Fast Fiction

سب نے اسے ہارا ہوا سمجھا تھا

نادیہ بھابھی نے حرا کے ہاتھ سے گفٹ بیگ جھٹک کر ایک طرف رکھا اور ٹرے اس کی طرف بڑھا دی۔ “یہ کپ اُٹھاؤ، اور ذرا سائیڈ سے رہو۔ بڑے لوگ آ رہے ہیں۔” شادی ہال کے باہر کراچی کی نمی بھری رات میں گاڑیوں کی ہیڈ لائٹیں ایک دوسرے پر پھسل رہی تھیں، لال قالین کے کنارے پھولوں کی پتیاں جوتوں کے نیچے مسل رہی تھیں، اور حرا کے ہاتھ میں پکڑی آدھی مُڑی رسید پسینے سے نرم ہو چکی تھی۔ وہ رسید دوپہر کے پھولوں کے اضافی بل کی تھی، جو اسی نے اپنی جیب سے بھرا تھا، کیونکہ نادیہ بھابھی نے فون پر کہا تھا، “بس آج کا دن نکال دو، گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہے تم آ رہی ہو، اچھا لگے گا۔”

اچھا لگے گا۔ اب وہی لوگ، جنہیں سب پتہ تھا، استقبال کی قطار میں نظریں چرا رہے تھے۔

حرا نے ٹرے لے لی، مگر وہیں نہیں رکی۔ اس نے ایک قدم پیچھے ہٹ کر ٹرے قریب کھڑے کیٹرنگ کے لڑکے کے ہاتھ میں دی اور سرد لہجے میں کہا، “یہ تم پکڑو، میں اپنے کپڑے خود خراب نہیں کروں گی۔” کیٹرنگ والا ایک لمحہ سٹپٹایا، پھر لے لیا۔ نادیہ بھابھی کی بھنویں اوپر چڑھ گئیں؛ شاید انہیں توقع تھی حرا چپ چاپ کام میں لگ جائے گی۔ یہی پہلا شگاف تھا۔ برابر کھڑی فریحہ نے، جو ابھی تک موبائل سے ویڈیو بنا رہی تھی، فون ذرا نیچے کر لیا۔

“کپڑے؟” نادیہ بھابھی ہنسیں، مگر ہنسی میں خراش تھی۔ “حرا، اللہ کا نام لو۔ تم مہمان بن کر نہیں آئی۔ موقع سمجھو۔ سب کے سامنے ڈرامہ مت کرو۔”

حرا نے سفید قمیص کے کف پر وہی پرانا نیلا قلمی نشان دیکھا جو دفتر میں فائلیں پکڑتے پکڑتے کبھی گیا ہی نہیں تھا۔ سروس سیکٹر کی نوکری نے اسے ایک چیز سکھائی تھی: جو کام تم خاموشی سے کر دو، وہ تمہارا فرض لکھ دیا جاتا ہے۔ سلمان نے بھی یہی کیا تھا۔ تین سال سے وہ اسے اس حد پر رکھے ہوئے تھا جہاں گھر والوں کو پتہ تھا، مگر زبان پر کسی نے نہ لایا۔ جب اپنی امی کو اسپتال لے جانا ہوتا، سلمان اسے فون کرتا۔ جب کسی بہن کے داخلے کا فارم بھرنا ہوتا، سلمان اسے یاد کرتا۔ مگر آج، اپنی چھوٹی بہن کے ولیمے کے دروازے پر، وہ کاروں کے پاس مصروف کھڑا تھا، جیسے حرا صرف ایک اضافی ہاتھ ہو۔

نادیہ بھابھی نے فوراً اگلا وار کیا۔ ایک بڑی گاڑی رکی تو وہ قالین کے بیچوں بیچ جا کر جھکیں، “آئیں خالہ، اِدھر، سیدھا اندر۔” پھر مڑ کر حرا کو ایسے ہاتھ سے ہٹایا جیسے راستے میں رکھی کرسی ہو۔ “تم پیچھے کے راستے سے جاؤ۔ پانی کی بوتلیں کم ہیں۔ اور دیکھنا، سامنے مت آنا، ابھی بھائی کے دوست آ رہے ہیں۔”

