Fast Fiction

میری نشست سب کے سامنے بدل گئی

“نادیہ کو اندر لے جاؤ، اس کا نام اوپر ہے۔ تم ابھی بنچ پر بیٹھو، مہرین۔”

رجسٹری ونڈو کے سامنے کھڑے لڑکے نے سفید فہرست پر انگلی ٹکائی اور رسی ایک طرف ہٹا دی۔ نادیہ، جسے آج صبح تک کوئی جانتا بھی نہ تھا، ہلکا سا غرور لے کر آگے سرک گئی۔ مہرین کے سامنے دائیں طرف لوہے کی بنچ تھی، جس پر ٹھنڈی چائے کا کپ رکھا تھا اور اس کے نیچے میز نما بازو پر بھورا سا حلقہ جم گیا تھا۔ اوپر ہال کی راہداری میں بلب کی ہلکی بھنبھناہٹ چل رہی تھی۔ صائمہ بھابھی نے مہرین کے بازو کو دو انگلیوں سے چھوا، جیسے مہنگے کپڑے سے دھول جھاڑتی ہوں۔

“بات سمجھا کرو۔ ہر رشتے کو دروازے پر نام نہیں ملتا۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہونے سے کچھ نہیں ہوتا، اعلان الگ چیز ہے۔ بیٹھو۔”

مہرین بیٹھی نہیں۔ اس نے اپنے پرس سے بس کارڈ نکالا، اس کا کونا اتنا گھسا ہوا تھا کہ پلاسٹک کی سفید تہہ باہر آ چکی تھی۔ کارڈ پھر پرس میں رکھا اور سیدھی ونڈو کے سامنے جا کر بولی، “میرا نام اگر نیچے کیا گیا ہے تو میرے سامنے کیجیے۔ چھپا کر نہیں۔”

لڑکے کے ہاتھ رکے۔ بنچ پر بیٹھی خالہ شمیم نے گردن اٹھائی۔ صائمہ بھابھی کی بھنویں ایک لمحے کو جڑ گئیں، پھر وہ ہنسیں، وہی ہنسی جو چہرہ بچانے کے لیے نکالی جاتی ہے۔ “ارے، یہ لڑکی بھی نا۔ تمہیں بلایا کس حیثیت سے ہے، وہ بھی تم جانتی ہو۔ ڈرامہ نہ کرو۔”

یہ ہنسی نئی نہیں تھی۔ تین سال سے مہرین اسی گھر کے ہر نازک وقت میں موجود رہی تھی—کبھی ہسپتال کی رات، کبھی مہندی کے جوڑوں کی سلائی، کبھی قرض میں ڈوبی شادی کے حساب۔ وہ کراچی کے سروس سیکٹر میں ایک ٹریول ڈیسک پر کام کرتی تھی، دن بھر لوگوں کے نام، وقت، نشستیں سنبھالتی، رات کو اسی گھر کے چھوٹے بڑے کام۔ فراز کے ساتھ اس کا تعلق پوشیدہ نہیں تھا؛ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا، صرف صائمہ بھابھی کو یہ اختیار پسند تھا کہ کب اس سچ کو نیچا دکھانا ہے۔

“حیثیت؟” مہرین نے صاف لہجے میں دہرایا۔ “اچھا۔ پھر آپ یہی سب بلند آواز میں کہہ دیجیے تاکہ خالہ بھی سن لیں، ماموں بھی، اور رجسٹری والا بھی۔”

ونڈو کے پاس دو اور عورتیں سرک کر قریب آ گئیں۔ نادیہ نے اپنا دوپٹہ سنبھالا مگر قدم آگے ہی رکھے۔ صائمہ بھابھی نے فوراً کاغذ کھینچا اور رجسٹری والے سے کہا، “اسے چھوڑو۔ پہلے دلہن کے بھائی کی سسرالی طرف سے نادیہ کا اندراج کرو۔ اوپر والی قطار میں۔ پہلی منزل، اسٹیج کے قریب۔”

یہ صرف اندراج نہیں تھا۔ سب جانتے تھے، اوپر والی قطار کا مطلب تھا اپنا آدمی، مانا ہوا رشتہ، گھر کے اندر کی جگہ۔ نیچے والے صحن کے گرد میزیں ہر آنے جانے والے کے لیے تھیں۔ مہرین کے پیچھے بنچ پر بیٹھی ایک کزن نے دوسری کے کان میں آہستہ کہا، “پہلے اسی کو تو ساتھ لانے کی بات تھی نا؟”

