سب کے سامنے اسی کا نام لیا
فریحہ آپا نے سیڑھی کے لینڈنگ پر ہاتھ پھیلا کر صائمہ کا راستہ روکا اور اس کے ہاتھ سے مہمانوں کی فہرست کھینچ کر اپنی کزن مہرین کو دے دی۔ “تم پیچھے جاؤ، لڑکیوں کے کمروں میں دیکھو۔ سامنے والی میز پر اپنے لوگ بیٹھیں گے۔” اوپر سے بارات کے مرد اتر رہے تھے، نیچے سے عورتیں چوڑیوں کی کھنک اور عطر کی بو کے ساتھ چڑھ رہی تھیں، اور عین اس تنگ موڑ پر سب نے دیکھا کہ جس لڑکی نے دو دن سے یہ شادی سنبھالی تھی، اسے ایک جھٹکے میں پردے کے پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔
صائمہ کے ہاتھ میں نیلی سیاہی کا پرانا نشان تھا، وہی جو ہر تقریب میں نام لکھتے لکھتے انگوٹھے کے پاس جم جاتا تھا۔ صبح سے ٹھنڈی پڑی چائے کے کپ کا حلقہ اب بھی رجسٹر کے کونے پر بنا ہوا تھا، مگر رجسٹر اس کے سامنے نہیں رہا۔ اس نے مہرین کی طرف نہیں دیکھا۔ صرف فریحہ آپا کے پھیلے ہوئے بازو کی طرف دیکھا، پھر ایک قدم پیچھے ہٹی نہیں، بلکہ لینڈنگ کے کنارے سے گزر کر بالکل سامنے کھڑی ہو گئی۔ “کمروں میں چیک میں نے کر لیا ہے،” اس نے اتنی سیدھی آواز میں کہا کہ اوپر جاتے ایک بزرگ نے ذرا گردن موڑی، “سامنے والی فہرست بھی میں نے بنائی ہے۔”
فریحہ آپا نے ہنسی دبائی، وہی نرم مگر کچلنے والی ہنسی جس میں حکم چھپا ہوتا ہے۔ “بنائی ہوگی۔ اس سے تم سامنے نہیں بیٹھ جاتیں۔ کچھ چیزیں محنت سے نہیں، نسبت سے طے ہوتی ہیں۔” پھر اس نے اتنا اونچا کہا کہ سیڑھی پر رکی تین عورتیں سن لیں، “اور ویسے بھی، گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہو تو ہر جگہ اپنا نام نہیں لیا جاتا۔ سمجھا کرو۔”
یہ جملہ وہاں کھڑے ہر شخص کے لیے ایک ہی مطلب رکھتا تھا۔ صائمہ نے کئی مہینے اس گھر کے ہر چھوٹے بڑے کام میں ہاتھ دیا تھا۔ آن لائن کپڑوں کے پیجز کے لائیو سیشن سے لے کر شادی کے تحفوں کی پیکنگ تک، حمزہ کی خالہ نسرین نے خود اسے “ہمارے بچوں میں سے” کہہ کر بلایا تھا۔ مگر نسبت کی لکیر رسمی اعلان سے پہلے جتنی فائدے کی تھی، اتنی ہی ذلت کی بھی بن سکتی تھی۔ اب فریحہ آپا اسی دھند کو ہتھیار بنا رہی تھی: کام کرو، مگر سامنے نہ آؤ؛ سب کو پتہ ہو، مگر کوئی مانے نہیں۔
مہرین رجسٹر لے کر سامنے کی میز کی طرف بڑھی تو دو مہمان رکے، اس سے نام پوچھا، اور وہ الجھ گئی۔ “جی، آپ کا کارڈ؟” اس نے ہڑبڑا کر کہا۔ نیچے سے آواز آئی، “ارے بھائی راستہ دو، دولہے کے ماموں آ رہے ہیں!” لینڈنگ میں بدن ایک دوسرے سے بچتے بچاتے رکنے لگے۔ یہی پہلا دراڑ تھا۔ فریحہ آپا نے فوراً جھپٹ کر مہرین سے فہرست لی، مگر اس ایک لمحے میں سب نے دیکھ لیا کہ سامنے والی جگہ محض “اپنے لوگ” ہونے سے نہیں سنبھلتی۔
