Fast Fiction

سب نے غلط شرط لگائی تھی

فہد بھائی نے دروازے پر پہنچتے ہی سائرہ کے ہاتھ سے مہمان فہرست چھین لی۔ سفید کاغذ کے کونے پر اس کے پرانے نیلے قلم کا دھبہ تھا، وہی جس سے اس نے رات دو بجے تک نام درست کیے تھے، مگر فہد بھائی نے سب کے سامنے کاغذ اپنی بغل میں دبا کر کہا، “یہ اب تم نہیں سنبھالو گی۔ تم پیچھے جاؤ، لڑکیوں کے ساتھ پانی دیکھو۔” صحن کے داخلی حلقے میں ایک لمحے کو رکتی ہوئی آمدورفت نے یہ جملہ صاف سنا۔ خالہ رخسانہ کی نگاہ اوپر سے نیچے پھسلی، دو ویٹر تھال اٹھائے کنارے ہو گئے، اور پلاسٹک کی ایک سستی کرسی کے کونے پر بیٹھا لڑکا فوراً اٹھ کر فہد بھائی کے لیے جگہ خالی کرنے لگا، جیسے اختیار بھی کرسی کے ساتھ ادھر منتقل ہوتا ہو۔

سائرہ نے ہاتھ کھینچا نہیں۔ صرف اتنا کیا کہ اپنے انگلیوں میں پھنسی چابیوں کا چھلا سیدھا کیا، جس پر دفتر کے اسٹور روم کی چھوٹی سی چابی اب تک لٹک رہی تھی؛ وہ چابی جو فہد بھائی نے کل رات “بعد میں دے دوں گا” کہہ کر دیر سے واپس کی تھی۔ اس نے سیدھا پوچھا، “کون سا پانی؟ سامنے پچاس مہمان آ رہے ہیں، اور استقبالی میز خالی ہے۔” فہد بھائی ہنسے، وہ ہنسی جس میں آدمی دوسرے کو کم نہیں، غیرضروری ثابت کرتا ہے۔ “اتنا بھی نہیں سمجھتیں؟ آج گھر کی تقریب ہے، کوئی تمہارا دفتر نہیں۔”

یہ گھر کی تقریب ہی سائرہ کے لیے سب سے مہنگی چیز تھی۔ کراچی کے اسی گھر میں پچھلے تین ماہ سے وہ حنا آپا کی منگنی کی تقریب کی دوہری مزدوری کر رہی تھی؛ ایک طرف سروس سیکٹر والی پیشہ ورانہ ترتیب، دوسری طرف وہ نازک حساب کہ کس خالہ کو کس میز کے قریب بٹھانا ہے، کس ماموں کو مائیک سے پہلے سلام پہنچنا چاہیے، اور کس طرف سے دانش کے گھر والوں کا داخلہ صاف اور بےداغ دکھنا چاہیے۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی اس ادھ کھلی نسبت نے بات کو اور بھی باریک کر دیا تھا۔ دانش نے اسے کام دلایا تھا، مگر نام اپنے خاندان کا تھا؛ اگر سامنے کا انتظام ٹوٹتا، الزام سائرہ پر آتا، اور اگر خوب چلتا تو کریڈٹ فہد بھائی لے جاتے۔

وہ پیچھے نہیں ہٹی۔ اس نے رجسٹر رکھنے والی میز کے کنارے پڑی ٹھنڈی چائے کی پیالی دیکھی، جس کے نیچے گول سا داغ لکڑی پر جم چکا تھا۔ وہ داغ صبح سے رکی ہوئی ترتیب کی طرح تھا۔ سائرہ نے خاموشی سے وہ پیالی ہٹا کر میز صاف کی اور خالی جگہ پر استقبالی رجسٹر رکھ دیا۔ یہ کوئی فتح نہیں تھی، بس اتنی سی دراڑ کہ جس جگہ سے اسے ہٹایا گیا تھا، وہ جگہ اب بھی اس کے ہاتھ کے حساب سے سیدھی ہو رہی تھی۔ فہد بھائی نے ایک لمحہ اس حرکت کو دیکھا، پھر چہرے پر ناگواری کی تہہ چڑھی، مگر وہ اتنے مہمانوں کے سامنے اس میز کو الٹ نہیں سکتے تھے۔