صائمہ بھابھی نے سن لیا۔ انہوں نے فوراً آواز اونچی کی۔ “باتیں بہت ہوتی ہیں۔ آخر میں گھر کی عزت دیکھی جاتی ہے۔ جو نام رجسٹر پر چڑھے گا، وہی مانا جائے گا۔”

مہرین نے پہلی بار نادیہ کو غور سے دیکھا۔ لڑکی پریشان تھی، مغرور کم۔ شاید اسے بھی پوری بساط معلوم نہ تھی۔ لیکن ظلم جب کسی اور کے ذریعے کیا جائے تو دکھ کم نہیں ہوتا۔ مہرین نے بنچ کے کنارے پڑا ٹھنڈا کھانے کا ڈبہ اٹھایا، جس پر اس کا نام مارکر سے لکھا تھا۔ صبح اسے یہاں بٹھا کر کہا گیا تھا، “کچھ کھا لو، پھر دیکھتے ہیں۔” ڈبہ اب ٹھنڈا پتھر بن چکا تھا۔ اس نے ڈبہ ونڈو کی تنگ چوکھٹ پر رکھ دیا، ٹھک کی آواز ہوئی، اور سب کی نظر ادھر مڑی۔

“یہ میرا کھانا ہے، میری جگہ نہیں،” اس نے کہا۔ “اگر مجھے نیچے بٹھانا ہے تو کاغذ پر لکھیے کہ میں صرف کام کے لیے آئی ہوں۔ اور اگر نہیں لکھ سکتے تو راستہ صاف رکھیے۔”

یہ پہلا دراڑ تھا۔ رجسٹری والا لڑکا، جو ابھی تک صائمہ کے اشارے پر چل رہا تھا، فہرست کو دیکھنے لگا جیسے اسے واقعی پڑھنا پڑے۔ خالہ شمیم بنچ سے اٹھیں اور اپنی چھڑی ٹک ٹک کرتی ونڈو کے قریب لے آئیں۔ “صائمہ، صاف بات کرو۔ لڑکی کو ذلیل کر کے اوپر والی قطار بھرتی ہو تو نام تمہارا خراب ہوگا، ہمارا نہیں۔”

صائمہ بھابھی کو خالہ کے سامنے نرم ہونا چاہیے تھا، مگر انہوں نے الٹا حملہ کیا۔ “خالہ، آپ کو پوری بات نہیں معلوم۔ فراز بیرون شہر کے کلائنٹ سے نمٹ رہا تھا، اسی لیے دیر ہوئی۔ اس نے کچھ طے نہیں کیا۔ یہ لڑکی خود کو آگے رکھتی آئی ہے۔”

مہرین نے جواب میں فراز کا نام نہیں لیا۔ اس نے رسی کے موٹے سروں کو دیکھا جو دو اسٹینڈوں کے بیچ لٹک رہی تھی اور لوگوں کو ایک قطار میں رکھتی تھی۔ نادیہ اس کے آگے تھی، صائمہ ونڈو سے جڑی ہوئی، اور پیچھے رشتہ دار تماشے کی طرح اکٹھے ہو رہے تھے۔ اگر وہ اسی ترتیب میں کھڑی رہی تو اگلے دو منٹ میں نادیہ کا اندراج ہو جاتا، پھر ہر بات ختم۔

مہرین اچانک بائیں طرف سے نکل کر بنچ اور اسٹینڈ کے بیچ کی تنگ جگہ میں گھس گئی۔ اس کے دوپٹے کا کنارہ رسی سے اٹکا، وہ پل بھر کو کھنچا، پھر اس نے خود رسی اٹھا کر اپنے آگے سے نکال دی۔ قطار ٹوٹی۔ نادیہ چونک کر ایک قدم پیچھے ہوئی۔ خالہ شمیم کی چھڑی اسٹینڈ سے ٹکرائی۔ رجسٹری والا لڑکا بے اختیار بولا، “بی بی، لائن—”

“ابھی بنی ہی کہاں تھی؟” مہرین نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔ “جھوٹ کو قطار کہہ دینے سے وہ حق نہیں ہو جاتا۔”

تنگ جگہ میں بدن بدل گئے۔ ایک ماموں زاد، جو پہلے نادیہ کے لیے راستہ بنا رہا تھا، خود دیوار سے لگ گیا۔ نادیہ اب مہرین کے بالکل پہلو میں تھی، مگر پہلے نمبر پر نہیں۔ صائمہ بھابھی کا چہرہ بدل گیا۔ پہلی بار ان کی آواز میں دراڑ آئی۔ “ہٹو وہاں سے۔ تمہیں کس نے اختیار دیا؟”

