Fast Fiction

ایک لمحے میں سارا حلقہ بدل گیا

ندا باجی نے حنا کے ہاتھ سے مہمانوں کی فہرست چھین کر کہا، “تم سامنے والے دروازے پر نہیں کھڑی ہو گی۔ برتن والوں کے پاس جاؤ۔ اندر آنے والوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے اپنی ہی لڑکیاں کافی ہیں۔” صحن کے داخلی حلقے میں سب نے یہ دیکھا؛ لائٹوں کی پیلی چمک، دروازے کے اوپر لٹکے گجرے، اور حنا کی انگلیوں میں دبی وہ چابی بھی جسے وہ دیر سے واپس لائی تھی۔ چابی کے کنارے پر پرانی سیاہی کا نشان تھا، وہی جو اس کے پرس میں روزانہ قلم کے ساتھ رگڑ کھا کر جم گیا تھا۔ ندا نے چابی بھی دو انگلیوں سے ایسے لی جیسے کوئی چیز عارضی طور پر دی گئی ہو، حق سے نہیں۔

حنا نے صرف ایک لمحہ دروازے کی چوکھٹ میں ٹھہر کر اندر دیکھا۔ آج سلمان کے بڑے بھائی کا نکاح تھا، اور گھر میں سب کو پتہ تھا کہ پچھلے چھ مہینے سے خریداری، کیٹرر، کرسیاں، لڑکی والوں کے فون، یہاں تک کہ بجلی کے اضافی میٹر تک، آدھا بوجھ اسی نے اٹھایا تھا۔ پھر بھی نام کہیں نہیں۔ حیثیت؟ برتن والوں کے پاس۔ ندا باجی کی آواز جان بوجھ کر اونچی تھی، “اور دیکھو، دلہن والوں کے سامنے زیادہ مت بولنا۔ ہر کام کرنے سے کوئی گھر کی نہیں بن جاتی۔”

حنا نے فہرست واپس مانگنے کے بجائے امام دین کیٹرر کے لڑکے کے ہاتھ سے پانی کی سپلائی والی پرچی لی، اس پر ایک نظر ڈالی، اور سیدھا پچھلے نلکے کی طرف مڑ گئی۔ “ٹنکی آدھے گھنٹے میں خالی ہو گی۔ بڑے دیگچے ابھی مت چڑھاؤ۔ پہلے جوس والے ڈرم ادھر کر دو، سایہ میں۔” اس نے کہا اور دو مزدوروں کو ہاتھ سے راستہ دکھا دیا۔ ندا کو شاید یہی توقع تھی کہ وہ زخم کھا کر الگ ہو جائے گی؛ اس نے پلٹ کر دیکھا تو حنا پہلے ہی کام کے بیچ کھڑی تھی، جیسے سامنے سے ہٹانے کے بدلے اس نے پچھلا دروازہ اپنے قبضے میں لے لیا ہو۔

پہلا رخنہ وہیں پڑا۔ دلہن والوں کی ایک عمر رسیدہ پھوپھی، جو گاڑی سے اترتے ہی پسینے میں بھیگ گئی تھیں، سیدھی ندا کے پاس گئیں، مگر ندا اپنے دوپٹے اور تصویروں میں الجھی رہی۔ پھوپھی نے گردن گھما کر پوچھا، “بیٹی، خواتین کا واش روم کدھر ہے؟” سوال حنا سے ہوا۔ حنا نے فوراً ایک بچی کو اشارہ کیا، “عائشہ، خالہ کو اوپر والے کمرے تک چھوڑ آؤ، اور راستے میں برف والا جگ بھی لے جانا۔” پھوپھی نے جاتے جاتے ندا نہیں، حنا کو دعا دی۔ قریب کھڑے لڑکے نے کرسیاں رکھنے سے پہلے بھی اسی سے پوچھا، “باجی، یہ قطار یہاں ٹھیک ہے؟”

