ان کی دی ہوئی لائن الٹی پڑ گئی
فراز بھائی نے صائمہ کے ہاتھ سے فائل کھینچ کر خالدہ خالہ کی گود میں رکھ دی اور بینچ کے کونے پر رکھا اس کا دوپٹہ انگلی سے ہٹا کر کہا، “یہ نشست مہمانوں کے لیے ہے، تم ذرا ایک طرف کھڑی رہو۔” ویزا میڈیکل ونڈو کے باہر سفید پلاسٹک کی کرسیوں اور لمبے بینچ کی قطار میں سب نے دیکھا کہ اس کا نمبر لگا ٹوکن خالدہ خالہ کے پرس کے نیچے دب گیا۔ صائمہ نے کچھ نہیں کہا۔ بس اپنی بس کارڈ کے گھسے ہوئے کنارے کو انگوٹھے سے رگڑا اور کھڑی رہی، جیسے وہ اپنی ہی باری کے باہر کسی دفتر کی معمولی ملازمہ ہو۔
کراچی کی اس نجی کلینک کی تیسری منزل پر ہوا کم تھی، دواؤں اور پسینے کی ملی بو زیادہ۔ کھڑکی کے نیچے چائے کا ایک کپ ٹھنڈا ہو کر میز پر حلقہ چھوڑ چکا تھا۔ اسی ونڈو سے آج اس کا بیرونِ ملک ملازمت کے لیے میڈیکل پرمٹ نکلنا تھا؛ اسی پرمٹ کے بغیر دبئی کی کمپنی کا معاہدہ اگلے ہفتے ختم سمجھا جاتا۔ دو سال اس نے سروس سیکٹر کی رات کی شفٹیں، آن لائن فروخت کے لائیو سیشن، اور گھر کے خرچ کے بیچ سے پیسے نکال کر یہی فائل بنائی تھی۔ اور آج، جب گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ رشتہ بھی اسی نوکری کے ساتھ جڑ رہا ہے، اسے کھڑا کر دیا گیا تھا جیسے اس کا مستقبل بھی ساتھ ہی دیوار سے لگا دیا گیا ہو۔
خالدہ خالہ نے فائل کھولتے ہوئے جان بوجھ کر اونچی آواز میں کہا، “دیکھو، لڑکی اچھی ہے، محنتی ہے، مگر باہر جا کر اکیلی رہنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ فراز نے سارا خرچ اٹھایا ہے، بکنگ بھی انہی کے ذریعے ہوئی ہے، تو فیصلہ بھی انہی کا ہوگا۔” ساتھ بیٹھے چچا زاد نے فوراً ہاں میں ہاں ملائی۔ “اور اگر مناسب نہ لگے تو سلاٹ ضائع کیوں ہو؟ نادیہ بھی تو ہے۔ گھر کی، سمجھدار، خاندان میں سب کو جچتی ہے۔”
صائمہ نے پہلی بار نظر اٹھائی۔ نادیہ چند قدم دور فون پر جھکی بیٹھی تھی، مگر کان پورے ادھر تھے۔ فراز بھائی نے جیسے بات پہلے سے تیار کر رکھی ہو، کلرک کی کھڑکی کی طرف جھک کر کہا، “اگر نام بدلنے کا طریقہ ہو تو بتا دیں۔ اسپانسر سائیڈ ہم ہیں۔ پیمنٹ ہماری ہے۔” یہ جملہ اتنا جان بوجھ کر بولا گیا کہ قطار کے آخر تک سنائی دے۔ ایک بوڑھی عورت نے صائمہ کو سر سے پاؤں تک دیکھا، پھر نظر پھیر لی؛ جیسے اب سمجھ گئی ہو، اصل صاحبِ اختیار کون ہے۔
ونڈو کلرک نے ریکارڈ رجسٹر کھول کر فائل پر لگا اسٹیکر دیکھا، پھر فراز بھائی کی طرف دیکھا۔ “اصل درخواست گزار کون ہے؟”