اگلا وار انہوں نے زیادہ صفائی سے کیا۔ جن دو لڑکوں کو سائرہ نے مہمانوں کے نام دیکھ کر راستہ دکھانے پر لگایا تھا، انہیں اشارے سے دوسری طرف بھیج دیا۔ “شیر مال اور کباب ادھر کم پڑ رہے ہیں، جاؤ، فوراً!” پھر جب داخلی دروازے پر بیک وقت دانش کے تایا اور دولہا کے دفتر کے دو بڑے مہمان آ گئے اور کوئی استقبال کرنے والا نہ رہا، فہد بھائی نے سب کے سامنے بھنویں سکیڑ کر کہا، “میں نے کہا تھا نا، اسے سامنے مت چھوڑو۔ اسے بس کاغذ سیدھا کرنا آتا ہے، بہاؤ نہیں سنبھلتا اس سے۔”

جملہ اتنا اونچا تھا کہ دروازے پر ٹھہرے بزرگوں نے بھی سن لیا۔ خالہ رخسانہ نے فوراً پلو سنبھالتے ہوئے سائرہ کو یوں دیکھا جیسے خرابی بھی وہی ہو اور شرمندگی بھی۔ “بیٹی، اگر نہیں ہوتا تو پہلے بتا دینا چاہیے تھا۔” یہ وہ لمحہ تھا جہاں کام کی غلطی اور عزت کی کمی ایک ہی چوٹ میں لگتی ہے۔ سائرہ کے پاس جواب تھا، مگر جواب سے زیادہ ضرورت ترتیب کی تھی۔ اس نے خود قدم بڑھا کر دانش کے تایا کو سلام کیا، نام لے کر اندر کی سمت بتائی، دوسرے مہمان کے لیے کرسی کھنچوائی، اور ایک لڑکے کو محض ہاتھ کے اشارے سے واپس دروازے پر کھڑا کر دیا۔ سب کچھ تین سانسوں میں ہوا۔ لیکن فہد بھائی نے فوراً ایک اور چیز کھینچ لی—مائیک۔

مائیک صحن کے بیچ ترپال کے نیچے لٹکے اسپیکر سے جڑا تھا، اور استقبالی اعلانات اسی سے ہونے تھے۔ فہد بھائی نے اسے اپنے پاس رکھ لیا، پھر سب کے سامنے رجسٹر بھی اپنی بغل میں دبا لیا، جیسے کاغذ نہیں، دروازہ ہو۔ “آج نام میں پڑھوں گا۔ غلطی کی گنجائش نہیں۔”

دانش اسی وقت پچھلی راہداری سے اندر آیا۔ اس نے سائرہ کو دیکھا، پھر فہد بھائی کے ہاتھ میں فہرست۔ ایک لمحے کے لیے اس کے قدم رکے، مگر خالہ رخسانہ پہلے بول اٹھیں، “تم اپنے مہمان دیکھو، یہاں فہد ہے نا۔” دانش کے ہونٹ ہلے مگر آواز باہر نہ نکلی۔ صحن میں آنے والے ہر آدمی نے یہی پڑھا: فیصلہ ہو چکا ہے، اور سائرہ کو بس برداشت کرنا ہے۔

سائرہ نے پہلی بار براہِ راست فہد بھائی کی طرف دیکھا۔ “فہرست آپ کے پاس ہے؟ اچھا۔ پھر ایک بات ابھی بتا دیں۔” وہ ذرا ٹھٹکے، شاید توقع تھی کہ وہ صفائی دے گی۔ سائرہ نے آواز اتنی رکھی کہ دروازے کے آس پاس کھڑے سب سن سکیں۔ “دانش صاحب کے اسلام آباد والے مہمانوں میں سے جنہیں دائیں طرف بزرگوں کے حصے میں بٹھانا ہے اور جنہیں بائیں طرف دفتر والے حلقے میں، یہ نشان کس صفحے پر ہے؟”

