اپنا دانہ خود نگل گیا
نعمان بھٹی نے چیک لسٹ ماہر کے سینے پر ایسے ماری جیسے جرمانے کی پرچی ہو۔ “یہ اسپیشل ہے۔ آج ایک بھی خانہ خالی ہوا تو سیدھا تمہارا نام جائے گا۔” لوڈنگ بے کے کنارے کھڑے دو لڑکوں نے فوراً نظریں چرا لیں۔ پلاسٹک لپٹے پیلیٹ کے پاس ڈیزل کی بو تھی، اوپر ٹمٹماتی ٹیوب لائٹ کی بھنبھناہٹ، اور ماہر کے گلے میں لٹکا پرانا کارڈ اپنی شکنوں سمیت پسینے سے چپکا ہوا تھا۔ وہ ابھی رات کی دوسری شفٹ کے بوجھ سے کندھے سیدھے بھی نہ کر پایا تھا۔
نعمان نے کاغذ کے اوپر نیلی سیاہی سے پہلے ہی کچھ خانوں میں نشان لگا رکھے تھے۔ “دیکھ رہے ہو؟ تمہارے لیے آسان کیا ہے، بس دستخط کرو، چیک کرو، گاڑی نکالو۔ اگر بعد میں کمی نکلی تو تم نے وصول کیا تھا۔” اس نے اتنا اونچا بولا کہ gate کے پاس بیٹھا چوکیدار بھی سر اٹھا کر دیکھنے لگا۔ ماہر نے کاغذ پکڑا تو انگوٹھے کے پاس کسی پرانے قلم کا دبا ہوا نشان محسوس ہوا؛ یہی دفتر والا سخت کاغذ، یہی پہلے سے تیار الزام۔ اسے فوراً یاد آیا شام کو امّی نے دوا کے پیسے مانگے تھے، اور عائشہ کی خالہ نے صاف کہہ دیا تھا، “کام ٹھیک ہو تو بات آگے بڑھے، ہمیں روز روز کی شکایت والا لڑکا نہیں چاہیے۔” گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا؛ اسی لیے یہ ذلت صرف نوکری کی نہیں رہتی تھی۔
“حاجی رشید آ رہے ہیں خود دیکھنے،” نعمان نے اگلا وار کیا، “ان کے سامنے اگر تم سے پیلیٹ رکا نا، تو کل سے اندر قدم نہیں رکھو گے۔” حاجی رشید مالک کے پرانے شریک اور عائشہ کے ماموں تھے؛ ان کی ایک نظر سے شادی کی بات بھی ٹھنڈی پڑ سکتی تھی۔ ماہر نے جواب نہیں دیا۔ وہ جھکا، چیک لسٹ کا اوپر والا خانہ دیکھا، پھر پیلیٹ کے کونے پر لگی سرخ مہر پر انگلی رک گئی۔ سیل پوری نہیں بیٹھی تھی۔ کنارے سے شفاف پٹی دوبارہ چپکائی گئی تھی، جیسے رات میں کسی نے کھول کر جلدی میں بند کیا ہو۔
“چلاؤ اسے,” نعمان نے ہاتھ سے اشارہ کیا، “ڈرائیور کھڑا ہے، راستہ بلاک مت کرو۔” ماہر نے مہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، “یہ سیل دوبارہ لگی ہوئی ہے۔” نعمان ہنسا نہیں، صرف ہونٹ موڑے۔ “تم سے یہی مسئلہ ہے۔ دو ہزار کی نوکری، رعب افسر والا۔ کاغذ پر وصولی کرو اور خاموشی سے پیلیٹ نکالو۔”
receiving lane تنگ تھی۔ ایک طرف چاول کے تھیلے، دوسری طرف کولڈ باکس، بیچ میں یہی پیلیٹ اٹکا ہوا۔ پیچھے کھڑی گاڑی کا ڈرائیور بار بار ہارن دے رہا تھا۔ نعمان نے سب کے سامنے ماہر کے کندھے سے ہلکا دھکا دیا۔ “یا تو ابھی سائن کرو یا لکھ دیتا ہوں کہ تم نے جان بوجھ کر dispatch روکا۔ حاجی صاحب کے سامنے بولوں گا، لڑکا کام کے لائق نہیں۔ پھر جس گھر میں رشتہ بھیجنا ہو بھیج لینا۔”
یہ پہلا دھکا تھا، مگر ماہر نے اسی لمحے پہلا سرا پکڑ لیا۔ اس نے چیک لسٹ کو الٹا، نیچے والی سطر پڑھی: *سیل یا لپیٹ میں خرابی کی صورت میں release only on supervisor override.* نیچے خالی جگہ تھی، supervisor signature. نعمان نے اوپر الزام کے خانے پہلے سے بھرے تھے، نیچے والی شرط شاید عادت میں رہ گئی تھی۔ ماہر نے کاغذ اس کی طرف بڑھا دیا۔ “پھر آپ override لکھ دیں۔”