فراز بھائی نے بغیر پلکے جھپکائے صائمہ کے بجائے خالدہ خالہ کی طرف ہاتھ پھیرا۔ “ہمارے ساتھ ہے۔ لڑکی گھبرائی ہوئی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں۔”
“دیکھ رہے ہیں” کہتے ہوئے وہ صائمہ کے ٹوکن پر اپنا انگوٹھا رکھے ہوئے تھا۔ یہی پہلا انعام تھا جو وہ اپنے لیے سمجھ رہا تھا: اس کی باری، اس کی نشست، اس کی آواز—سب دبا دینا۔ صائمہ نے پرس کی زِپ کھولی۔ اندر سے وہ چھوٹی سی چابی نکلی جو فراز نے دو ہفتے پہلے اس کے فلیٹ کے دروازے کی نقل بنوا کر “ضرورت کے وقت” کے نام پر لے لی تھی اور کل رات بہت دیر سے واپس کی تھی۔ چابی کے ساتھ ایک شفاف پلاسٹک کور میں کارڈ لگا تھا۔ اس نے وہ ابھی نہیں نکالا۔ صرف چابی انگلیوں میں دبا لی۔
“صائمہ!” خالدہ خالہ نے بےزاری سے پکارا، “یوں منہ بنا کر مت کھڑی رہو۔ جو بڑے بہتر سمجھیں وہی ہوگا۔ ایک میڈیکل سلاٹ ہے، کوئی نکاح نامہ نہیں۔”
صائمہ سیدھی کھڑکی تک گئی۔ فراز بھائی نے راستہ روکا تو وہ رکی نہیں؛ بس اتنا کیا کہ اپنی فائل کے اوپر رکھا اس کا ہاتھ دو انگلیوں سے ہٹا دیا، جیسے میز سے غلط جگہ رکھا کپ الگ کیا جاتا ہے۔ پھر اس نے شفاف کور والا کارڈ کلرک کے سامنے رکھا۔ “اصل درخواست گزار بھی میں ہوں، اور اسپانسر اتھارائزیشن کی نامزد دستخط کنندہ بھی۔ یہ کمپنی کی اصل منظوری ہے۔ پچھلا ای میل نہیں، پورٹل کا کارڈ۔ نام، پاسپورٹ، اور پرمٹ کنٹرول—سب میرے ساتھ بندھا ہے۔”
کلرک نے کارڈ لیتے ہی سیدھا ہو کر بیٹھنا بدلا۔ اس کے لہجے میں وہ دفتری احتیاط آ گئی جو ابھی تک صرف فراز بھائی کے لیے رکھی ہوئی تھی۔ “ایک منٹ۔” اس نے اندر والے کمرے میں کال ملائی، نمبر پڑھا، پھر اسکرین پر جھکا۔ صائمہ نے اور کچھ نہیں کہا۔ صرف اپنی انگلی سے کارڈ کے نیچے چھپا مہر والا خانہ دکھا دیا۔ فراز بھائی کے چہرے پر پہلی بار یقین ہلا۔ “یہ کارڈ اس کے پاس کیسے—؟” جملہ پورا ہونے سے پہلے کلرک نے رجسٹر اپنی طرف کھینچ لیا۔
“ٹوکن 47، صائمہ بانو، تصدیق ہو گئی۔” کلرک نے اونچی آواز میں پکارا اور بینچ کی اگلی نشست پر پڑا نادیہ کا شال اٹھا کر پیچھے رکھ دیا۔ “درخواست گزار آگے بیٹھیں۔ باقی لوگ انتظار کریں۔” اس نے فراز بھائی کے ہاتھ کے نیچے سے ٹوکن نکال کر شیشے کے سوراخ سے صائمہ کی طرف بڑھا دیا۔ پورا بینچ ایک سانس میں اس طرف مڑ گیا۔ ابھی تک جو جگہ اس کے لیے نہیں تھی، وہ اب نام لے کر اس کے لیے رکھی جا رہی تھی۔
خالدہ خالہ نے جھٹ سے بات سنبھالنے کی کوشش کی۔ “ارے، ہم تو اسی کے لیے آئے ہیں۔ بچی اکیلی کیا سمجھے گی؟” مگر کلرک اب ان سے نہیں، صائمہ سے مخاطب تھا۔ “میڈیکل فائل، اصل شناختی کاغذات، اور پرمٹ فارم آپ دیں۔ ساتھ آنے والے بعد میں، اگر آپ اجازت دیں۔”