فہد بھائی کے چہرے پر وہی اعتماد پہلے ایک لمحہ جما، پھر پھسلا۔ فہرست کے صفحات انہوں نے جلدی جلدی پلٹے۔ ہر صفحے پر سائرہ کے قلم کے چھوٹے نشان تھے—گول، تیر، ستارے—مگر یہ نشان پڑھنے کے لیے رات کی محنت اور صبح کی ترتیب جاننا پڑتی تھی۔ انہوں نے ایک نام غلط پڑھا۔ سائرہ نے فوراً دوسرا سوال پھینکا، “اور خالہ نجمہ کی ویل چیئر کے لیے جو خالی راستہ رکھا ہے، وہ کس دروازے سے صاف ہے؟ سامنے والے سے یا باورچی خانے کے پہلو والے سے؟” اب ان کے ہاتھ کی گرفت رجسٹر پر سخت ہوئی مگر جواب نہ آیا۔ دو ویٹر، جو ابھی تک ان کے اشارے کے منتظر تھے، ایک ساتھ سائرہ کی طرف دیکھنے لگے۔ دانش کے تایا نے چشمہ اوپر کر کے فہد بھائی کو نہیں، سائرہ کو دیکھا۔ یہی کسر تھی؛ صحن نے پہلی بار سوچا کہ شاید اصل نقشہ کسی اور کے دماغ میں ہے۔

فہد بھائی نے جھنجھلا کر کہا، “یہ سب چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں، موقع پر ہو جاتا ہے۔” سائرہ نے اسی دائرے میں، اسی جگہ، وہ سوال واپس ان پر رکھا جس سے کمرہ دوبارہ پڑھنے پر مجبور ہو۔ “تو پھر ابھی کر دیجیے۔ راستہ کون سا ہے؟” اس دفعہ آواز میں نہ تیزی تھی نہ التجا۔ بس سیدھی مانگ تھی۔ فہد بھائی نے ادھر ادھر دیکھا؛ جواب نہ ہونے کا سب سے بڑا شور یہی تھا کہ اب انہیں کسی اور سے مدد چاہیے تھی۔ خالہ رخسانہ کے ماتھے پر شکن پڑی۔ دانش نے قدم بڑھایا، مگر اس سے پہلے ایک ویٹر سائرہ کے قریب آ کر بولا، “باجی، ویل چیئر والی خالہ آ گئی ہیں، کہاں سے لاؤں؟”

باجی۔ یہ لفظ غلط آدمی کے سامنے غلط وقت پر نکلا تھا۔ فہد بھائی نے فوراً تیز لہجے میں کہا، “مجھ سے پوچھو!” مگر ویٹر کا جسم پہلے ہی سائرہ کی طرف مڑا ہوا تھا۔ سائرہ نے بغیر ان کی طرف دیکھے بتایا، “باورچی خانے کے پہلو والے دروازے سے۔ سامنے فلاور اسٹینڈ ہٹاؤ، ابھی۔” لڑکا بھاگ گیا۔ اس کے فوراً بعد حنا آپا، جو اب تک مہندی لگے ہاتھ سنبھالتی اندرونی دروازے میں پھنسی ہوئی تھیں، پکار کر بولیں، “سائرہ، دانش کی پھوپھی کے لیے الگ نشست رکھی تھی نا؟” یہ دوسرا رخ تھا۔ سارے حلقے کے سامنے دوسرا آدمی فہد بھائی نہیں، سائرہ سے پوچھ رہا تھا۔ سائرہ نے سر موڑے بغیر جواب دیا، “سبز کشن والی دو کرسیوں کے ساتھ۔ ابھی چادر سیدھی کروا دیتی ہوں۔”

