Fast Fiction

قطار میرے آگے رک گئی

“مہرین، ادھر نہیں۔” دروازے کے پاس کھڑے منتظم نے اس کے ہاتھ سے سنہری لفافہ تقریباً چھین کر بائیں طرف رکھی پلاسٹک کی کرسیوں کی قطار کی طرف اشارہ کیا، “باہر والی سائیڈ پر بیٹھیں۔ اندر والی نشستیں صرف قریبی گھر والوں کے لیے ہیں۔”

آنگن نما داخلی حصے میں روشنیوں کی زرد چمک تھی، پھولوں کی مہک کے نیچے گرم تاروں اور جنریٹر کی بو دبی ہوئی، اور ہر آنے والے کی نظر پہلے کرسیوں پر جا رہی تھی، پھر لوگوں کے چہروں پر۔ مہرین کے ہاتھ میں ابھی تک بس کارڈ کا گھسا ہوا کنارہ دبا ہوا تھا؛ سیدھی دفتر سے آئی تھی، سروس سیکٹر کی تنگ شفٹ کے بعد، وہی کپڑے، وہی بندھی ہوئی تھکن۔ اس نے خود دلہن کے جہیز کے کپڑوں کی فہرست بنائی تھی، تین ہفتے رات گئے تک بھاگی تھی، اور اس گھر میں اس کے تعلق کا حال سب کو معلوم تھا—گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا—مگر ثمنہ خالہ نے ایک ہاتھ سے پورا حساب بدل دیا۔

ثمنہ خالہ نے قریب آ کر منتظم کی بات کو نرم نہیں، پکا کیا۔ “ہاں، یہی ٹھیک ہے۔ آج رسم ہے، ہر ایک کی جگہ دیکھی جاتی ہے۔ کچھ رشتے نام کے ہوتے ہیں، کچھ اصل کے۔” انہوں نے ایک لڑکی کا ہاتھ پکڑا، مروہ، جو ریشمی دوپٹے میں سانس بھی آہستہ لے رہی تھی، اور اسے اندر کی طرف لے گئیں۔ “اسے سامنے والی قطار میں بٹھاؤ۔”

مہرین نے پلاسٹک کی کرسی کی طرف نہیں دیکھا۔ اس نے اپنے ہاتھ سے لفافہ واپس لیا، آہستہ سے کہا، “اگر میں باہر والی ہوں تو میرا دیا ہوا اندر نہ کھولئے گا، خالہ۔ دلہن کو دے دیجیے جب وہ خود لے سکے۔” پھر اس نے لفافہ منتظم کے رجسٹر پر نہیں رکھا۔ سیدھی کھڑی رہی۔ یہ وہ جواب نہیں تھا جس کی ثمنہ خالہ کو توقع تھی؛ ان کی پلک ایک بار تیزی سے جھپکی، جیسے کسی نے ترتیب میں کیل ٹھونک دی ہو۔

پاس کی میز پر چائے کے دو کپ پڑے تھے، ایک کے نیچے ٹھنڈی ہوتی چائے کا دائرہ بن چکا تھا۔ ثمنہ خالہ نے اسے دیکھا بھی نہیں۔ وہ ذرا اونچی آواز میں بولیں تاکہ دروازے پر رکے رشتے دار سن لیں، “ہمیں تقریب سنبھالنی ہے، جذبات نہیں۔ مہرین بیٹا، سمجھداری یہی ہے کہ خود اپنی حد پہچانو۔ سلمان نے بھی کہا ہے آج کوئی تماشا نہیں چاہیے۔”

سلمان کا نام ہوا میں لٹک گیا۔ دو خالائیں قریب سرک آئیں، ایک ماموں نے آنکھیں موڑ کر مروہ کو دیکھا، جیسے اب پہیلی کا جواب واضح ہو گیا ہو۔ اندر کے صحن میں فوٹو گرافر فلیش چلا رہا تھا، اور باہر دروازے پر مہرین کے لیے راستہ تنگ کر دیا گیا۔ ثمنہ خالہ نے ایک اور وار کیا۔ “اور ہاں، اس کی پلیٹ بعد میں بھیج دینا۔ پہلے بڑے لوگ بیٹھیں گے۔”

