ایک پرچی ہاتھ بدلی، اور پوری باری بدل گئی
“یہ نشست خالہ صدف کے لیے ہے، تم کھڑی رہو۔”
حمزہ بھائی نے پلاسٹک کی کرسی کے کونے پر اپنا رومال پھیلا کر جیسے مہرین کا نام مٹا دیا۔ کلینک کے باہر بارش کے بعد کی چپچپی ہوا تھی، بینچوں کے اوپر چھت سے ٹپکتی بوندیں، اور رجسٹر کھڑکی کے سامنے قطار میں بیٹھے لوگ ایسے گردنیں موڑ کر دیکھ رہے تھے جیسے کسی کے حصے کی عزت ابھی ابھی سرکائی گئی ہو۔ مہرین کے ہاتھ میں فائل تھی، دوسری انگلیوں میں بس کارڈ کا گھسا ہوا کنارہ دبا ہوا۔ وہی بکنگ اس نے پچھلے ہفتے رات دو بجے لائیو سیل ختم کرکے کروائی تھی، کیونکہ خالہ صدف کی آنکھ کا عمل چھوٹا تھا مگر تاریخ مشکل سے ملی تھی۔
“میری بکنگ پرچی تھی,” مہرین نے سیدھا کہا۔
“ہاں تھی،” حمزہ بھائی نے بغیر اس کی طرف دیکھے جواب دیا، “اور اب امّی پہلے جائیں گی۔ گھر کی بڑوں کی سمجھ تم سے زیادہ ہے۔ تمہیں کیا فرق پڑتا ہے، تم تو ویسے بھی انتظار کر سکتی ہو۔”
خالہ صدف نے ہلکی سی کھنکار کے ساتھ دوپٹہ درست کیا، مگر بیٹھیں وہی نشست پر جس پر ابھی چند لمحے پہلے مہرین کا بیگ رکھا تھا۔ بیگ اب فرش پر تھا۔ اس کے پاس چائے کا کاغذی کپ ٹھنڈا ہو کر ایک بھورا دائرہ چھوڑ رہا تھا۔ مہرین نے جھک کر بیگ اٹھایا تو پیچھے سے ایک رشتہ دار عورت نے دوسری کے کان میں کہا، “آج کل کمانے لگیں تو زبان بھی آ جاتی ہے، مگر جگہ پھر بھی اپنی اپنی ہوتی ہے۔”
یہی درد تھا۔ پیسے اس کے لگے تھے، بکنگ اس نے کی تھی، اور “گھر والوں اور دوستوں کو پتہ” والا رشتہ ہونے کے باوجود اس کی جگہ ایسے ہٹائی جا رہی تھی جیسے وہ کرائے کی گاڑی سے اُتر کر غلط دروازے پر آ کھڑی ہوئی ہو۔
کھڑکی کے اندر کلرک نے آواز لگائی، “خالہ صدف بی بی؟”
حمزہ بھائی فوراً اٹھے، مہرین کے ہاتھ سے فائل ایسے لے لی جیسے شروع سے انہی کی ہو۔ “جی، ہم ہیں۔” پھر مہرین کی طرف مڑ کر دھیمی مگر کاٹتی ہوئی آواز میں بولے، “تم بس فیس والا میسج دکھا دینا، باقی میں دیکھ لوں گا۔ ہر جگہ آگے آنے کی عادت اچھی نہیں ہوتی۔”
مہرین نہیں ہلی۔ “فائل واپس کریں۔”
حمزہ بھائی ہنسے۔ “یہ کلینک ہے، تمہارا لائیو اسٹوڈیو نہیں۔ یہاں سروس سیکٹر میں طریقہ ہوتا ہے، شور نہیں۔”
دو عورتیں بینچ پر سرک کر خالہ صدف کے لیے جگہ بنا چکی تھیں۔ مہرین کے حصے میں دروازے کے پاس کھڑا رہنا آیا، جہاں نیم گیلے فرش پر جوتے پھسلتے تھے۔ کلرک ہر بار حمزہ بھائی سے مخاطب ہو رہا تھا؛ ہر جواب وہی دے رہے تھے، جیسے مریض بھی ان کا، بکنگ بھی ان کی، اور فیس بھی ان کی جیب سے گئی ہو۔ خالہ صدف نے ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ رقم مہرین نے بھیجی تھی، وہ بھی موٹر سائیکل والے کو دو بار کال کرکے اصل شناختی کارڈ منگوا کر۔
