Fast Fiction

میرا نام اب بھی وہیں تھا #2

اس نے ابھی چائے کی ٹرے سنبھال کر دروازے کے پاس رکھی ہی تھی کہ حارث نے اس کے ہاتھ سے کپ اٹھا کر دوسرے لڑکے کو تھما دیا۔ “مہرین، تم بس اندر مت آیا کرو جب مہمان بیٹھے ہوں۔ سمجھا کرو۔” اس کی آواز دبی ہوئی تھی مگر اتنی کہ کاؤنٹر کے پیچھے کھڑی خالہ صبیحہ بھی سن لیں۔ ٹرے کے کنارے سے چمچیں بجیں، اور مہرین کے ٹھنڈے پڑے لنچ باکس کی ڈھکن ہلکی سی کھسک گئی۔ صبح سے وہی بھاگ دوڑ کر رہی تھی؛ شام کی شفٹ، دو بیچز کے رجسٹر، اور اوپر سے آج حارث کی پھوپھی اور ان کی بہو اکیڈمی دیکھنے آنے والی تھیں کیونکہ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والا رشتہ مہینوں سے ایک لٹکی ہوئی بات بنا ہوا تھا۔ پھر بھی حارث نے یوں کہا جیسے وہ حد پار کر کے بیٹھی ہو۔

مہرین نے کچھ نہیں کہا۔ اس نے صرف ٹرے واپس اپنی طرف کھینچی، کپ سیدھے کیے اور دروازے کے برابر رکھی پلاسٹک کی کرسی کے کونے پر پڑی اپنی چابی اٹھا کر کاؤنٹر پر رکھ دی۔ “شام والی چائے بھی وہی دے دے گا جسے آپ نے اندر بھیجنا ہے۔” اتنا کہہ کر وہ رجسٹر ٹیبل کے دوسری طرف جا کھڑی ہوئی جہاں عام طور پر اس کا نام والا ہک ہوتا تھا اور دن کی ڈیوٹی سلپس لٹکتی تھیں۔

وہاں پہنچ کر اس کے قدم ایک لمحے کو رک گئے۔ اس کے نام کی پرچی، “مہرین — شام کا استقبالیہ / چائے وقفہ”، غائب تھی۔ اس کی جگہ نئی سفید پٹی لگی تھی: “روبینہ”۔ نیچے سیاہ مارکر ابھی تازہ تھا۔ کاغذ چپکاتے وقت جو خشک سی چرچراہٹ اٹھتی ہے، وہ شاید ابھی کچھ دیر پہلے یہیں ہوئی ہوگی۔ خالہ صبیحہ نے آنکھ بچا کر دیکھا پھر آٹے والے ہاتھ اپنے دوپٹے پر پونچھ لیے۔ “بیٹا، ایک دن کی بات ہے۔ مہمان ہیں، ذرا سلیقہ دیکھتے ہیں لوگ۔”

ایک دن کی بات نہیں تھی۔ پچھلے دو ماہ سے جب بھی حارث کی کوئی خالہ، ماموں، یا کسی دوست کی بہن اکیڈمی آتی، مہرین کو کبھی اوپر اسٹور روم میں بھیج دیا جاتا، کبھی اسے کہا جاتا کہ وہ فون اٹھائے مگر سامنے نہ آئے۔ حالانکہ شام کی ساری ترتیب وہی چلاتی تھی؛ بچوں کی فیس کے لفافے، ٹیوٹرز کی حاضری، والدین کے سوال، اور وقفے کی ٹرے تک۔ مگر آج پہلی بار اس کے نام کی جگہ ہی بدل دی گئی تھی، ایسے جیسے وہ کبھی وہاں تھی ہی نہیں۔

روبینہ، جو صرف دو دن کی تربیت پر آئی تھی، ہک کے قریب کھڑی ناخن دیکھ رہی تھی۔ “بھائی نے کہا تھا میں فرنٹ پر اچھی لگوں گی،” اس نے ہنستے ہوئے کہا، جیسے بات معمولی ہو۔ “آپ تو ویسے بھی سب کچھ جانتی ہیں، بیک اینڈ سنبھال لیں۔”