یہ غلطی نہیں تھی۔ یہ نقشہ تھا۔

مہرین نے پہلی بار مروہ کو غور سے دیکھا۔ لڑکی کے ہاتھ میں دلہن کی طرف سے بھیجی گئی مہندی کی چھوٹی ٹوکری تھی، مگر وہ خود بھی گھبرائی ہوئی تھی۔ ثمنہ خالہ نے اس کے کندھے پر ملکیت والا ہاتھ رکھا ہوا تھا۔ “یہ ہے ہماری پسند، صاف، مناسب، بےشور۔” پھر مہرین کی طرف دیکھا، “جو تعلق چھپ چھپ کے چلے، اسے دروازے پر جگہ نہیں ملتی۔”

“چھپ کے؟” مہرین کی آواز دھیمی تھی، مگر قریب کھڑے تین آدمی سننے کے لیے خود بخود رک گئے۔ “خالہ، آپ نے ہی دو سال کہا تھا ابھی کسی کو کچھ نہ بتانا۔ جب حارث بھائی کے کاروبار میں پیسے پھنسے ہوئے تھے، جب سلمان کی نوکری بدل رہی تھی، جب آپ کو لگتا تھا خبر نکلنے سے بات بگڑ جائے گی۔ اب اسی خاموشی کو میرے خلاف نہ بیچئے۔”

ثمنہ خالہ کے منہ کا زاویہ کسا، مگر انہوں نے فوراً منتظم کو پکارا، “رجسٹر میں مروہ کا نام اوپر کر دو۔ اور مہرین کو خواتین والی باہر کی طرف رکھو۔” رجسٹر سرک کر سامنے آیا۔ ناموں کے آگے نشستوں کے نشان لگے تھے۔ منتظم نے قلم اٹھایا۔ یہی اصل دھکا تھا: نام، جگہ، لائن—سب کے سامنے۔

مہرین نے رجسٹر پر ہاتھ نہیں رکھا۔ وہ ایک قدم ہٹی، تاکہ سب دیکھیں کہ اسے پیچھے کیا جا رہا ہے، مگر وہ جھکی نہیں۔ “لکھ لیجیے،” اس نے کہا، “جھوٹ کاغذ پر جلدی اچھا لگنے لگتا ہے۔”

اسی وقت اندر والے راستے سے ہال مینیجر جیسا ایک آدمی تیزی سے نکلا، ساتھ دو لڑکے، اور اس کے پیچھے حارث۔ حارث عام طور پر ہنستا رہتا تھا، مگر اس وقت اس کی گردن کے پٹھے سخت تھے۔ اس نے ایک نظر رجسٹر پر ڈالی، پھر سیدھا مہرین کی طرف آیا۔ منتظم فوراً سیدھا ہو گیا۔ “مہرین صاحبہ، آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں؟” اس نے ایسی ادب والی آواز میں کہا جو ابھی تک مروہ کے لیے بھی استعمال نہیں ہوئی تھی۔ “آپ کے لیے اندر والی نشست روکی گئی ہے۔”

قریب کھڑی عورتوں کے چہروں پر ایک ساتھ حرکت آئی۔ منتظم نے فوراً رجسٹر بند نہیں کیا، بس ہاتھ وہیں رک گیا۔ حارث نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، “دلہن کی طرف سے جو مہمانوں کی آخری فہرست آئی تھی، اس میں نام اوپر ہے۔ راستہ خالی کیجیے۔”

