Fast Fiction

جو جال میرے لیے تھا، اسی پر وہ اٹکی

مراد بھابھی نے صائمہ کے بازو کے آگے اپنا کلپ بورڈ اڑا کر رکھا اور سیڑھی کے لینڈنگ پر کھنچی سیاہ ٹیپ کی لکیر کی طرف ٹھوڑی سے اشارہ کیا۔ "اوپر نہیں۔ تم ادھر سے جاؤ۔ پانی کے جگ ریفِل کرو۔" نیچے سے چڑھتے مہمانوں کی قطار ایک دم اس کے پیچھے اٹک گئی؛ اوپر والی منزل پر مہندی کی روشنی، ڈھول کی آواز اور لڑکی والوں کی ہنسی چل رہی تھی، اور صائمہ کو عین اس موڑ پر روکا جا رہا تھا جہاں سے خاندان والے اسے دیکھ سکتے تھے۔

اس نے اپنی گردن میں پڑی بوسیدہ کارڈ پٹی کو انگلی سے سیدھا کیا۔ پٹی کا کپڑا اتنا گھس چکا تھا کہ کنارے سفید ہو گئے تھے۔ صبح سے وہ اسی ہوٹل میں دوڑ رہی تھی؛ ندا خالہ نے اپنے ہاتھ سے اسے بھیجا تھا کہ "بیٹا، تم سروس سیکٹر میں ہو، تمہیں نظم آتا ہے، ذرا عزت سے کام نکلوا دینا۔" اور آج یہ تقریب صرف کام نہ تھی۔ حماد کی پھوپھی، ماموں، سب یہاں تھے۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ بات چل رہی ہے، بس اعلان باقی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مراد بھابھی نے اسے سب کے سامنے جگ اٹھانے والی لڑکی بنا کر رکھا تھا۔

"لیکن اوپر دلہن کے کمرے کی فہرست میرے پاس ہے،" صائمہ نے مختصر کہا۔

مراد بھابھی نے کلپ بورڈ کھولا، ایک کاغذ سب کے سامنے اس طرح ہلایا جیسے عدالت کا حکم ہو۔ "فہرست اب میرے پاس ہے۔ اور تمہارا کام نیچے ہے۔" پھر اس نے ساتھ کھڑے ویٹر کو آواز دی، "اسے بیک سروس سے گھماؤ۔ سامنے والے راستے پر خاندان کے لوگ آئیں گے۔"

وہ پہلا چھوٹا سا چٹخارہ وہیں ہوا۔ ویٹر نے ٹیپ کی لکیر پر قدم رکھتے ہوئے جھجک کر کہا، "بھابھی، بیک سروس والا راستہ تو ابھی بند ہے، وہاں آئس کے کریٹ پڑے ہیں۔" مراد بھابھی نے اس پر تیز نظر ڈالی تو وہ چپ ہو گیا، مگر قطار میں کھڑی ندا خالہ نے یہ سن لیا۔ خالہ کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا، اوپر ملائم جھلی جم آئی تھی، نیچے طشتری پر ٹھنڈی چائے کا ہلکا سا دائرہ پڑ چکا تھا۔ انہوں نے مراد بھابھی کو دیکھا، پھر صائمہ کو۔ کچھ نہ بولیں، مگر نگاہ ٹھہر گئی۔

مراد بھابھی اس خاموشی سے اور اکڑ گئی۔ اس نے اپنی ہیل موڑ پر کھٹکائی، دو نوجوان لڑکیوں کو سائیڈ پر کیا اور ٹیپ کو ایک اور بازو بھر آگے چپکا دیا۔ اب لینڈنگ تنگ ہو گئی؛ جو اوپر جانا چاہتا، اسے صائمہ کے بالکل پاس سے رگڑ کھا کر نکلنا پڑتا۔ "یہ حصہ صاف رکھو۔ خاندان کے سامنے بھیڑ نہیں چاہیے،" اس نے اونچی آواز میں کہا، جیسے صائمہ بھیڑ ہو۔ پھر ایک خالی ٹرے اس کے ہاتھ میں دے ماری۔ "یہ پکڑو۔ اگر کھڑے رہنے کا اتنا شوق ہے تو کم از کم ہاتھ مصروف رکھو۔"

نیچے سے حماد آیا۔ وہ اپنے ماموں کے ساتھ تھا، سوٹ کی آستین ذرا اوپر سرکی ہوئی، چہرے پر وہی احتیاط جو آدمی رشتے اور تقریب کے بیچ پھنس کر لگا لیتا ہے۔ ایک لمحے کو اس کی نظر صائمہ پر پڑی، ٹرے پر، ٹیپ کی لکیر پر، پھر مراد بھابھی پر۔ مراد بھابھی نے مسکرا کر ماموں سے کہا، "آج کل لڑکیاں دو دن دفتری کام کر لیں تو سمجھتی ہیں ایونٹ انہی کے ہاتھ میں ہے۔ ہم نے اسے ذرا مناسب جگہ لگا دیا ہے۔" ماموں ہنسے نہیں، مگر ان کے ساتھ کھڑی دو خواتین نے سر جوڑ کر صائمہ کی طرف دیکھا۔ یہی مراد چاہتی تھی: فیصلہ پہلے، وجہ بعد میں۔