یہ بات اتنی اونچی کہی گئی کہ دربان، دو ماموں، اور کیٹرنگ کے منیجر تک سن لیں۔ ایک عورت نے حرا کے جوڑے پر نظر ڈال کر سمجھ لیا کہ شاید یہ وہی لڑکی ہے جسے کام کے لیے بلایا گیا ہے مگر کپڑے کچھ اچھے پہن آئی ہے۔ مردوں کی طرف کھڑا سلمان ایک بار ادھر دیکھ کر پھر فوراً اپنی گھڑی سیدھی کرنے لگا۔ اس کی خاموشی نے نادیہ بھابھی کے جھوٹ کو مہر دے دی۔

حرا نے کچھ نہیں کہا۔ وہ صرف سائیڈ کی طرف ہٹی، جہاں لفٹ کے دھندلے شیشے پر انگلیوں کے پرانے نشان جمے تھے۔ اس شیشے میں اس نے خود کو ایک جھلک دیکھا: مہندی لگی انگلیاں، سیدھی کمر، اور وہی چہرہ جس پر احسان مانگنے والا کوئی رنگ نہیں تھا۔ سامنے ایک نیم ٹھنڈا کھانے کا ڈبہ پڑا تھا، دوپہر سے کھلا نہیں گیا تھا؛ اس پر سلمان کا میسج اب بھی ذہن میں چبھ رہا تھا: *پہنچ جانا جلدی، مجھے تم پر بھروسا ہے۔* بھروسا، مگر نام نہیں۔

اگلی گاڑی کے ساتھ نادیہ بھابھی نے کھیل اور صاف کر دیا۔ “اس طرف نہیں،” انہوں نے حرا کو روک کر ایک ٹرے پھر اس کی طرف دھکیلی، “یہ جوس وی آئی پی قطار میں دو۔ اور سنو، اگر کوئی پوچھے تو کہہ دینا دلہن کی سہیلی ہو۔ زیادہ زبان نہ کھولو۔”

اتنے میں سامنے سیاہ ایس یو وی آ کر رکی۔ ڈرائیور اسلم، جو پچھلے دو سال سے سلمان کے ابا کی گاڑی چلاتا تھا، جلدی سے اترا۔ اس نے پچھلا دروازہ کھولنے سے پہلے حرا کو دیکھا، پھر الجھن میں نادیہ بھابھی کی طرف۔ “بی بی جی، صاحب نے کہا تھا—”

“تم بس دروازہ کھولو،” نادیہ بھابھی نے تیز سرگوشی میں کاٹا، “جو کہا ہے وہی کرو۔”

اسلم نے پھر بھی حرا کی طرف دیکھا۔ “لیکن صاحب نے خاص کہا تھا، حرا بی بی کو سامنے رکھنا۔” قریب کھڑے ایک ماموں نے گردن موڑی۔ فریحہ نے دوبارہ فون نیچے کر لیا۔

نادیہ بھابھی کے منہ پر ایک لمحے کو سختی جم گئی۔ “صاحب ہر بات سب کے سامنے نہیں کہتے، اسلم۔ تم اپنی حد میں رہو۔”

دروازہ کھلا، مگر اندر سے کوئی نہ اترا۔ اسلم نے جیب سے ایک چھوٹا مخملی ڈبہ نکالا، جیسے جلدی میں پکڑایا گیا ہو۔ “یہ بھی دیا تھا۔ کہا تھا، اگر میں پہلے پہنچ جاؤں تو حرا بی بی کو دے دوں۔” اسلم نے ڈبہ حرا کی طرف بڑھایا۔ “مجھے کیا معلوم تھا آپ لوگ—”

“کیا ہے یہ؟” فریحہ کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

حرا نے ڈبہ لیا بھی نہیں۔ نادیہ بھابھی نے آگے بڑھ کر اسے پکڑنا چاہا، مگر اسلم نے ہاتھ ذرا پیچھے کر لیا۔ “صاحب نے نام لے کر کہا تھا۔ حرا بی بی کو۔”