ندا باجی نے ہنسی میں زہر ملا کر کہا، “لو، اب سب اسی سے پوچھیں گے؟ اس کو بس عادت ہے بیچ میں آنے کی۔” لیکن اب ایک نہیں، تین آوازیں تھیں۔ امام دین خود آ کر بولا، “بی بی، مٹن کے دیگچے کس وقت اتارنے ہیں؟” پھر ساؤنڈ والے نے مائیک کی تار ہاتھ میں پکڑ کر پوچھا، “قوالی سے پہلے اعلان ہوگا یا بعد میں؟” اور دروازے پر پھنسے رکشوں کے بیچ ایک ماموں نے پکارا، “حنا! لڑکی والوں کی پانچ گاڑیاں اور آ رہی ہیں، پارکنگ کس طرف کروائیں؟”

یہ سب ندا کے سامنے ہوا۔ صحن کے کھلے حلقے میں لوگوں کے سر ایک سمت سے دوسری سمت مڑنے لگے۔ ندا ابھی بھی احکامات دے رہی تھی، مگر ان احکامات کے جواب میں قدم نہیں اٹھ رہے تھے۔ حنا نے پارکنگ والے لڑکے کو ہاتھ اٹھا کر دائیں طرف کے خالی پلاٹ کی طرف دوڑایا، پھر خود برآمدے سے نیچے اتری۔ اس کی چپل کی ایڑی فرش پر چھپ چھپ کرتی رہی، مگر اس کی آواز سیدھی تھی۔ “جو گاڑی میں بزرگ ہیں پہلے ان کو اتارو، پھولوں والے گیٹ کے پاس مت روکنا، راستہ بند ہو رہا ہے۔”

ایک جھٹکے میں معاملہ بدلا جب بجلی دو منٹ کے لیے گئی اور جوس کا فریزر بیٹھ گیا۔ ندا باجی نے فوراً لڑکیوں پر چلانا شروع کیا، “میں کب سے کہہ رہی تھی اس طرف کچھ بھی ٹھیک نہیں رکھا!” مگر تاروں کے پاس کھڑے الیکٹریشن نے اسے نہیں، حنا کو دیکھا۔ “آپ نے ایکسٹینشن کہاں رکھی تھی؟” حنا نے بغیر سوچے اسٹور کی چابی اپنی کلائی سے کھولی، وہی دیر سے واپس کی گئی چابی، اور الیکٹریشن کے ہاتھ پر رکھ دی۔ “سبز ڈبے کے پیچھے۔ اور جنریٹر ابھی پورا لوڈ نہ لو، پہلے فریزر، پھر لائٹس۔” وہ دوڑ کر خود دروازے تک گئی، اسٹور کی چوکھٹ میں ایک لمحہ رکی، پھر اندر سے تاروں کی گٹھڑی اٹھا لائی۔ اس کی آستین پر دھول لگی، ماتھے پر پسینہ آیا، مگر پانچ منٹ بعد برف دوبارہ چلنے لگی۔ جو مہمان ابھی ندا کے گرد کھڑے تھے، ان کے کندھے کھسک کر حنا کی طرف ہو گئے۔ ایک طرف تصویریں، دوسری طرف راستہ۔

صحن کا حلقہ اب صاف دکھا رہا تھا کہ تقریب کس کے ہاتھ پر کھڑی ہے۔ دو کزن لڑکے، جو ابھی تک ندا کے اشارے سے کرسیاں اٹھا رہے تھے، سیدھے حنا کے پاس آئے۔ ایک نے پوچھا، “کھانے کی دوسری قطار کب کھولنی ہے؟” دوسرے نے کہا، “ماموں جان پوچھ رہے ہیں ووٹنگ کارڈ کہاں ہیں؟” نکاح سے پہلے خاندانی رسم تھی؛ دلہا کی طرف سے مزاحاً دونوں خاندانوں کے بزرگ ایک رنگین کارڈ اٹھا کر رخصتی کے کھیل میں حصہ لیتے تھے، اور اس سال کارڈ اور ناموں کی ترتیب حنا نے بنائی تھی۔ ندا نے یہ ذمہ داری اپنے نام لگائی تھی، مگر کارڈوں والا ڈبہ کہاں ہے، یہ صرف حنا جانتی تھی۔

