میرا نام اب بھی وہیں تھا
دوپہر کے وقفے میں مائرہ باجی نے رجسٹر کھینچ کر حنا کے ہاتھ سے لے لیا اور سب کے سامنے اس کے نام پر ایک موٹی سی لکیر پھیر دی۔ “تم بس باکس رکھ دو، میز کے پیچھے سدرہ بیٹھے گی۔” حنا نے ٹھنڈی ہو چکی آلو قیمے کی ڈبیا ایک طرف رکھی، دوسرے ہاتھ سے اپنے پرانے کارڈ کی مڑی ہوئی فیتہ سیدھی کی، اور خاموشی سے مہمانوں کے لیے پانی کے جگ بھرنے لگی۔ اس نے اس میلے کے لیے تین دن سے بھاگ دوڑ کی تھی—اسپانسرز کی فہرست، سوسائٹی کا حساب، آڈیٹوریم کی چابیاں—مگر جب تصویریں بننی تھیں تو اس کی کرسی پر سدرہ پہلے سے بیٹھی مسکرا رہی تھی، جیسے وہ ہمیشہ سے وہیں کی ہو۔
پلاسٹک کی کرسی کے کونے پر کھڑی حنا نے دیکھا، فہد دور سے سیڑھیوں کے موڑ پر رکا ہوا ہے۔ اس کے ہاتھ میں فون تھا، ہتھیلی کے اندر اسکرین کی ہلکی روشنی دبی ہوئی، جیسے کسی بات کو کھلے میں لانا بھی مہنگا پڑتا ہو۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی ان کی جان پہچان ویسی ہی تھی: سب جانتے تھے، کوئی مانتا نہیں تھا۔ فہد نے ایک لمحے کو رجسٹر کی طرف دیکھا، پھر مائرہ باجی کے پاس جا کر آہستہ کچھ کہا۔ مائرہ نے گردن موڑ کر بس اتنا کیا کہ سدرہ کے سامنے رکھا نامی پرچہ اٹھایا، اس پر قلم سے سدرہ کا نام کاٹ کر حنا کا نام لکھ دیا، مگر کرسی نہ بدلی۔ “نام رہنے دو، بیٹھے گی وہی جو سامنے ڈیل کر سکے۔” یہ چھوٹا سا بدلاؤ بھی کسی انعام جیسا لگنا نہیں چاہیے تھا، مگر حنا کے سینے میں چبھ گیا کہ اس کا نام بچا کر بھی اس کی جگہ نہیں بچائی گئی۔
اس نے جگ میز پر رکھے اور پہلی بار سیدھا جواب دیا۔ “میرا نام اگر صرف رجسٹر میں رکھنا ہے تو میرا کام بھی وہی کرے جو کرسی پر بیٹھی ہے۔” مائرہ باجی ہنس پڑی، وہ ہنسی جس میں حکم چھپا ہوتا ہے۔ “اوہو، اتنی نازک مت بنو۔ تم تو سمجھدار ہو۔ پیچھے والے کاؤنٹر پر کھڑی رہو، اصل بات چیت سدرہ سنبھال لے گی۔” حنا نے اپنے بیج کی فیتہ کھول کر رجسٹر پر رکھ دی۔ “پیچھے کھڑی ہونے کی میں نے منت نہیں کی تھی۔” پھر وہ مڑی اور آڈیٹوریم کے سائیڈ دروازے سے باہر نکل گئی، جہاں سیمنٹ کی دیوار کے پاس دھوپ میں رکھی پلاسٹک کی کرسی خالی تھی اور اس کی ڈبیا اب بھی بند پڑی تھی۔
پہلے پندرہ منٹ میں ہی میلہ بگڑنے لگا۔ اسپانسر کے نمائندے کو رسیدی فائل نہ ملی، کینٹین والے نے بقایا رقم مانگ لی، اور گیٹ پر آنے والی کمپنی کے بندے نے کہا کہ ہال کا اسٹور روم تو بند ہے، چابی کس کے پاس ہے؟ سدرہ کے چہرے کی رنگت اڑ گئی۔ مائرہ باجی ایک سے دوسرے پر چڑھ رہی تھی مگر تالہ نہیں کھل رہا تھا، رسیدی مہر نہیں مل رہی تھی، اور جن نمبروں پر وہ کال کر رہی تھی وہ حنا کے فون میں محفوظ تھے، ان کے پاس نہیں۔ سیڑھیوں کے موڑ سے فہد نیچے آیا، اس نے ایک نظر باہر بیٹھی حنا پر ڈالی، پھر سیدھا مائرہ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ “چابی کس کے پاس ہوتی ہے، آپ کو معلوم تھا۔”