یہ پہلا دراڑ تھا، اور سب نے اسے سنا۔

ثمنہ خالہ نے فوراً رخ بدلا۔ “حارث، تم بچے ہو، تمہیں پوری بات نہیں معلوم۔ فہرستیں بعد میں بھی بدلتی ہیں۔ ہم بزرگ بیٹھک کے حساب سے چلا رہے ہیں۔” انہوں نے مروہ کو ذرا اور آگے کیا، جیسے چیز کو سامنے رکھ دینے سے حقیقت مضبوط ہو جائے۔ “پہلے جسے گھر والے مانیں گے، وہی اندر جائے گی۔”

حارث نے جواب نہیں دیا۔ اس کا سر سلمان کو ڈھونڈ رہا تھا، اور سلمان اسی لمحے اندر سے نکلا۔ آف وائٹ شیروانی، تھکا ہوا چہرہ، مگر قدم تیز۔ مہرین نے ایک لمحے کو اس کے چہرے پر وہی ہچکچاہٹ دیکھی جس نے پچھلے چھ ماہ سے سب خراب کیا تھا۔ وہ آدمی جو نجی میں سیدھا تھا، مجمع میں ہمیشہ ایک سانس دیر سے بولتا تھا۔

ثمنہ خالہ نے اس دیر کو پکڑ لیا۔ اونچی آواز میں بولیں، “سلمان، اچھا ہوا تم آ گئے۔ ہم بس ترتیب ٹھیک کر رہے ہیں۔ دلہن کے اسٹیج کے پاس والی قطار میں مروہ بیٹھے گی۔ اور مہرین عورتوں کی باہر والی جانب—بعد میں آرام سے آ جائے گی۔ رسمیں پہلے ہیں، جذبات بعد میں۔”

ایک لمحے کو آنگن کی ساری آوازیں الگ الگ سنائی دینے لگیں: پلیٹوں کی کھنک، دور سے آتی قوالی، برآمدے کی ٹیوب لائٹ کی بھنبھناہٹ، اور کسی بچے کا روکا ہوا رونا۔ سلمان نے مہرین کو دیکھا۔ اس کے چہرے پر کوئی منت نہ تھی، بس وہی بند دروازہ تھا جو اس نے پہلے اپنے اندر لگایا تھا۔ اگر وہ اب بھی خاموش رہتا تو سارا مجمع اسی خاموشی کو فیصلہ مان لیتا۔

سلمان نے مروہ کے ہاتھ سے مہندی کی ٹوکری نہیں لی۔ وہ رجسٹر کی میز تک آیا، بندھی ہوئی کرسیوں کے درمیان سے گزرتا ہوا، اور اپنے ہاتھ سے رجسٹر کھول دیا۔ اس کے اندر سفید کارڈ پھنسے تھے جن پر نشستوں کے نمبر لکھے تھے۔ اس نے اوپر والا کارڈ نکالا، “اسٹیج-اے۔” ثمنہ خالہ کے چہرے پر ایک جیت سی آئی—پھر وہ جیت وہیں رک گئی۔

سلمان نے وہ کارڈ مہرین کی طرف بڑھایا۔ “یہ آپ کی جگہ ہے۔” اس نے “تم” نہیں کہا، “آپ” کہا، وہ لفظ جس نے ایک دم سب کے جسموں کی سمت بدل دی۔ پھر اس نے منتظم کی طرف دیکھ کر کہا، “مرکزی راستہ خالی کرو۔ مہرین پہلے اندر جائیں گی۔”

ثمنہ خالہ نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔ “سلمان، ہوش سے۔ تم اپنی ماں کو سب کے سامنے کاٹ رہے ہو؟”

“آپ نے پہلے مجھے سب کے سامنے باندھا تھا، امی۔” اس کی آواز بلند نہیں ہوئی، مگر سخت ہو گئی۔ “دو سال جس رشتے کو آپ نے خود روکے رکھا، آج اسی کو جھوٹا کہہ کر کسی اور کا نام اوپر نہیں رکھیں گی۔”