فہد بھائی کے چہرے پر اس بار ناگواری نہیں، بےآرامی آئی۔ اختیار جب ہاتھ سے نکلتا ہے تو آدمی پہلے غصہ نہیں، بےجوابی دکھاتا ہے۔ انہوں نے آخری زور لگایا۔ مائیک آن کیا، ایک چھن سے آواز اسپیکر میں گونجی، اور وہ بلند بولے، “تمام انتظام میرے ذریعے ہوگا۔ کوئی بھی سائرہ سے پوچھ کر بھاگ دوڑ نہ کرے۔ وہ صرف معاون ہے، فیصلہ میں کروں گا۔”

یہ جملہ صحن کے اوپر تنے شامیانے سے ٹکرا کر واپس آیا۔ اب بات محض کام کی نہ رہی؛ یہ رتبے کا اعلان تھا، وہ بھی خاندان اور عملے دونوں کے سامنے۔ دانش نے “فہد بھائی—” کہا، مگر فہد بھائی نے ہاتھ اٹھا کر اسے بھی روک دیا، جیسے خود دولہا بھی اب ان کے اعلان کے بعد دوسرا نمبر ہو۔

سائرہ نے ایک سانس لی، پھر سیدھی استقبالی میز کی طرف بڑھی۔ فہد بھائی نے راستہ کاٹنے کو ہاتھ بڑھایا، مگر اسی وقت خالہ نجمہ کی ویل چیئر بائیں طرف سے نمودار ہوئی، دو بچے غلط سمت بھاگے، ایک ٹرے لڑکھڑائی، اور داخلی حلقے میں سب کی نظریں ایک جگہ جم گئیں: کون راستہ کھولے گا؟ فہد بھائی نے مائیک سنبھالا رکھا، مگر ان کے پاس ترتیب نہ تھی۔ سائرہ نے ان کے ہاتھ سے مائیک نہیں چھینا؛ اس نے رجسٹر کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ “یہ فہرست دیجئے۔” “نہیں۔” “تو پھر سب کے سامنے سن لیں۔”

اس نے رجسٹر کا نیچے دبا ہوا دوسرا نسخہ نکالا، وہی جو اس نے احتیاطاً پلاسٹک فائل میں میز کے نیچے رکھا تھا۔ پرانے نیلے قلم کے نشان اس پر بھی تھے۔ اس نے مائیک اسٹینڈ اپنی طرف گھمایا، بٹن دبایا، اور بغیر کسی لرزش کے بولی، “سامنے کے دروازے کی ترتیب اب میں سنبھالوں گی۔ نام پکارنا، مہمان بٹھانا، اور داخلی راہ صاف رکھنا میرے اشارے سے ہوگا۔ ندیم، تم رجسٹر میرے ساتھ رکھو۔ عارف، ویل چیئر ادھر سے لاؤ۔ اور فہد بھائی”—اس نے سر اٹھا کر سیدھا دیکھا—“آپ کھانے والے حصے کی نگرانی کیجیے۔ سامنے والا حلقہ اب میرے پاس ہے۔”

یہ اعلان دلیل نہیں تھا؛ فیصلہ تھا۔ اسی میں ضرب تھی۔ ایک لمحے کے لیے فہد بھائی کے ہاتھ میں پکڑا اصل رجسٹر بےکار کاغذ جیسا لگنے لگا۔ ندیم، جو ابھی تک ان کی طرف آدھا مڑا کھڑا تھا، سیدھا سائرہ کے پہلو میں آ گیا۔ عارف نے ہچکچاہٹ کے بغیر ویل چیئر موڑی۔ دانش کے تایا دروازے کے اندر جاتے ہوئے رک کر سائرہ سے اپنے ساتھ آنے والے دو نام دہرا گئے، گویا منظوری اسی سے چاہیے۔ خالہ رخسانہ نے کچھ کہنا چاہا، مگر اسی لمحے اسپیکر میں سائرہ کی صاف آواز دوبارہ گونجی، “دولہے کے اسلام آباد والے مہمان بائیں طرف، بزرگ دائیں طرف تشریف لائیں۔ راستہ خالی رکھیے۔”