صائمہ نے ٹرے پکڑی رہی، مگر ہٹی نہیں۔ نیچے لفٹ کے دھندلے آئینے پر انگلیوں کے پرانے نشان چمک رہے تھے؛ اس نے اس میں اپنی ایک کٹی ہوئی جھلک دیکھی، اور ساتھ مراد بھابھی کی پشت، جو راستہ گھیر کر کھڑی تھی۔ پھر اس کے فون نے وائبریٹ کیا۔ اسکرین پر ہوٹل کے آپریشن انچارج کا نام تھا: فراز صاحب۔ صبح انہوں نے خود کہا تھا، "دلہن فلور کی کلیدی فہرست تم سنبھالو گی، باقی سب آوازیں بعد میں۔"

صائمہ نے کال اٹھائی۔ "جی، میں لینڈنگ پر ہوں۔"

فون کے دوسری طرف شور تھا، پھر صاف آواز آئی، "صائمہ، دلہن والے کمرے کی چابی اور مہمان فہرست فوراً اوپر پہنچاؤ۔ گورنر ہاؤس سے دو خواتین آ گئی ہیں۔ میں نے سب کو بتایا ہوا ہے، فلور کنٹرول تمہارے پاس ہے۔ جس کے پاس تمہارا نام والا سلپ نہیں، وہ اندر نہیں جائے گا۔"

مراد بھابھی بہت قریب کھڑی تھی؛ اس نے یہ آخری جملہ صاف سن لیا۔ اس کا ہاتھ ایک لمحہ ہوا میں رکا۔ پھر اس نے جلدی سے کہا، "فون مجھے دو، میں سمجھاتی ہوں۔" وہ آگے بڑھی، مگر اسی لمحے ایک لڑکا آئس کے دو کریٹ گھسیٹتا ہوا بیک سروس والے راستے سے نکل آیا۔ مراد بھابھی نے جو ٹیپ اضافی چپکائی تھی، وہی اس کے اپنے قدم کے ساتھ الجھ گئی۔ اسے رکنا پڑا، آدھی سیڑھی پر، ایک طرف کریٹ، دوسری طرف نیچے سے چڑھتے مہمان۔ اوپر سے دو خواتین اتر رہی تھیں۔ لینڈنگ ایک دم اس کے لیے تنگ ہو گئی۔

صائمہ نے فون کان سے ہٹائے بغیر سیدھا کہا، "جی فراز صاحب، میں آ رہی ہوں۔" پھر اس نے ٹرے ایک ویٹر کے ہاتھ میں دی، مراد بھابھی کے کنارے سے نکلنے کے بجائے وہیں کھڑی رہی جہاں اصل گزرگاہ کھلتی تھی۔ نیچے والی قطار نے خود بخود اس کے لیے جگہ بنائی؛ اوپر اترتی خواتین رک گئیں، کیونکہ راستہ اب مراد بھابھی کے حکم سے بند تھا اور اسی حکم میں وہ خود پھنس گئی تھی۔

"صائمہ!" مراد بھابھی نے پہلی بار اس کا نام غصے سے نہیں، جلدی سے لیا۔ "تم ادھر نہیں جا سکتیں، میں نے روٹ بدلا ہے۔"

"فلور کنٹرول میرے پاس ہے،" صائمہ نے فون بند کر کے کہا۔ آواز نیچی تھی، مگر اتنی صاف کہ قریب کھڑے سب نے سن لی۔ اس نے اپنے کارڈ پٹی سے جھولتا ہوا چابیوں کا گچھا نکالا۔ "اور جس روٹ پر آپ نے رکاوٹ لگائی ہے، وہ دلہن فلور کی مرکزی آمدورفت ہے۔"

مراد بھابھی نے فوراً ایک اور وار کیا، شاید اسی امید سے کہ زور سے بولنے سے حکم بچ جائے گا۔ "سنو سب لوگ، پہلے میری پھوپھو اوپر جائیں گی۔ تم"—اس نے انگلی صائمہ کی طرف کی—"سائیڈ ہو جاؤ۔"

کوئی نہیں ہلا۔ ویٹر، جو ابھی تک صرف پلیٹیں سنبھال رہے تھے، اب صائمہ کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ایک نے آ کر ادب سے پوچھا، "باجی، یہ ٹیپ ہٹانی ہے؟" سوال چھوٹا تھا مگر وزن بدل چکا تھا۔

مراد بھابھی نے دانت بھینچے۔ "میں کہہ رہی ہوں، ٹیپ نہیں ہٹے گی۔ میری مہمان پہلے جائیں گی۔"