“جس نے تین سال مجھ سے ہر مشکل میں اختیار لیا تھا، اسی نے،” مہرین نے کہا۔ “فرق صرف یہ ہے کہ آج میں واپس رکھ رہی ہوں۔”

راہداری کی بھنبھناہٹ کے نیچے دور سے مردوں کے جوتوں کی جلدی چاپ سنائی دی۔ پھر فراز نظر آیا—کالی شیروانی، گردن کے پاس ڈھیلا بٹن، چہرے پر وہ تھکن جو سارا دن فیصلے ملتوی کرتے کرتے آتی ہے۔ وہ شاید سیدھا اسٹیج کی طرف جانا چاہتا تھا، مگر ونڈو کے باہر جمع چہروں اور صائمہ کی تیز آواز نے اسے روک لیا۔

صائمہ بھابھی فوراً اس کی طرف مڑیں۔ “اچھا ہوا تم آ گئے۔ بس یہاں ایک غلط فہمی ہے۔ نادیہ کا نام اوپر درج کرا رہے ہیں۔ تم بعد میں—”

“بعد میں کیوں؟” خالہ شمیم کی آواز چھڑی کی طرح سیدھی گئی۔ “یہیں کرو۔ ابھی کرو۔ جس کا نام ہے، وہ بولو۔”

اب راہداری اتنی تنگ محسوس ہو رہی تھی کہ سانس بھی صف بندی مانگ رہی تھی۔ رجسٹری ونڈو پر سبز مخمل کے دو گول میزبان نشان رکھے تھے، سنہری دھاگے سے کڑھے ہوئے—ایک دلہن کی خالہ کے لیے، ایک دولہے کے خصوصی مہمان کے لیے۔ جن کے کپڑوں پر یہ لگ جائے، انہیں اوپر والی سیڑھی، سامنے کی قطار اور اسٹیج کے قریب داخلہ ملتا۔ صائمہ نے ایک نشان پہلے ہی اٹھا کر نادیہ کے دوپٹے کے پاس رکھ دیا تھا، ابھی لگایا نہیں تھا؛ شاید رسمی تصدیق کے لیے فراز کے آنے کا انتظار تھا۔

فراز نے پہلے مہرین کو دیکھا۔ اس کے دوپٹے کا کنارہ رسی سے آزاد ہو کر کاندھے پر ٹیڑھا پڑا تھا۔ ہاتھ ونڈو کے کنارے پر تھا، جہاں ٹھنڈے ڈبے کے ساتھ چائے کا حلقہ بن چکا تھا۔ پھر اس نے نادیہ کے پاس رکھا میزبان نشان دیکھا، پھر صائمہ کے ہاتھ کو۔

“یہ کس نے رکھا؟” اس نے آہستہ پوچھا۔

“میں نے،” صائمہ بولیں، اب بھی حکم کے لہجے میں۔ “گھر کی بہتری کے لیے۔ تم ہر بات کو لفظ نہیں دیتے، ہم دیتے ہیں۔ نادیہ مناسب ہے۔ مہرین کو نیچے بٹھا دو۔”

مہرین نے اسی لمحے اپنی آخری بات خود رکھی، کسی کی وکالت میں نہیں۔ “فراز، اگر میں نیچے کی مہمان ہوں تو یہی کہہ دو۔ سب کے سامنے۔ اور اگر میرے لیے اس گھر میں نام نہیں، تو آج کے بعد کام بھی نہیں۔”

یہ سوال نہیں تھا۔ یہی پھندا تھا۔ ونڈو کے پیچھے لڑکے کی انگلی رجسٹر کے خانے پر رکی ہوئی تھی۔ نادیہ نے ہوش میں آ کر ایک کمزور سی مسکراہٹ سجانے کی کوشش کی، مگر اس کے ہونٹ خشک تھے۔ صائمہ بھابھی نے فوراً میزبان نشان اٹھایا کہ ابھی نادیہ کے دوپٹے پر ٹانک دیں اور بات ختم کر دیں۔

فراز نے ان کا ہاتھ کلائی سے نہیں پکڑا، بس نشان ان کی انگلیوں سے لے لیا۔ یہ حرکت اتنی سادہ تھی کہ پہلے کسی کو سمجھ ہی نہ آیا، پھر سب سمجھ گئے۔ اس نے سبز گول نشان اپنی ہتھیلی میں پلٹا، سنہری دھاگہ روشنی میں چمکا، اور وہ سیدھا مہرین کی طرف بڑھا۔

