فائل نے ماضی بدل دیا
فائلوں کا پلندہ کاؤنٹر پر دھم سے گرا تو صائمہ نے دونوں ہاتھوں سے اسے سنبھالا، اور اسی لمحے ماہا نے دروازے سے اندر آتی اپنی خالہ شمائل سے ہنستے ہوئے کہا، “آپ ادھر آئیں، یہ لڑکی بس کاغذ ترتیب دیتی ہے، اصل دستخط والا کام میرے پاس ہے۔”
گرمی سے بھرا کراچی کا دوپہر، چھت کا پنکھا چڑچڑا کر گھوم رہا تھا، اور میرج رجسٹری آفس کے باہر موٹر سائیکلوں کی قطار دھوپ میں ابل رہی تھی۔ صائمہ کے گلے میں پڑا پرانا شناختی فیتہ کئی جگہ سے مڑ چکا تھا؛ وہی فیتہ جس سے وہ روز الماری کھولتی، رجسٹر نکالتی، رسیدیں لگاتی، اور دوسروں کی غلطیوں کے بعد بھی دفتر چلتا رہتا۔ آج بھی تین جوڑے انتظار میں تھے، ایک نکاح نامہ گواہوں کے شناختی کارڈ کے بغیر اٹکا ہوا تھا، اور گیس کے بل کی آدھی تہہ شدہ رسید اس کے پرس سے جھانک رہی تھی۔ مگر خالہ شمائل کی نظر اس پر نہیں، ماہا کے استقبالیے والے دوپٹے اور اس کے میٹھے لہجے پر تھی۔
صائمہ نے پلندے میں سے سب سے اوپر والی فائل کھولی، صفحہ پلٹا، اور بغیر سر اٹھائے کہا، “خالہ، اگر اصل دستخط والا کام ادھر ہے تو یہ اعتراض بھی آپ اسی سے لکھوا لیجیے۔ دولہے کے والد کا نام شناختی کارڈ سے نہیں مل رہا۔” اس نے سرخ پنسل سے نشان لگا کر فائل ماہا کی طرف بڑھا دی۔ ماہا کے ہاتھ ذرا رکے۔ خالہ شمائل کی بھنویں سکڑیں۔ پہلی بار کمرے میں یہ واضح ہوا کہ جسے “بس کاغذ ترتیب دینے والی لڑکی” کہا جا رہا ہے، غلطی پکڑنے والی بھی وہی ہے۔
ماہا نے فوراً لہجہ بدلا نہیں۔ اس نے فائل لی، مگر پلٹ کر کلرک سے کہا، “چائے بھجوا دو، اور صائمہ، سامنے والی الماری سے پرانا اندراجی رجسٹر نکالو۔ عدنان کے مہمان آ رہے ہیں، جگہ صاف ہونی چاہیے۔” “عدنان کے مہمان” کا لفظ جان بوجھ کر زور سے بولا گیا۔ خالہ شمائل نے گردن گھما کر صائمہ کو ایسے دیکھا جیسے وہ گھر کی نہیں، کرائے کی جگہ پر رکھی کوئی ضرورت ہو۔
عدنان اسی وقت اندر آیا۔ سفید قمیص، جلدی میں بند کی گئی گھڑی، اور وہی احتیاط بھرا چہرہ جس میں کبھی پوری بات نہیں ہوتی تھی۔ اس نے ماہا سے آہستہ کہا، “امی اوپر گاڑی میں ہیں، انہیں زیادہ دیر مت رکواؤ۔” پھر صائمہ کی طرف دیکھے بغیر بولا، “تم پچھلے دروازے سے فائل لے آؤ، سامنے راستہ مہمانوں کے لیے چھوڑ دو۔” جملہ چھوٹا تھا، چوٹ بڑی۔ پچھلا دروازہ ہمیشہ اسٹاف، ڈبوں، صفائی والے لڑکے اور ٹوٹی کرسیوں کے لیے کھلتا تھا۔