“اگر آپ اجازت دیں۔” یہی چار لفظ تھے جنہوں نے قطار کا رخ بدل دیا۔ فراز بھائی کھڑے رہے، مگر اب ایسے جیسے کسی اور کے دفتر میں غلطی سے اونچی آواز لگا بیٹھے ہوں۔ نادیہ نے خاموشی سے اپنا فون بیگ میں رکھا اور پیچھے سرک گئی۔ خالدہ خالہ نے بنے بنائے اعتماد سے کہا، “فراز نے پیمنٹ کی ہے۔ ان کا حق بنتا ہے سامنے رہنے کا۔”
کلرک نے رجسٹر کے کالم پر انگلی ٹپکائی۔ “پیمنٹ ریفرنس ان کے نام سے آئی تھی، مگر کنٹرول اور اجازت نامہ امیدوار کے نام سے لاک ہے۔ فوری تبدیلی ممکن نہیں۔ نئی منظوری، نیا وقت، نئی فیس۔ آج صرف صائمہ بانو کی فائل چلے گی۔ باقی سب بیٹھ جائیں۔”
“بیٹھ جائیں” اس بار حکم کی طرح آیا۔ فراز بھائی نے ایک لمحہ کھڑے رہ کر جیسے سوچا کہ آواز اونچی کریں، مگر کھڑکی کے پیچھے دوسرے عملے نے بھی ادھر دیکھ لیا تھا۔ وہ آہستہ سے بینچ کے کنارے پر بیٹھ گئے؛ وہی پلاسٹک کا کونا جہاں تھوڑی دیر پہلے صائمہ کو جگہ نہیں دی گئی تھی۔ ان کے بیٹھتے ہی خالدہ خالہ بھی ساتھ دھنس گئیں، مگر نشست کم پڑی تو انہیں اپنا پرس گود میں رکھنا پڑا۔ نادیہ کھڑی رہ گئی۔
صائمہ نے نشست لی، فائل اپنی گود میں رکھی، اور ایک ایک کاغذ ترتیب سے نکالا۔ پاسپورٹ، میڈیکل فارم، کمپنی کا منظوری نامہ، اور وہ تحریری اختیار نامہ جس پر اس کے دستخط کے بغیر بیرونِ ملک تعیناتی آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔ یہ کاغذ اس نے تین ماہ پہلے خاموشی سے بنوایا تھا، جب فراز نے ہر بات میں “ہم سنبھال لیں گے” کہنا شروع کیا تھا۔ وہ دن بھی یاد آیا جب گھر کے کھانے کی میز پر خالدہ خالہ نے ہنستے ہوئے کہا تھا، “لڑکی کو اتنا نہ سمجھاؤ، نوکری ملے گی تو غرور آ جائے گا۔” آج اسی میز کی بچی ہوئی نمکینی جیسے اس کے حلق میں نہیں، ان کے لہجے میں پھنس گئی تھی۔
ونڈو کے اندر سے دوسرا عملہ نکلا۔ “پرمٹ کاؤنٹر پر دستخط درکار ہیں۔ صرف مجاز شخص۔” اس نے صائمہ کی طرف اشارہ کیا۔ فراز بھائی فوراً اٹھ کھڑے ہوئے۔ “میں ساتھ جاؤں گا۔ کمپنی سے بات میں نے کی ہے۔”
صائمہ نے پہلی بار سیدھا جواب دیا۔ “آپ بیٹھیں۔ جب ضرورت ہوگی، بلایا جائے گا۔” لہجہ اتنا ہلکا تھا کہ چیخنے کا موقع ہی نہ دے۔ مگر اسی ہلکے پن میں وہ چیز تھی جو سب سے زیادہ چبھتی ہے: اجازت دینے کا حق۔
وہ پرمٹ کاؤنٹر تک گئی تو خالدہ خالہ بھی پیچھے آ نکلیں۔ “صائمہ، ضد نہ کرو۔ گھر والے کیا کہیں گے؟ رشتہ ہاتھ سے نکل گیا تو؟”
