وہ مجھے بہت دیر سے چنا
کاغذی لفافے کی خشک چرچراہٹ کے ساتھ دروازہ آدھا کھلا اور خالہ شمائلہ نے مائرہ کے سامنے رکھی چائے کی ٹرے ذرا ایک طرف سرکا دی۔ “ارے، یہ تو حارث ہے۔ اندر آؤ بیٹا، وقت پر آ گئے۔” مائرہ کی انگلی کپ کی تشتری کے کنارے پر اٹک گئی۔ بیٹھک میں رشتے کی بات چل رہی تھی، میز پر مٹھائی، خشک میوہ، ایک طرف تحفوں کے ڈبے، اور اس کے برابر اس کا سستا سا دوپٹہ جس پر استری کی لکیر ابھی باقی تھی۔ وہ صبح ہی سروس سیکٹر والی اپنی نوکری سے جلدی آئی تھی، گلے میں بوسیدہ بیج لینیارڈ ابھی تک پڑی تھی، مگر جیسے اس کی محنت کا کوئی وزن نہ ہو—جیسے پرانا حق کسی اور کے پاس محفوظ رکھا گیا ہو۔
حارث دہلیز پر ایک لمحہ رکا، پھر ایسے اندر آیا جیسے اس گھر کے راستے اسے اب بھی یاد ہوں، جیسے کسی نے بیچ کے دو سال گنے ہی نہ ہوں۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا تحفہ تھا، ہلکے سرمئی کاغذ میں لپٹا ہوا۔ “خالہ، امی نے بھی سلام کہا ہے۔ راستے میں تھا، سوچا ملتا چلوں۔ سنا آج گھر میں بیٹھک ہے۔” اس نے آخری جملہ مائرہ کی طرف دیکھے بغیر بولا، مگر بیٹھک کا درجہ فوراً بدل گیا۔ ابھی تک دانش کے گھر والوں کی آمد کا انتظار تھا؛ اب کمرے میں پرانی شناسائی نے جگہ لے لی تھی، اور یہ تبدیلی مائرہ کی مرضی سے باہر ہوئی تھی۔
“راستے میں تھا؟” سعدیہ بھابھی نے ہنسی دبائی، “تمہارے راستے تو اب کلفٹن کے دفاتر سے گزرتے ہیں نا؟ اچھا ہے، پرانے لوگ یاد رہے۔” خالہ شمائلہ نے فوراً بات کو خوش دلی کا نام دیا۔ “اپنے ہی تو ہیں۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا شروع سے، بچپنے کی باتیں تھیں، مگر خیر… اب سب سمجھ دار ہیں۔” وہ “مگر خیر” مائرہ کے کان میں تھپڑ کی طرح لگا۔ بچپنا؟ دو سال کی وہ دوڑ، بسوں میں دھکے، موٹر سائیکل کے شور میں فون پر مستقبل کی باتیں، یونیورسٹی کے بعد نوکری کے فارم بھرنا، سب ایک بزرگ عورت کے ایک فقرے میں ہلکا کر دیا گیا۔
مائرہ نے کپ اٹھایا اور خالہ کے سامنے رکھ دیا۔ “چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے، خالہ۔” وہ بس اتنا بولی، مگر حارث نے وہی پرانی نرمی اوڑھ کر جواب دیا، “تم ابھی بھی بات کا رخ بدل دیتی ہو، مائرہ۔” یہ جملہ کمرے میں ایسا گرا جیسے کسی نے بغیر اجازت اس کی کرسی کھینچ لی ہو۔ دانش کے ماموں، جو ابھی آئے ہی تھے، فوراً مسکرائے۔ “اوہ، پرانی جان پہچان ہے؟ اچھا ہے، پھر لڑکی کے مزاج کا اندازہ ہو جاتا ہے۔” اندازہ۔ مزاج۔ جیسے وہ سامنے رکھی چیز ہو، اور حارث وہ شخص جو اس پر پہلے سے تبصرے کا حق رکھتا ہو۔