مہرین نے پرچی کو ہاتھ نہیں لگایا۔ اس نے نیچے پڑی فیس کی فائل بند کی، اس کے اوپر اسٹور روم کی چابی رکھی، اور خالہ صبیحہ کی طرف پلٹ کر کہا، “بیک اینڈ بھی جسے فرنٹ اچھا لگتا ہے وہی سنبھال لے۔ میں آج سے نام بدلا ہوا کام نہیں کروں گی۔” اس کی آواز نہ بلند تھی نہ روہانسی۔ بس اتنی سیدھی کہ کاؤنٹر کے شیشے میں اس کا اپنا چہرہ بھی اجنبی لگا۔

خالہ صبیحہ ہڑبڑا گئیں۔ “اوئے نہیں بیٹا، بات بڑھاؤ نہیں۔ مہمان چلے جائیں گے تو—”

“مہمان کے بعد والی عزت، عزت نہیں ہوتی، خالہ۔” مہرین نے چابی ان کی ہتھیلی میں دبا دی۔ دیر سے لوٹائی گئی چابی کی دھات گرم تھی، جیسے دن بھر کسی اور جیب میں رہی ہو۔ پھر وہ ایک طرف ہٹ گئی، نہ باہر گئی نہ اندر، صرف اس جگہ سے ہٹ گئی جہاں سے سب اس کی محنت لیتے تھے۔

اگلا گھنٹہ اکیڈمی کے لیے برا نکلا۔ دروازے پر والدین جمع ہونے لگے؛ ایک بچے کی والدہ فیس رسید مانگ رہی تھیں، دوسری کو کلاس روم بدلنے کا سبب چاہیے تھا۔ روبینہ نے دو بار غلط رجسٹر کھولا۔ چائے کی ٹرے پہلے مہمانوں تک پہنچی، پھر واپس آ کر سنک کے پاس پڑی رہی کیونکہ اگلے بیچ کے اساتذہ کے کپ کس ترتیب سے جانے تھے، یہ کسی کو معلوم نہیں تھا۔ حارث اوپر نیچے سیڑھیاں اترتا چڑھتا رہا، مگر ہر بار اس کی جلدی میں زیادہ خالی آواز نکلتی۔ ایک دفعہ اس نے مہرین کی طرف آ کر آہستہ سے کہا، “یار، ضد مت کرو۔ ابھی سامنے نہ آؤ، بس فائلیں تو دیکھ لو۔”

مہرین نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ “میں ضد نہیں کر رہی۔ میں ہٹی ہوئی جگہ بھرنے نہیں آئی۔”

اس نے بات سن کر دانت بھیچے اور واپس مڑ گیا۔ وہی لڑکا جسے چائے تھمائی گئی تھی، کپ الٹے سیدھے رکھ کر آیا۔ دو والدین ناراض ہو کر واپس گئے کہ کل آئیں گے۔ حارث کی پھوپھی کی بہو نے سیڑھی کے موڑ سے نیچے جھانکا، جیسے کسی چیز کی کمی محسوس ہو رہی ہو مگر نام نہ آ رہا ہو۔

رات ذرا اور گہری ہوئی تو دانیال آیا۔ وہ اوپر کے بیچ کا ریاضی پڑھاتا تھا، حارث کا پرانا دوست بھی تھا، اور ان لوگوں میں سے جو شروع میں ہر معاملے کو “غلط فہمی” کہہ کر نرم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کاؤنٹر کے ساتھ کھڑا ہوا، مہرین کے قریب نہیں، بس اتنا کہ بات سنائی دے۔ “ایک کپ چائے مل سکتی ہے؟” اس نے خالہ صبیحہ سے کہا، پھر خود ہی رک گیا کیونکہ ٹرے ویسے ہی پڑی تھی۔

مہرین نے چائے نہیں بنائی۔

دانیال نے پہلی بار پوری ترتیب دیکھی۔ ہک پر تازہ لگی پرچی، نیچے پڑی وہ پرانی پن جو مہرین ہمیشہ اپنے نام کے کاغذ میں لگاتی تھی، کاؤنٹر کے پیچھے بند فیس فائل، اور مہرین کا یوں ایک طرف کھڑا رہنا جیسے وہ غائب ہونے سے انکار کر رہی ہو مگر کسی کے لیے راستہ بھی نہیں بنا رہی۔ پھر اس نے اوپر سے اترتی حارث کی بات سنی۔ “ابو کل آ کر دیکھیں گے، اس لیے میں نے فرنٹ ٹھیک کیا ہے۔ ہر کسی کو ہر جگہ نہیں رکھا جاتا۔” حارث نے یہ سمجھ کر کہا تھا کہ نیچے صرف دانیال ہے۔