“تم مسئلہ مت بنو، صائمہ،” فریحہ آپا نے دانت بھینچ کر کہا، اب آواز دھیمی تھی مگر زہر کھلا۔ “یہ شادی ہے، تمہارا سروس سیکٹر والا ڈیسک نہیں کہ جس نے زیادہ دوڑ لگا لی وہی سامنے بیٹھ جائے۔ خاندان کی عزت کا معاملہ ہے۔ اوپر دولہے کے تایا بیٹھے ہیں۔ کوئی پوچھے گا یہ لڑکی کون ہے تو کیا جواب دیں؟”
صائمہ نے اپنے کندھے سیدھے کیے۔ مسلسل دو دن کی دوڑ دھوپ اس کی آستینوں کی شکنوں میں بیٹھی تھی، ایڑیوں میں بھاری پن تھا، مگر آواز میں نہیں۔ “جو سچ ہے وہی،” اس نے کہا۔
فریحہ آپا نے فوراً وار کیا۔ “سچ؟ سچ یہ ہے کہ تمہیں ابھی تک کسی نے نام نہیں دیا۔ اس لیے پیچھے رہو۔ سامنے والوں میں چہرہ دکھانے سے رشتہ نہیں بن جاتا۔” یہ اس نے اتنا کھلا کہا کہ اوپر جاتے حمزہ کے ایک چچا رک گئے، نیچے سے خالہ نسرین کی سہیلی نے ابرو اٹھا کر منظر دیکھا، اور صائمہ اچانک صرف ایک لڑکی نہیں رہی؛ وہ سیڑھی پر روک دی گئی حیثیت بن گئی۔
صائمہ نے پہلی بار مہرین کے ہاتھ سے رجسٹر لے لیا۔ حرکت تیز تھی، مگر چھینا جھپٹی نہیں۔ فریحہ آپا نے کلائی پکڑنی چاہی مگر صرف ہوا پکڑی۔ رجسٹر صائمہ کے سینے کے سامنے آ گیا۔ “اچھا،” صائمہ نے صاف آواز میں کہا، “ابھی آپ یہی بتا دیں۔ اگر میں یہاں کھڑی نہیں ہو سکتی تو میرا نام اس فہرست میں کس کے کہنے پر آیا؟ اور اگر آیا ہی نہیں، تو دو دن سے میں کس کے گھر کی شادی چلا رہی ہوں؟ آپ بتا دیں، سب کے سامنے۔”
یہ سوال تیر کی طرح نہیں، چابک کی طرح پڑا۔ لینڈنگ پر بہاؤ بگڑ گیا۔ اوپر چڑھنے والے دو آدمی رکے، ایک نوجوان نے ایک طرف ہو کر موبائل جیب میں ڈالا، مہرین نے بےاختیار فریحہ آپا کی طرف دیکھا۔ فریحہ آپا کے چہرے پر پہلی بار وہ خالی پن آیا جو تب آتا ہے جب دھونس کے پیچھے اصل اختیار نہ نکلے۔ وہ بولیں، “تم لہجہ نیچا رکھو—”
“لہجہ نہیں، جواب,” صائمہ نے وہیں کاٹ دیا۔ “کس کے کہنے پر؟ آپ کے؟ خالہ نسرین کے؟ یا حمزہ کے؟ نام لے کر کہہ دیں کہ میں صرف کام کے لیے تھی، سامنے کے لیے نہیں۔”
اب نظر صرف اس پر نہیں، فریحہ آپا پر بھی ٹک گئی۔ جواب نہ دینا بھی جواب تھا۔ اوپر ہال کے دروازے کے چوکھٹے پر حمزہ نظر آیا۔ سیاہ شیروانی، تھکی ہوئی آنکھیں، اور اس تھکن میں وہ سختی جو دن بھر مہمانوں کے بیچ بھی کسی ایک آواز کو پکڑ لیتی ہے۔ اس کے ساتھ دو بڑے، ایک امام صاحب، اور خالہ نسرین تھیں۔ فریحہ آپا نے فوراً رخ بدلا، جیسے اصل عدالت اب آئی ہو۔ “حمزہ، تم ہی بتاؤ۔ ہم تو بس ترتیب دیکھ رہے ہیں۔ ہر کسی کو حد میں رہنا چاہیے۔”
حمزہ نے نیچے اترتے اترتے منظر ایک نظر میں پڑھ لیا: لینڈنگ کے تنگ موڑ پر رکی قطار، مہرین کے ہاتھ سے ہٹا ہوا رجسٹر، فریحہ آپا کا آدھا پھیلا بازو، اور صائمہ، جو ہٹنے کے بجائے راستے کے بیچ سیدھی کھڑی تھی۔ یہی وہ لمحہ تھا جس میں سب کے ذہن ایک ساتھ شرط لگاتے ہیں کہ اب کسے پیچھے کیا جائے گا۔