یہ ابھی فیصلہ نہیں تھا؛ یہ اعلان کا دہانہ تھا۔ ثمنہ خالہ نے آخری زور لگایا۔ وہ ایک قدم آگے بڑھیں اور خود مہرین کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئیں۔ “اگر یہ اندر گئی تو میں اسٹیج پر نہیں بیٹھوں گی۔ سب دیکھ رہے ہیں۔ اپنی بہن کی شادی میں ماں کی عزت خاک میں ملا دو۔ بہت شوق ہے تو بعد میں نکاح پڑھا لینا، آج رسمیں خراب مت کرو۔ مروہ، ادھر آؤ۔” انہوں نے منتظم کو جھڑکا، “کارڈ واپس لو۔”

منتظم کا ہاتھ آگے بڑھا، پھر رک گیا۔ اس کی اپنی مصلحت تھی؛ غلط شخص کے ہاتھ سے کارڈ لینا نوکری کے ساتھ رسوائی بھی بن سکتا تھا۔ دو چچا قریب آ گئے۔ ایک نے داڑھی سہلاتے ہوئے کہا، “بچے، ماں کی بات رکھ لو، بعد میں جو کرنا ہو کر لینا۔” یہی وہ لمحہ تھا جب پیچھے ہٹنا آسان اور مہنگا دونوں تھا۔

مہرین نے سلمان کے ہاتھ سے کارڈ نہیں لیا۔ پہلے اس نے ثمنہ خالہ کی طرف دیکھا۔ “آپ مجھے باہر بٹھا سکتی تھیں، خاموش بھی کرا سکتی تھیں۔ مگر آپ نے مجھے جھوٹا بھی کہا۔ اب میں باہر نہیں جاؤں گی صرف اس لیے کہ آپ کی کہی ہوئی بات سچی لگے۔” پھر اس نے سب کے سامنے رجسٹر کی میز اپنی طرف کھینچ لی۔ قلم اٹھایا۔ مروہ کے نام کے سامنے لگایا گیا اسٹیج کا نشان ایک سیدھی لکیر سے کاٹ دیا۔

لوگ سچ مچ آگے کو جھکے۔

مہرین نے خالی جگہ میں اپنا نام نہیں لکھا۔ اس نے کارڈ سلمان کے ہاتھ سے لیا، خود رجسٹر کے اوپر رکھ دیا، تاکہ ہر دیکھنے والے کو ایک ہی چیز نظر آئے: اسٹیج-اے، مہرین کے ہاتھ کے نیچے۔ پھر منتظم سے کہا، “مرکزی راستہ کھولو۔ اور اندر والی پہلی قطار میں ایک کرسی کم نہیں، ایک کرسی آگے کرو۔ میں کنارے پر نہیں بیٹھوں گی۔”

یہاں کمرہ نہیں پلٹا، لوگ پلٹے۔ منتظم فوراً سیدھا ہوا، رسی ایک طرف کی، اور اندر جانے والی لائن واقعی ٹوٹ گئی۔ جو دو خاندانوں کے بیچ رسمی قطار بنی ہوئی تھی، وہ مہرین کے سامنے سے کھل گئی۔ ایک خالہ جو ابھی تک مروہ کو تسلی دے رہی تھیں، خود ہٹ گئیں۔ مروہ نے اپنی ٹوکری نیچے کر لی۔ ثمنہ خالہ کے ہونٹ کھلے، مگر آواز فوراً نہیں نکلی۔

سلمان نے اسی وقفے میں دوسرا وار کیا، جو واپس نہ لیا جا سکتا تھا۔ اس نے اونچی آواز میں کہا، “دلہن کے پاس جو نشست میری طرف سے مخصوص تھی، وہ مہرین کی ہے۔ اور سن لیں—اسے کسی تعارف کی ضرورت نہیں۔ جسے مسئلہ ہو، وہ مجھ سے کرے، اس سے نہیں۔”