مائرہ باجی نے دانت بھیچ کر کہا، “تو بلا لو اسے۔ اتنا بھی کیا مسئلہ ہے؟” فہد نے ایک قدم پیچھے ہٹ کر حنا کی طرف دیکھا، مگر آواز اتنی رکھی کہ سب سن سکیں، “آپ خود جاکر کہیں۔ اور اس بار پیچھے والا کاؤنٹر نہیں۔” اس جملے میں اعلان کچھ نہ تھا، صرف حد بندی تھی، مگر اس سے مائرہ کے لہجے کا رنگ بدل گیا۔ وہ باہر آئی تو پہلی بار اس کے چہرے پر نرمی زبردستی کی طرح لگ رہی تھی۔ “حنا، بچوں والی بات نہ کرو۔ آؤ، بس ابھی بیٹھ جاؤ۔”
حنا نے ڈبیا اٹھائی، اس پر جمی چکنائی کی ٹھنڈی تہہ انگوٹھے پر محسوس ہوئی، اور صاف کہا، “ابھی نہیں۔ جب تک میری کرسی میری رہے، تب۔ ضرورت کے وقت نہیں، شروع سے۔” مائرہ باجی کی ناک کے نتھنے پھولے، مگر پیچھے سے دو اساتذہ نکل آئے تھے۔ ان کے سامنے وہ جھگڑا نہیں کھینچ سکتی تھی۔ فہد نے کچھ نہیں کہا، بس اپنی جیب سے اسٹور روم کی نقل چابی نکال کر حنا کی طرف بڑھائی۔ “یہ تمہارے پاس رہے گی۔” یہ دوسرا چھوٹا سا بدلاؤ تھا: چابی سیدھی اس کے ہاتھ میں، کسی کے واسطے کے بغیر۔ حنا نے چابی لی، ہال کے اندر گئی، تالہ کھولا، رسیدی فائل نکالی، اسپانسر کے بندے سے بات کی، اور واپس اسی میز کے پیچھے بیٹھی جہاں اس کا نام لگا تھا۔ سدرہ خود ہی ایک طرف سرک گئی، جیسے کرسی نے اپنا فیصلہ خود کر لیا ہو۔ مائرہ باجی نے اس وقت بھی یہ نہیں کہا کہ غلطی ہوئی، مگر اگلے دو گھنٹے کوئی دوسرا اس کرسی پر نہیں بیٹھا۔
شام ڈھلتے ڈھلتے کراچی کی نمی ہال کے اندر تک آ گئی۔ سارا شور تھک کر بیٹھ گیا تو اصل بات سامنے آئی: مائرہ باجی نے اگلے ہفتے کی منگنی والی بیٹھک کے لیے سوسائٹی کی لڑکیوں کو بلانے کا ذکر چھیڑا، اور نام گنواتے ہوئے جان بوجھ کر حنا کو چھوڑ دیا۔ پھر الگ سے، ایسے جیسے احسان کر رہی ہو، بولی، “تم چاہو تو آ جانا، مگر ذرا کام والے حصے میں رہنا۔ خالہ نسرین کو زیادہ آزاد گھومتی لڑکیاں پسند نہیں۔” فہد وہیں کھڑا تھا۔ اس نے فوراً مخالفت نہ کی۔ یہی اس کی سب سے تکلیف دہ بات تھی: وہ دیکھتا سب تھا، بولتا دیر سے تھا۔
حنا نے رجسٹر بند کیا، چابی اس کی ہتھیلی میں بجی۔ “میں برتنوں کے پاس کھڑے ہونے نہیں آؤں گی۔” مائرہ باجی نے فوراً وار کیا، “بات سمجھا کرو۔ گھر والے دیکھتے ہیں۔ اور ویسے بھی، تم ہو کیا؟ سوسائٹی میں ہو، بس۔” یہ “بس” سستا نہیں تھا؛ اس میں نسب، گھر، پیسے، رہن سہن سب کچھ لپیٹا ہوا تھا۔ حنا کے ابو سروس سیکٹر کی نوکری سے فارغ ہو چکے تھے، امی محلے میں سلائی کرتی تھیں، اور حنا یونیورسٹی کی فیس، ٹرانسپورٹ، اپنی کتابیں سب ایک ساتھ سنبھالتی تھی۔ اسے معلوم تھا ایسے گھروں میں لڑکیوں کو دو دروازے دکھائے جاتے ہیں: ایک کام کا، ایک بیٹھک کا۔ اس کے لیے ہمیشہ پہلا رکھا گیا تھا۔
