرائیور نے کیبن سے اتر کر سیدھا بے میں آ کر شور مچایا، “میری گاڑی ایک منٹ اور رکی تو اگلا سلاٹ گیا۔ کس کے پاس ریلیز ہے؟” خالد نے جواب دینے کی کوشش کی مگر اسی لمحے اسکینر اس کے ہاتھ سے پھسل کر ریمپ کے کنارے ٹن سے بجا۔ اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ عادل نے غصے میں ہاتھ بڑھایا، “ادھر دو، میں—”

مگر دینے کو کچھ بچا ہی نہیں تھا۔ خالد نے ہیڈسیٹ کان سے نوچ کر اتارا، دوڑتا ہوا receiving lane کے کنارے پہنچا، اور ہانپتے ہانپتے وہ سیدھا صائمہ کی طرف بڑھا۔ “آپ پکڑیں، باجی۔ ابھی۔” اس نے ہیڈسیٹ تقریباً اس کے ہاتھ میں ٹھونس دیا، دوسری ہتھیلی میں اسکینر رکھا، اتنی جلدی سے جیسے گرم لوہا چھڑا رہا ہو۔ سب کچھ بے کے کنارے، ڈرائیور، رفیق، گارڈ، خالہ نسرین، سب کی آنکھوں کے سامنے ہوا۔

عادل نے “رکو” کہا، مگر آواز دیر سے نکلی۔

صائمہ نے ہیڈسیٹ پہنا نہیں، پہلے اسکینر آن کیا، ایک نظر ریمپ، دروازوں اور ٹرکوں کے زاویے پر ڈالی، پھر ایک ہی سانس میں حکم چھوڑا، “نمبر دو پیچھے۔ ابھی۔ گارڈ، شٹر تین پورا اوپر۔ رفیق، نمبر چار کی پہلی دو پیلیٹ سیدھی ریمپ پر۔ خالد، ڈرائیور پانچ کا چالان میرے ہاتھ میں دو۔” اس کے الفاظ چھوٹے تھے، مگر ہر لفظ کسی نہ کسی چیز سے ٹکرا کر حرکت بنا رہا تھا۔ نمبر دو والا ڈرائیور غصے میں ہاتھ ہلانے لگا، تو صائمہ نے بغیر اسے دیکھے کہا، “دو منٹ میں نہیں ہٹے تو تمہاری مہر آخر میں لگے گی۔” وہ فوراً واپس کیبن میں چڑھ گیا۔

پہلا رکا ہوا بہاؤ کھلا، تو دوسرا مسئلہ سامنے آیا۔ دروازہ چار کی کھیپ مکمل تھی مگر اس کا منزل کوڈ غلط ڈھیر میں جا پڑا تھا۔ عادل نے کنسول سے جھک کر کہنا چاہا، “یہ دائیں—” صائمہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔ “اب بولیے مت۔” پھر رفیق سے، “لال پٹی والے کارٹن الگ۔ یہ حیدرآباد والی گاڑی نہیں، سکھر والی ہے۔ اگر یہ اسی میں چڑھی تو صبح پوری واپسی آئے گی۔” رفیق نے فوراً دو لڑکوں کو اشارہ کیا۔ ڈھیر آدھا منٹ میں ٹوٹا، راستہ الگ ہوا، غلط گاڑی بچ گئی۔

عادل نے کرسی چھوڑے بغیر اختیار بچانے کی آخری کوشش کی۔ “کنسول میرے پاس ہے۔ ریلیز میری مہر سے نکلے گی۔” اس نے زور سے کہا، خاص طور پر اس لیے کہ خالہ نسرین سن لیں اور باقی آدمی بھی۔ یہ اعلان تھا: کام تم کرو، اختیار میرا رہے۔

اسی لمحے کنسول پر قطار سرخ ہونے لگی۔ تین گاڑیوں کا وقت ایک دوسرے کے اوپر چڑھ گیا تھا۔ اگر آرڈر ایک ہاتھ سے نہ نکلتا تو پورا بے پھر الجھ جاتا۔ خالد خود پیچھے ہٹ چکا تھا، رفیق اپنی ٹیم سمیت صائمہ کے اشارے پکڑ رہا تھا، ڈرائیور سیدھا اسی سے جواب مانگ رہے تھے۔ عادل کے پاس صرف کرسی تھی۔ بے کے پاس باقی سب کچھ۔

صائمہ نے اسکینر رفیق کو پکڑایا، سیدھی کنسول کی طرف بڑھی، اور پہلی بار خالہ نسرین کی آنکھ سے آنکھ ملی۔ اس نظر میں نہ شکایت تھی نہ اجازت، صرف ایک سرد تصدیق تھی کہ اب وہ کسی اور کے کہنے سے کنارے نہیں رکے گی۔ عادل نے کرسی پر ہاتھ جما کر بیٹھے رہنے کی کوشش کی۔ “یہ حد ہے۔”

“حد تب تھی جب آپ نے غلط آدمی کو بٹھایا تھا،” صائمہ نے کہا۔ اس کی آواز اونچی نہ تھی، مگر قریب کھڑے سب سن رہے تھے۔ “اب بے روکے گا نہیں۔ اٹھیں۔”