صائمہ نے فارم کھولا، قلم مانگا، اور بغیر ان کی طرف دیکھے بولی، “آج یہاں رشتہ نہیں، حق چلے گا۔” پھر اس نے دستخط کیے۔ کاؤنٹر والا افسر فائل پلٹتا گیا، مہر والی سیاہی تیار کی، مگر آخری خانے پر رک کر بولا، “ساتھ والے نمائندے کے لیے داخلی پرچی چاہیے۔ ایک نام فوری طور پر شامل ہو سکتا ہے۔”
یہی وہ دروازہ تھا جسے فراز بھائی اپنی ملکیت سمجھ کر آئے تھے۔
وہ دونوں کاؤنٹر کے سامنے آ گئے۔ فراز بھائی کی آواز اب اونچی نہیں، جلدی میں تھی۔ “ہاں، میرا نام ڈال دیں۔ میں اسپانسر سائیڈ سے ہوں۔ یہ فارمیلیٹی نہیں سمجھتی۔” خالدہ خالہ نے فوراً جوڑا، “اور اگر اس نے ضد کرنی ہے تو کم از کم نادیہ کو ساتھ لے لو، لڑکی کو لڑکی کا سہارا رہے گا۔”
افسر نے سر اٹھا کر صرف صائمہ کو دیکھا۔ “مجاز نام آپ بتائیں۔ ایک داخلی پرچی ابھی نکل سکتی ہے۔”
فراز بھائی نے پہلی بار اس کی طرف پورے یقین کے بغیر دیکھا۔ “صائمہ، میرا نام لکھوا دو۔ بعد میں بات کر لیں گے۔” پھر اور نیچے آ کر، اتنا کہ سنائی بھی دے اور منت بھی لگے، “یہ بچکانہ بات نہ کرو۔ پرچی دو۔”
اس نے فائل بند نہیں کی۔ بس آخری صفحہ سیدھا کیا اور اپنے چچا زاد کو ہاتھ سے قریب بلایا—وہی جو شروع میں خاموش کھڑا سب دیکھ رہا تھا اور کمپنی کے پرانے گودام میں اکاؤنٹس سنبھالتا تھا۔ “رشید بھائی، آپ کی شناختی نقل ساتھ ہے؟”
وہ چونک کر آگے آیا۔ “جی… ہے۔”
“یہ نام لکھیں۔” صائمہ نے افسر سے کہا۔ “ابتدائی رابطہ یہی رہیں گے۔ بیرونِ ملک تعیناتی کے بعد تنخواہ اکاؤنٹ اور رہائشی اجازت نامے کی تصدیق انہی کے ذریعے اپلوڈ ہونی ہے۔ ان کے دستخط پہلے سے فائل میں منسلک ہیں۔” اس نے ایک اور کاغذ نکالا، وہی جسے کسی نے اہم نہیں سمجھا تھا کیونکہ وہ اس کے پرس کے اندر تھا، خاندان کے اعتماد کے باہر۔
افسر نے کاغذ دیکھا، مہر ثبت کرنے کے خانے کے ساتھ داخلی پرچی کھینچی، اور رشید بھائی کا نام بھرنا شروع کر دیا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب دکھائی دینے والا نقصان ہوا۔ فراز بھائی کے چہرے سے نہ غصہ پہلے نکلا، نہ شرمندگی؛ پہلے خالی پن آیا، جیسے کسی نے ان کے پیروں کے نیچے سے وہ اینٹ نکال لی ہو جس پر کھڑے ہو کر وہ سب کو نیچا دیکھ رہے تھے۔ “یہ نہیں ہو سکتا۔” انہوں نے تیزی سے کہا، مگر اب جملہ کاؤنٹر پر نہیں ٹکا۔ “میں نے پیسے دیے ہیں۔”
صائمہ نے پرس سے مڑا ہوا رسیدی لفافہ نکال کر کاؤنٹر پر رکھ دیا۔ “واپس ہو چکے ہیں۔ کل رات۔ آپ کے اکاؤنٹ میں۔ حوالہ نمبر فائل کے ساتھ ہے۔” کل رات دیر سے لوٹائی گئی چابی کے ساتھ یہی کام ہوا تھا؛ اس نے پیسے بھی لوٹا دیے تھے، خاموشی سے، بغیر اعلان کے۔ اس کے بعد فراز بھائی کی ادا کی ہوئی فیس صرف پرانا دعویٰ رہ گئی تھی، حق نہیں۔