اس رات فلیٹ واپس آ کر بھی اس نے بات کو نرم نہیں کیا۔ چار لڑکیوں کا وہ شیئرڈ فلیٹ یونیورسٹی کے پیچھے والی گلی میں تھا، جہاں آدھی عمارت کرایے کی، آدھی خود بنوائی ہوئی لگتی تھی۔ کچن کے برابر دیوار پر لکڑی کی ایک لمبی شیلف تھی، چار حصوں میں بانٹی ہوئی، ہر حصے کے نیچے سستے اسٹیکر سے نام چپکے تھے۔ حنا نے اپنا مگ، چائے کی ڈبی، اور دو پلیٹیں اٹھا کر بیگ میں رکھ لیں۔ ساتھ والی ثمن نے چونک کر پوچھا، “کہاں جا رہی ہو؟” حنا نے صرف اتنا کہا، “امی کے پاس دو دن۔ میرا حصہ کوئی نہ چھیڑے۔ اگر جگہ چاہیے ہو تو اپنا سامان فرش پر رکھ لینا۔” یہ جملہ سن کر کمرے میں خاموشی نہیں آئی؛ بس کپ رکھے جانے کی ہلکی ٹھک ٹھک بدلی۔ یہی اصل بات تھی—لوگ سیدھی لڑائی سے زیادہ عادت کی خلاف ورزی سے گھبراتے ہیں۔
اگلے دن دوپہر میں خالہ نسرین کے گھر بیٹھک تھی۔ فہد نے صبح ایک مختصر پیغام بھیجا تھا: آنا مت، اگر وہی شرط ہو۔ حنا نے جواب نہیں دیا۔ وہ امی کے ساتھ بس میں بیٹھی صدر سے گزری تو کھڑکی سے دھندلے بورڈ پیچھے ہٹتے گئے۔ امی نے آہستہ پوچھا، “وہ لڑکا سیدھا ہے؟” حنا نے کہا، “سیدھا تب ہوگا جب میرے لیے دروازہ الگ نہ رکھے۔” امی نے پھر کچھ نہ کہا، صرف اپنے پرس کا زپ بند کیا اور اس کے ہاتھ پر ایک لمحے کو انگلی رکھ دی۔
خالہ نسرین کے گھر کے باہر جوتوں کی قطار تھی، اندر ڈرائنگ روم میں عورتوں کی ملی جلی خوشبو اور چائے کی بھاپ۔ مائرہ باجی دروازے ہی پر ملی۔ “اچھا ہوا آ گئیں۔ اندر مت جائیے ابھی، کچن میں پلیٹیں کم ہیں۔” یہ وہی دیر سے دی گئی شمولیت تھی جس میں عزت نہیں، استعمال ہوتا ہے۔ حنا نے جوتے اتارے بھی نہیں۔ “میں پلیٹیں گننے نہیں آئی۔” مائرہ نے دانت پیس کر مسکراہٹ بنائی، “اب ضد نہ کرو، سب دیکھ رہے ہیں۔” حنا نے پیچھے ہٹ کر کہا، “تبھی تو نہیں۔”
یہی وہ لمحہ تھا جب فہد اندر والے دروازے سے نکلا۔ اس کے ساتھ اس کے ماموں، اور پیچھے خالہ نسرین۔ سب کی نظریں ایک لمحے کو دہلیز پر آ کر رک گئیں: حنا باہر، مائرہ راستہ روکے، امی دو قدم پیچھے۔ کسی بھی گھر میں لڑکی کا یوں دہلیز پر ٹھہر جانا سستی بات نہیں ہوتی۔ فہد نے پہلے مائرہ کو نہیں دیکھا؛ اس نے حنا کے نہ اتارے ہوئے جوتوں پر نظر ڈالی، پھر دروازے کے ایک طرف رکھے نامی کارڈز والی چھوٹی میز کی طرف گیا۔ کھانے کے بعد بیٹھک کے لیے جگہیں رکھی گئی تھیں، ہر کشن کے سامنے ایک نام۔ ایک کارڈ پر قلم سے تازہ لکھا تھا: “سدرہ”۔ اس کے نیچے سے پرانا نشان جھلک رہا تھا، جیسے پہلے کچھ اور لکھا گیا ہو۔