دانش خود خاموش بیٹھا تھا، دبلا، عینک والا، بینک میں کام کرنے والا لڑکا، جو اپنی ماں کی طرف دیکھ کر بولتا تھا۔ حارث نے اسی خاموشی کا فائدہ اٹھایا۔ “مائرہ ہمیشہ سے ضدی تھی، مگر دل کی صاف ہے۔ کام میں بہت محنتی۔ کراچی میں خود کو سنبھالنا آسان نہیں ہوتا۔” وہ ہنسا، “اسے یاد دلانا پڑتا تھا کہ ہر جنگ اکیلے نہیں لڑی جاتی۔” اس کے لہجے میں تعریف کم، ملکیت زیادہ تھی۔ خالہ شمائلہ کی آنکھوں میں وہی چمک آئی جو بڑے لوگ تب لاتے ہیں جب انہیں لگے کہ لڑکی کی فائل اچانک زیادہ قیمتی ہو گئی ہے۔ “دیکھا؟ جاننے والے یہی کہتے ہیں۔”
مائرہ کے برابر رکھی چھوٹی سی اسٹیل کی ڈبیا میں دو سموسے ٹھنڈے پڑے تھے، جو وہ دفتر سے واپسی میں لائی تھی اور مصروفی میں کھا نہ سکی۔ اسے بے وقت بھوک کے بجائے غصے کی ہلکی متلی محسوس ہوئی۔ یہ وہی حارث تھا جس نے آخری بار فون پر کہا تھا، “ابھی گھر میں یہ بات نہیں کر سکتا، ابو چاہتے ہیں کہ میں پہلے سیٹل ہو جاؤں… اور سچ یہ ہے مائرہ، تمہاری نوکری، تمہارا حلقہ، سب بہت چھوٹا لگتا ہے۔” پھر اس نے ایک مہینے بعد ایک ڈاکٹر لڑکی کے ساتھ اپنی منگنی کی تصویر لگا دی تھی۔ آج وہ اسی گھر کی بیٹھک میں “دل کی صاف” کہہ رہا تھا، جیسے زبان بدلنے سے ماضی بھی بدل جائے گا۔
دروازے پر پھر آہٹ ہوئی۔ محلے کے لڑکے نے اندر جھانک کر کہا، “باجی، آپ کے دفتر سے کوئی آیا ہے۔ کہہ رہی ہیں ابھی ملنا ضروری ہے۔” خالہ شمائلہ نے بھنویں سکیڑیں۔ “اس وقت؟” اور اس سے پہلے کہ مائرہ اٹھتی، سعدیہ بھابھی باہر گئیں اور ایک عورت کے ساتھ واپس آئیں۔ وہ نائلہ تھی، مائرہ کی یونیورسٹی کی سینیئر، اب اسی کمپنی میں اس کی شعبہ سربراہ۔ ہاتھ میں بھورے رنگ کا بڑا لفافہ تھا، سانس ذرا تیز، چہرہ سیدھا۔ “معاف کیجیے گا، میں دفتر سے سیدھی آئی ہوں۔ مائرہ کا فون مسلسل مصروف تھا۔ یہ اس کے لیے آیا تھا، مگر میں نے سوچا گھر پہنچا دوں۔ ضروری ہے۔”
حارث کے چہرے پر پہلی بار سچ مچ احتیاط اتری۔ “آپ…؟” “نائلہ سلیم۔” وہ کمرے کے بیچ میں رکی۔ “مائرہ کے ساتھ کام کرتی ہوں۔” اس نے لفافہ مائرہ کی طرف بڑھایا، پھر خالہ شمائلہ کے سوالیہ چہرے کو دیکھ کر کہا، “چونکہ آج گھر میں رشتے کی بات ہے، شاید یہ سب کے سامنے کھلنا چاہیے۔” یہ وہ لحظہ تھا جب کمرے کی ہوا بدلنے سے پہلے خود کو روکتی ہے۔ مائرہ نے لفافہ لیا۔ اندر چند پرنٹ شدہ صفحات تھے، اور ایک موٹا سا دعوت نامہ۔ اوپر سنہری حروف میں کسی کارپوریٹ عشائیے کا نام تھا۔ نیچے مدعو افراد کی فہرست۔ حارث بن رفیق کے نام کے ساتھ جوڑا: ڈاکٹر مہروز طاہر۔ تاریخ وہی ہفتہ تھی جب اس نے مائرہ کو کہا تھا، “مجھے تھوڑا وقت دو، میں سب ٹھیک کر دوں گا۔”