دانیال کے چہرے پر وہ نرم سا شک پہلی بار چھوٹا پڑا۔ اس نے کچھ نہیں کہا، بس ہک کی طرف دیکھا، پھر مہرین کی طرف، اور خاموشی سے فیس لینے والے اسٹول پر بیٹھ گیا جہاں عام طور پر مہمان نہیں بیٹھتے تھے۔ اس کا بیٹھنا ہی کافی تھا؛ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ یہ ایک بار کی بات نہیں۔

ساڑھے نو بجے حارث کے والد آئے۔ سفید شلوار قمیص، ہلکی خوشبو، اور وہ ٹھہرا ہوا انداز جو کراچی کے پرانے سروس سیکٹر والے لوگوں میں ہوتا ہے؛ کم بولیں مگر دیکھ لیں کہ کام کس کے ہاتھ میں ہے۔ ان کے ساتھ خالہ صبیحہ نے فوراً چائے وقفے کی ٹرے لگانی شروع کی۔ اس وقت تک حارث نے صورت بچانے کا راستہ نکال لیا تھا۔ وہ مہرین کے پاس آیا، آواز پہلے سے نرم، “ابو بیٹھ گئے ہیں۔ تم سامنے نہ آؤ تو بھی چلے گا۔ بس اندر والے چھوٹے کمرے میں بیٹھ جاؤ، چائے کی ترتیب وہی کر دو۔ اور بعد میں، جب سب جائیں، ہم تمہارا نام پھر لگا دیں گے۔”

یہی وہ جزوی دروازہ تھا جس سے گزر کر سب پہلے بھی اسے آدھا اندر، آدھا باہر رکھتے آئے تھے۔

مہرین نے سر اٹھایا۔ “بعد میں نہیں۔ یا میرا نام وہیں ہوگا جہاں تھا، یا میں آج کوئی ٹرے نہیں چھوؤں گی۔”

حارث کی پلکیں جھپکیں۔ “تم بات سمجھ کیوں نہیں رہی؟ ابو کو ابھی تاثر چاہیے۔”

“مجھے بھی ابھی جگہ چاہیے۔”

خالہ صبیحہ کے ہاتھ میں چمچ رک گیا۔ سنک کے پاس پانی کی دھار ایک بار زور سے ٹکرائی پھر باریک ہو گئی۔ دانیال نے نظریں نہیں اٹھائیں، مگر اس نے اسٹول سے ہلنا بھی چھوڑ دیا۔ حارث نے ایک لمحہ دروازے کی طرف دیکھا جہاں اندر اس کے والد بیٹھے تھے، پھر ہک کی طرف، پھر روبینہ کی طرف جو یکایک خود کو غیرضروری محسوس کرنے لگی تھی۔

“ٹھیک ہے، تو ابھی نہیں سہی، تم بعد میں—”

“میں بعد میں والی چیز نہیں ہوں۔” مہرین نے بات کاٹی، اور کاؤنٹر پر پڑی ٹرے سے ہاتھ پیچھے کر لیے۔

اندر سے حارث کے والد کی آواز آئی، “چائے رہنے کیوں دی؟” بس اتنی سی۔ مگر اس ایک سوال میں وہ ساری بےترتیبی کھل گئی جو ابھی تک حارث اپنی جلدی اور حکم سے چھپا رہا تھا۔

وہ خود ٹرے اٹھانے بڑھا، پھر رکا۔ اس کے والد دروازے تک آ گئے تھے۔ ان کی نظر پہلے بے ترتیب کپوں پر گئی، پھر ہک پر، پھر مہرین کے سامنے رک گئی۔ مہرین نے نظریں نہیں جھکائیں، نہ کوئی شکایت سنائی۔ بس وہیں کھڑی رہی، خالی ہاتھ، جیسے کہہ رہی ہو میں کام کر سکتی ہوں مگر مٹ کر نہیں۔

حارث نے فوراً کہا، “اصل میں آج روبینہ—”

“اصل میں کیا؟” ان کے والد نے ہک کے قریب جا کر پرچیاں دیکھیں۔ تازہ لگی سفید پٹی انگلی سے ہلکی سی اکھڑی۔ نیچے پرانی گوند کی لکیر تھی، اور اس کے ایک کونے میں مہرین کی پن اٹکی ہوئی۔ ایک نظر میں سمجھ آنے والی بات تھی: پرچی ابھی بدلی گئی ہے، عادت سے نہیں، ارادے سے۔

