مجھے اوپر کی جگہ مل گئی
"بچی، ذرا ایک طرف ہو جاؤ، پہلے اصل مہمان اندر جائیں گے۔"
دروازے کے منتظم نے رسی کو ذرا سا اٹھایا اور حیا کے سامنے ہی دو عورتوں کو اندر کر دیا۔ ان کے جھمکے روشنی میں ہلے، عطر کی تیز خوشبو گزری، اور حیا کے ہاتھ میں دبا آدھا تہہ شدہ رسید کا کاغذ پسینے سے نرم ہو گیا۔ وہ اسی فنکشن کے پھول، مٹھائی اور اضافی کرسیاں دوپہر سے سنبھالتی پھر رہی تھی، مگر منگنی کے صحن نما داخلی حلقے پر اسے ایسے روکا گیا جیسے کسی ڈلیوری والے نے غلط دروازہ کھٹکھٹا دیا ہو۔
حیا نے رسید کو سیدھا کیا، اس پر پڑا پرانا نیلا قلمی نشان انگوٹھے سے چھوا، پھر خاموشی سے اپنی چابیوں کا چھلا منتظم کی میز پر رکھ دیا۔ "یہ اسٹور کی چابی ہے،" اس نے صاف آواز میں کہا، "اگر میں مہمان نہیں تو سامان بھی خود سنبھال لیجیے۔" یہ وہ حرکت تھی جس کی عمارہ باجی کو توقع نہیں تھی۔ دائیں طرف کھڑی عمارہ باجی نے فوراً گردن موڑی، ماتھے پر بندھی مسکراہٹ سخت ہو گئی۔
"اوہ بس ڈرامہ نہ کرو،" عمارہ باجی نے اتنی اونچی آواز میں کہا کہ قریب کھڑی خالہ صبیحہ بھی سن لیں۔ "تمہیں پتا ہے نا، گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہونا اور بات ہے، باقاعدہ رشتہ اور چیز ہوتا ہے۔ سلمان نے ابھی کچھ کہا نہیں۔ تم بس مدد کے لیے آئی ہو۔"
یہی زخم تھا۔ کراچی کی اس حبس بھری شام میں، جب باہر موٹر سائیکلیں اور رکشے ایک دوسرے کے پیچھے اٹکے کھڑے تھے، جب گلی کے کونے پر چاٹ والے کے توا سے مصالحے کی بو اندر تک آ رہی تھی، تب پورے خاندان کے بیچ حیا کو "مدد کے لیے آئی ہو" تک گرا دینا آسان تھا۔ اس نے صرف اتنا کیا کہ چابیوں سے ہاتھ ہٹا لیا اور رسی کے اس طرف ہی کھڑی رہی۔ اندر نہ گھسی، نہ منت کی۔
آنگن کے گرد لگی لائٹوں کے نیچے مہمان حلقوں میں بٹ رہے تھے۔ سامنے ایک دیوار کے ساتھ بورڈ لگا تھا جس پر سرمئی کارڈز قطار میں چسپاں تھے: استقبالی میز، قریبی خاندان، دولہے کے دوست، خاص مہمان۔ ہر کارڈ کے کونے پر سونے کے ہندسے لکھے تھے۔ حیا نے اپنا نام ڈھونڈا تو وہ "معاونین" کی فہرست میں سب سے نیچے تھا، جبکہ عمارہ باجی کا نام قریبی خاندان کے اوپر والے حصے میں۔ خالہ صبیحہ نے دیکھتے ہی منتظم سے کہا، "اس لڑکی کو پچھلی قطار میں بٹھاؤ، سامنے جگہ کم ہے۔" منتظم نے فوراً ایک کارڈ نکالا، ہندسا بدلا، اور معززن خاتون کے لیے رکھی کرسی پر کسی اور کا دوپٹہ رکھ دیا۔ یہ تبدیلی اتنی کھلی تھی کہ دو لڑکیوں نے ایک دوسرے کو کہنی ماری۔