پہلا گواہ اسلم تھا۔ دوسرا فوراً فریحہ بنی۔ “نادیہ بھابھی، اگر صرف کام کے لیے بلایا ہوتا تو ڈرائیور کو نام لے کر کیوں کہتے؟” اس کی آواز دبی ہوئی تھی، مگر اتنی نہیں کہ لوگ نہ سنیں۔ برابر کھڑی خالہ نے سونے کے کنگن کھنکاتے ہوئے پلٹ کر دیکھا۔ ماموں نے سلمان کی طرف نظریں دوڑا دیں۔ پرانا قصہ، جسے سب نے سہولت سے ادھورا مان لیا تھا، اچانک سڑک کی روشنی میں شکل لینے لگا۔

نادیہ بھابھی نے فوراً چہرہ سنبھالا۔ “اللہ کے واسطے، لوگ دیکھ رہے ہیں۔ لڑکیوں کے نام یوں اچھالے نہیں جاتے۔” یہ وہ جملہ تھا جس سے وہ ہمیشہ دوسروں کو خاموش کرا دیتی تھیں۔ “حرا، تم خود سمجھدار ہو۔ ایسی چیزیں ہاتھ میں لے کر کھڑی ہونا اچھی بات نہیں۔ اندر جاؤ۔”

لیکن اب پرانی پڑھت اتنی آسان نہیں رہی تھی۔ اسلم نے وہی ڈبہ دونوں ہاتھوں سے حرا کی طرف کر دیا، جیسے امانت لوٹا رہا ہو۔ فریحہ ایک قدم حرا کے قریب آ گئی۔ خالہ نے نادیہ بھابھی سے نہیں، سیدھا پوچھا، “اگر کوئی بات نہیں تو پھر اس لڑکی کو دروازے سے کیوں ہٹایا جا رہا ہے؟”

سلمان ابھی تک مردوں کی قطار سے الگ ہو کر پوری طرح یہاں نہیں آیا تھا، مگر اس کی تاخیر بھی اب اس کے خلاف جا رہی تھی۔ جس خاموشی سے وہ ہمیشہ بچ نکلتا تھا، وہ آج کند ہو گئی تھی۔

اسی لمحے ایک اور گاڑی تیزی سے آ کر رکی۔ دروازہ کھلنے سے پہلے ہی پیچھے سے دو لڑکے بھاگتے ہوئے آئے؛ ایک نے پھولوں کا ہار اٹھایا، دوسرے نے قالین سیدھا کیا۔ سب جانتے تھے یہ جہانگیر صاحب کی گاڑی ہے—سلمان کے بڑے تایا، جن کا ایک اشارہ بھی خاندان میں سمت بدل دیتا تھا۔ نادیہ بھابھی فوراً سنبھل کر آگے بڑھیں، دوپٹہ ٹھیک کیا، اور اپنے چہرے پر وہی میزبان والی شائستگی چڑھا لی جو ابھی ایک لمحہ پہلے حرا کے لیے غائب تھی۔

مگر گاڑی کا دوسرا دروازہ کھلا، اور پہلے سلمان اترا۔

اس کے چہرے پر وہ تیار شدہ مسکراہٹ نہیں تھی جو وہ مہمانوں کے لیے پہنتا تھا۔ اس نے ایک نظر نادیہ بھابھی کے ہاتھ، دوسری اسلم کے ہاتھ میں پکڑے ڈبے، اور تیسری حرا پر ڈالی۔ پھر اس نے وہ کام کیا جس سے ساری قطار ٹیڑھی ہو گئی: جہانگیر صاحب کے اترنے کا انتظار کرنے کے بجائے سیدھا حرا کی طرف چل پڑا۔

نادیہ بھابھی ایک قدم بیچ میں آئیں۔ “سلمان، پہلے تایا ابو—”

“پیچھے ہٹیے بھابھی۔” اس کی آواز بہت اونچی نہیں تھی، مگر اتنی سیدھی تھی کہ دربان نے بھی گردن جھکا لی۔ یہ پہلی کھلی طرف داری تھی، اور سب نے اسے حرکت میں پڑھ لیا: کون پہلے وصول کیا جا رہا ہے، یہی اصل اعلان تھا۔