فریحہ آپا نے آخری زور لگایا۔ وہ صائمہ کے آگے آ کر پھر بازو پھیلا کر کھڑی ہوئیں۔ “ایک طرف ہو جاؤ، ابھی دولہے کے بزرگ گزر رہے ہیں۔ بعد میں بات کر لینا۔” لفظ شائستہ تھے، مگر حکم یہ تھا: ابھی بھی تمہیں موڑ کر سائیڈ پر کیا جا سکتا ہے، ابھی بھی تمہاری جگہ راستے کے کنارے ہے۔
صائمہ نے اس بار پیچھے ہٹنے کے بجائے رجسٹر فریحہ آپا کے ہاتھوں میں واپس رکھا۔ “لیجیے،” اس نے کہا، “اگر مجھے سائیڈ پر ہی رکھنا ہے تو یہ بھی آپ رکھیں۔ پھر سامنے آنے والے ہر مہمان کو خود جواب دیجیے کہ میں کون نہیں ہوں۔” اس نے رجسٹر چھوڑ دیا۔ یہ التجا نہیں تھی؛ چابی واپس کرنے جیسی حرکت تھی۔ ایک لمحے میں بوجھ اور ثبوت دونوں فریحہ آپا کے ہاتھ میں چلے گئے۔
رجسٹر پھسل کر ان کی کلائی سے لگا، چند کارڈ نیچے گر گئے۔ دولہے کے تایا عین سامنے پہنچ چکے تھے۔ خالہ نسرین رک گئیں۔ اوپر سے اترتے دو لڑکے سیڑھی کے کنارے چپک گئے۔ فریحہ آپا نے کارڈ سنبھالنے کو جھکنا چاہا مگر نیچے سے چڑھتی خواتین نے راستہ بھر دیا۔ اب وہی لینڈنگ جو ابھی تک ان کی تھی، انہیں بیچ میں پھنسا رہی تھی۔
حمزہ دو سیڑھیاں ایک ساتھ اتر کر ان کے برابر آیا۔ اس نے جھک کر کارڈ نہیں اٹھائے۔ پہلے اس نے صائمہ کی طرف دیکھا، پھر اتنی بلند آواز میں بولا کہ اوپر دروازے پر کھڑے بزرگ بھی سن لیں، “فہرست صائمہ کے پاس رہے گی۔ اور سامنے میرے ساتھ بھی صائمہ ہی کھڑی ہوگی۔”
لفظوں نے جیسے ہوا کا رخ بدل دیا۔ فریحہ آپا کا ہاتھ، جس میں رجسٹر تھا، ڈھیلا پڑ گیا۔ خالہ نسرین کی آنکھوں میں پل بھر کو حیرت آئی، پھر وہیں رک گئی؛ نہ انکار، نہ پردہ۔ حمزہ نے ایک قدم اور نیچے آ کر رجسٹر سیدھا صائمہ کے ہاتھ میں رکھا۔ “سب کے سامنے سن لیں،” اس نے اب اور صاف کہا، “یہ مہمانوں کی میز بھی سنبھالے گی اور یہ میری منگیتر ہے۔ جسے سوال ہو، مجھ سے کرے۔”
یہ اعلان کسی ہال کے مائیک پر نہیں، اسی تنگ لینڈنگ پر ہوا جہاں ابھی اس کی حیثیت کا گلا گھونٹا جا رہا تھا؛ اس لیے ضرب زیادہ تھی۔ دولہے کے تایا نے فوراً راستہ چھوڑ کر ایک طرف قدم رکھا۔ نیچے سے چڑھتی خواتین نے صائمہ کو دیکھ کر اپنی چادریں سمیٹیں اور گزرنے کی لکیر اس کے لیے کھول دی۔ مہرین بےآواز پیچھے ہٹ گئی۔ فریحہ آپا نے کچھ کہنا چاہا، “حمزہ، یہ موقع—” مگر ان کی آواز وہ زور نہ پکڑ سکی جو چند منٹ پہلے ہر جملے میں تھا۔
حمزہ نے اس طرف دیکھے بغیر اگلا وار کیا، اور اس بار چاقو صائمہ نے موڑا۔ صائمہ نے رجسٹر کھولا، پہلے صفحے پر انگلی رکھی، اور فریحہ آپا سے پوچھا، “اب سامنے کی میز پر نام کون لکھے گا؟ وہ جسے آپ نے ہٹایا تھا، یا وہ جسے آپ جواب نہیں دے سکیں؟” سوال مختصر تھا، مگر اب پلٹا ہوا تھا۔ فریحہ آپا نے لب کھولے، بند کیے۔ آس پاس کے دو بزرگوں نے ان کی طرف نہیں، صائمہ کے ہاتھ میں فہرست کی طرف دیکھا۔ اختیار پڑھا جا چکا تھا۔