دو سیکنڈ کو نعمان کا چہرہ رکا، پھر اس نے سمجھا کہ لڑکا پھنس گیا ہے۔ “اوہ، یہی چاہیے تھا؟” اس نے میز سے مارکر اٹھایا، چیک لسٹ کو لوہے کے چھوٹے desk پر پٹخ کر نیچے دستخط کر دیے، اوپر تاریخ لکھی، اور بڑی آواز میں کہا، “میں حکم دے رہا ہوں، release کرو۔ اب اگر ڈراما کیا تو پوری ذمہ داری تمہاری نافرمانی کی جائے گی۔” اس نے ساتھ کھڑے helper کو پکارا، “جیک اندر کرو، پیلیٹ موو کرو۔ ابھی۔”
ماہر ایک قدم ہٹا، مگر ہاتھ پیلیٹ سے نہیں لگایا۔ helper نے ہچکچا کر جیک کا دانت نیچے گھسایا۔ لپیٹ کے اندر سے ایک کارٹن سرکا، پھر دوسرا۔ سرخ مہر کا کٹا ہوا کنارہ پوری طرح کھل گیا۔ اندر اوپر والی تہہ میں branded خشک میوہ کے cartons تھے، مگر نیچے والی پرت میں سستے، بے نام ڈبے نکل آئے۔ ایک ڈبہ گر کر پھٹ گیا؛ اندر گندے رنگ کی کھجوریں اور ٹوٹی پیکنگ کا ملغوبہ فرش پر پھیل گیا۔ ڈرائیور نے فوراً ہارن روک دیا۔ نعمان نے “اٹھاؤ، اٹھاؤ” کہا، مگر اس کی آواز پہلی بار کنارے سے پھسل گئی۔
اسی وقت اندر والے راستے سے حاجی رشید آئے۔ سفید شلوار کے پائچے اوپر تھے، ہاتھ میں تسبیح نہیں، صرف رسیدوں کا چھوٹا فولڈر۔ ان کے پیچھے عائشہ بھی تھی، فون کان سے ہٹاتی ہوئی؛ وہ آج حساب کی فائل لینے آئی تھی۔ ایک لمحے میں پیلیٹ، پھٹا کارٹن، لوہے کا desk، چیک لسٹ، سب ایک ہی سیدھی نظر میں آ گئے۔ یہی سماجی لاگت تھی جس سے ماہر صبح سے بچتا پھر رہا تھا، اور نعمان نے خود اسے بیچ راہ میں کھڑا کر دیا تھا۔
“یہ کیا ہے؟” حاجی رشید کی آواز اونچی نہیں تھی۔ نعمان فوراً آگے ہوا۔ “ماہر نے روکا ہوا تھا، پھر غلط handle—” ماہر نے ایک لفظ نہیں کہا۔ اس نے desk کی طرف ہاتھ بڑھایا، کھلی چیک لسٹ اٹھائی، اور اس کے کنارے پر لگی کلپ سیدھی کی۔ اوپر والے خانوں میں نعمان کے پہلے سے لگائے ہوئے نشان تھے: *seal intact، count verified، pack sound.* نیچے اسی کاغذ پر اس کے تازہ دستخط تھے: *supervisor override for release.*
lane اب بھی بلاک تھی۔ helper جیک پکڑے جما ہوا تھا۔ ڈرائیور گاڑی سے آدھا باہر جھکا دیکھ رہا تھا۔ عائشہ کی نظر پہلے پھٹے ڈبے پر گئی، پھر ماہر کے ہاتھ میں کاغذ پر۔ ماہر نے چیک لسٹ حاجی رشید کے سامنے نہیں لہرائی؛ وہ اسے لے کر بس desk پر، بالکل روشنی کے نیچے، کھول کر رکھ دیا۔ پھر اس نے سرخ مہر کا کٹا ٹکڑا اٹھا کر اسی کاغذ کے اوپر رکھ دیا، جہاں “seal intact” کے خانے پر پہلے سے ٹک تھا۔
نعمان تیزی سے بولا، “یہ عملے والے سمجھتے نہیں، میں نے صرف گاڑی نہ رکے اس لیے—” “آپ نے release لکھا ہے،” ماہر نے پہلی بار سیدھا کہا۔ آواز ہموار تھی، تھکی ہوئی نہیں۔ “اور اوپر seal intact، pack sound کے نشان بھی پہلے سے آپ کے ہیں۔ میں نے خرابی بتائی تھی۔”