صائمہ نے الماری کی چابی اتاری، مڑی ہوئی رسید پرس میں اور اندر دھکیل دی، اور پلٹ کر کہا، “پچھلے دروازے سے نمی آتی ہے۔ رجسٹر سوجا ہوا ہے، پھٹ گیا تو دوبارہ بند نہیں ہوگا۔” وہ سامنے ہی سے گزری۔ ماہا کے چہرے پر وہ ہلکی سی سختی آئی جو صرف تب آتی تھی جب کوئی اس کے بنائے ہوئے منظر میں اپنی جگہ خود چن لے۔ خالہ شمائل ایک پلاسٹک کرسی کے کونے پر بیٹھنے لگی تھیں، پھر ماہا نے فوراً کہا، “خالہ، آپ ادھر میری کرسی پر بیٹھیں۔” صائمہ کھڑی رہی۔ جگہ بھی چھینی گئی، اور معنی بھی۔
اوپر سے عدنان کی ماں کی آواز آئی، “ماہا! ہماری طرف والے کاغذ الگ رکھنا، ملازموں کے ہاتھ کی چیزوں میں خلط ملط نہ ہو۔” کمرے میں دو جوڑے خاموش ہو گئے۔ ایک لڑکی نے اپنی مہندی والی انگلیاں سمیٹ لیں۔ ماہا نے ہونٹ دبا کر جیسے شرمندگی چھپانے کی ادا کی، مگر اگلا وار اور سیدھا تھا۔ “صائمہ، تم ذرا امی کے لیے پانی لے جاؤ۔ اور ہاں، اوپر والے کمرے میں مت بیٹھنا۔”
یہ محض پانی نہیں تھا؛ یہ دروازے پر روکا جانا تھا۔ وہی اوپر والا کمرہ جہاں فیصلے ہوتے، نام پڑھ کر سنائے جاتے، اور جہاں بیٹھنے والا آدمی “اندر کا” سمجھا جاتا۔ صائمہ جگ اٹھا کر سیڑھیاں چڑھی تو عدنان کی ماں نے دروازہ آدھا رکھ کر کہا، “بس دے دو۔ تم نیچے رہو۔ عورت کو اپنی حد خوبصورت لگتی ہے جب وہ خود پہچانے۔” دروازہ اس کی ناک کے سامنے بند نہیں ہوا، مگر اتنا ہی کھلا رہا جتنا برتن پکڑنے کو کافی ہو۔ نیچے اترتے وقت سیڑھی کے موڑ پر اس کی مٹھی سفید ہو گئی تھی۔
واپس آ کر اس نے پرانا رجسٹر کھولا تو کاغذ کی بوسیدہ بُو اٹھی۔ کلرک نے جلدی میں ایک تازہ اندراج بول بول کر لکھوانا شروع کیا۔ “نکاح کی تاریخ... گواہ دوم کا نام...” صائمہ صفحہ سیدھا کر رہی تھی کہ ایک پتلی پرچی اندر سے سرک کر باہر گری۔ آدھی نمی سے چپکی ہوئی، آدھی سیاہی اڑی ہوئی۔ کلرک نے اسے اٹھا کر بلند آواز میں پڑھا، “عارضی منتقلی— فائل نمبر بانوے— اصل رجسٹر سے نقل بعد میں شامل کی جائے گی... نام: صائمہ بنت رشید... زوجہ...” وہ رکا۔ کمرے میں پنکھے کی کڑک زیادہ سنائی دینے لگی۔ ماہا نے فوراً ہاتھ بڑھایا، “وہ پرانی مسودہ پرچی ہے، غیر متعلقہ۔”
مگر کلرک رک چکا تھا۔ اس نے دوبارہ آنکھیں سکیڑ کر پڑھا، “زوجہ عدنان سلیم۔ تاریخ... یہ تو سات سال پرانی ہے۔” خالہ شمائل کی کمر سیدھی ہو گئی۔ دروازے کے پاس کھڑا نوجوان دولہا پلکیں جھپکنا بھول گیا۔ عدنان نے پہلی بار سیدھا صائمہ کو دیکھا، جیسے پرچی پر لکھا نام کمرے کی ہوا میں الگ جسم بن کر کھڑا ہو گیا ہو۔ ماہا نے جلدی سے کہا، “وہ اندراج مکمل نہیں ہوا تھا۔ گھر والوں کو پتہ بھی نہیں تھا، بعد میں—”