سلمان اسی ہنگامے میں اندر آیا۔ سفید کُرتے پر ہلکی سی شکن، چہرے پر وہی خاموشی جو اس کے گھر والوں کو وقار لگتی تھی اور دوسروں کو سردی۔ اس کی منگنی کسی اور سے نہیں تھی، مگر گھر میں سب کو پتہ تھا کہ اس نے حنا کے لیے بات کی تھی، پھر ندا باجی اور خالہ صبیحہ نے معاملہ اس طرح لٹکایا کہ حنا کو “مددگار” رکھ کر “بہو” کہیں اور سے لانے کی گنجائش باقی رہے۔ سلمان نے ایک نظر صحن کے بہتے ہوئے راستوں پر ڈالی، پھر ندا کے قریب جا کر آہستہ کچھ کہا۔ ندا کا چہرہ ایک دم سخت ہو گیا۔

اگلے ہی لمحے اس نے سب کے سامنے پینترا بدلا۔ “حنا، اب ضد چھوڑو۔ تم اندر آ جاؤ، مگر حد میں رہ کر۔ کارڈ سنبھالو، رجسٹر پکڑو، بزرگوں کے سامنے کھڑی نہ ہونا۔ نام ہم لیں گے، تم صرف کام کرنا۔ اور دیکھو، بعد میں کوئی غلط فہمی نہ رہے۔” اس نے نرم لہجہ اوڑھا تھا، مگر زہر وہی تھا: محنت تمہاری، نام ہمارا، سامنے ہماری لڑکی۔

قریب کھڑے دو ملازم، ایک ماموں، اور دلہن والوں کی وہی پھوپھی سن رہی تھیں۔ خالہ صبیحہ نے فوراً بات سنوارنے کی کوشش کی، “بیٹی، عزت اسی میں ہے کہ گھر والوں کی بات مان لو۔ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے۔” ندا نے فوراً اضافہ کیا، “اور وقت سب کو نہیں ملتا۔ کچھ لوگ بس ساتھ چلتے اچھے لگتے ہیں، آگے نہیں۔”

حنا نے رجسٹر میز پر رکھ دیا۔ اس کا ہاتھ ساکت تھا۔ “میں ساتھ چلنے نہیں آئی تھی، خالہ۔ آپ لوگوں نے بلایا تھا کہ کام بکھر نہ جائے۔ کام اب بھی میرے ہاتھ سے ہوگا تو نام بھی صاف ہوگا۔ ورنہ آپ خود کر لیں۔” اس نے اپنی کلائی سے اسٹور کی چابی اتار کر ندا کی طرف بڑھا دی۔ ندا نے لینے میں ایک پل لگایا؛ اتنی سی دیر میں دیکھنے والوں کی سانس تھم گئی۔ چابی واپس کرنا خدمت ختم کرنا بھی تھا، اور حد کھینچنا بھی۔

ندا نے فوراً ہاتھ بڑھایا، مگر اسی وقت صحن کے دوسرے سرے سے آواز اٹھی کہ خاندانی کارڈوں کا وقت ہو گیا۔ بزرگ قالین کے بیچ جمع ہونے لگے۔ سرخ، سبز، سنہری کارڈ ایک تھال میں رکھے تھے، مگر ناموں والی ترتیب غائب تھی۔ ندا نے ایک جھٹکے سے حنا کے سامنے آ کر راستہ روکا۔ “تم حلقے میں نہیں جاؤ گی۔ بس کارڈ دے دو۔” یہی آخری روک تھی، کھلی، سب کے سامنے، جہاں انکار بھی دیکھا جانا تھا اور اطاعت بھی۔

سلمان نے اس بار آہستہ نہیں بولا۔ وہ صحن کے وسط تک آیا، جہاں قالین کے کنارے جوتوں کی بے ترتیب لکیر بنی ہوئی تھی، اور سب کی نگاہ ایک ساتھ ادھر اٹھیں۔ “رکیں،” اس نے کہا۔ ندا نے فوراً مسکرا کر بات سنبھالنی چاہی، “بس ابھی ہو رہا ہے، کارڈ میں چھوٹی سی گڑبڑ تھی—” سلمان نے اس کی بات کاٹ دی۔ “گڑبڑ نہیں۔ جس نے پورا انتظام سنبھالا ہے، رجسٹر بھی وہی سنبھالے گی، کارڈ بھی وہی اٹھائے گی، اور میرے گھر کی طرف سے نام بھی وہی پکارے گی۔”