حیا کے کانوں میں برآمدے کی لمبی ٹیوب لائٹ کی ہلکی بھنبھناہٹ پھنسی ہوئی تھی۔ وہی آواز اسے ہر ایسی جگہ یاد رہتی تھی جہاں آدمی کو جان بوجھ کر کھڑا رکھا جائے۔ اس نے بورڈ سے نگاہ ہٹائی تو سلمان دور سے آتا دکھا۔ سیاہ واسکٹ، آستینیں آدھی چڑھی ہوئی، چہرے پر وہی تھکا ہوا تنا ہوا سکون جس کے نیچے غصہ دیر تک ابلتا رہتا تھا۔ اس کے ساتھ ایک عمر رسیدہ شخص تھا جسے حیا نے تصویروں میں دیکھا تھا: سلمان کے تایا، حاجی باسط، جن کے نام پر یہ پورا فنکشن اسپانسر ہوا تھا۔
منتظم سیدھا سلمان کی طرف لپکا، مگر سلمان نے اسے روکا نہیں۔ اس سے پہلے حاجی باسط کی نظر میز پر پڑی چابیوں پر گئی، پھر حیا پر۔ "یہ کس کی چابی باہر پڑی ہے؟"
منتظم کی آواز ہچکچائی۔ "جی، اسٹور کی... انہوں نے—"
حاجی باسط نے ایک قدم حیا کی طرف بڑھایا، رسی خود ہاتھ سے نیچے کی، اور لہجہ بدل گیا۔ "حیا بی بی، آپ باہر کیوں کھڑی ہیں؟ اندر آئیے۔ آپ کے بغیر تو آج کی ترتیب ادھوری ہے۔" اس ایک "بی بی" نے صحن کا رخ موڑ دیا۔ منتظم فوراً رسی ایک طرف کھینچ کر کھڑا ہو گیا۔ سلمان نے کچھ نہیں کہا، صرف اپنا راستہ بدل کر یوں ہٹا کہ حیا کے لیے بیچ میں سیدھی گزرگاہ بن گئی۔ دو عورتیں جو ابھی تک اس کے آگے گھس رہی تھیں، خود بخود پیچھے ہو گئیں۔
عمارہ باجی کے چہرے پر وہی لمحہ آیا جب آدمی کو یقین نہ رہے کہ اس نے غلط بات کی ہے یا غلط شخص کے سامنے کی ہے۔ "تایا جان،" وہ جلدی سے بولیں، "آپ کو شاید معلوم نہیں، یہ بس انتظام میں ہاتھ بٹا رہی تھی۔ اصل بیٹھک تو—"
"اصل بیٹھک کا نقشہ اسی نے بنایا تھا،" حاجی باسط نے منتظم سے چابیاں اٹھوا کر دونوں ہاتھوں سے حیا کی طرف بڑھوائیں، "اور اسپانسر ٹیبل کے حساب بھی اسی نے ملائے۔ سروس سیکٹر میں کام کرتی ہے، نمبر سیدھے رکھنا جانتی ہے۔" پھر منتظم سے، "پہلے انہیں ان کی جگہ تک لے جاؤ۔"
یہ پہلا انعام تھا، اور وہ سب کے سامنے تھا: منتظم جو اسے "بچی" کہہ رہا تھا، اب دونوں ہاتھ باندھے کھڑا تھا؛ سلمان ایک طرف ہٹ کر راستہ دے رہا تھا؛ اور حاجی باسط نے دوسروں کے سامنے اس کا نام اس لہجے میں لیا تھا جو رتبہ مانگتا نہیں، مان لیتا ہے۔
مگر عمارہ باجی نے اتنی آسانی سے ہاتھ نہیں کھینچا۔ اندر ہی اندر ہال کے دہانے پر، جہاں خواتین کی قطاریں گلدانوں اور کرسियों کے بیچ سے مڑتی تھیں، انہوں نے آگے بڑھ کر منتظم کے ہاتھ سے سامنے والی میز کے کارڈ اٹھا لیے۔ "نہیں،" وہ مسکرا کر بولیں، "حیا اگر اتنا ہی کام جانتی ہے تو وہ پچھلے حصے سے بھی دیکھ لے گی۔ سامنے قریبی خاندان بیٹھے گا۔ رسم ہے۔"
حاجی باسط کے چہرے پر ناگواری آئی، مگر وہ بوڑھے آدمی کا ناگواری تھی؛ گھر کی عورت کے بیچ میں ہاتھ ڈالنا ان کے لیے بھی آسان نہ تھا۔ عمارہ باجی نے اسی جھجک کو ڈھال بنایا۔ انہوں نے سب کے سامنے ایک خالی کرسی پر اپنا پرس رکھا اور دوسری پر خالہ صبیحہ کا دوپٹہ۔ "یہ جگہیں طے ہیں۔" پھر حیا کی طرف دیکھ کر، "تم مسئلہ مت بنو۔ عزت خاموش رہنے میں بھی ہوتی ہے۔"