افسر نے رسید لفافے سے پرچی ملائی، ہاں میں سر ہلایا، اور فراز بھائی سے کہا، “آپ اگر الگ نمائندگی چاہتے ہیں تو نئی درخواست جمع کریں۔ آج آپ اندر نہیں جا سکتے۔ برائے مہربانی انتظار گاہ میں تشریف رکھیں۔”
خالدہ خالہ نے آخری ہتھیار آزمایا۔ “ہم اس کے اپنے ہیں۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہے رشتہ کہاں تک آیا ہوا ہے۔ آپ ہمیں باہر نہیں رکھ سکتے۔”
“یہ سرکاری پرمٹ کارروائی ہے، گھر کی مجلس نہیں،” افسر نے سرد لہجے میں کہا، پھر نظر فوراً صائمہ پر واپس لے آیا۔ “آپ تصدیق کریں: داخلی پرچی صرف رشید صاحب کے نام پر؟”
صائمہ نے پرچی کی خالی لکیر دیکھی، پھر فراز بھائی کی طرف۔ وہ اب سیدھے کھڑے بھی نہ تھے؛ آدھا قدم آگے، آدھا پیچھے، جیسے ماننے اور روکنے کے بیچ پھنسا آدمی۔ نادیہ نے نظریں جھکا لیں۔ خالدہ خالہ کی انگلیاں پرس کے ہینڈل میں اٹک گئی تھیں۔
“جی۔ صرف رشید صاحب۔ باقی کسی کے لیے آج نہیں۔”
افسر نے داخلی پرچی پھاڑی، اوپر والی سفید سلپ رشید بھائی کو دی، نیچے کا کاربن حصہ فائل میں رکھا۔ فراز بھائی نے بےاختیار ہاتھ بڑھایا، جیسے چیز ابھی بھی انہی کو ملے گی۔ پرچی ان کی انگلیوں تک پہنچی ہی نہیں۔ وہ ہوا میں رکی رہ گئیں۔
“ایک منٹ،” انہوں نے آخرکار کہا، اور یہ لفظ حکم نہیں، درخواست تھا۔ “صائمہ… کم از کم مجھے اندر آنے دو۔”
وہیں اصل الٹ پھیر مکمل ہوئی۔ جس پرچی کو وہ صبح سے اپنا سمجھ رہے تھے، اب وہ اس سے مانگ رہے تھے جسے انہوں نے بینچ سے اٹھا دیا تھا۔ صائمہ نے نہ مسکرایا، نہ بدلہ لیا۔ اس نے صرف فائل افسر کے سامنے کھولی اور کہا، “درخواست گزار حاضر ہے۔ مجاز معاون کا نام درج ہو چکا۔ کارروائی شروع کریں۔”
افسر نے سرخ سیاہی والی گدی اپنی طرف کھینچی، پرمٹ کی موٹی کاغذی شیٹ سیدھی کی، اور آخری تصدیقی سوال کیا۔ “صائمہ بانو، آپ اپنی تعیناتی کی فائل اسی نام اور اسی اجازت کے ساتھ جاری کر رہی ہیں؟”
“جی۔ اسی نام، اسی اجازت کے ساتھ۔”
مہر اس کے سامنے رکھی گئی۔ افسر نے دستاویز اس کی طرف سرکائی جہاں درخواست گزار کی توثیق کے نیچے آخری نشان لگنا تھا۔ صائمہ نے دو انگلیوں سے مہر اٹھائی، کاغذ کے نیچے خانہ برابر کیا، اور ایک بھرپور دباؤ کے ساتھ پرمٹ پر ثبت کر دی۔ کاؤنٹر کی لکڑی پر چائے کے پرانے حلقے کے پاس تازہ سیاہی کا گہرا نشان ابھرا، پھر کاغذ پر پھیل کر ٹھہر گیا۔ پرمٹ کاؤنٹر پر اس کے ہاتھ کے ہٹتے ہی مہر کی سیاہی اور سیاہ ہو کر خشک ہونے لگی۔