اسی وقت اوپر سے ندا خالہ کی آواز آئی، تھکی ہوئی مگر سیدھی، "صائمہ، چابیاں لے آؤ۔ دلہن کے زیور والا کمرہ بند ہے۔" یہ خاندانی طرف سے پہلا کھلا اشارہ تھا۔ نیچے حماد کی آنکھیں مراد بھابھی سے ہٹ کر صائمہ کے ہاتھ کے گچھے پر جا ٹھہریں۔ اس کے ماموں نے سیڑھی کی ریلنگ پکڑی اور اپنی جگہ روک لی؛ اب وہ بھی قطار کا حصہ تھے، مالک نہیں۔

مراد بھابھی نے آخری کوشش میں راستہ توڑنے کا سوچا۔ اس نے اپنی ہیل اٹھا کر ٹیپ کے اندر والے کونے سے چھلانگ لگانی چاہی، تاکہ لینڈنگ کا مختصر راستہ کاٹ کر اوپر نکل جائے، جیسے سارا بندوبست دوسروں کے لیے ہو، اس کے لیے نہیں۔ صائمہ نے ایک قدم بھر کر اسی کونے کے سامنے خود کو رکھا، نہ بازو پھیلایا نہ آواز بلند کی۔

"نہیں،" اس نے بس اتنا کہا۔ "شارٹ کٹ بند ہے۔ آپ اپنے بنائے ہوئے راستے سے جائیں۔ بیک سروس۔"

مراد بھابھی کا چہرہ ایک دم خالی پڑا، پھر سرخ۔ "تم مجھے بھیج رہی ہو؟ ادھر؟"

"جی۔ ادھر۔" صائمہ نے ویٹر کی طرف دیکھے بغیر کہا، "آئس کے کریٹ ہٹا دینا جب مراد بھابھی گزر جائیں۔ ابھی نہیں۔ پہلے دلہن فلور صاف ہوگا۔" پھر اس نے چابیوں کا گچھا ہتھیلی میں سمیٹا، ایک طرف کھڑے لڑکے سے رجسٹر لیا اور صاف سنائی دینے والی آواز میں کہا، "ندا خالہ کا نام پہلے لکھو۔ پھر اوپر والی دو مہمان۔ اس کے بعد باقی۔"

مراد بھابھی نے دیکھا کہ نہ ویٹر اس کا حکم پکڑ رہے تھے، نہ خاندان اس کے لیے جگہ توڑ رہا تھا۔ اس کے اپنے چپکائے ہوئے ٹیپ کے دو بازو اسے سیدھا بیک سروس کے منہ کی طرف دھکیل رہے تھے، جہاں موڑ تنگ تھا اور کریٹ پڑے تھے۔ نیچے سے ایک بوڑھی خاتون نے ناراضی سے کہا، "بچی، اگر راستہ تم نے بند کیا ہے تو خود ہی کھولو یا ادھر سے نکلو۔" "بچی" مراد بھابھی کو کہا گیا تھا، اور وہ سن کر بھی انکار نہ کر سکی۔

صائمہ نے رجسٹر اپنی بغل میں رکھا، اور جب مراد بھابھی ایک بار پھر مرکزی موڑ کاٹنے کو جھکی، اس نے چابیوں کا گچھا اوپر اٹھا کر سیدھا اعلان کیا، "دلہن فلور کی آمدورفت میرے اشارے سے ہوگی۔ مرکزی راستہ صرف درج شدہ ناموں کے لیے۔ باقی سب بیک سروس سے۔ مراد بھابھی بھی۔"

یہ جملہ نہ لمبا تھا نہ گرم، مگر اس کے بعد حرکت فوراً بدل گئی۔ اوپر جانے والی پہلی دو خواتین صائمہ کے دائیں سے گزر گئیں۔ ویٹر نے رجسٹر اس کے سامنے کھول دیا۔ حماد ایک قدم کنارے ہو گیا تاکہ ندا خالہ آسانی سے اوپر جا سکیں۔ اور مراد بھابھی، جو ابھی تک دوسروں کی جگہیں مقرر کر رہی تھی، اپنے ہی بنائے موڑ پر پھنس کر پیچھے مڑی، پھر بیک سروس کی طرف بڑھنے پر مجبور ہوئی جہاں اسے پہلے صائمہ کو دھکیلا گیا تھا۔

صائمہ نے اس کے پیچھے نہیں دیکھا۔ اس نے صرف لینڈنگ کے کونے پر جا کر اپنے جوتے کی نوک سے سیاہ گافر ٹیپ کا وہ سرا اٹھایا جو مراد بھابھی نے زیادہ زور سے چپکایا تھا، اور اسے بیک سروس والے مردہ موڑ کی طرف ہی رہنے دیا۔ کونے پر جمی دھول کے اوپر ٹیپ آہستہ سے مُڑی، چپکاہٹ چھوٹی، اور اس کی کالی لکیر کنارے سے اکھڑ کر واپس پلٹنے لگی۔