“بعد میں کیا ہوا، اصل رجسٹر بتائے گا،” صائمہ نے اس کی بات کاٹ دی۔ آواز نہ اونچی تھی نہ کانپتی ہوئی۔ بس اتنی سیدھی کہ اس کے بعد جھوٹ کو جگہ کم پڑنے لگی۔
اسے اچانک سمجھ آیا کہ یہ پرچی صرف دراڑ ہے، دیوار نہیں گرائے گی۔ ماہا کل بھی کہہ سکتی تھی کہ مسودہ تھا، غلطی تھی، منسوخ تھا، یا کوئی خاندانی الجھن تھی۔ ہر پچھلی توہین کو نئے بہانے مل جاتے۔ اصل ضرب صرف وہی پرانا مرکزی اندراج تھا جسے سالوں سے الماری کے نچلے خانے میں بند رکھا جاتا، جس کا نمبر صرف وہی لوگ جانتے جو دفتر واقعی چلاتے تھے۔ صائمہ نے چابی اپنی مٹھی میں بند کی اور کاؤنٹر کے کنارے سے نکل کر سیدھی ریکارڈ روم کی طرف چل دی۔
ماہا اس کے آگے آ کر کھڑی ہوئی۔ “وہ الماری میری نگرانی میں کھلے گی۔” صائمہ نے جواب میں چابی میز پر نہیں رکھی؛ اپنی مٹھی سے نکال کر کلرک کے سامنے رکھ دی۔ “نگرانی ریکارڈ کی ہوگی، کسی چہرے کی نہیں۔ آپ پڑھیں گے، میں صفحہ نکالوں گی۔” عدنان نے ایک قدم آگے بڑھایا، جیسے نرم لہجے سے معاملہ سمیٹ لے گا۔ “صائمہ، بات اندر کر لیتے ہیں۔” “بات اندر بہت سال ہو گئی،” وہ بولی، “آج اندراج باہر میز پر آئے گا۔”
ریکارڈ روم تنگ تھا، دیوار کے ساتھ لوہے کی الماریاں، نیچے نمی چڑھی ہوئی، اور اوپر گرد۔ صائمہ کو بغیر دیکھے بھی معلوم تھا کون سا خانہ پھنسے گا اور کس رجسٹر کے کنارے دیمک نے ہلکا سا کھایا ہے۔ اس نے سبز کپڑے میں لپٹا بھاری رجسٹر کھینچا تو دھول کی تہہ اڑ کر ماہا کے دوپٹے پر بیٹھی۔ ماہا نے فوراً ہاتھ سے جھاڑا، جیسے کاغذ کی خاک بھی اس کے مرتبے کے خلاف ہو۔ صائمہ رجسٹر اٹھائے باہر آئی اور اسے ریکارڈ کاؤنٹر پر رکھ دیا۔ وہی کاؤنٹر جہاں روز دوسروں کے نام سیدھے کیے جاتے تھے، آج پہلی بار اس کا اپنا نام فیصلہ مانگ رہا تھا۔
کلرک نے رجسٹر کھولا۔ پرانے صفحے موٹے، سیاہی بھوری، کناروں پر انگلیوں کے نشانات۔ “فائل نمبر بانوے... بانوے...” صفحے پلٹے۔ ماہا کی سانسیں تیز ہوئیں۔ عدنان نے دھیرے سے کہا، “بس، یہ لازم نہیں—” “لازم ہے،” صائمہ نے کہا، اور رجسٹر خود اپنی طرف کھینچ لیا۔ “تاریخ تیرہ شعبان۔ گواہ دو۔ مہر کی رقم پچاس ہزار۔” اس کی انگلی سطر پر ٹھہری۔ “نام مکمل پڑھیں۔”