نعمان نے ہاتھ بڑھا کر چیک لسٹ اٹھانی چاہی، مگر حاجی رشید پہلے desk تک پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے کاغذ کو انگلی سے نہیں، پورے ہاتھ سے اپنی طرف گھمایا۔ مارکر کی سیاہی ابھی پوری طرح خشک بھی نہ ہوئی تھی۔ اوپر جھوٹے نشان، نیچے override، سامنے کھلا پیلیٹ۔ کاغذ خود بول رہا تھا، اتنا صاف کہ کسی تقریر کی ضرورت نہیں رہی۔
“نعمان صاحب،” حاجی رشید نے desk سے نگاہ ہٹائے بغیر کہا، “اس lane میں اب آپ کوئی حکم نہیں دیں گے۔” یہ جملہ چھرا نہیں تھا، مگر اس سے تیز چیز کم ہوتی ہے۔ نعمان نے فوراً دوسرے لہجے میں پلٹنے کی کوشش کی۔ “حاجی صاحب، بات سن لیں، ابھی client—” “چابی دو۔” صرف دو لفظ۔ عائشہ نے پہلی بار فون جیب میں رکھا۔ helper نے جیک چھوڑ دیا۔ نعمان کی جیب سے access کی ring نکلی تو وہ بجی نہیں، صرف لوہے سے ٹکرا کر بجھ سی گئی۔ یہ وہی power micro-action تھا جو ایسے مقامات پر عزت ناپتا ہے: کنٹرول واپس نہیں لیا جاتا، چھین کر میز پر رکھوایا جاتا ہے۔
نعمان نے آخری زور لگایا۔ “اس لڑکے کا بھی رول ہے۔ اس نے release روکا، وقت ضائع—” ماہر نے چپ رہ کر پیلیٹ کے نیچے سے وہ گرا ہوا سستا ڈبہ اٹھایا، desk کے پاس رکھا، پھر چیک لسٹ کی خالی پچھلی سطر پر pen سے ایک مختصر نوٹ لکھا: *seal irregularity pointed before release.* اس نے وقت لکھا۔ نیچے اپنا نام نہیں گھسیٹا، صرف initial رکھے۔ پھر قلم حاجی رشید کی طرف نہیں، desk پر رکھا، اسی دباؤ والے پرانے نشان کے پاس جہاں انگلی جمتی تھی۔ اب کاغذ ایک ہی سمت میں بند ہو گیا: اوپر کے ٹک جھوٹ، نیچے override، سامنے کھلی خرابی، ساتھ وقت۔
حاجی رشید نے نعمان کو دیکھے بغیر security والے کو آواز دی، “انہیں باہر بٹھاؤ۔ audit سے پہلے یہ اندر نہیں آئیں گے۔” لفظ “باہر” لوڈنگ بے میں سب سے بڑا حکم تھا۔ gate سے انکار، seat واپس لینا، آواز چھن جانا—سب ایک ساتھ۔ نعمان نے اردگرد دیکھا، جیسے کوئی ایک آدمی اس کی بات پکڑ لے گا، مگر سب اپنے اپنے مفاد میں پیچھے ہو چکے تھے۔ ڈرائیور گاڑی سے اتر کر اپنی رسید سیدھی کر رہا تھا؛ helper نے جیک دوسری طرف کھینچ لیا؛ عائشہ نے صرف اتنا کیا کہ ماہر اور desk کے بیچ جگہ خالی چھوڑ دی، جیسے اب اس حد میں مداخلت مہنگی پڑے گی۔
پھٹا کارٹن فرش پر پڑا تھا اور خشک میوے کی خوشبو میں سستی کھجور کی باسی مٹھاس گھل گئی تھی۔ نعمان کے چہرے پر وہی رنگ آ گیا جو غلط پیکنگ کے ڈبوں پر ہوتا ہے: اوپر چمک، نیچے نمی۔ اس نے پھر ہاتھ بڑھا کر کچھ کہنا چاہا، شاید کاغذ موڑ دے، شاید ایک اور حکم دے کر سانس بحال کرے۔ مگر lane میں اب اختیار اس کے گلے میں نہیں تھا؛ وہ desk پر پڑا کھلا تھا۔
ماہر نے چابیوں کی ring اٹھا کر حاجی رشید کے فولڈر کے ساتھ رکھ دی، پھر rigged چیک لسٹ کو دوبارہ کھولا، کلپ سیدھی کی، اور اسے checklist desk کے بیچوں بیچ ایسے جما دیا کہ اوپر کے پہلے سے لگے ٹک اور نیچے نعمان کا override ایک ہی نظر میں آ جائیں۔ “یہ یہی رہے گی جب تک گنتی پوری نہ ہو،” اس نے کہا، اور قلم کی نوک سے “seal intact” والے خانے پر ہلکا سا دائرہ بنا دیا؛ نشان الزام سے پلٹ کر اپنے بنانے والے کے خلاف بند ہو گیا۔