قالین کے گرد کھڑے لوگ جیسے ایک ہی وقت میں ذرا پیچھے ہوئے۔ ندا کے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھال ہلکا سا ڈول گیا؛ دو کارڈ فرش پر پھسل کر گر پڑے۔ یہی پہلا زخم تھا، صاف نظر آنے والا۔ خالہ صبیحہ نے فوراً “سلمان!” کہہ کر دباؤ ڈالنا چاہا، مگر سلمان نے نگاہ تک نہ بدلی۔ “اور واضح سن لیں۔” اس کی آواز اب اتنی اونچی تھی کہ دروازے تک پہنچی۔ “حنا کوئی باہر کی منتظم نہیں۔ جس کا نام آپ لوگ چھپا چھپا کر کاٹتے رہے، میں آج وہ نام خود لے رہا ہوں۔ میرے گھر کی طرف سے آج سے رجسٹر پر پہلا حق اسی کا ہے۔”

ندا باجی کے ہونٹ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ “یہ وقت ہے اس بات کا؟ لوگوں کے سامنے؟” اب اس کی آواز کی سختی میں پہلی بار درخواست گھل گئی۔ یہی دوسرا زخم تھا: حکم سے صفائی تک کا گرنا۔ دو ماموں، جو ابھی تک ندا کی طرف جھکے کھڑے تھے، پلٹ کر سلمان اور حنا کے لیے جگہ بنانے لگے۔ امام دین نے بغیر پوچھے تھال حنا کی طرف کر دیا۔ دلہن والوں کی پھوپھی نے ایک قدم آگے بڑھ کر کہا، “بیٹی، نام تم ہی پڑھو، صاف پڑھتی ہو۔” ایک ایک کر کے کندھے بدل گئے، راستے بدل گئے، سوالوں کا رخ بدل گیا۔ پورا حلقہ واقعی دوسری طرف آ گیا۔

ندا نے آخری کوشش کی۔ “اچھا، نام لو اگر یہی شوق ہے، مگر باتوں کو اور رنگ نہ دو۔ رسم خراب ہو جائے گی۔” اس نے ہاتھ بڑھا کر سبز کارڈ پکڑنا چاہا، جیسے کم از کم آخری اشارہ اس کے ہاتھ میں رہ جائے۔ حنا نے اس کی طرف دیکھ کر کارڈ اپنی گرفت میں سمیٹ لیے اور بہت صاف آواز میں کہا، “رسم میں خرابی نام چھپانے سے آتی ہے، نام لینے سے نہیں۔” پھر اس نے سلمان کی طرف نہیں، بزرگوں کی طرف رخ کیا۔ “گھر کی طرف سے رجسٹر اور کارڈ اب میرے ہاتھ میں ہیں۔ جسے اعتراض ہے، وہ ابھی سب کے سامنے کہہ دے۔”

کسی نے کچھ نہ کہا۔ کہاں سے کہتے؟ ندا کا بڑھا ہوا ہاتھ ہوا میں رہ گیا، پھر آہستہ سے نیچے آ گیا۔ خالہ صبیحہ نے ہونٹ بھیچے اور پیچھے ہٹ گئیں۔ ایک لڑکے نے خود بخود رجسٹر اٹھا کر حنا کے سامنے کھول دیا۔ سلمان ایک قدم کنارے ہو گیا؛ دعویٰ اس نے کیا تھا، مہر اب حنا نے لگانی تھی۔

حنا قالین کے بیچ بنی خالی جگہ میں آ کھڑی ہوئی۔ اس نے تھال سے اوپر والا کارڈ اٹھایا، پھر دوسرا۔ سنہری بارڈر والا سبز کارڈ اس کی انگلیوں میں سیدھا ہو گیا۔ اس پر پڑی پرانی قلم کی خراش روشنی میں ابھر آئی، جیسے اسی کے ہاتھ کی پہچان ہو۔ “پہلا نام،” اس نے بلند آواز سے کہا، “گھر کی طرف سے، حنا۔” اور ووٹ والے فرش کے بیچ وہی سبز کارڈ سر سے اوپر اٹھا دیا۔ اس کے گرد کھلا حلقہ ایک دم صاف ہو گیا، راستہ اس کے دونوں طرف چیرتا چلا گیا، اور جو ہاتھ ابھی تک آدھے اٹھے ہوئے تھے، ایک ایک کر کے نیچے گر گئے۔