“نام پہلے مہرین کا لکھو،” اس نے رجسٹری والے سے کہا، اتنی صاف آواز میں کہ پیچھے بنچ تک پہنچی۔ “اوپر والی قطار۔ میرے ساتھ۔”

صائمہ بھابھی نے فوراً کاٹا، “فراز، یہ شادی کا دن ہے، ضد نہ—”

“ضد آپ کر رہی تھیں۔” اس کی نظریں ان پر نہیں، رجسٹر پر تھیں۔ “لکھو۔ مہرین فاطمہ۔ خصوصی مہمان نہیں—میرے خاندان کی پہلی نشست۔”

لفظ گرنے کے بعد راہداری کا شور ایک عجیب ترتیب میں بکھرا۔ رجسٹری والے لڑکے نے فوراً قلم چلایا، جیسے دیر کرنا اب خطرناک ہو۔ اس نے نادیہ کی طرف بڑھا ہوا کارڈ واپس کھینچا، نام کی قطار خالی چھوڑی، اور کھانے کے ڈبے کو کنارے کر کے رجسٹر مہرین کی طرف گھما دیا۔ خالہ شمیم نے چھڑی سے بنچ کو ذرا پیچھے دھکیلا تاکہ راستہ کھلے۔ نادیہ ایک قدم ہٹی، پھر دوسرا؛ اس کے کانوں کے جھمکے ہلکے سے بجے اور وہ خود بخود دیوار کے ساتھ لگ گئی۔ صائمہ بھابھی کا ہاتھ ہوا میں رکا رہا، جیسے اب بھی کوئی چیز پکڑے ہو، حالانکہ نشان جا چکا تھا۔

فراز نے سبز میزبان نشان خود مہرین کے دوپٹے پر لگایا۔ پن کپڑے میں دھنسنے کی چھوٹی سی ٹک سب نے سنی۔ سنہری دھاگے کا دائرہ اس کے سینے کے پاس جم گیا۔ پھر اس نے رسی ایک طرف کی، مگر اس بار کسی عام مہمان کے لیے نہیں؛ مہرین کے لیے۔ “پہلے یہ جائیں گی۔”

یہی وہ وار تھا جس نے بات ختم نہیں، ترتیب بدل دی۔ صائمہ بھابھی نے بولنے کی کوشش کی، مگر آواز پوری نہ نکلی۔ ان کا اختیار سب کے سامنے ایک نشان کے ساتھ ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ نادیہ نے خود سے پیچھے ہٹ کر راستہ خالی کیا؛ اس کے چہرے پر شرمندگی اور راحت دونوں تھیں، جیسے اسے غلط جگہ بٹھا کر چھوڑ دیا گیا ہو اور اب کسی نے اصل نشست بتا دی ہو۔ رجسٹری والا لڑکا جو پہلے “بیٹھو” کہہ رہا تھا، اب دونوں ہاتھوں سے ونڈو کھول کر کھڑا تھا۔ “جی، بی بی، اوپر والا راستہ سیدھا کھلا ہے۔”

مہرین نے رجسٹر پر اپنا نام دیکھا، پھر قلم اٹھا کر دستخط کیے۔ ہاتھ نہیں کانپا۔ دستخط کے نیچے فراز نے اپنا نام نہیں جوڑا؛ ضرورت نہیں رہی تھی۔ نشان کافی تھا، نام کافی تھا، کھلی رسی کافی تھی۔ اس نے ٹھنڈے کھانے کا ڈبہ واپس اٹھایا اور خالہ شمیم کی بنچ پر رکھ دیا، جیسے کسی جھوٹی منتظر جگہ کو لوٹا رہی ہو۔

صائمہ بھابھی نے آخر ایک ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا، “تم یہ سب سب کے سامنے کرو گے؟”

مہرین نے ان کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا، “آپ نے بھی تو یہی جگہ چنی تھی۔”

وہ رسی کے پار گئی، ونڈو سے آگے مڑی، اور اوپر جانے والی سیڑھی کے پہلے موڑ تک پہنچی۔ وہاں سرخ کپڑے کا پردہ آدھا ہٹا تھا، اس کے کنارے پر پرانی گرفت کا سیاہ نشان تھا۔ مہرین نے ایک ہاتھ سے دوپٹہ سنبھالا، دوسرے ہاتھ سے اپنے سینے پر لگا سبز میزبان نشان سیدھا کیا، پھر سیڑھی کے موڑ پر سب سے پہلے قدم رکھا۔ اس کے پیچھے، نیچے والی سیڑھی پر رکی ہوئی صف وہیں تھم گئی، اور دہلیز کا کپڑا ہل کر خاموش لٹک گیا۔