“بچی، تم بعد میں آ جانا اگر اپنا کام ہے تو،” کلرک نے کھڑکی سے کہا۔
حمزہ بھائی نے فوراً بات لپکی، “اس کا کوئی الگ کام نہیں۔ گھر کی طرف سے ساتھ آئی ہے۔”
یہ جملہ بینچوں پر بیٹھے سب لوگوں کے لیے تھا۔ مہرین نے دیکھا، ایک لڑکا جو اپنے باپ کو پکڑے کھڑا تھا، اس کی نظر یکایک بدل گئی؛ اب وہ اسے مریض کی مددگار نہیں، کسی ساتھ آئی ہوئی کم حیثیت لڑکی سمجھ رہا تھا۔ یہی حمزہ بھائی کا ہنر تھا: جو تمہارا تھا، اسے اپنے لہجے میں پہلے کہہ دو، پھر اصل مالک دیر سے پہچانا جاتا ہے۔
مہرین نے آہستگی سے اپنا فون نکالا۔ اس کی انگلی اس چابی پر جا لگی جو اس نے حمزہ بھائی کے گودام نما اسٹوڈیو کی ایک دن پہلے رات گئے واپس کی تھی، وہی چابی جو ہمیشہ دیر سے لوٹانے پر طعنہ بن جاتی تھی۔ اس نے چابی کو مٹھی میں دبا کر کلینک کی بکنگ ایپ کھولی، پھر وہ پرچی نکالی جس پر اصل نمبر اور ایڈوانس کی رسید جڑی تھی۔ کھڑکی پر جھکی اور پہلی بار آواز اونچی کی۔
“یہ بکنگ مریض کے نام پر ہے، مگر ادائیگی اور ترجیحی پک اَپ کی اجازت میرے اکاؤنٹ سے گئی ہے۔ آپ اصل اندراج نکالیے۔”
حمزہ بھائی نے تیز قدم سے آکر فون کے سامنے ہاتھ رکھا۔ “ڈراؤ مت لوگوں کو۔ میں نے کہا نا، ایک ہی گھر کے ہیں۔ جو بھی ہے، میرے ذریعے ہے۔”
“میرے ذریعے؟” مہرین کی آواز سرد رہی، “فیس آپ نے دی تھی؟ تاریخ آپ نے لی تھی؟ یا بس کھڑکی پر پہلا نام آپ نے بول دیا تھا؟”
کلرک نے پہلی بار دونوں کو پوری توجہ سے دیکھا۔ اندر سے ایک سینئر نرس آگے آئی۔ “رسید دکھائیں۔ شناختی کارڈ کی نقل بھی۔”
حمزہ بھائی نے فوراً اپنی جیب سے والٹ نکالا، دو کاغذ نکالے، پھر رک گئے۔ غلط نقل۔ پرانی فوٹو کاپی۔ مہرین نے اپنی فائل کھولی اور شفاف لفافے سے اصل رسید، تازہ نقل، اور وہ تصدیقی پیغام نکال کر کھڑکی کے نیچے رکھ دیا۔ نرس نے ایک نظر میں فرق دیکھ لیا۔ کلرک نے رجسٹر پلٹا، پھر اس کے اندر سے ایک سبز پٹی والی پرچی نکالی، جس پر اوپر مہرین کے دستخط تھے اور نیچے “پک اَپ لین کلیئرنس: معاونِ ادائیگی” لکھا تھا۔
حمزہ بھائی کے چہرے پر پہلی دراڑ تب پڑی جب نرس نے کھڑکی سے ہاتھ باہر نکال کر وہ سبز پرچی سیدھی مہرین کی طرف بڑھا دی، ان کی طرف نہیں۔ “اصل بکنگ ہولڈر کی معاون یہی ہیں۔ مریض کا داخلی نمبر بحال کیا جا رہا ہے۔ خالہ صدف بی بی اندر جائیں گی، اور معاون ساتھ یہ ہوں گی۔”