انہوں نے روبینہ کی پرچی اتاری، تہہ بھی نہیں کی، بس کاؤنٹر پر رکھ دی۔ پھر نیچے دراز کھولی جہاں روزمرہ کی اضافی سلپس رکھی جاتی تھیں۔ وہاں سے خالی پٹی نکالی، مگر اس پر کچھ لکھنے کے بجائے مہرین کی پرانی پرچی ڈھونڈی۔ وہ فیس رجسٹر کے نیچے دبی ہوئی ملی۔ انہوں نے اسے سیدھا کیا، اوپر کا مڑا کونہ انگوٹھے سے ہموار کیا، اور وہی پرچی اسی ہک پر لگا دی جہاں سے اتاری گئی تھی۔

کمرے میں کوئی اعلان نہیں ہوا۔ کسی نے مہرین کا دفاعی قصیدہ نہیں پڑھا۔ بس ہک پر اس کا نام پھر آ گیا، اسی جگہ، دروازے اور کاؤنٹر کے بیچ، جہاں سے شام کی ساری آمدورفت دیکھی جاتی تھی۔

پھر انہوں نے ٹرے خود اس کی طرف نہیں بڑھائی۔ یہ بھی ایک طرح کی رعایت ہوتی، آدھی اور دکھاوے والی۔ انہوں نے ٹرے کاؤنٹر پر اسی جگہ رکھی جہاں مہرین روز ہاتھ رکھتی تھی، اور صرف اتنا کہا، “وقفے کی ترتیب جس کے نام پر ہے، وہی کرے گی۔”

حارث کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر اس کے والد پہلے ہی اندر پلٹ چکے تھے۔ لفظوں کے لیے جگہ بچی ہی نہیں تھی۔

مہرین نے فوراً ٹرے نہیں اٹھائی۔ اس نے ہک پر اپنا نام ایک بار دیکھا، پھر کاؤنٹر سے اپنی چابی اٹھا کر دوبارہ اپنے دوپٹے کے کونے میں باندھ لی۔ دانیال اسٹول سے اٹھا، بہت آہستہ، اور ایک طرف ہو گیا تاکہ اس کے گزرنے کی راہ سیدھی ہو جائے۔ اتنا سا بدلاؤ تھا، مگر پہلی بار کسی نے اس کے لیے جگہ خالی نہیں کی تھی بلکہ اس کی جگہ کو اس کے لیے صاف رکھا تھا۔

حارث نے دبے لہجے میں کہا، “مہرین، چلو نا، دیر ہو رہی ہے۔”

اس نے ٹرے کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر کپ نہیں اٹھائے۔ “میں چھوٹے کمرے میں نہیں جاؤں گی۔ اسی راستے سے جاؤں گی جہاں میرا نام ہے۔” پھر اس نے ٹرے سنبھالی، دروازے کے بیچ سے گزری، اور مہمانوں والے کمرے میں داخل ہو گئی جہاں پہلے اسے صرف کناروں میں رکھا جاتا تھا۔

چائے دے کر واپس آئی تو اس کے قدم ہلکے نہیں تھے؛ مضبوط تھے، جیسے ہر چکر کے ساتھ جگہ پکی ہو رہی ہو۔ خالہ صبیحہ نے بے اختیار اس کے لنچ باکس کی ڈھکن بند کر دی جو اب تک آدھا کھلا تھا۔ دانیال نے ایک فیس لفافہ غلط ڈھیر سے اٹھا کر صحیح رجسٹر کے ساتھ رکھ دیا، بغیر پوچھے، بغیر بولے۔ مہرین نے بس اتنا کیا کہ ہک سے اپنی پرچی نہیں اتاری۔

رات بند ہونے لگی۔ آخری اساتذہ کے کپ دھل گئے۔ اس نے ٹرے سنک سے اٹھائی، پانی جھاڑا، اور واپس لا کر ٹرے رکھنے والی قطار میں اسی خانے میں رکھ دی جس کے اوپر اس کے ہاتھ کی پرانی نیلی ٹیپ لگی تھی۔ ٹرے ہلکی سی سرکی، پھر آ کر وہیں ٹھہر گئی۔