مائرہ جلدی سے بولی، “وہ بس ترتیب بدلنی پڑی—” فہد نے اس کی بات پوری نہ ہونے دی، نہ تیز آواز سے، نہ ڈانٹ کر۔ اس نے وہ کارڈ اٹھایا، پلٹا، اور میز کے نیچے رکھ دیا۔ پھر خالی کارڈز کے ڈبے میں ہاتھ ڈالا، ایک نکالا، اس پر کچھ لکھا، اور ڈرائنگ روم کے اندر دائیں طرف والی جگہ کے سامنے رکھ آیا۔ واپس آ کر اس نے دروازہ پورا کھول دیا۔ “اگر آئیں گی تو سامنے بیٹھیں گی۔ ورنہ یہ جگہ خالی رہے گی۔” بس اتنا۔
کمرے میں موجود عورتوں نے گردنیں موڑیں، ایک خالہ نے چائے کا کپ ذرا نیچے کر لیا، مائرہ کا چہرہ ایک دم سخت ہو کر پھر نرم پڑا۔ سدرہ، جو اندر پہلے سے بیٹھی تھی، آدھی اٹھی، پھر سمجھ نہ پائی کہ کہاں جائے۔ خالہ نسرین نے ہونٹ سکیڑے، گویا یہ خرچ ان کے حساب میں شامل نہیں تھا۔ یہی فوری قیمت تھی؛ کوئی تالی نہیں، کوئی مسکراہٹوں کا سیلاب نہیں، صرف اتنا کہ اب وہ جگہ کسی اور کے لیے دستیاب نہ رہی۔ دروازے پر کھڑی حنا کے لیے وقت ایک دھاگے کی طرح تن گیا۔
حنا نے فہد کی طرف دیکھا نہیں۔ اس نے مائرہ کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا، “میں کام کرنے آئی ہوتی تو کچن میں چلی جاتی۔” پھر اس نے اپنے جوتے اتارے، دہلیز پار کی، اور سیدھی اسی جگہ جا کر بیٹھ گئی جہاں کارڈ رکھا تھا۔ کسی نے اس کا تعارف نہیں کرایا، کسی نے معافی نہیں مانگی، مگر سدرہ دوسری طرف سمٹ گئی اور مائرہ نے ہاتھ بڑھا کر وہ خالی پڑا کشن کسی اور کے آگے نہیں کھسکایا۔ باتیں واپس شروع ہو گئیں، مگر ترتیب بدل چکی تھی۔
بعد میں، رات ڈھلنے پر، فہد اسے فلیٹ تک چھوڑنے آیا۔ موٹر بائیک نیچے کھڑی تھی، گلی میں بھنے ہوئے مکئی والے کی خوشبو اور سیلن ایک ساتھ تھی۔ اوپر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ ایک بار رکا۔ “میں پہلے بول سکتا تھا۔” حنا نے چابی نکالتے ہوئے کہا، “آج تم نے جگہ بدلی، بات نہیں۔ اتنا کافی تھا۔” یہ رعایت نہیں تھی؛ حد تھی، مگر نرم۔
فلیٹ کے اندر لائٹ جل رہی تھی۔ کچن کے پاس والی شیلف پر تین حصے بھرے ہوئے تھے: ثمن کی چٹنی کی بوتل، انعم کے نوڈلز، ماریہ کا شکر دان۔ حنا کے نام کے نیچے، جہاں عام دنوں میں اس کا مگ اور چائے کی ڈبی ہوتی تھی، ایک صاف خالی خانہ پڑا تھا۔ کنارے پر اس کے پرانے مگ کا ہلکا گول نشان اب بھی موجود تھا، مگر کسی نے وہاں اپنی چیز نہیں رکھی تھی۔ حنا نے بیگ سے اپنا مڑا ہوا بیج نکال کر اوپر والے کیل پر ٹانگا، پھر مگ شیلف کے اس خالی حصے میں رکھ دیا۔ اس کے ساتھ ایک بالشت بھر جگہ اب بھی خالی رہی۔ حنا نے اس جگہ کو ہاتھ لگا کر سیدھا کیا اور کچھ بھی اس میں نہ رکھا۔