نائلہ نے دوسرا صفحہ خالہ شمائلہ کے ہاتھ میں رکھا۔ “یہ آپ دیکھ لیں۔ کمپنی کے اندر شراکتی منصوبے کی فہرست ہے۔ حارث صاحب نے اسی مہینے ہماری فرم کو ایک تقریب کی کفالت کے لیے رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے مائرہ کا نام دیکھ کر مجھ سے الگ بات کی۔ کہا، ‘اسے سامنے نہ لائیں، میں نہیں چاہتا پرانی باتیں غلط جگہ پہنچیں۔’ پھر اگلے ہی ہفتے ہمارے سامنے انہی کی منگنی کی خبر پکی ہو گئی۔” کمرے میں کسی نے “استغفراللہ” نہیں کہا، کسی نے چیخ بھی نہیں ماری۔ بس دانش کے ماموں نے اپنا ہاتھ گھٹنے سے ہٹا لیا، جیسے بے دھیانی میں گرم چیز کو چھو لیا ہو۔ خالہ شمائلہ کے ہاتھ میں کاغذ ہلکا سا کانپا۔ حارث نے فوراً کہا، “یہ سیاق سے ہٹ کر—”
“سیاق میں یہی تھا۔” مائرہ نے دعوت نامہ سیدھا کر کے سب کے سامنے رکھا۔ “اس دن تم نے کہا تھا گھر راضی نہیں۔ اصل بات یہ تھی کہ تمہیں زیادہ اونچا دروازہ مل گیا تھا۔” وہ زور سے نہیں بولی، مگر ہر لفظ سیدھا گیا۔ اب پہلی بار دانش نے سر اٹھا کر حارث کو دیکھا، جیسے کسی اور کے لیے رکھی گئی کرسی اچانک خالی نکل آئی ہو۔
حارث نے ایک قدم بڑھایا۔ “مائرہ، میں نے غلطی کی تھی۔ مگر تم جانتی ہو میرے والد کیسے ہیں۔ میں اس وقت—” “تم نے انتخاب کیا تھا۔” مائرہ نے اسے وہی فقرہ واپس کیا جس سے لوگ عورتوں کی عزت بچانے کا دکھاوا کرتے ہیں، مگر اس بار اس نے کاٹ کر بولا۔ “الجھن نہیں تھی۔ حساب تھا۔” سعدیہ بھابھی کی نظریں ایک سے دوسری طرف دوڑیں، مگر اس بار انہوں نے ہلکی ہنسی نہیں کی۔ خالہ شمائلہ نے کرسی کی پشت مضبوطی سے پکڑ لی۔ ان کے چہرے پر وہ پریشانی تھی جو تب آتی ہے جب بزرگ کو اپنی ہی سہولت پسند کہانی الٹتی دکھے۔
یہ موقع لمبی صفائیوں کا نہیں تھا۔ مائرہ نے اپنے گلے سے بوسیدہ لینیارڈ اتارا، میز کے کنارے رکھ دیا، جیسے دفتر کی تھکن بھی اب اس فیصلے میں شامل ہو۔ پھر اس نے سیدھا دانش کی والدہ کی طرف دیکھا۔ “اگر آپ لوگ بات آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو ایک شرط ابھی سن لیں۔ میرے بارے میں آئندہ کوئی پرانا جاننے والا ترجمان بن کر نہیں بولے گا۔ اور خالہ،” اس نے رخ موڑا، “آج کے بعد دروازے پر جو بھی آئے، پہلے مجھ سے پوچھا جائے گا۔” یہ اعلان نہیں تھا، مگر بیٹھک کی ترتیب بدل گئی۔ دانش کی والدہ نے آہستہ سے سر ہلایا۔ “بات لڑکی کی رضامندی سے ہی ہوگی۔” اسی ایک سطر نے حارث کو دہلیز کی طرف دھکیل دیا۔ وہ ابھی کمرے میں تھا، مگر اس کے لیے جگہ کا مفہوم بدل چکا تھا۔
دانش کے گھر والے زیادہ دیر نہ رکے۔ رسمی باتیں مختصر ہو گئیں، اگلی ملاقات کا اشارہ دے کر وہ اٹھ گئے۔ جاتے ہوئے دانش نے مائرہ سے صرف اتنا کہا، “آپ نے ٹھیک کیا کہ صاف بات کی۔” اس میں محبت نہیں تھی، مگر احترام تھا، اور آج مائرہ کو اسی کی ضرورت تھی۔ خالہ شمائلہ اندر کچن میں چلی گئیں، جہاں برتنوں کی بے وقت آوازیں آنے لگیں۔ نائلہ نے جاتے ہوئے مائرہ کے بازو کو ایک بار دبایا۔ “میں نے دیر کی، مگر اتنی نہیں کہ وہ اپنی کہانی تمہارے اوپر لکھ دیتا۔”