یہ جملہ محبت کا نہیں، صف بندی کا تھا۔ چچا جو ابھی نصیحت پر کھڑے تھے، ایک دم خاموش ہو گئے۔ ثمنہ خالہ کا ہاتھ ہوا میں رہ گیا، جیسے کسی نے ان کی کمان سے ڈوری کھینچ لی ہو۔ ان کے پیچھے کھڑی دو عورتیں خود بخود ایک قدم پیچھے ہوئیں، اور یہی پیچھے ہٹنا ان کے منہ سے نکلنے والے کسی بھی لفظ سے زیادہ ذلت ناک تھا۔

ثمنہ خالہ نے آخری بار حکم کے لہجے میں کہا، “کوئی نہیں ہلے گا۔” مگر اسی لمحے دلہن کی پھوپھی، جو اب تک تماشائی بنی ہوئی تھیں اور جن کے لیے تقریب کا بہاؤ سب سے بڑا مسئلہ تھا، آگے بڑھیں اور منتظم سے بولیں، “کیا سن نہیں رہے؟ راستہ صاف کرو۔ لڑکی کو لے جاؤ۔ رسم رکواؤ گے کیا؟” ان کے لیے سچ کم، خرچہ اور وقت زیادہ اہم تھا؛ مگر ان کی مصلحت بھی اب مہرین کے حق میں جھک گئی تھی۔ بس اتنا کافی تھا۔

مہرین نے ثمنہ خالہ کے برابر سے گزرنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ سیدھی ان کے سامنے رکی۔ کارڈ اپنے کلچ کے اوپر رکھا، اور دھیمی آواز میں کہا، “آج آپ نے میری جگہ چھوڑی نہیں۔ اب میں خود لے رہی ہوں۔” پھر وہ رکی نہیں۔

مرکزی راستے کی سفید چادر پر چلتے ہوئے اسے پشت پر نظریں محسوس ہوئیں، مگر پہلی بار ان نظروں میں ترس یا شک نہیں تھا؛ حساب تھا، نیا، کڑوا حساب۔ اسٹیج کے قریب پہنچ کر اس نے دیکھا پہلی قطار کی ایک کرسی واقعی آگے سرکائی جا چکی تھی۔ کنارے کی نہیں، سامنے سے پڑھی جانے والی جگہ۔ سلمان ایک قدم پیچھے رکا، جیسے اب حد وہی طے کرے گی۔

اس نے بیٹھنے سے پہلے کرسی کی پشت کو ہاتھ لگایا، پھر منتظم سے کہا، “یہ کرسی دلہن کی خالہ کے لیے چھوڑ دیجیے۔ میری والی اس کے ساتھ نہیں، اس کے بعد ہوگی۔” یہ رعایت نہیں تھی؛ ترتیب کی آخری کٹائی تھی۔ ماں کی عزت کے نام پر جو جال بچھایا گیا تھا، اسی میں ثمنہ خالہ کو ایک نشست تو ملی، مگر اوپر والی نہیں۔ مہرین نے اپنی جگہ خود پڑھی، خود رکھی، خود سنبھالی۔

رسم ختم ہونے کے بعد اوپر والے حصے کی طرف سیڑھیاں جاتی تھیں جہاں قریبی لوگ مختصر ملاقات کے لیے جا رہے تھے۔ برآمدے کی ٹیو ب لائٹ اب بھی ہلکی بھنبھناہٹ کے ساتھ جل رہی تھی، اور ایک کونے میں رکھا کھانے کا ڈبہ ٹھنڈا پڑا تھا، کسی بچے کے لیے نکالا گیا ہوگا پھر بھول دیا گیا۔ مہرین سیڑھی کے موڑ پر رکی، ایک ہاتھ ریلنگ پر رکھا۔ نیچے سے قدموں کی آہٹ آئی، پھر وہ ایک زینہ نیچے ٹھہر گئی۔ مہرین نے سر اٹھایا، اوپر کی طرف قدم رکھا، اور پیچھے والے جسم اس سے آگے نکلنے کے بجائے ایک درجہ نیچے رک گئے۔