کلرک نے پڑھا، اس بار آہستہ نہیں، صاف: “صائمہ بنت رشید، زوجہ عدنان سلیم۔ نکاح منعقد، اندراج مکمل، بعد تصدیق دستخط شدہ۔” اس کے نیچے دو دستخط تھے، ایک قاضی کا، ایک عدنان کا۔ مزید نیچے سرخ روشنائی سے چھوٹا نوٹ: “اہلیہ کی رہائش عارضی طور پر علیحدہ رکھی گئی تاوقتِ گھریلو مصالحت۔ ازدواجی حیثیت برقرار۔” یہی وہ سطر تھی جس نے کمرے کی ہر پچھلی حرکت کا مطلب بدل دیا۔ پچھلے دروازے سے بھیجنا، اوپر کمرے سے روکنا، “ملازموں کے ہاتھ” کہنا، مہمانوں کے سامنے اس کا نام گول کر جانا— یہ سب کسی باہر والی عورت کے ساتھ نہیں، ایک چھپائی گئی بیوی کے ساتھ ہوا تھا۔
خالہ شمائل کے ہاتھ میں پڑا پرس ڈھیلا ہو کر گود میں گر گیا۔ عدنان کی ماں سیڑھیوں سے اتر کر آدھی منزل پر رکی رہ گئی؛ اب وہ اوپر والی بزرگ نہ لگ رہی تھی، بس ایک ایسی عورت جو غلط نام پر سالوں سے تکیہ کیے بیٹھی تھی۔ ماہا نے فوراً بولنا چاہا، مگر آواز کی دھار نہیں بنی۔ “وہ... رہائش علیحدہ تھی، اس لیے—” صائمہ نے اسی سطر کے نیچے خالی حاشیہ دیکھ لیا جہاں تصحیحی اندراج شامل ہو سکتا تھا۔ “علیحدہ رہائش سے حیثیت نہیں مرتی،” اس نے کہا۔ “صرف جھوٹ کو سہولت ملتی ہے۔”
اس نے کلرک سے تصحیحی رجسٹر منگوایا۔ کاؤنٹر پر دو رجسٹر ساتھ کھل گئے؛ ایک پرانا، ایک جاری۔ صائمہ نے خود عبارت بولی، لفظ چن چن کر، جیسے اپنے جسم کے گم حصے واپس جوڑ رہی ہو۔ “موجودہ دفتری استعمال میں نام کی غلط قرأت درست کی جاتی ہے۔ متعلقہ فائل نمبر بانوے کی زوجہ کا نام صائمہ بنت رشید، اہلیہ عدنان سلیم، بدستور معتبر درج ہے۔ آئندہ حوالہ اسی کے مطابق ہوگا۔” کلرک نے اس کی طرف دیکھا، پھر عدنان کی طرف، جیسے اجازت ڈھونڈے۔ صائمہ نے پرانا رجسٹر اپنی ہتھیلی سے دبا دیا۔ “اجازت اندراج سے آتی ہے۔ لکھیں۔”
قلم چلنے کی آواز غیر معمولی طور پر تیز محسوس ہوئی۔ ماہا نے پہلی بار کرسی مانگی نہیں؛ وہ کھڑی رہی۔ عدنان نے ہاتھ بڑھایا بھی تو رجسٹر تک نہیں پہنچا۔ صائمہ نے اپنے پرس سے وہ آدھی تہہ شدہ رسید نکالی، الٹ کر اس کے خالی پچھلے حصے پر فائل نمبر لکھا، اور نئی تصحیح کے ساتھ پن کر دیا تاکہ بعد میں کوئی صفحہ الگ نہ کر سکے۔ پھر اس نے کلرک سے مہر مانگی۔
کلرک نے مہر اس کے ہاتھ میں دی تو اس کی انگلیوں پر نیلی روشنائی کا پرانا داغ لگ گیا۔ صائمہ نے مہر کو سیدھا کیا، درست سطر کے برابر جگہ ناپی، اور اپنے نام کے ساتھ، جہاں ابھی ابھی لفظ واپس آیا تھا، پوری قوت سے مہر جما دی۔
ٹھپ۔ مہر ریکارڈ کاؤنٹر پر سختی سے بیٹھی، اور اس کی دھات کی گونج کاغذ، لکڑی اور بند کمرے کی ہوا میں پھیلتی ہوئی تھم گئی۔