سلمان اب بالکل قریب آ گیا تھا، مگر اس نے بھی وہی غلطی کی جو اکثر مرد ایسے لمحوں میں کرتے ہیں۔ اس نے آہستہ سے کہا، "حیا، ایک منٹ... میں سمجھا دوں گا۔" سمجھا دوں گا۔ بعد میں۔ ایک طرف۔ چہرے بچا کر۔ یہی وہ دیر تھی جس پر ہمیشہ دوسروں کا حق مانا جاتا تھا۔
حیا نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ اس نے منتظم کے ہاتھ سے وہ کارڈ لے لیا جس پر "قریبی خاندان" لکھا تھا اور دوسرا جس پر "معاونین"۔ عمارہ باجی نے فوراً کلائی پکڑنے کو ہاتھ بڑھایا۔ حیا نے ایک آدھا قدم پیچھے ہو کر ہاتھ بچایا، پھر سیدھی آواز میں کہا، "ہاتھ نہ لگائیں۔ اگر جگہ رسم سے طے ہے تو نام بھی دیوار پر درست ہونے چاہییں۔ اگر کام سے طے ہے تو پھر اور بھی درست ہونے چاہییں۔"
صحن کے بیچ سے چلتی ہوا پھولوں کے محراب سے ٹکرا کر آئی۔ دیوار والا بورڈ سب کی آنکھ کے سامنے تھا۔ حیا کارڈز لیے سیدھی اس کی طرف بڑھی۔ منتظم اس کے پیچھے ایسے چل رہا تھا جیسے اچانک اسے یاد آ گیا ہو کہ اصل مالک کون سا حکم دے رہا ہے۔ عمارہ باجی تیز قدموں سے ساتھ پہنچیں اور لوگوں کو سنانے والی آواز میں بولیں، "یہ حد سے بڑھ رہی ہے۔ لڑکیوں کو دو باتیں سکھا دو تو اپنے آپ کو صاحبِ اختیار سمجھنے لگتی ہیں۔"
حیا نے بورڈ کے سامنے رک کر پہلے اپنے "معاونین" والے کارڈ کو دیکھا۔ کونے پر سنہری عدد سات لکھا تھا۔ اوپر "قریبی خاندان" کی قطار میں خالی جگہ کے پاس عدد تین چمک رہا تھا؛ شاید کسی آخری لمحے کے مہمان کے لیے۔ اس نے منتظم سے کہا، "پن۔"
منتظم نے جیب سے پن نکالا۔ اس کے ہاتھ ہلکے سے کانپ رہے تھے۔
"تم یہ نہیں کر سکتیں،" عمارہ باجی نے آگے بڑھ کر کہا، "یہ میرے ہاتھ سے ترتیب ہوئی ہے۔"
حیا نے پہلی بار ان کی آنکھ میں آنکھ ڈالی۔ "آپ کے ہاتھ سے ہوئی تھی۔ اب میرے سامنے ٹھیک ہو گی۔" اس نے بورڈ سے اپنا سات نمبر کارڈ نکالا۔ پن نکلنے کی باریک سی چرچراہٹ نے قریب کھڑے لوگوں کو اور نزدیک کھینچ لیا۔ پھر اس نے خالی تین نمبر کی جگہ پر اپنا نام ٹانک دیا۔ سنہری ہندسہ تین، "حیا"، اور اس کے نیچے قریبی خاندان کی لکیر۔ حرکت اتنی سادہ تھی کہ کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں رہی۔
عمارہ باجی نے فوراً دوسرا کارڈ اوپر چڑھانے کو ہاتھ بڑھایا۔ "یہ خالی جگہ نادیہ کے لیے تھی—"