ایک لمحے کو عادل نے شاید سوچا کہ ضد کر لے، مگر اسی وقت نمبر پانچ والے ڈرائیور نے زور سے مہر والا کاغذ کنسول پر دے مارا۔ “جس کے پاس اختیار ہے، وہ لگائے۔” کاغذ عادل کی کہنی سے پھسل کر صائمہ کے سامنے آ رکا۔ یہ معمولی چیز تھی، مگر اس نے کرسی کی سچائی کھول دی: لوگ عادل کے نام پر نہیں، صائمہ کے وقت پر کھڑے تھے۔

عادل آہستہ نہیں اٹھا۔ اسے اٹھنا پڑا۔ کرسی پیچھے سرکی، پہیہ جھٹکے سے میز سے ٹکرایا، فولڈر نیچے گرا اور کاغذ پھیل گئے۔ وہ ایک قدم ہٹا تو جگہ خالی ہوئی۔ صائمہ نے اسی خالی جگہ میں بدن داخل کیا، بیٹھی نہیں بلکہ پہلے کنسول اپنی طرف کھینچا، قطار کھولی، اور تیزی سے ریلیز آرڈر بدل دیا۔ “نمبر پانچ پہلے۔ نمبر چار اس کے بعد۔ نمبر دو hold پر۔ گارڈ، دروازہ پانچ بند رکھو جب تک میں نہ کہوں۔ خالد، اب صرف مہر لاؤ، فیصلہ نہیں۔”

بے نے اس فرق کو فوراً مان لیا۔ نمبر پانچ کا ٹرک سیدھا ریمپ پر آیا، پہلی پیلیٹ چڑھی، پھر دوسری۔ دروازہ چار پر الگ کی گئی کھیپ اپنی درست لائن میں جا لگی۔ نمبر دو والا، جو چند منٹ پہلے سینہ نکالے اندر گھسا تھا، اب ایک طرف لگا انتظار کر رہا تھا۔ رفیق نے ایک نئے لڑکے کا کندھا پکڑ کر کہا، “جو صائمہ باجی کہیں، وہی کرو۔” یہ جملہ تعریف نہیں تھا؛ ڈیوٹی لائن کی تبدیلی تھی۔

عادل نے پھر ایک بار مداخلت کی کوشش کی۔ “یہ فہرست اوپر سے آئی ہوئی ہے—”

صائمہ نے اس کی طرف دیکھ کر پہلی بار پورا جملہ اس کے نام کے ساتھ کہا، “عادل صاحب، اب آپ سائیڈ پہ رہیں۔ اگر ایک آرڈر بھی درمیان میں بدلا تو واپس جام لگے گا، اور اس بار سب دیکھ رہے ہیں کس سے لگا تھا۔” اس کے بعد اس نے اسے مزید جگہ نہ دی، نہ لفظ میں، نہ ہاتھ کی حرکت میں۔ عادل کے ہونٹ کھلے رہے، مگر بے میں کوئی اس کی طرف مڑا نہیں۔

خالہ نسرین نے خاموشی سے اپنے دوپٹے کا پلو سنبھالا، جیسے ان کے سامنے کوئی گھریلو بحث نہیں، صاف حساب کتاب ہو رہا ہو۔ وہ رسید لیے کھڑی تھیں، مگر اب دستخط سے زیادہ منظر محفوظ کر رہی تھیں۔ صائمہ کا گھر، محلہ، رشتے—سب وہیں اس کے پیچھے کھڑے تھے، مگر اب بوجھ کی طرح نہیں۔ گواہی کی طرح۔

دو اور فیصلے صائمہ نے لگاتار کیے۔ “سفید لیبل والی تین پیلیٹ واپس سائیڈ بے میں۔ ابھی نہیں نکلیں گی، وزن mismatch ہے۔” اس سے ایک تقریباً تیار گاڑی رکی، مگر پیچھے کی بڑی الجھن بچ گئی۔ پھر، “رفیق، پندرہ منٹ کے لیے ہینڈ لفٹ ایک نمبر چار سے ہٹا کر پانچ پر دو۔ خالی ریمپ ضائع نہیں کرنا۔” یہی وہ کٹ تھا جس نے قطار کھول دی۔ ایک دروازے کا وقت بچا، دوسرے کا ڈھیر چلا، اور پورے لوڈنگ بے کی سانس ایک لَے میں آ گئی۔

کنسول کے اوپر پڑا ٹھنڈا چائے کا کپ اب بھی وہیں تھا، اس کے نیچے میز پر ہلکا سا دائرہ بن چکا تھا۔ صائمہ نے اسے ایک طرف سرکایا، جیسے غیرضروری چیز راستے سے ہٹاتی ہے۔ پھر اپنے بیگ سے کارڈ نکالا۔ گھسے ہوئے کنارے والا وہی کارڈ جسے صبح بس میں، گیٹ پر، لفٹ کے پاس بار بار رگڑا گیا تھا۔ عادل ایک طرف کھڑا تھا، اتنا قریب کہ سب کچھ دیکھ سکے، اتنا دور کہ کچھ چھو نہ سکے۔

اس نے کنسول پر اپنی لاگ اِن کھولی، کارڈ ٹچ کیا، اور کہا، “نمبر پانچ ریلیز۔ چڑھاؤ شروع کرو۔” اسکرین سبز ہو کر کھل گئی۔ باہر ریمپ پر اگلی پیلیٹ حرکت میں آ گئی۔