جہانگیر صاحب بھی اتر چکے تھے۔ وہ رکے نہیں، بس اسی سمت دیکھتے رہے جہاں سلمان جا رہا تھا۔ اس خاموشی میں اجازت تھی، اور اجازت بھی ایسی جسے کوئی نادیہ بھابھی کے لہجے سے رد نہیں کر سکتا تھا۔

نادیہ بھابھی نے آخری بار بچانے کی کوشش کی۔ “سب لوگ دیکھ رہے ہیں۔ ابھی یہ موقع نہیں۔ لڑکی خود بھی سمجھتی ہے۔”

حرا نے پہلی بار مکمل طور پر اس کی طرف دیکھا۔ “جی، میں بہت اچھی طرح سمجھتی ہوں۔” اس کے ہاتھ اب خالی تھے؛ ٹرے دوسرے کے پاس تھی، مگر اس کی کھڑی ہونے کی جگہ بدل گئی تھی۔ “آپ نے مجھے پیچھے کے راستے پر بھیجا، کام کے لڑکوں کے ساتھ کھڑا کیا، اور میرا نام چھپانے کو کہا۔ اب یہ بات بھی سب کے سامنے ہی ہوگی۔”

سلمان دو قدم دور رک گیا۔ اسلم نے مخملی ڈبہ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ نادیہ بھابھی کا چہرہ اس لمحے پہلی بار واقعی ہلا؛ ان کی ہدایات دینے والی روانی ٹوٹ گئی، جیسے اچانک زبان ساتھ نہ دے رہی ہو۔ ایک کیٹرنگ لڑکا، جو ابھی تک ٹرے لیے سائیڈ میں کھڑا تھا، بے اختیار پیچھے ہٹ گیا۔ راستہ خود بننے لگا۔

سلمان نے ڈبہ کھولا۔ اندر انگوٹھی نہیں، ایک باریک سونے کی چین میں چھوٹا سا لاکٹ تھا—وہی جو حرا نے مہینوں پہلے ایک شوکیس کے سامنے دیکھ کر ہنس کر کہا تھا، “یہ لوگ خریدتے ہیں، ہم صرف دیکھتے ہیں۔” سلمان نے وہ چین باہر نکالی، مگر ہاتھ آگے بڑھانے سے پہلے حرا بولی۔

یہی وہ لمحہ تھا جس پر سب کی شرط لگی ہوئی تھی: کیا وہ اب بھی خاموش رہے گی، تاکہ آدمی اس کی عزت اپنے حساب سے بانٹ دے؟ یا وہ وہی لڑکی بنے گی جسے ابھی تک سائیڈ پر کھڑا سمجھا جا رہا تھا؟

حرا نے ایک قدم آگے بڑھ کر صاف آواز میں کہا، “اگر آج میرا نام لینا ہے تو پورا لیجیے۔ میں وہ نہیں جو دروازے پر کام کروائی جائے اور اندر جا کر انکار کر دی جائے۔ میں حرا ہوں، اور میں سلمان کی ہونے والی بیوی کے طور پر ہی اس دروازے سے اندر جاؤں گی۔ ورنہ نہیں جاؤں گی۔”

سلمان نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔ اس نے چین اس کے ہاتھ پر رکھ دی، ایسے نہیں جیسے کسی کو منا رہا ہو، بلکہ جیسے اپنی جگہ سب کے سامنے مقرر کر رہا ہو۔ “سن لیا سب نے؟” پھر اس نے نظریں صرف حرا پر رکھیں۔ “آؤ، حرا۔”

حرا نے چین اپنی مٹھی میں بند کی، نادیہ بھابھی کی طرف دیکھے بغیر مڑا ہوا جوس کا ٹرے اسٹینڈ سیدھا کیا، اور پاس کھڑے لڑکے کے ہاتھ سے ایک سروس ٹرے اپنے کولہے سے لگا لی۔ استقبال کی قطار جو ابھی تک اس سے کتراتی ہوئی سیدھی اندر جا رہی تھی، سروس لین کے موڑ پر اس کی طرف سے خود بخود کھل گئی۔ کپ ایک دوسرے سے ٹکرانا چھوڑ گئے۔ حرا نے ٹرے سنبھالی، قدم جمائے، اور راستہ اب لوگ خود دے رہے تھے۔