شام نیچے بیٹھ گئی تھی۔ صحن کے بلب کی زرد روشنی میں دروازے کا چوکھٹا اور تنگ لگ رہا تھا۔ مائرہ مہمانوں کے لیے سجے تحفے میز کے ایک کونے پر جمع کر رہی تھی کہ باہر آہستہ سے آواز آئی، “ایک منٹ، بس ایک منٹ۔” حارث واپس دہلیز پر کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں وہی سرمئی کاغذ میں لپٹا ہوا پیکٹ تھا، ربن دبا ہوا، ایک کونا پسینے سے نرم۔ اس کی آواز اب بیٹھک والی نہیں تھی؛ اس میں پہلی بار جھٹکے کے بعد کی خالی جگہ سنائی دی۔ “یہ تمہارے لیے لایا تھا۔ کوئی بڑی چیز نہیں۔ صرف… وہ کتاب، جس کا تم نے آخری سال میں ذکر کیا تھا، اور ایک خط۔ میں نے سب ختم کر دیا ہے۔ وہ رشتہ بھی۔ مجھے سمجھنے میں دیر ہوئی۔”
مائرہ نے دروازہ پورا نہیں کھولا۔ چوکھٹے اور اس کے بیچ بس اتنی جگہ تھی کہ ایک ہاتھ اندر آ سکے۔ “دیر ہوئی، ہاں۔” “میں تمہیں لینے نہیں آیا،” اس نے جلدی سے کہا، جیسے اپنی ہی بات سے بچ رہا ہو، “بس یہ رکھ لو۔ کم از کم اتنا حق تو—” وہیں اس کا جملہ ٹوٹا۔ حق۔ وہی لفظ پھر۔ مائرہ نے اس کے ہاتھ سے پیکٹ نہیں لیا۔ “حق اُس دن ختم ہو گیا تھا جب تم نے مجھے چھپانے کے لیے میرا نام اپنے منصوبے سے ہٹوایا، اور اپنے قد کے لیے کسی اور دروازے پر جا کھڑے ہوئے۔ آج تم صرف پچھتاوا لائے ہو۔ میں اسے گھر کے اندر نہیں لاؤں گی۔”
حارث نے پیکٹ ذرا اور آگے کیا۔ کاغذ کی خشک آواز سنائی دی۔ “مائرہ، ایک دفعہ پڑھ لو۔ اگر پھر بھی—” “نہیں۔” اس نے سادہ لہجے میں کہا، اتنا سادہ کہ انکار پتھر کی طرح بیٹھ گیا۔ “میں تمہاری دیر سے آئی سمجھ کو اپنے اوپر مرہم نہیں بننے دوں گی۔ جو فیصلہ آج ہونا تھا، وہ تمہارے لیے بند ہو چکا ہے۔” اس نے دروازے کے ساتھ رکھی تحفے والی میز کی طرف اشارہ کیا۔ “اگر رکھنا ہے تو وہاں رکھ دو۔ میں نہیں اٹھاؤں گی۔”
وہ چند ثانیے کھڑا رہا، پھر پیکٹ میز کے کنارے رکھ دیا۔ اس نے جیسے ہی ہاتھ چھوڑا، ربن کا ایک پھولا ہوا پھندا دب کر چپٹا ہو گیا۔ مائرہ نے نہ پیکٹ کو دیکھا، نہ اس کا ہاتھ۔ اس نے صرف دروازہ آہستہ سے اپنی طرف کھینچا۔ کواڑ بند ہونے سے پہلے اس کی آخری آواز آئی، بہت ہلکی، “کاش—” دروازہ لگ گیا۔ مائرہ نے کنڈی نہیں چڑھائی؛ بس ہتھیلی ایک لمحہ لکڑی پر رکھی، پھر ہٹا لی۔ وہ واپس مڑی، میز کے قریب آئی، اور باقی تحفوں کو دوسرے کنارے سرکا دیا تاکہ سرمئی پیکٹ اکیلا رہ جائے۔ اس کے بعد وہ اندر چلی گئی۔
تحفے والی میز کے کنارے پر ربن چپٹا پڑا رہا، درمیان میں انگلی کے دباؤ کا ہلکا سا نشان، اور وہ پھر سے اٹھا نہیں۔