حرکت چھوٹی تھی مگر بینچوں پر بیٹھے سب لوگ اسے دیکھ رہے تھے: پرچی حمزہ بھائی کے ہاتھ سے نہیں گزری۔ سیدھی مہرین کی انگلیوں میں آ کر ٹھہری۔ حمزہ بھائی کا ہاتھ فضا میں ایک سانس بھر لٹکا، پھر نیچے گر گیا۔
“میں ان کا بھانجا ہوں،” انہوں نے جلدی سے کہا، “میں ہی لے جاؤں گا۔”
نرس نے خشک لہجے میں جواب دیا، “آپ انتظار کریں۔ جس نام پر کلیئرنس ہے، وہی ساتھ آئے گا۔”
بینچوں کی ترتیب اسی لمحے بدل گئی۔ کلرک نے آواز لگائی، “مہرین صاحبہ، آپ بیٹھ جائیں، اگلی کال آپ کی طرف ہوگی۔” پلاسٹک کی کرسی کا وہی کونا، جو ابھی رومال سے گھیر لیا گیا تھا، خالی کرایا گیا۔ خالہ صدف کو وہیل چیئر پر اندر لے جایا گیا، اور مہرین کے لیے سامنے والی نشست کھسکائی گئی۔ حمزہ بھائی، جو پانچ منٹ پہلے سب کے اوپر لہجہ رکھے ہوئے تھے، اب دیوار کے ساتھ کھڑے تھے، ہاتھ میں اپنا والٹ، اور بیٹھنے کی جگہ بھی پوری نہ تھی۔
رشتہ دار عورت نے اب دوسری کے کان میں کچھ نہیں کہا۔ بس اپنے پرس کی زپ بند کی اور تھوڑا سا سمٹ کر مہرین کے لیے جگہ بنائی۔ مہرین بیٹھ گئی۔ اس نے گھٹنے پر فائل رکھی، سبز پرچی کو انگوٹھے کے نیچے سیدھا کیا، اور حمزہ بھائی کی طرف نہیں دیکھا۔
“مہرین،” انہوں نے نرم ہونے کی کوشش کی، “بات بڑھانے کی کیا ضرورت تھی؟ اپنے ہی لوگ ہیں۔ اندر جا کر ڈاکٹر سے میں—”
“انتظار کریں،” مہرین نے وہی لفظ ان کے لہجے سے زیادہ ہلکے، اور زیادہ زہریلے انداز میں کہا۔
وقت زیادہ نہیں لگا، مگر ان کے لیے وہی سب سے لمبا حصہ تھا۔ اندر معائنے کے بعد خالہ صدف کو چھوٹی دوا اور ڈرِپ کے ساتھ پچھلی طرف بنے پک اَپ پوائنٹ سے لینا تھا، جہاں گاڑیاں ایک ایک کر کے بلائی جاتی تھیں۔ وہاں جانے سے پہلے کلرک نے کھڑکی سے سر باہر نکالا اور سب کے سامنے پوچھا، “پک اَپ لین کی اجازت کس کے نام فعال رکھوں؟ ایک طرفہ داخلا ہوگا۔ مریض کو کس سائیڈ ریلیز کرنا ہے؟”
یہ سوال کاغذی نہیں تھا؛ اسی سے طے ہونا تھا کہ کون گاڑی لے کر چین کے پار جا سکتا ہے، کون مریض کو پہلے سنبھالے گا، اور کس کی بات آخری مانی جائے گی۔
حمزہ بھائی فوراً آگے بڑھے۔ “میرے نام کر دیں۔ ہم ایک ہی طرف سے ہیں۔ میں گاڑی لے آتا ہوں۔”
کلرک نے سبز پرچی کی طرف دیکھا، پھر مہرین کی طرف۔ “اصل اندراج بحال ہو چکا ہے۔ شریکِ ادائیگی اور پک اَپ اختیار آپ کے پاس ہے۔ مشترک رکھنا ہے یا ایک طرف؟”
حمزہ بھائی نے پہلی بار مہرین کو ایسے دیکھا جیسے اسے اچانک یاد آیا ہو کہ یہ لڑکی صرف پیسے بھیجنے والی نہیں، رستہ بند کرنے والی بھی ہو سکتی ہے۔ “مہرین، ڈراما نہ کرو۔ امّی میری بھی—”