"تو نادیہ کا کارڈ لگائیے،" حیا نے ان کے ہاتھ سے دوسرا پن لے لیا، "میرا نیچے نہیں جائے گا۔" پھر اس نے عمارہ باجی کے نام والا کارڈ دیکھا، جو چار پر لگا تھا، اور بغیر جلدی کیے اسے ایک لکیر نیچے، "وسعتی خاندان" کی قطار میں منتقل کر دیا۔ سونے کا چار ہٹا، نیچے چھ کے سامنے جا لگا۔ کارڈ کی پتلی کاغذی کمر موڑی، سیدھی ہوئی، پھر چپک گئی۔ یہی اصل ضرب تھی۔ اب صرف اپنی جگہ اوپر کرنا نہیں تھا؛ پرانی لکیر کاٹ کر نئی کھینچ دینا تھا۔
عمارہ باجی کا پرس دور والی کرسی سے کسی بچی کے ٹھوکر کھانے پر فرش پر گر گیا۔ لپ اسٹک، شیشہ، رسیدیں، سب سنگِ مرمر پر پھیل گئیں۔ انہوں نے پلٹ کر ایک لمحے کو وہ سب دیکھا، پھر واپس بورڈ کی طرف آئیں، مگر اب ان کی آواز پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔ "سلمان، کچھ کہو۔ یہ بے عزتی ہے۔"
سلمان نے ان کی طرف نہیں، حاجی باسط کی طرف دیکھا۔ حاجی باسط نے چھڑی کے سرے سے بورڈ کے نیچے والی قطار پر ہلکی ٹھک دی۔ "جو نام سامنے کے حساب جوڑے، جس نے خرچ بچایا، جسے میں بلاؤں، وہ سامنے بیٹھے گی۔" پھر منتظم سے، "ہیڈ ٹیبل کی ایک کرسی ابھی بدل دو۔ پرس ہٹا دو۔"
منتظم دوڑ کر گیا۔ سامنے والی میز سے عمارہ باجی کا رکھا پرس اٹھا، دوپٹہ سمیٹا، اور نامی تختی بدل دی۔ کاغذی تختی پر سیاہی کا پرانا نشان تھا، جیسے جلدی میں لکھ کر مٹا کر دوبارہ لکھا گیا ہو۔ اس نے "حیا" والی تختی سب سے بائیں طرف نہیں، بیچ کے قریب رکھی—وہ جگہ جہاں بزرگ پہلے مخاطب کرتے ہیں اور جہاں سے فوٹو میں آدمی کٹتا نہیں۔
عمارہ باجی نے آخری کوشش کی۔ وہ حیا کے اتنے قریب آئیں کہ عطر اور جلی ہوئی تلی مچھلی کی ملی جلی بو ایک ساتھ آئی۔ "تمہیں لگتا ہے اس سے رشتہ بن جائے گا؟"
حیا نے تختی سیدھی کی، پھر بغیر آواز اونچی کیے کہا، "آج میں رشتہ نہیں مانگ رہی۔ اپنی جگہ لے رہی ہوں۔" اس نے منتظم کی طرف دیکھ کر کہا، "بورڈ بھی ٹھیک کریں۔ سامنے والی قطار تین سے شروع ہو گی، اور نیچے والی چھ سے۔ غلط ہندسہ رہ گیا تو سب کو پھر سمجھانا پڑے گا۔"
منتظم نے فوراً اوپر والے دو ہندسے نکالے، نئے سنہری عدد لگائے۔ ایک لمحہ ایسا آیا جب پورا بورڈ ادھورا دکھا، جیسے پرانی ترتیب ہوا میں لٹک گئی ہو۔ پھر نئی قطار جم گئی: تین — حیا۔ اس کے نیچے لکیر۔ چھ — عمارہ۔ فرق چھپ نہیں سکتا تھا۔
حیا نے خود آگے بڑھ کر بورڈ کے کنارے کو سیدھا کیا۔ اس کی انگلی پر پن چبھ گیا؛ ایک ننھی سی سرخی ابھری، مگر اس نے ہاتھ نہیں کھینچا۔ دوسرے ہاتھ میں اب بھی وہی آدھی تہہ شدہ رسید تھی، بار بار کھلنے بند ہونے سے نرم پڑی ہوئی۔ اس نے رسید کو موڑ کر پرس میں رکھا، بورڈ کے بائیں کونے پر ٹیڑھا ہندسہ انگلی سے دبا کر سیدھا کیا، اور آخری پن خود لگا دیا۔
دیوار پر لگا رینک بورڈ نئی قطار کے ساتھ ساکت ہو گیا: ۳ — حیا، اوپر والی لکیر کے اندر؛ ۶ — عمارہ، نیچے۔ سنہری ہندسے روشنی میں ایک بار چمکے، پھر ٹھہر گئے۔