فریحہ آپا نے پھر بچنے کی کوشش کی۔ “میں نے تو صرف ترتیب—”
“ترتیب ختم،” خالہ نسرین نے پہلی بار کاٹا، خشک اور سب کے سامنے۔ “مہمان رکے ہوئے ہیں۔ صائمہ، بیٹی، نام دیکھو۔” یہی وہ دوسرا اور آخری مہر تھا۔ اب فریحہ آپا حکم دینے والی نہیں رہیں؛ رکاوٹ بن جانے والی عورت تھیں جسے لوگ کندھے سمیٹ کر پار کرنا چاہتے تھے۔
صائمہ نے فوراً کام سنبھالا، مگر اس بار جھکی ہوئی نہیں۔ “ارشد صاحب کے دو مہمان اوپر بائیں قطار میں۔ تایا جان، آپ پہلے۔” ایک ایک نام درست جگہ جاتا گیا۔ جو لوگ چند لمحے پہلے دیکھ رہے تھے کہ اسے کیسے ہٹایا جا رہا ہے، اب اسی کے اشارے پر رک رہے تھے، چڑھ رہے تھے، مڑ رہے تھے۔ یہی اصل ذلت تھی: فریحہ آپا اسی لینڈنگ کے کنارے سمٹ گئیں جہاں کھڑے ہو کر وہ دوسروں کی جگہ طے کرتی تھیں۔ ایک گرا ہوا کارڈ ان کی جوتی کے پاس پڑا رہا، مگر اٹھانے کی فرصت انہیں تب ملی جب بہاؤ ان کے بغیر چل پڑا۔
حمزہ صائمہ کے ساتھ ایک قدم پیچھے، ایک قدم برابر رہا۔ کسی نرم معافی کی جگہ نہیں تھی، نہ ضرورت۔ جو کرنا تھا، سب کے سامنے ہو چکا تھا۔ صائمہ نے دو مہمانوں کے نام لکھے، پھر رجسٹر بند کیا اور سیدھا فریحہ آپا کی طرف دیکھا۔ “اب میں پیچھے نہیں جاؤں گی,” اس نے آہستہ مگر سنائی دینے والی آواز میں کہا۔ “اگر کسی کو یہ ترتیب پسند نہیں، وہ حمزہ سے پوچھ لے۔ مجھے نہیں ہٹائے گا کوئی۔”
اس کے بعد راستہ واقعی بدل گیا۔ جو خواتین نیچے سے چڑھ رہی تھیں، وہ اب صائمہ سے نام پوچھتی ہوئیں گزریں۔ اوپر کے دروازے پر کھڑے لڑکے اس کے اشارے سے کرسیاں کھسکانے لگے۔ فریحہ آپا نے ایک بار پھر دائرہ بنانا چاہا، مگر ہر شخص ان کے بجائے اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا جس کا نام ابھی لیا گیا تھا۔ طاقت کا یہی بدترین الٹاؤ تھا: وہ بول سکتی تھیں، مگر ان کی بات کا راستہ ختم ہو گیا تھا۔
تقریب کے شور سے ذرا ہٹ کر لینڈنگ کے ساتھ والی تنگ سائیڈ گلی میں صائمہ مڑی، جہاں دیوار کے پاس ایک ٹھنڈا کپ رکھا تھا اور اس کے نیچے چائے کا مدھم سا حلقہ بن چکا تھا۔ رجسٹر اس کے بازو سے لگا تھا، سیاہی کا پرانا نشان پھر انگلی کے پاس چمکا۔ اس نے مڑ کر مرکزی بہاؤ کی طرف دیکھے بغیر کہا، “حمزہ، راستہ کھلا رہے گا۔ میں یہی کھڑی ہوں۔” پیچھے سے آوازیں اینٹ کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹیں—“صائمہ کو بلاؤ… سامنے صائمہ ہے… راستہ ادھر…”—اور وہ گونج موڑ کا حق اسی کے ہاتھ میں چھوڑتی ہوئی کٹ گئی۔