“خالہ صدف آپ کی بھی ہیں،” مہرین نے کاٹ کر کہا، “مگر میری بکنگ، میری ادائیگی، اور میرا راستہ آپ نے سب کے سامنے اپنا کہہ کر روکا تھا۔ اب ریلیز صرف میری طرف ہوگی۔”
“تم حد سے—”
“کلرک صاحب،” مہرین نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، “ریلیز جنوبی پک اَپ لین پر کریں۔ موٹر بائیک اور گاڑی دونوں کی اجازت میری طرف۔ دوسری طرف بند۔”
یہ معمولی سا جملہ تھا، مگر اثر سخت۔ کلرک نے فوراً مہر ثبت کی، اندر فون کیا۔ حمزہ بھائی نے ایک قدم اور بڑھانا چاہا، مگر سکیورٹی والے نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔ “سر، جب تک آپ کے نام اجازت نہیں، آپ بینچ لائن کے پیچھے رہیں۔”
“میں بھانجا ہوں!” ان کی آواز اب اونچی نہیں، پھٹی ہوئی تھی۔
“رجسٹر میں نہیں ہیں،” کلرک نے کہا، اور کھڑکی بند کرنے کو ہاتھ بڑھا دیا۔
خلفشار اب بحث نہیں رہا؛ جسموں میں دکھنے لگا۔ حمزہ بھائی نے جیب سے گاڑی کی چابی نکالی، پھر جیسے یاد آیا کہ بیکار ہے، وہی چابی مٹھی میں بند کر لی۔ سامنے دو ڈرائیور، جو اپنی باری کے انتظار میں تھے، ایک طرف ہو گئے کیونکہ اب اعلان واضح تھا کہ جنوب والی لین پہلے کھلے گی۔ مہرین نے فون کان سے لگایا، مختصر ہدایت دی، “پچھلا گیٹ، جنوبی لین۔ ابھی۔”
خالہ صدف کو اندر سے وہیل چیئر پر نکالا جا رہا تھا۔ نرس نے سیدھا مہرین کا نام پکارا، “معاون کہاں ہیں؟” مہرین اٹھی۔ بینچ سے اٹھنے کا وہ عمل بھی اعلان بن گیا؛ جو ابھی تک کھڑی رکھی گئی تھی، اب سب کے سامنے پہلے پکار کر چلائی جا رہی تھی۔ حمزہ بھائی نے ایک آخری چال چلنے کی کوشش کی۔ وہ نرس کے ساتھ ساتھ ہو لیے۔ “میں خاندان سے ہوں، میں لے جاؤں گا، آپ اسے—”
نرس رک گئی۔ “آپ پیچھے ہوں۔ مریض اس طرف ریلیز ہو رہے ہیں۔”
“لیکن میں نے—”
“آپ نے کچھ نہیں دیا،” خالہ صدف نے پہلی بار تھکی ہوئی مگر صاف آواز میں کہا، مگر مہرین نے اس طرف بھی سر نہیں موڑا۔ اسے اب کسی تصدیق کی ضرورت نہیں تھی۔
پچھلے حصے میں پک اَپ لین کے سامنے پیلی زنجیر تنی ہوئی تھی۔ بارش کے پانی نے زمین پر دھبے چھوڑ رکھے تھے، اور کنارے پر ایک ترک شدہ چائے کا کپ دوبارہ گول داغ بنا رہا تھا۔ سکیورٹی والا دو راستوں کے بیچ کھڑا تھا۔ ایک طرف حمزہ بھائی بینچ لائن کے پیچھے روک دیے گئے، دوسری طرف مہرین نے سبز پرچی کلرک کے چھوٹے شیشے والے خانے میں سرکا دی اور مختصر کہا، “جنوبی طرف کھولیں۔”
زنجیر ایک جھٹکے سے اسی طرف اوپر اٹھی۔