فہد بھائی نے دیر سے پلٹنے والے آدمی کی طرح لہجہ بدلا۔ “سائرہ، بات کو اتنا نہ بڑھاؤ۔ میں تو بس—” “آپ نے سب کے سامنے اعلان کیا تھا،” سائرہ نے مائیک سے ہٹے بغیر کہا، “اب میں بھی سب کے سامنے کہہ رہی ہوں۔ سامنے کے انتظام کی ذمہ داری میری ہے۔ اگر کوئی نام، نشست، یا داخلی راہ کے بارے میں پوچھے، میرے پاس آئے گا۔” یہاں ان کا آخری سہارا بھی ٹوٹا، کیونکہ اب پیچھے ہٹنے کا مطلب صرف خاموش ہونا نہیں، اپنے اعلان سے ہارنا تھا۔ انہوں نے دانش کی طرف دیکھا، جیسے وہ بیچ بچاؤ کرے۔ مگر دانش نے اس بار نظریں نہیں چرائیں۔ وہ استقبالی میز کے پاس آ کر فہرست کے کنارے پر انگلی رکھ کر بولا، “جو سامنے سنبھال رہا ہے، اسی کی بات مانی جائے گی۔”

فہد بھائی نے اپنی بغل میں دبا اصل رجسٹر ڈھیلا کر دیا۔ ایک کاغذ پھسل کر نیچے گرا، اس پر چائے کے پرانے گول داغ کی نمی لگ گئی۔ ان کے ہاتھ کی ترتیب پہلی بار بکھرتی دکھائی دی۔ وہ مائیک کی طرف بڑھے بھی، مگر کوئی ان کے لیے راستہ نہ چھوڑا؛ دو رشتے دار عورتیں عین سامنے سے سائرہ سے راستہ پوچھتی گزریں، ایک لڑکا کرسی اٹھائے اس کے اشارے پر مڑا، اور فہد بھائی شامیانے کے ستون کے پاس آ کر رکے رہ گئے، جیسے انہیں اپنے ہی بنائے حلقے سے باہر کر دیا گیا ہو۔

صحن اب شور سے نہیں، اطاعت سے چل رہا تھا۔ سائرہ نام پکارتی، لوگ حرکت کرتے۔ ایک ہاتھ سے رجسٹر پلٹتی، دوسرے سے راستہ دکھاتی۔ اس کے چہرے پر فتح کا کوئی رنگ نہ تھا؛ بس وہ سخت سکون تھا جو صرف اسی کو نصیب ہوتا ہے جسے بہت دیر تک روکا گیا ہو اور پھر آخرکار روکنے والوں کے سامنے جگہ خود لینی پڑے۔ حنا آپا اندرونی دہلیز سے ایک نظر اسے دیکھ کر اپنی مہندی بچاتی پیچھے ہوئیں؛ وہ نظر مختصر تھی مگر صاف۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی ساری دھند میں پہلی بار کسی نے چھپ کر نہیں، سامنے کھڑے ہو کر اس کی طرف دیکھا تھا۔

فہد بھائی ایک بار پھر قریب آئے، اب کی بار آواز نیچی تھی، مگر جگہ وہی سب کے سامنے والی۔ “سائرہ، ٹھیک ہے، ساتھ مل کے کر لیتے ہیں۔ بات خراب نہ کرو۔” سائرہ نے رجسٹر بند کیا، چابیوں کا چھلا میز پر رکھا، وہی دیر سے لوٹائی گئی چابی اوپر چمکی، پھر اس نے اسے اٹھا کر فہد بھائی کی طرف بڑھا دیا۔ “اسٹور روم اور پیچھے کے برتن آپ دیکھیں۔ سامنے کی چابی اب آپ کے پاس نہیں ہے۔”

شامیانے کے کنارے سے دھوپ ذرا سرکی، اور صحن کے کھلے داخلی حصے میں سایہ واپس رینگ آیا۔ سائرہ نے مائیک سیدھا کیا، رجسٹر اپنے بازو کے نیچے جما کر آہستہ مگر صاف کہا، “دروازہ کھلا رہے گا۔ نام میں پکاروں گی۔ جو سامنے آئے گا، مجھ سے گزرے گا۔”